Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
ٹرمپ نے ایران جنگ سے متعلق قرارداد کو بے معنی قرار دے دیا

    
ٹرمپ نے ایران جنگ سے متعلق قرارداد کو بے معنی قرار دے دیا

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوان نمائندگان میں منظور ہونے والی اس قرارداد پر شدید تنقید کی ہے جس کا مقصد ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کے حوالے سے صدارتی اختیارات کو محدود کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس اقدام کو "بے معنی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ایران کے ساتھ مذاکرات انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
    ‎صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایوان نمائندگان میں ہونے والے ووٹ میں چار ریپبلکن ارکان اور تمام ڈیموکریٹس نے ان کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اپنے حتمی مراحل میں ہیں۔
    ‎امریکی صدر نے کہا کہ جب سفارتی کوششیں جاری ہوں اور اہم پیش رفت متوقع ہو تو اس قسم کی سیاسی کارروائیاں قومی مفادات کے خلاف تصور کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی عناصر ان کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے سیاسی مخالفت کو ترجیح دے رہے ہیں۔
    ‎ٹرمپ نے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے چار ریپبلکن ارکان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہیں اپنے فیصلے پر شرمندہ ہونا چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس قسم کے اقدامات امریکا کے مذاکراتی مؤقف کو کمزور کر سکتے ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان نے بدھ کے روز 208 کے مقابلے میں 215 ووٹوں سے ایک قرارداد منظور کی تھی جس کا مقصد صدر کو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں سے روکنا ہے۔ اس قرارداد کی حمایت میں تمام ڈیموکریٹس کے علاوہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ووٹ دیا تھا۔
    ‎یہ چوتھی مرتبہ ہے کہ امریکی قانون ساز ادارہ صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم یہ قرارداد ابھی امریکی سینیٹ سے منظور ہونا باقی ہے، جہاں ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر قرارداد سینیٹ سے منظور بھی ہو جاتی ہے تو صدر ٹرمپ اسے ویٹو کر سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں کانگریس کو صدارتی ویٹو ختم کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی، جو حاصل کرنا آسان نہیں سمجھا جا رہا۔

  • 
خیبر پختونخوا میں 4 دہشت گرد ہلاک

    
خیبر پختونخوا میں 4 دہشت گرد ہلاک

    ‎سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائیاں 3 اور 4 جون کی درمیانی شب انجام دی گئیں۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق پہلی کارروائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں کی گئی، جہاں سیکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشن میں دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں دو دہشت گرد مارے گئے۔
    ‎دوسری کارروائی ضلع مہمند میں کی گئی، جہاں فورسز نے ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دو مزید دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے۔ فورسز نے کارروائی کے بعد علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ فورسز کا مؤقف ہے کہ ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کے خلاف بلاامتیاز اقدامات کیے جائیں گے۔

  • 
ایلون مسک نے موٹروے کیس فیصلے کو سراہ دیا

    
ایلون مسک نے موٹروے کیس فیصلے کو سراہ دیا

    ‎دنیا کے معروف کاروباری شخصیت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہ ایلون مسک نے موٹروے زیادتی کیس میں پاکستانی عدالت کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اس پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کی جانب سے یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب لاہور ہائی کورٹ نے کیس کے دونوں مجرموں کی سزاؤں کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر دیں۔
    ‎لاہور ہائی کورٹ نے موٹروے گینگ ریپ کیس کے مجرموں عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزائے موت کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے دی گئی سزائیں برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے بعد ازاں سنایا گیا۔
    ‎یاد رہے کہ موٹروے زیادتی کا یہ واقعہ ملک بھر میں شدید غم و غصے کا سبب بنا تھا اور اس نے خواتین کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر اہم بحث کو جنم دیا تھا۔ بعد ازاں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 20 مارچ 2021 کو دونوں ملزمان کو زیادتی کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔
    ‎عدالتی فیصلے کے بعد دونوں مجرموں نے 25 مارچ 2021 کو لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی تھیں۔ طویل قانونی کارروائی اور مختلف سماعتوں کے بعد عدالت نے اپیلیں مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ایلون مسک نے اس عدالتی فیصلے کو انصاف کی فراہمی کے تناظر میں مثبت قرار دیا اور اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کے تبصرے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آئیں اور متعدد صارفین نے فیصلے کو اہم قرار دیا۔
    ‎قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مقدمہ اپنے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ کیس پاکستان میں خواتین کے خلاف جرائم اور ان کے خلاف قانونی کارروائیوں کے حوالے سے نمایاں مقدمات میں شمار کیا جاتا ہے۔

  • پاکستان امریکا شراکت داری مضبوط اور دیرینہ ہے، نیٹلی بیکر

    پاکستان امریکا شراکت داری مضبوط اور دیرینہ ہے، نیٹلی بیکر

    ‎پاکستان میں امریکی ڈپٹی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات مضبوط، دیرینہ اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری باہمی اعتماد، تعاون اور مشترکہ مقاصد کے جذبے کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔
    ‎امریکا کی آزادی کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔
    ‎تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیٹلی بیکر نے وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ شراکت داری وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔
    ‎امریکی ڈپٹی ناظم الامور نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات صرف سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، سیکیورٹی اور عوامی سطح کے روابط بھی اس شراکت داری کا اہم حصہ ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حقیقی دوستی مشترکہ مفادات اور باہمی احترام پر قائم ہے۔
    ‎نیٹلی بیکر نے مزید کہا کہ امریکی سفارتخانے اور دونوں ممالک کی متعلقہ ٹیموں نے ویزا سہولتوں، تجارتی روابط، سرمایہ کاری کے فروغ اور سیکیورٹی تعاون کے شعبوں میں انتھک محنت کی ہے۔ ان کوششوں کا مقصد دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانا اور عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینا ہے۔
    ‎انہوں نے اپنے خطاب میں اسلام آباد کے سفارتی کردار کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپریل میں پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی میزبانی کی، جو خطے میں سفارتی کوششوں اور امن کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت تھی۔
    ‎تقریب کے دوران پاکستان اور امریکا کے درمیان جاری تعاون، اقتصادی روابط اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پر بھی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • 
جے یو آئی نے چائلڈ میرج قانون کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا

    
جے یو آئی نے چائلڈ میرج قانون کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا

    ‎جمعیت علمائے اسلام (ف) نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے خلاف وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے قانون کی بعض شقوں کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا ہے۔ جماعت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ قانون میں 18 سال سے کم عمر ہر فرد کو بچہ قرار دینا اسلامی فقہ سے مطابقت نہیں رکھتا۔
    ‎درخواست میں کہا گیا ہے کہ شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنا اسلامی اصولوں اور روایتی فقہی تشریحات کے مطابق نہیں ہے۔ جے یو آئی (ف) کے مطابق قانون میں شامل بعض لازمی سزائیں عدالتوں کے صوابدیدی اختیارات کو بھی محدود کرتی ہیں، جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
    ‎جماعت نے واضح کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کے خلاف نہیں، بلکہ اس بات کی حامی ہے کہ قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق ہونی چاہیے۔ درخواست میں عدالت سے متنازع شقوں کا جائزہ لینے اور غیر معمولی حالات میں عدالتی استثنا کا طریقہ کار متعارف کرانے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔
    ‎یاد رہے کہ اپریل 2026 میں پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بلدیات نے پنجاب چائلڈ میرج آرڈیننس 2026 کی منظوری دی تھی، جس کے تحت صوبے بھر میں 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی پر مکمل پابندی عائد کی گئی۔ اس قانون کے مطابق نکاح کے وقت دلہا اور دلہن دونوں کی عمر کم از کم 18 سال ہونا ضروری قرار دی گئی ہے۔
    ‎اس سے قبل مئی 2025 میں صدر آصف علی زرداری نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل پر دستخط کر کے اسے قانون کا درجہ دیا تھا۔ یہ بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہونے کے بعد نافذ العمل ہوا۔ قومی اسمبلی میں یہ بل شرمیلا فاروقی جبکہ سینیٹ میں شیری رحمان کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔
    ‎قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی کرانے والے نکاح خواں کو ایک سال تک قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اسی طرح 18 سال سے زائد عمر کا مرد اگر کم عمر لڑکی سے شادی کرے تو اسے تین سال تک سخت قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    ‎مزید برآں، کسی نابالغ کو زبردستی شادی پر مجبور کرنے کی صورت میں سات سال تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ اب اس قانون کے مختلف پہلوؤں پر وفاقی شرعی عدالت میں قانونی بحث ہونے کا امکان ہے۔

  • 
کراچی میں آوارہ کتوں کے حملے خطرناک حد تک بڑھ گئے

    
کراچی میں آوارہ کتوں کے حملے خطرناک حد تک بڑھ گئے

    ‎کراچی میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے سنگین خطرہ بن گئی ہے۔ سرکاری اسپتالوں کے اعداد و شمار نے ایک تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی ہے، جس کے مطابق شہر کے مختلف اسپتالوں میں روزانہ آوارہ کتوں کے کاٹنے کے 150 سے زائد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔
    ‎تفصیلات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کے حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث خواتین، بزرگوں اور خصوصاً بچوں کی جانیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد علاقوں میں کتوں کے غول دن اور رات کے اوقات میں آزادانہ گھومتے نظر آتے ہیں، لیکن ان کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔
    ‎حال ہی میں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے اس مسئلے کی سنگینی کو مزید اجاگر کر دیا۔ گلی میں اپنے گھر کے باہر کھیلنے والی ایک کمسن بچی پر آوارہ کتوں کے ایک غول نے حملہ کر دیا۔ حملے کے نتیجے میں بچی کے چہرے اور جسم کے مختلف حصوں پر گہرے زخم آئے۔ اہل خانہ نے فوری طور پر بچی کو اسپتال منتقل کیا جہاں اسے طبی امداد فراہم کی گئی۔
    ‎اسپتال ذرائع کے مطابق کتوں کے کاٹنے کے سب سے زیادہ واقعات کورنگی، لانڈھی اور حب چوکی کے علاقوں سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کے حملوں کے بعد فوری علاج اور ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین انتہائی ضروری ہوتی ہے، کیونکہ تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
    ‎دستاویزات اور طبی ریکارڈ کے مطابق رواں سال اب تک آوارہ کتوں کے حملوں کے نتیجے میں 10 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 40 ہزار سے زائد شہری زخمی ہو کر مختلف اسپتالوں میں علاج کروا چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار شہری انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔

  • 
موٹروے زیادتی کیس، مجرموں کو سزا مل گئی، پراسیکیوٹر جنرل

    
موٹروے زیادتی کیس، مجرموں کو سزا مل گئی، پراسیکیوٹر جنرل

    ‎پراسیکیوٹر جنرل پنجاب فرہاد علی شاہ نے کہا ہے کہ سیالکوٹ موٹروے زیادتی کیس کو قانونی طور پر منطقی انجام تک پہنچا دیا گیا ہے اور ملزمان کو سخت ترین سزائیں دلوائی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک مضبوط پیغام گیا ہے اور اب ایسے واقعات پر متاثرہ خاتون کو موردِ الزام ٹھہرانے کی روایت کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
    ‎پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرہاد علی شاہ نے کہا کہ موٹروے پر خاتون کو ان کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنا تھا۔ اس کیس نے ریاستی اداروں کے لیے ایک بڑا امتحان پیدا کر دیا تھا، تاہم تمام متعلقہ اداروں نے مل کر ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد ایک شہری کی ون فائیو کال موصول ہوئی جس پر پولیس اور دیگر ادارے متحرک ہوئے۔ متاثرہ خاتون کی فراہم کردہ معلومات اور مشتبہ افراد کے حلیوں کی بنیاد پر فرانزک ماہرین نے شواہد اکٹھے کیے اور جدید سائنسی طریقوں سے تحقیقات کو آگے بڑھایا۔
    ‎فرہاد علی شاہ کے مطابق مرکزی ملزم عابد ملہی کا ڈی این اے جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد سے مطابقت رکھتا تھا، جس نے کیس کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دوسرے ملزم شفقت بگا کو کال ڈیٹا ریکارڈ کی مدد سے ٹریس کر کے گرفتار کیا گیا، جس کے بعد تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل کی گئی۔
    ‎پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ پراسکیوشن ٹیم نے دن رات محنت کر کے مضبوط شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے، جس کے نتیجے میں ملزمان کو سخت سزائیں سنائی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مقدمات میں سائنسی شواہد، فرانزک تجزیے اور مؤثر قانونی پیروی انصاف کی فراہمی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
    ‎انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا جرم کی اطلاع فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دی جائے۔ ان کے مطابق اس کیس میں بھی ایک عام شہری کی بروقت اطلاع نے تحقیقات کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا اور یہی ذمہ داری معاشرے کو محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

  • 
ویپنگ جینز میں خطرناک تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہے، تحقیق

    
ویپنگ جینز میں خطرناک تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہے، تحقیق

    ‎برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ویپنگ انسانی جسم میں ہزاروں جینز کی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں کینسر، دل کی بیماریوں اور پھیپھڑوں کے امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
    ‎تحقیق کاروں کے مطابق ای سیگریٹ کا مستقل استعمال جسم میں ایسے حیاتیاتی عمل کو متحرک کرتا ہے جو جینز کے کام کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔ ان تبدیلیوں کا تعلق متعدد سنگین بیماریوں سے جوڑا جا رہا ہے، جن میں کینسر، دل کے امراض اور نظامِ تنفس کے مسائل شامل ہیں۔
    ‎محققین کا کہنا ہے کہ نتائج سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ صرف ویپنگ کی مقدار ہی اہم نہیں بلکہ استعمال کیے جانے والے ای سیگریٹ کی قسم اور اس میں شامل ذائقے بھی جینز پر مختلف اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف برانڈز اور فلیورز جسم میں الگ الگ نوعیت کی تبدیلیوں سے منسلک پائے گئے ہیں۔
    ‎تحقیق میں ویپنگ استعمال کرنے والوں کے ساتھ ساتھ روایتی سگریٹ نوش افراد کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق پھلوں کے ذائقوں والے ای سیگریٹس تقریباً 31 فیصد متاثرہ جینز میں تبدیلیوں سے منسلک پائے گئے۔ اسی طرح متعدد ذائقوں کے امتزاج والے ویپنگ مصنوعات 64.3 فیصد جینیاتی تبدیلیوں سے تعلق رکھتی تھیں۔
    ‎تحقیق کے مطابق میٹھے ذائقوں کا تعلق 2.9 فیصد جبکہ پودینہ یا مینتھول فلیورز کا تعلق 0.9 فیصد جینیاتی تبدیلیوں سے دیکھا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اعداد و شمار مزید تحقیق کے متقاضی ہیں، تاہم نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مختلف فلیورز کے صحت پر اثرات ایک جیسے نہیں ہوتے۔
    ‎سائنسدانوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ویپنگ ایک نسبتاً نئی ایجاد ہے، اس لیے اس کے طویل المدتی اثرات ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئے۔ تاہم موجودہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ای سیگریٹس میں موجود بعض کیمیکل ایسے حیاتیاتی عوامل کو متحرک کر سکتے ہیں جو جینز کی سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہیں۔
    ‎ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو مکمل طور پر محفوظ متبادل سمجھنا درست نہیں ہوگا اور اس کے ممکنہ صحت کے خطرات پر مزید تحقیق اور عوامی آگاہی کی ضرورت ہے۔

  • 
نور مقدم کیس، شوکت مقدم نے رحم کی اپیل مسترد کرنے کا مطالبہ کر دیا

    
نور مقدم کیس، شوکت مقدم نے رحم کی اپیل مسترد کرنے کا مطالبہ کر دیا

    ‎نور مقدم کے والد شوکت مقدم نے صدرِ مملکت سے اپیل کی ہے کہ نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کی ممکنہ رحم کی اپیل مسترد کی جائے اور عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی سزا پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
    ‎سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت مقدم نے کہا کہ وہ صدرِ مملکت سے درخواست کریں گے کہ ظاہر جعفر کی رحم کی اپیل قبول نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صدرِ مملکت خود بھی بیٹیوں کے والد ہیں اور انہیں اس معاملے کی حساسیت کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے۔
    ‎شوکت مقدم نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک انصاف کے حصول کی جدوجہد میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل توجہ اور رپورٹنگ کی وجہ سے یہ مقدمہ عوام کی نظروں میں رہا۔
    ‎انہوں نے ملک بھر کی خواتین اور بچیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کرنی چاہیے اور اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہونا چاہیے۔
    ‎واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے متفقہ طور پر سنایا۔
    ‎سماعت کے دوران مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے سزا میں نرمی کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعے اور ٹرائل کے دوران ان کے مؤکل کی ذہنی حالت درست نہیں تھی۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا اور ڈپریشن کی ادویات استعمال کرتا تھا اور انہی وجوہات کی بنیاد پر میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست بھی دی گئی تھی۔
    ‎تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ فیصلے اخباری خبروں یا سوشل میڈیا کے دباؤ پر نہیں بلکہ شواہد اور قانون کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ میڈیکل بورڈ نہ بنائے جانے کے فیصلے کو ماضی میں چیلنج نہیں کیا گیا تھا، اس لیے وہ معاملہ قانونی طور پر طے ہو چکا ہے۔
    ‎نور مقدم قتل کیس پاکستان کے نمایاں مقدمات میں شمار ہوتا ہے جس نے ملک بھر میں خواتین کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون کی عملداری پر اہم بحث کو جنم دیا تھا۔

  • 
بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان میں بھاری مینڈیٹ مانگ لیا

    
بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان میں بھاری مینڈیٹ مانگ لیا

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام سے بھرپور حمایت اور بھاری مینڈیٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کی آواز کو قومی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا مینڈیٹ درکار ہے تاکہ اسلام آباد جا کر گلگت بلتستان کے حقوق اور مطالبات کو بھرپور انداز میں پیش کر سکیں۔
    ‎غذر کے علاقے گاہکوچ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے لیے بھاری اکثریت چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کئی نشستیں چھین لی گئی تھیں، تاہم اس بار عوام پارٹی پر اعتماد کا اظہار کریں گے۔
    ‎پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے غذر کو ضلع کا درجہ دیا تھا جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو سیاسی شناخت فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور گلگت بلتستان کے عوام کا تعلق کئی نسلوں پر محیط ہے اور یہ رشتہ مستقبل میں بھی مضبوط رہے گا۔
    ‎بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں حق ملکیت کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کو زمینوں کے مکمل مالکانہ حقوق ملیں۔ ان کے مطابق اگر پیپلز پارٹی کو عوامی حمایت حاصل ہوئی تو قانون ساز اسمبلی کے ذریعے حق ملکیت سے متعلق قانون سازی کو یقینی بنایا جائے گا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ قابل کاشت زمین کو عوام میں تقسیم کرنے اور مقامی لوگوں کو زمین کا مالک بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کی صورت میں عوامی فلاح، روزگار اور بنیادی سہولیات کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔
    ‎بلاول بھٹو زرداری نے روزگار، صحت اور سیاحت کے شعبوں میں بھی متعدد وعدے کیے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر یقین رکھتی ہے جبکہ مفت علاج کی سہولیات کو بھی وسعت دی جائے گی۔ ان کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت گلگت بلتستان کو سیاحت کا ایک بڑا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔
    ‎انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انتخابات میں اپنے مستقبل اور اپنے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو خطے کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکیں۔