Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
شارع فیصل پر لین خلاف ورزی، پہلے روز 96 چالان جاری

    
شارع فیصل پر لین خلاف ورزی، پہلے روز 96 چالان جاری

    ‎کراچی کی مصروف ترین شاہراہوں میں شامل شارع فیصل پر لین ڈسپلن کے نفاذ کے پہلے ہی روز ٹریفک پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 96 فیس لیس چالان جاری کیے۔ حکام کے مطابق تمام چالان ممنوعہ لین میں گاڑیاں چلانے پر کیے گئے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق یکم جون کو میٹروپول سے ایئرپورٹ اور ایئرپورٹ سے میٹروپول جانے والی سڑکوں پر خصوصی نگرانی کی گئی، جہاں مختلف اقسام کی گاڑیوں کو لین قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا گیا۔ جدید کیمروں اور مانیٹرنگ سسٹم کی مدد سے خلاف ورزی کرنے والوں کے فیس لیس چالان جاری کیے گئے۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ 43 موٹر سائیکل سواروں کے چالان کیے گئے۔ اس کے علاوہ 21 سوزوکی پک اپ گاڑیوں، 6 منی بسوں، 4 وینز، 3 منی ٹرکوں، 3 بڑے ٹرکوں، 2 بڑی بسوں، 2 کوسٹرز، 2 واٹر ٹینکروں اور ایک ڈبل کیبن گاڑی کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔
    ‎ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت مختلف اقسام کی گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز مقرر کی گئی ہیں۔ موٹر سائیکلوں، کمرشل گاڑیوں اور بھاری ٹریفک کو تیسرے اور چوتھے ٹریک پر سفر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ٹریفک کی روانی بہتر بنائی جا سکے اور حادثات میں کمی لائی جا سکے۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صرف ممنوعہ لین میں گاڑی چلانے والے ہی نہیں بلکہ فاسٹ لین میں غیر ضروری طور پر آہستہ رفتار سے گاڑی چلانے والوں کے خلاف بھی فیس لیس چالان جاری کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق فاسٹ لین کا مقصد تیز رفتار اور روان ٹریفک کے لیے راستہ فراہم کرنا ہے۔
    ‎ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ لین ڈسپلن کے اس نظام کا مقصد شہریوں میں ٹریفک قوانین کے بارے میں شعور پیدا کرنا اور شاہراہوں پر بہتر نظم و ضبط قائم کرنا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی آئندہ بھی جاری رہے گی۔

  • 
لاہور ایئرپورٹ پہنچنے والی سوئس خاتون لاپتہ، اغوا کا مقدمہ درج

    
لاہور ایئرپورٹ پہنچنے والی سوئس خاتون لاپتہ، اغوا کا مقدمہ درج

    ‎لاہور ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد ایک سوئس خاتون کے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس پر پولیس نے خاتون کے شوہر کی درخواست پر اغوا کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ واقعے نے سیکیورٹی اور خاتون کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق مقدمہ خاتون کے شوہر، جو نیپال کے شہری ہیں، کی شکایت پر درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی اہلیہ صوفیہ ماریا ملر لاہور ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد نامعلوم افراد کے ہاتھوں مبینہ طور پر اغوا ہو گئی ہیں۔
    ‎شکایت کنندہ کے مطابق صوفیہ ماریا ملر کے لاہور پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد ان کا موبائل فون بند یا ناقابلِ رسائی ہو گیا، جس کے بعد ان سے کسی قسم کا رابطہ ممکن نہیں رہا۔ موبائل فون بند ہونے اور خاتون کے اچانک لاپتہ ہونے پر اہل خانہ میں تشویش پیدا ہوئی۔
    ‎رپورٹ کے مطابق شوہر نے لاہور ایئرپورٹ حکام اور متعلقہ پولیس چوکی سے رابطہ کرکے خاتون کی گمشدگی کی اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور خاتون کی تلاش کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج، سفری ریکارڈ اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ خاتون کی آخری نقل و حرکت کا سراغ لگایا جا سکے۔
    ‎حکام کے مطابق ابھی تک واقعے کی نوعیت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ خاتون کے لاپتہ ہونے کے پس منظر میں کیا عوامل کارفرما تھے۔
    ‎پولیس نے امید ظاہر کی ہے کہ تحقیقات کے ذریعے جلد حقائق سامنے آ جائیں گے اور خاتون کا سراغ لگا لیا جائے گا۔ اس وقت قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام ممکنہ پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات آگے بڑھا رہے ہیں۔

  • 
جناح اسپتال واش روم واقعہ، تحقیقاتی رپورٹ میں سنگین غفلتوں کا انکشاف

    
جناح اسپتال واش روم واقعہ، تحقیقاتی رپورٹ میں سنگین غفلتوں کا انکشاف

    ‎کراچی کے جناح اسپتال میں واش روم میں بچے کی پیدائش کے مبینہ واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ میں انتظامی اور طبی سطح پر متعدد سنگین کوتاہیوں اور غفلتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون رات تقریباً ساڑھے نو بجے جناح اسپتال کے شعبہ امراضِ نسواں میں پہنچی تھیں، تاہم انہیں بروقت طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ کمیٹی نے اپنی تحقیقات میں یہ بات سامنے لائی کہ مریضہ کا ضروری طبی معائنہ اور دیکھ بھال وقت پر نہیں کی گئی جس کے باعث صورتحال سنگین ہوتی گئی۔
    ‎تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ خاتون کا الٹراساؤنڈ نہیں کیا گیا، حالانکہ طبی تشخیص کے لیے یہ ایک اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق مریضہ کو طبی سہولت فراہم کرنے کے بجائے صرف چلنے کا مشورہ دیا گیا۔
    ‎کمیٹی نے اسپتال کے انتظامی معاملات پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت متعلقہ کنسلٹنٹ اور ریزیڈنٹ میڈیکل آفیسر (آر ایم او) اپنی ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، جس سے مریضہ کی دیکھ بھال اور بروقت فیصلوں کا عمل متاثر ہوا۔
    ‎رپورٹ میں شعبہ امراضِ نسواں کے حساس علاقے میں غیر مجاز مرد افراد کی موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جسے اسپتال کے ضابطوں اور مریضوں کی رازداری کے اصولوں کے خلاف قرار دیا گیا۔ کمیٹی نے اس معاملے کو بھی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے مناسب نگرانی نہ ہونے کی نشاندہی کی ہے۔
    ‎تحقیقاتی کمیٹی نے اسپتال کے سیکیورٹی انتظامات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی کے نظام میں موجود خامیوں کے باعث مختلف انتظامی اور طبی مسائل پیدا ہوئے، جن کے فوری حل کی ضرورت ہے۔

  • 
بند پڑا اینڈرائیڈ فون بیٹری کو کیسے متاثر کرتا ہے؟

    
بند پڑا اینڈرائیڈ فون بیٹری کو کیسے متاثر کرتا ہے؟

    ‎اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز عام طور پر کئی سال تک بہتر انداز میں کام کرتے رہتے ہیں، تاہم ان کی کارکردگی کا سب سے اہم حصہ بیٹری ہوتی ہے۔ اگر فون کو طویل عرصے تک استعمال نہ کیا جائے یا بند حالت میں رکھا جائے تو بیٹری کی صحت متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مستقبل میں مختلف تکنیکی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق جدید اسمارٹ فونز میں زیادہ تر لیتھیم آئیون بیٹریاں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ بیٹریاں بار بار چارج کی جا سکتی ہیں، لیکن ان کی ایک مخصوص عمر ہوتی ہے جو چارجنگ سائیکلز کی تعداد پر منحصر ہوتی ہے۔ عام طور پر ایک لیتھیم آئیون بیٹری چند سو سے ایک ہزار چارجنگ سائیکلز تک مؤثر انداز میں کام کرتی ہے۔
    ‎اگر فون کو طویل عرصے تک بند رکھا جائے اور بیٹری مکمل طور پر خالی ہو جائے تو بیٹری کی اندرونی کیمیائی ساخت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں بیٹری کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ پھول بھی سکتی ہے، جو اسمارٹ فون کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
    ‎بیٹری کے پھولنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اسے لمبے عرصے تک بغیر چارج کیے چھوڑ دیا جائے۔ اسی طرح مسلسل چارجر سے منسلک رکھنا بھی بیٹری کی عمر کم کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں صورتیں بیٹری کی کارکردگی پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔
    ‎اگر کسی فون کی بیٹری پھول جائے تو ابتدائی طور پر وہ کام کرتی رہ سکتی ہے، لیکن اس کے مزید خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں بیٹری کو جلد از جلد تبدیل کروا لینا چاہیے تاکہ ڈیوائس کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
    ‎ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر کوئی اسمارٹ فون طویل عرصے تک استعمال نہ کرنا ہو تو اسے مکمل طور پر خالی حالت میں بند نہ کریں۔ بہتر ہے کہ ہر چند ہفتوں بعد فون کو چارج کر لیا جائے تاکہ بیٹری فعال رہے اور اس کی صحت برقرار رہے۔
    ‎اسی طرح روزمرہ استعمال میں بھی بیٹری کو ہر بار 100 فیصد تک چارج کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں تجویز کرتی ہیں کہ بیٹری کو تقریباً 80 فیصد تک چارج رکھا جائے، کیونکہ اس سے بیٹری کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کی کارکردگی زیادہ عرصے تک برقرار رہتی ہے۔

  • 
نیتن یاہو کے بیروت  پر حملے، سلامتی کونسل کا اجلاس طلب

    
نیتن یاہو کے بیروت پر حملے، سلامتی کونسل کا اجلاس طلب

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں اہداف کو نشانہ بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
    ‎اسرائیلی حکام کے مطابق جس علاقے میں کارروائی کا حکم دیا گیا ہے وہ "ضاحیہ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ علاقہ لبنان میں حزب اللہ کا ایک اہم مرکز تصور کیا جاتا ہے اور ماضی میں بھی متعدد بار اسرائیلی حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔
    ‎نیتن یاہو کے اس فیصلے نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری تناؤ کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس اقدام سے خطے میں سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب سرحدی علاقوں میں پہلے ہی کشیدگی برقرار ہے۔
    ‎دوسری جانب لبنان کے صدر نے اسرائیلی حملوں اور فوجی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں لبنان کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ لبنانی قیادت نے عالمی برادری سے فوری مداخلت اور اسرائیلی کارروائیوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
    ‎علاقائی صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اہم اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور ممکنہ سفارتی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
    ‎سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں مختلف رکن ممالک خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے اور کشیدگی میں کمی کے لیے تجاویز پیش کر سکتے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے فریقین پر تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف لبنان اور اسرائیل بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا امتحان بن سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔

  • 
ایران میں دو مزید افراد کو سزائے موت

    
ایران میں دو مزید افراد کو سزائے موت

    ‎ایران میں حکام نے دو مزید افراد کو سزائے موت دے دی ہے، جن کی سزاؤں کو ملک کی سپریم کورٹ کی جانب سے برقرار رکھا گیا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق تمام قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد سزاؤں پر عملدرآمد کیا گیا۔
    ‎ایرانی ذرائع کے مطابق جن افراد کو سزائے موت دی گئی ان کی شناخت مہرداد اور اشکان کے ناموں سے کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو ملک میں بدامنی کے دوران سیکیورٹی فورسز پر حملوں، مساجد کو نقصان پہنچانے اور سرکاری املاک کی تخریب کاری کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق متعلقہ عدالتوں نے مقدمات کی سماعت کے بعد دونوں ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی۔ بعد ازاں یہ مقدمات سپریم کورٹ میں بھی زیرِ غور آئے، جہاں اعلیٰ عدالت نے نچلی عدالتوں کے فیصلوں کو برقرار رکھا۔
    ‎ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ مقدمات میں موجود شواہد اور قانونی کارروائی کے جائزے کے بعد سزاؤں کی توثیق کی گئی، جس کے بعد قانونی تقاضے پورے ہونے پر سزاؤں پر عملدرآمد کیا گیا۔
    ‎دوسری جانب انسانی حقوق کے بعض ادارے ایران میں سزائے موت کے معاملات پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں اور عدالتی کارروائیوں میں شفافیت اور بین الاقوامی قانونی معیار کی پاسداری پر زور دیتے ہیں۔ تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تمام فیصلے ملکی قوانین اور عدالتی عمل کے مطابق کیے جاتے ہیں۔
    ‎یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران میں سیکیورٹی، سیاسی صورتحال اور عدالتی فیصلوں سے متعلق معاملات بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات پر عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔

  • 
گلگت بلتستان پر توجہ دی جائے تو یہ سوئٹزرلینڈ بن سکتا ہے، سعد رفیق

    
گلگت بلتستان پر توجہ دی جائے تو یہ سوئٹزرلینڈ بن سکتا ہے، سعد رفیق

    ‎مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ اگر گلگت بلتستان کی ترقی پر بھرپور توجہ دی جائے تو یہ دنیا کے خوبصورت ترین سیاحتی خطوں میں شامل ہو سکتا ہے اور سوئٹزرلینڈ جیسی ترقی کی مثال بن سکتا ہے۔ انہوں نے اسکردو میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خطے کی اہمیت اور عوام کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
    ‎خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومتوں نے گلگت بلتستان میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا، جن کا مقصد علاقے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، سیاحت کے فروغ اور عوامی سہولیات میں اضافہ تھا۔ ان کے مطابق خطے میں مزید سرمایہ کاری اور منصوبہ بندی کے ذریعے معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے آزادی کی جدوجہد اور پاکستان کے ساتھ الحاق میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بقول یہاں کے لوگوں کی قربانیاں تاریخ کا ایک روشن باب ہیں اور پاکستان ان خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔
    ‎ن لیگی رہنما نے اپنے خطاب میں کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے اپنی جانوں اور قربانیوں کے ذریعے اس خطے کو پاکستان کا حصہ بنانے میں کردار ادا کیا، اسی لیے پوری قوم ان کی احسان مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے عوام نے ہمیشہ وطن سے محبت اور وفاداری کا مظاہرہ کیا ہے۔
    ‎خواجہ سعد رفیق نے یہ بھی کہا کہ اگر مسلم لیگ ن کی حکومتوں کا تسلسل برقرار رہتا تو ملک کی ترقی کی رفتار مزید تیز ہوتی۔ ان کے مطابق سیاسی عدم استحکام اور حکومتوں کی تبدیلیوں نے ترقیاتی عمل کو متاثر کیا، جس کا اثر ملک کی مجموعی ترقی پر پڑا۔
    ‎انہوں نے گلگت بلتستان کے قدرتی حسن، بلند پہاڑوں، جھیلوں اور سیاحتی مقامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ عالمی سطح پر سیاحت کا بڑا مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مناسب منصوبہ بندی، جدید انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے ذریعے یہاں لاکھوں سیاحوں کو متوجہ کیا جا سکتا ہے۔

  • حسن پائیکر اور جینک ایوغر کی برطانیہ میں داخلے کی اجازت منسوخ

    حسن پائیکر اور جینک ایوغر کی برطانیہ میں داخلے کی اجازت منسوخ

    ‎برطانیہ کی وزارت داخلہ نے معروف آن لائن سیاسی مبصرین حسن پائیکر اور جینک ایوغر کی برطانیہ میں داخلے کی اجازت منسوخ کر دی ہے، جس کے باعث دونوں شخصیات لندن میں ہونے والی ایس ایکس ایس ڈبلیو کانفرنس میں شرکت نہیں کر سکیں گی۔
    ‎حسن پائیکر، جو ٹوئچ پر 30 لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والے معروف اسٹریمر ہیں، کانفرنس میں "امریکی بائیں بازو نے انٹرنیٹ کی زبان کیسے سیکھی” کے موضوع پر ایک پینل میں شرکت کرنے والے تھے۔ دوسری جانب ان کے چچا جینک ایوغر، جو آن لائن نیوز پروگرام "دی ینگ ٹرکس” کے میزبان ہیں، "ٹیکنو فیوڈل ازم آ چکا ہے، اصل حکمران کون ہیں؟” کے عنوان سے خطاب کرنے والے تھے۔
    ‎دونوں شخصیات 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیلی پالیسیوں کے ناقدین کے طور پر نمایاں رہی ہیں۔ انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر غزہ میں ہونے والی انسانی صورتحال پر مسلسل اظہارِ خیال کیا اور جنگ کے خلاف مؤقف اختیار کیا۔
    ‎برطانوی وزارت داخلہ کے نمائندوں نے تصدیق کی کہ حسن پائیکر اور جینک ایوغر کی الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ETA) منسوخ کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ ان کی برطانیہ میں موجودگی "عوامی مفاد کے لیے موزوں نہیں” سمجھی گئی۔
    ‎وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ کسی فرد کی سفری اجازت منسوخ کرنے کا فیصلہ ممکنہ خطرات کے جائزے کے بعد کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد برطانوی معاشرے کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
    ‎دوسری جانب جینک ایوغر نے اس فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسے "دباؤ اور پابندی” قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں برطانیہ میں داخلے سے روک دیا گیا، حالانکہ وہ لندن اور آکسفورڈ میں مختلف تقریبات سے خطاب کرنے والے تھے۔
    ‎یہ فیصلہ آزادی اظہار، سیاسی آراء اور سفری پابندیوں کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس معاملے پر آنے والے دنوں میں مزید ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جبکہ انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے حامی حلقے بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

  • 
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، انڈیکس 3300 پوائنٹس سے زائد گر گیا

    
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، انڈیکس 3300 پوائنٹس سے زائد گر گیا

    ‎پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے پہلے کاروباری روز شدید مندی دیکھنے میں آئی، جہاں سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت کے دباؤ کے باعث مارکیٹ نمایاں خسارے کے ساتھ بند ہوئی۔ کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 3362 پوائنٹس کی کمی کے بعد 170600 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
    ‎مارکیٹ میں دن بھر منفی رجحان غالب رہا اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے حصص کی فروخت کو ترجیح دی، جس کے باعث مارکیٹ پر دباؤ بڑھتا چلا گیا۔
    ‎معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ مندی کی بڑی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے، جس نے عالمی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھی متاثر کیا ہے۔ خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی دیکھی گئی۔
    ‎تجزیہ کار شہریار بٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کی پیش رفت سامنے آئے گی، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی تھی۔ تاہم ایسا نہ ہونے کے باعث عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد سرمایہ کاروں نے ممکنہ معاشی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط حکمت عملی اختیار کی۔ پاکستان چونکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملکی معیشت، درآمدی بل اور مہنگائی پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔
    ‎معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی اور تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں تو اس کے اثرات پاکستان کی مالیاتی منڈیوں اور سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے سرمایہ کار بین الاقوامی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں عالمی سیاسی حالات، تیل کی قیمتوں اور اقتصادی اشاریوں کی سمت پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی کارکردگی پر اہم اثر ڈال سکتی ہے۔

  • 
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    ‎عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں میں تعطل کی خبروں کے بعد سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی اور تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر چلی گئیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں 6.96 ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 94.32 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ عالمی توانائی منڈی میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
    ‎اسی طرح برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ برینٹ خام تیل 6.24 ڈالر مہنگا ہونے کے بعد 97.36 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا، جو عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں تیزی کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور ممکنہ سفارتی پیش رفت میں تعطل کی اطلاعات نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث منڈیوں میں خریداری کا رجحان بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں تیزی آئی۔
    ‎ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا سفارتی کوششوں میں پیش رفت نہیں ہوتی تو تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔ اس صورتحال کے اثرات عالمی معیشت، مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔
    ‎پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایک بڑا معاشی چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے درآمدی اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیاء کی قیمتوں پر دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔