Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
محمود خان اچکزئی کے خلاف چمن میں بغاوت کا مقدمہ درج

    
محمود خان اچکزئی کے خلاف چمن میں بغاوت کا مقدمہ درج

    اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے خلاف بلوچستان کے شہر چمن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی، لاؤڈ اسپیکر کے مبینہ غلط استعمال اور ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق مقدمہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ولی خان غبیزئی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے ایک اجتماع کے دوران ایسے بیانات دیے جو متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
    ‎مقدمے کے اندراج کے بعد سیاسی حلقوں میں ردعمل سامنے آیا ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیاسی رہنماؤں اور مخالف آوازوں کے خلاف مقدمات کا اندراج جمہوری روایات کے منافی ہے۔
    ‎تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مطابق اختلاف رائے جمہوری نظام کا بنیادی جزو ہے اور سیاسی معاملات کا حل مقدمات اور قانونی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا سکتی ہیں۔
    ‎دوسری جانب حکام کا مؤقف ہے کہ مقدمہ قانون کے مطابق درج کیا گیا ہے اور اس کا مقصد کسی سیاسی شخصیت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ مبینہ خلاف ورزیوں کی قانونی جانچ کرنا ہے۔ متعلقہ ادارے مقدمے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور تحقیقات قانون کے مطابق آگے بڑھائی جائیں گی۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کے تناظر میں یہ مقدمہ خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی اور قانونی پیش رفت متوقع ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات اور قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری ضروری ہوتی ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا سیاسی کشیدگی سے بچا جا سکے۔

  • 
بدتمیز مسافروں پر سفری پابندی لگانے کی تجویز

    
بدتمیز مسافروں پر سفری پابندی لگانے کی تجویز

    ‎ہوائی سفر کے دوران نشے کی حالت میں عملے کے ساتھ بدتمیزی اور ہنگامہ آرائی کرنے والے مسافروں کے خلاف سخت اقدامات کی تجویز سامنے آ گئی ہے۔ برطانیہ میں زیر غور منصوبے کے تحت ایسے افراد پر فضائی سفر کی پابندی عائد کی جا سکتی ہے تاکہ پروازوں کے دوران عملے اور دیگر مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ برسوں میں بعض پروازوں کے دوران نشے میں دھت مسافروں کی جانب سے فضائی میزبانوں اور دیگر عملے کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان واقعات کے بعد حکام نے سخت پالیسی متعارف کرانے پر غور شروع کر دیا ہے۔
    ‎مجوزہ منصوبے کے تحت بدتمیزی، تشدد یا سنگین ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کو ایک قومی بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں اس فہرست میں شامل افراد کی معلومات مختلف ایئر لائنز کے ساتھ شیئر کی جائیں گی تاکہ انہیں مستقبل کی پروازوں میں سفر کی اجازت نہ دی جا سکے۔
    ‎فی الحال مختلف ایئر لائنز اپنے طور پر ایسے مسافروں پر پابندی عائد کر سکتی ہیں، تاہم سخت ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کے باعث ایک ایئر لائن دوسرے ادارے کے ساتھ مسافروں کا ریکارڈ شیئر نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کمپنی کی جانب سے پابندی کے باوجود بعض افراد دوسری ایئر لائن کے ذریعے سفر جاری رکھتے ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق نئی تجاویز کا مقصد پروازوں کے دوران پیش آنے والے ناخوشگوار اور خطرناک واقعات کی روک تھام کرنا ہے۔ اس حوالے سے حکومتی سطح پر مختلف قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
    ‎گزشتہ ماہ ہونے والے ایک عوامی سروے میں تقریباً 75 فیصد افراد نے ایسے مسافروں کے خلاف سخت پابندیوں کی حمایت کی۔ عوام کی بڑی تعداد کا مؤقف تھا کہ فضائی سفر کو محفوظ اور پُرسکون بنانے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
    ‎اس کے علاوہ معروف ایئر لائن ریان ایئر کے سربراہ مائیکل اولیری کی جانب سے پروازوں سے قبل اور دورانِ سفر الکوحل کی فروخت اور استعمال پر مشروط پابندی کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اقدامات نافذ ہو گئے تو فضائی سفر کے دوران نظم و ضبط اور مسافروں کی حفاظت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

  • 
آسٹریلیا کا پاکستان کو 232 رنز کا ہدف

    
آسٹریلیا کا پاکستان کو 232 رنز کا ہدف

    ‎قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جا رہے دوسرے ون ڈے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دے دیا۔ مہمان ٹیم نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز اسکور کیے، جبکہ پاکستانی باؤلرز نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو بڑے مجموعے تک پہنچنے سے روک دیا۔
    ‎میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جو ابتدائی طور پر درست ثابت ہوا۔ اگرچہ آسٹریلوی بلے بازوں نے کچھ اہم شراکتیں قائم کیں، لیکن پاکستانی باؤلرز نے وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کر کے رنز کی رفتار کو قابو میں رکھا۔
    ‎آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین اور جوش انگلس نمایاں رہے۔ کیمرون گرین نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 53 رنز بنائے جبکہ جوش انگلس نے 51 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔ میٹ رینشا نے بھی 43 رنز کا اہم اضافہ کیا اور ٹیم کے مجموعے کو مستحکم بنانے میں کردار ادا کیا۔
    ‎آخری اوورز میں اولیور پیکے نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 32 گیندوں پر 31 رنز اسکور کیے۔ ان کی اننگز میں ایک چوکا اور دو چھکے شامل تھے، جس کی بدولت آسٹریلیا 230 رنز کا ہندسہ عبور کرنے میں کامیاب رہا۔
    ‎پاکستانی باؤلرز میں عرفات منہاس نے ایک بار پھر متاثر کن کارکردگی دکھائی اور 27 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ ابرار احمد نے بھی نپی تلی باؤلنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بلے بازوں کو آزادانہ کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔
    ‎فاسٹ باؤلنگ میں شاہین شاہ آفریدی سب سے نمایاں رہے۔ انہوں نے 3 اہم وکٹیں حاصل کیں اور درمیانی و آخری اوورز میں آسٹریلوی بیٹنگ لائن پر دباؤ برقرار رکھا۔ حارث رؤف نے بھی اختتامی اوورز میں اپنی رفتار اور درست یارکرز سے بلے بازوں کو مشکلات میں رکھا اور اننگز کی آخری گیند پر اولیور پیکے کو بولڈ کر دیا۔
    ‎پاکستان کو تین میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے اور آج کا میچ جیت کر گرین شرٹس سیریز اپنے نام کرنے کی کوشش کریں گے۔
    ‎میچ کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کرکٹ کے معروف مداح "چاچا کرکٹ” کو اختتامی تقریب میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔ انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف جاری سیریز کو اپنی آخری سیریز قرار دیا ہے۔

  • 
اے پی ایس شہداء پیکیج کیس، سپریم کورٹ کا وفاق سے جواب طلب

    
اے پی ایس شہداء پیکیج کیس، سپریم کورٹ کا وفاق سے جواب طلب

    ‎سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) کے شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
    ‎کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران جسٹس عرفان سعادت نے نشاندہی کی کہ درخواست مقررہ مدت سے 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی تھی۔
    ‎یہ درخواست اے پی ایس شہداء کے لواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے اور توہین عدالت کے نکات اٹھائے گئے تھے۔ تاہم پشاور ہائی کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا۔
    ‎درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے شہداء کے لواحقین کے لیے جس مالی اور فلاحی پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا، وہ تمام متاثرہ خاندانوں کو فراہم نہیں کیا گیا۔
    ‎سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر حکومت نے کسی پیکیج کی منظوری دی ہے تو اس کا فائدہ تمام مستحق لواحقین کو ملنا چاہیے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ عدالت کو واضح طور پر بتایا جائے کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر کس حد تک عملدرآمد کیا گیا ہے۔
    ‎عدالت نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔ آئندہ سماعت میں حکومت کی جانب سے جمع کرائی جانے والی رپورٹ اور جواب کا جائزہ لیا جائے گا۔

  • 
پیپلز پارٹی کا گلگت بلتستان انتخابات میں سرکاری مشینری کے استعمال پر اعتراض

    
پیپلز پارٹی کا گلگت بلتستان انتخابات میں سرکاری مشینری کے استعمال پر اعتراض

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی مرکزی ترجمان شازیہ مری اور گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سعدیہ دانش نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل اور اثرورسوخ استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
    ‎شازیہ مری نے اپنے بیان میں کہا کہ گلگت بلتستان کے انتخابی عمل میں وفاقی وزراء کی سرگرم شرکت اور سرکاری مشینری کے استعمال کی اطلاعات تشویشناک ہیں۔ ان کے مطابق انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی مداخلت آزادانہ اور شفاف انتخابات کے اصولوں کے منافی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں منصفانہ انتخابات کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مساوی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ ان کے بقول وفاقی حکومت کو سرکاری وسائل اور اختیارات کے ذریعے انتخابی عمل کو متنازع بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔
    ‎دوسری جانب سعدیہ دانش نے کہا کہ وفاقی وزراء کی بڑی تعداد انتخابی مہم میں حصہ لے رہی ہے، جس سے انتخابی شفافیت پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مینڈیٹ پر اثر انداز ہونے کی ہر کوشش کا سیاسی اور جمہوری انداز میں مقابلہ کیا جائے گا۔
    ‎پیپلز پارٹی رہنماؤں نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ بیانات کے حوالے سے بھی وضاحت پیش کی۔ شازیہ مری نے کہا کہ فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بلاول بھٹو کے مؤقف کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بلاول بھٹو نے صرف عوام کو اپنے ووٹ اور انتخابی ریکارڈ کے تحفظ کی اہمیت یاد دلائی تھی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیادی دستاویز ہے اور اسی کی بنیاد پر بعد میں فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔ درست فارم 45 کی موجودگی میں عوامی مینڈیٹ میں ردوبدل کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
    ‎شازیہ مری نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ جمہوریت، آئین اور عوامی حق رائے دہی پر یقین رکھتی ہے اور کبھی اقتدار کے لیے غیر جمہوری راستے اختیار نہیں کیے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان کے عوام کئی دہائیوں سے پیپلز پارٹی پر اعتماد کرتے آ رہے ہیں۔
    ‎پیپلز پارٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ پارٹی عوامی حقوق، ووٹ کے تقدس اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، جبکہ گلگت بلتستان میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

  • 
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی کوشش، رہنما اور اہلخانہ مختلف مقامات پر روکے گئے

    
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی کوشش، رہنما اور اہلخانہ مختلف مقامات پر روکے گئے

    ‎پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل جانے والے اہلخانہ اور پارٹی رہنماؤں کو مختلف مقامات پر روکنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس دوران خیبر پختونخوا حکومت کے نمائندوں اور پی ٹی آئی قیادت کو بھی نقل و حرکت میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
    ‎تفصیلات کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہنیں نورین نیازی اور عظمیٰ خان اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے راولپنڈی کے فیکٹری ناکے پر پہنچیں، جہاں پہلے سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات موجود تھے۔ اسی دوران خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر سہیل آفریدی بھی اپنی کابینہ کے ارکان کے ہمراہ جیل کی جانب روانہ ہوئے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق سہیل آفریدی کا قافلہ سرکاری پروٹوکول کے ساتھ گورکھ پور فیکٹری ناکے پر پہنچا، تاہم پولیس نے انہیں آگے جانے سے روک دیا۔ بعد ازاں وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ موقع پر موجود رہے جبکہ صورتحال پر مشاورت جاری رہی۔
    ‎دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو بھی گلگت بلتستان جاتے ہوئے دیامر کے مقام پر روک لیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق سلمان اکرم راجا، شوکت بسرا، ضیاء الدین قریشی اور دیگر رہنماؤں کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں واپس روانہ کر دیا گیا۔
    ‎ذرائع کے مطابق سلمان اکرم راجا گلگت بلتستان میں جاری انتخابی مہم کے سلسلے میں سفر کر رہے تھے۔ پولیس نے ان کی واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مقامی انتظامی فیصلوں اور سیکیورٹی وجوہات کے تحت کیا گیا۔
    ‎پی ٹی آئی رہنماؤں نے مختلف مواقع پر اس صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور سیاسی سرگرمیوں پر عائد رکاوٹوں پر اعتراض اٹھایا ہے۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ تمام اقدامات قانون اور سیکیورٹی تقاضوں کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں سیاسی سرگرمیوں، بجٹ مباحث اور گلگت بلتستان کی انتخابی مہم کے باعث سیاسی ماحول پہلے ہی خاصا سرگرم ہے۔

  • 
علیمہ خان کی بجٹ منظوری پر اعتراض، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مطالبہ

    
علیمہ خان کی بجٹ منظوری پر اعتراض، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مطالبہ

    ‎بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بہن علیمہ خان نے خیبر پختونخوا کے بجٹ کی منظوری کے معاملے پر پارٹی رہنماؤں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ کی منظوری سے قبل بانی پی ٹی آئی سے مشاورت ضروری ہے۔
    ‎راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک موقع پر جب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کا ذکر کیا تو علیمہ خان نے فوری طور پر اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ بجٹ منظوری کی جلدی کیوں کی جا رہی ہے اور اس سے پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیوں نہیں کروائی جا رہی۔
    ‎علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے گزشتہ سال بھی خواہش ظاہر کی تھی کہ بجٹ سے متعلق امور ان کے ساتھ زیر بحث لائے جائیں۔ ان کے مطابق اس مرتبہ بھی بجٹ کی منظوری سے قبل انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا موقع دیا جانا چاہیے تاکہ اہم مالی اور سیاسی معاملات پر ان کی رائے حاصل کی جا سکے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پارٹی کے بانی کو سیاسی اور انتظامی معاملات سے الگ رکھنا مناسب نہیں اور انہیں اہم فیصلوں کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول پارٹی کارکنان اور رہنما بھی اس خواہش کا اظہار کر رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو موجودہ صورتحال سے آگاہ رکھا جائے۔
    ‎علیمہ خان نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو تنہا رکھا گیا ہے، جو ان کے مطابق غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان سے ملاقاتوں کے حوالے سے عائد پابندیوں میں نرمی کی جائے اور انہیں اپنے قانونی اور سیاسی حقوق استعمال کرنے کا موقع دیا جائے۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری اور منظوری کے عمل میں مصروف ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بجٹ اور پارٹی امور کے حوالے سے یہ معاملہ تحریک انصاف کے اندرونی معاملات میں بھی اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔
    ‎دوسری جانب حکومتی اور قانونی حلقوں کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی سرگرمیوں اور بجٹ کی تیاریوں پر مختلف حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔

  • 
پاکستان ایٹمی طاقت ہے، کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، بلاول بھٹو

    
پاکستان ایٹمی طاقت ہے، کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، بلاول بھٹو

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آج کوئی بھی پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا کیونکہ ملک ایک مضبوط ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں پیپلز پارٹی کا تاریخی کردار رہا ہے۔
    ‎اسکردو میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی، جبکہ میزائل پروگرام کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دور میں مزید ترقی دی گئی۔ ان کے مطابق انہی اقدامات نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا اور قومی سلامتی کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
    ‎بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی اور تزویراتی صلاحیتوں نے ملک کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مضبوط دفاع ہی ملک کے امن اور استحکام کی ضمانت ہے۔
    ‎جلسے کے دوران بلاول بھٹو نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ "آج گلگت میں ایک مہمان آیا ہے، امید ہے وہ برا نہیں مانے گا۔” تاہم انہوں نے اس جملے میں کسی شخصیت کا نام نہیں لیا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔
    ‎چیئرمین پیپلز پارٹی نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس فلاحی منصوبے کے خلاف ہونے والی تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔ ان کے مطابق یہ پروگرام لاکھوں مستحق خاندانوں کی مدد کر رہا ہے اور ملک کے کمزور طبقات کے لیے ایک اہم سہارا ثابت ہوا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی حمایت کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کم آمدنی والے خاندانوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
    ‎بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں خطے کی موجودہ صورتحال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ دعا گو ہیں کہ فیلڈ مارشل کی امن کے لیے جاری کوششیں کامیاب ہوں تاکہ خطے میں استحکام اور خوشحالی کو فروغ مل سکے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد، جمہوری استحکام اور عوامی فلاح پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

  • 
نیپرا کا کے الیکٹرک سے طویل لوڈشیڈنگ پر جواب طلب

    
نیپرا کا کے الیکٹرک سے طویل لوڈشیڈنگ پر جواب طلب

    ‎کراچی میں شدید گرمی کے دوران گھنٹوں جاری رہنے والی لوڈشیڈنگ پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سخت نوٹس لیتے ہوئے کے الیکٹرک سے فوری طور پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی متعدد شکایات کے بعد ریگولیٹری ادارے نے بجلی کی فراہمی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق نیپرا کو کراچی کے مختلف علاقوں سے طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے بڑی تعداد میں شکایات موصول ہوئیں۔ شکایت کنندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں بجلی کی بار بار بندش نے روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔
    ‎نیپرا حکام کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک نہ صرف کئی علاقوں میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کر رہی ہے بلکہ کمپنی اپنے جاری کردہ لوڈشیڈنگ شیڈول پر عمل درآمد میں بھی ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ اس صورتحال نے صارفین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
    ‎ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق مختلف علاقوں میں فنی خرابیوں اور مقامی فالٹس کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تکنیکی خرابیوں کو دور کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں کئی کئی گھنٹے بجلی بحال نہیں ہو پاتی۔
    ‎نیپرا نے کے الیکٹرک کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ جاری لوڈشیڈنگ، اس کے اسباب، متاثرہ علاقوں اور بجلی کی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات کی مکمل تفصیلات پر مشتمل رپورٹ فوری طور پر جمع کرائے۔ اتھارٹی اس رپورٹ کی روشنی میں آئندہ لائحہ عمل کا تعین کرے گی۔
    ‎شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بجلی کی مسلسل بندش نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق موسم گرما میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی شہریوں کی بنیادی ضرورت بن جاتی ہے، اس لیے متعلقہ اداروں کو مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • 
پیپلز پارٹی کا 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر دوٹوک مؤقف

    
پیپلز پارٹی کا 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر دوٹوک مؤقف

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی نے 18ویں آئینی ترمیم اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ سے متعلق اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ صوبائی خودمختاری سے متعلق آئینی شقوں میں کسی قسم کی کمی یا تبدیلی کی حمایت نہیں کرے گی۔
    ‎ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ایسی کسی آئینی ترمیم کا حصہ نہیں بنے گی جس کے نتیجے میں صوبوں کے مالی حصے یا اختیارات میں کمی واقع ہو۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ صوبائی حقوق اور وفاقی نظام کے اہم ستون ہیں۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت سمجھتی ہے کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو جو اختیارات اور خودمختاری حاصل ہوئی، وہ جمہوری عمل اور وفاقی نظام کے استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اسی طرح این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل کی تقسیم کا موجودہ نظام بھی صوبوں کے مالی حقوق کے تحفظ کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔
    ‎پیپلز پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق پارٹی اس بات پر آمادہ ہے کہ اگر وفاق کو مالی معاونت یا اضافی وسائل درکار ہوں تو آئینی ترمیم کے بغیر بھی مختلف متبادل راستوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے بعض تجاویز زیر غور ہیں جن کے ذریعے صوبے رضاکارانہ بنیادوں پر وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں۔
    ‎ذرائع نے مزید بتایا کہ پیپلز پارٹی کے آئینی اور معاشی ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم مختلف متبادل منصوبوں اور قانونی آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس ٹیم کا مقصد ایسا قابل عمل حل تلاش کرنا ہے جو آئین میں تبدیلی کے بغیر وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی تعاون کو ممکن بنا سکے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے درمیان ہمیشہ اہم موضوعات رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی ماضی میں بھی ان معاملات پر سخت مؤقف اختیار کرتی رہی ہے اور صوبائی خودمختاری کو اپنی بنیادی سیاسی پالیسیوں کا حصہ قرار دیتی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل، بجٹ اور اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے مزید مشاورت متوقع ہے، تاہم پیپلز پارٹی کے حالیہ مؤقف نے اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔