حزب اللہ کی جانب سے راکٹوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے حملوں کے بعد اسرائیل نے اپنی شمالی سرحدی پٹی میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کرتے ہوئے اسکول بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شمالی سرحدی علاقوں میں تمام تعلیمی ادارے پیر کے روز بند رہیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ممکنہ خطرات اور سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا تاکہ طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوامی اجتماعات پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ فوجی حکام کے مطابق شمالی علاقوں میں کسی بھی اجتماع میں زیادہ سے زیادہ 50 افراد کے شریک ہونے کی اجازت ہوگی۔ ان پابندیوں کا مقصد ہنگامی صورتحال میں عوامی تحفظ کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں جانی نقصان کو کم سے کم رکھنا ہے۔
اسرائیلی حکام نے شمالی اسرائیل کے ساحلی علاقوں کو بھی عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان علاقوں میں عوامی نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے جبکہ مقامی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شہریوں کو حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کرنے کی ترغیب دے۔
دوسری جانب اسرائیل کی وزارت صحت نے بھی ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ وزارت کے مطابق شمالی علاقے میں واقع ایک اہم میڈیکل سینٹر کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر زیر زمین محفوظ کمپلیکس میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد طبی سہولیات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور مریضوں و طبی عملے کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنا ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

حزب اللہ حملوں کے بعد اسرائیل میں سرحدی علاقوں کے اسکول بند
-

دبئی ایئرپورٹ پر 20 ہزار ڈالر اور سونا بھرا گمشدہ بیگ مسافر کو واپس مل گیا
دبئی ایئرپورٹ پر ایمانداری اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کی ایک قابلِ ستائش مثال سامنے آئی ہے جہاں ایک عرب مسافر کا قیمتی سامان بروقت تلاش کرکے اسے روانگی سے قبل واپس کر دیا گیا۔ گمشدہ بیگ میں ہزاروں ڈالر نقدی، سونا اور اہم ذاتی دستاویزات موجود تھیں۔
خلیجی میڈیا رپورٹس کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 1 پر ایک سیاہ رنگ کا بیگ ملا جس میں 20 ہزار امریکی ڈالر نقد، 150 گرام سونا، مختلف غیر ملکی کرنسیاں، متعدد موبائل فونز اور سرکاری و ذاتی دستاویزات موجود تھیں۔ یہ بیگ ایک ایئرپورٹ ملازم کو ٹرمینل کے کھلے حصے میں ملا تھا۔
اطلاع ملنے کے بعد دبئی پولیس اور ایئرپورٹ سیکیورٹی حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بیگ کے مالک کی تلاش شروع کر دی۔ چونکہ اس وقت تک مسافر کی جانب سے گمشدہ سامان کی کوئی رپورٹ درج نہیں کرائی گئی تھی، اس لیے سیکیورٹی اہلکاروں کو اس کی شناخت اور ایئرپورٹ کے اندر نقل و حرکت کا سراغ لگانے کے لیے خصوصی اقدامات کرنا پڑے۔
ٹرمینل 1 سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کرنل عبداللہ فیصل الدوساری کے مطابق ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے دستیاب معلومات اور سفری ریکارڈ کی مدد سے مسافر تک رسائی حاصل کی۔ حکام نے روانگی سے کچھ دیر قبل متعلقہ مسافر کو ٹرمینل کے اندر تلاش کر لیا۔
بعد ازاں قانونی ضوابط کے مطابق بیگ میں موجود سامان کی تفصیلات کا جائزہ لیا گیا اور مسافر کی ملکیت ثابت کرنے کے لیے ضروری دستاویزات اور اجازت ناموں کی تصدیق کی گئی۔ تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد بیگ اس کے اصل مالک کے حوالے کر دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق مسافر اپنی پرواز کے ذریعے سعودی عرب روانہ ہونے والا تھا اور اگر بروقت تلاش نہ کیا جاتا تو اسے بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ دبئی پولیس اور ایئرپورٹ حکام کے اس اقدام کو مسافروں کے اعتماد اور سیکیورٹی نظام کی مؤثریت کی ایک بہترین مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ -

بیفورٹ قلعے پر قبضہ حزب اللہ کے خلاف اہم موڑ ہے، نیتن یاہو
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں واقع تاریخی بیفورٹ قلعے پر اسرائیلی فوج کے قبضے کو حزب اللہ کے خلاف جاری مہم میں ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام اسرائیل کی نئی سیکیورٹی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔
ایک ویڈیو پیغام میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل آج ایک مختلف انداز میں بیفورٹ واپس آیا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل پہلے سے زیادہ متحد، پرعزم اور طاقتور ہے اور اپنے دفاع کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ بیفورٹ قلعے پر قبضہ محض ایک فوجی کامیابی نہیں بلکہ اسرائیلی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اب دفاعی انداز سے آگے بڑھتے ہوئے مختلف محاذوں پر فعال کردار اختیار کر لیا ہے۔
نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل نے خوف کی رکاوٹ کو ختم کر دیا ہے اور اب وہ حالات کے مطابق فوری فیصلے اور اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فورسز شام، غزہ اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم عمل ہیں اور اپنے سیکیورٹی اہداف کے حصول کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بیفورٹ قلعہ جنوبی لبنان کا ایک تاریخی اور اسٹریٹجک مقام سمجھا جاتا ہے۔ اس علاقے کی جغرافیائی اہمیت کے باعث ماضی میں بھی یہ مختلف فوجی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ حالیہ قبضے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب لبنان اور خطے کے مختلف حلقوں کی جانب سے اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی جنوبی لبنان کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ کئی ممالک نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بیفورٹ قلعے پر قبضے اور نیتن یاہو کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اپنی علاقائی سیکیورٹی پالیسی میں مزید جارحانہ حکمت عملی اختیار کر رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

کویت میں شدید گرمی کے باعث ڈیلیوری بائیکس پر وقتی پابندی
کویت نے گرمی کی شدت میں اضافے کے پیش نظر مزدوروں اور ڈیلیوری رائیڈرز کی حفاظت کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے مخصوص اوقات میں ڈیلیوری بائیکس چلانے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد شدید موسمی حالات میں کام کرنے والے افراد کی صحت اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق کویت کی وزارت داخلہ اور ٹریفک اینڈ آپریشنز افیئرز سیکٹر نے تمام کمپنیوں اور آجروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ پبلک اتھارٹی فار مین پاور کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اعلان کے مطابق یکم جون سے 31 اگست تک دوپہر 11 بجے سے شام 4 بجے تک کھلے آسمان تلے کام کرنے پر پابندی ہوگی۔ اس دوران تعمیراتی، فیلڈ اور دیگر بیرونی نوعیت کے کاموں کے ساتھ ساتھ ڈیلیوری کمپنیوں کی جانب سے استعمال ہونے والی موٹر سائیکلوں کے آپریشنز بھی محدود رہیں گے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث کھلے ماحول میں کام کرنے والے افراد ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر طبی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ فیصلہ مزدوروں کے تحفظ اور بہتر کام کے ماحول کی فراہمی کے لیے کیا گیا ہے۔
حکام نے مزید وضاحت کی کہ پابندی کے دوران تمام سڑکوں اور علاقوں میں ڈیلیوری کمپنیوں کی بائیکس چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس اقدام سے ہزاروں ڈیلیوری ورکرز متاثر ہوں گے، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
وزارت داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ جو کمپنیاں یا افراد ان ہدایات کی خلاف ورزی کریں گے، انہیں جرمانوں، اجازت ناموں کی منسوخی اور دیگر قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کے نفاذ میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ -

ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک امریکی ایم کیو 1 ڈرون کو مار گرایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ڈرون کو ایرانی سرزمین کے قریب داخل ہونے کے فوراً بعد شناخت کر لیا گیا تھا، جس کے بعد دفاعی نظام نے کارروائی کرتے ہوئے اسے تباہ کر دیا۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ڈرون صبح کے وقت ایرانی حدود میں داخل ہوا۔ ایرانی نگرانی اور مانیٹرنگ سسٹمز نے اس کی نقل و حرکت کا فوری طور پر سراغ لگایا اور صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اسے خطرہ قرار دیا گیا۔
بیان کے مطابق ڈرون کے خلاف جدید فضائی دفاعی میزائل نظام استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ ہدف بن گیا اور تباہ ہو گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے دفاعی فورسز ہر وقت مکمل طور پر چوکس ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کا فوری جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے اس واقعے کو ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور نگرانی کے مؤثر نظام کا ثبوت قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق ملکی خودمختاری اور سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی غیر مجاز فضائی سرگرمی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
دوسری جانب اس دعوے کے حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ آزاد ذرائع سے بھی اس واقعے کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ -

گوجرانوالہ میں ڈانس ویڈیو بنانے والے دو افراد گرفتار
گوجرانوالہ میں عوامی مقام پر ڈانس کرتے ہوئے ویڈیوز بنانے اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے چار افراد کے خلاف پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دو دیگر نامزد افراد کی تلاش جاری ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق عید کے روز سوشل میڈیا پر دو خواتین اور دو نوجوانوں کی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئی تھیں۔ یہ ویڈیوز گوجرانوالہ کے علاقے چھچھروالی نہر کے کنارے بنائی گئی تھیں، جہاں چاروں افراد کو عوامی مقام پر ڈانس کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔
وائرل ویڈیوز سامنے آنے کے بعد پولیس نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے چاروں افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا اور اس کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کی گئی۔
پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ باقی دو ملزمان تاحال مفرور ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور انہیں جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ترجمان پولیس نے بتایا کہ کارروائی عوامی مقامات پر مبینہ طور پر غیر اخلاقی حرکات کرنے کے الزام میں کی گئی ہے۔ ان کے مطابق عوامی مقامات پر قانون اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے واقعات کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، جہاں بعض صارفین پولیس کارروائی کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ بعض اس معاملے پر مختلف نقطہ نظر کا اظہار کر رہے ہیں۔ تاہم پولیس کا مؤقف ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ -

لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر فرانس کا سلامتی کونسل اجلاس بلانے کا مطالبہ
لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے اور تاریخی الشقیف قلعے پر قبضے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جس پر فرانس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ فرانس اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کرتا ہے، تاہم اس حق کو لبنان میں مسلسل فوجی کارروائیوں اور علاقوں پر قبضے کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا احترام تمام فریقین کی ذمہ داری ہے اور خطے میں امن کے لیے ان اصولوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔
فرانس نے خاص طور پر تاریخی الشقیف قلعے پر اسرائیلی قبضے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ قلعہ جنوبی لبنان میں واقع ایک اہم تاریخی اور ثقافتی مقام سمجھا جاتا ہے اور اسے لبنان کی قومی وراثت کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس مقام پر پیش رفت نے لبنانی عوام اور حکام میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس کا مقصد صورتحال کا جائزہ لینا، کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی اقدامات پر غور کرنا اور خطے میں مزید تصادم کو روکنے کے لیے عالمی برادری کا مشترکہ مؤقف سامنے لانا ہے۔ فرانس نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
ادھر لبنان کی حکومت نے بھی اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ کشیدگی پر قابو نہ پایا گیا تو خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے اور اس کے اثرات پڑوسی ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ -

200 یونٹ تک صارفین کی سبسڈی ختم نہیں ہوگی، اویس لغاری
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے سبسڈی ختم کیے جانے سے متعلق خبروں اور خدشات پر اہم وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مستحق صارفین کی سبسڈی برقرار رکھے گی اور اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ سبسڈی مکمل طور پر ختم کر دی جائے۔
وزیر توانائی کے مطابق حکومت کا مقصد مستحق اور حق دار صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے، اسی لیے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے موجودہ سبسڈی نظام جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود کم آمدنی والے طبقے کو سہولت دینے کے لیے پرعزم ہے۔
اویس لغاری نے بتایا کہ بجلی کے بلوں پر سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین سے اب کیو آر کوڈ کے ذریعے کچھ اضافی معلومات طلب کی جا رہی ہیں۔ اس نئے نظام کا مقصد سبسڈی کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنانا ہے تاکہ اصل مستحق افراد تک حکومتی ریلیف پہنچ سکے اور کسی قسم کی بے ضابطگی سے بچا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس جدید نظام کے تحت اہل صارفین کی شناخت اور تصدیق کا عمل آسان ہوگا، جس سے سبسڈی کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے گی۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ عوام کو دی جانے والی مالی معاونت درست افراد تک پہنچے اور کسی مستحق صارف کو اس سہولت سے محروم نہ ہونا پڑے۔
وفاقی وزیر توانائی کے مطابق آئندہ سبسڈی کی فراہمی قومی شناختی کارڈ نمبر اور گھرانے کی بنیاد پر کی جائے گی۔ اس طریقہ کار سے ایک ہی خاندان یا گھرانے کے بجلی استعمال کے اعداد و شمار کا بہتر انداز میں جائزہ لیا جا سکے گا اور سبسڈی کا نظام مزید منظم اور شفاف بنایا جا سکے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ کم آمدنی والے صارفین کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سبسڈی کا نظام درست انداز میں ہدفی بنیادوں پر نافذ کیا گیا تو اس سے نہ صرف مستحق افراد کو فائدہ ہوگا بلکہ قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ بھی کم کیا جا سکے گا۔ -
دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی بند، کراچی میں پانی کا بحران
کراچی میں پانی کی فراہمی ایک بار پھر شدید متاثر ہوگئی ہے، جہاں دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کی جانب سے کیے گئے جبری بجلی شٹ ڈاؤن کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی سپلائی معطل ہو گئی ہے۔ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق بجلی کی بندش نے پانی کی ترسیل کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ کے الیکٹرک نے دھابیجی گرڈ کے پاور ٹرانسفارمر نمبر ایک میں پیدا ہونے والے ایک اہم فنی نقص کی ہنگامی مرمت کے لیے 30 مئی کی شام ساڑھے چھ بجے بجلی کی فراہمی بند کی۔ اس اچانک شٹ ڈاؤن کے نتیجے میں دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کے 21 میں سے 10 پمپنگ یونٹس کام کرنا چھوڑ گئے، جس سے کراچی کو پانی کی فراہمی کا پورا نظام متاثر ہوا۔
واٹر بورڈ حکام کے مطابق ابتدائی طور پر کے الیکٹرک نے صرف ایک گھنٹے کے لیے بجلی بند ہونے کی اطلاع دی تھی، تاہم بعد ازاں بجلی کی مکمل بحالی کے حوالے سے کوئی واضح وقت فراہم نہیں کیا گیا۔ اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث پانی کی فراہمی کی بحالی بھی تاخیر کا شکار ہے۔
ترجمان کے مطابق اس وقت کراچی کو تقریباً 54 ملین گیلن یومیہ پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ بجلی کی معطلی سے کے ٹو پمپنگ اسٹیشن کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کے تھری فیڈر کے ذریعے بیک فیڈ فراہم کی گئی، تاہم محدود برقی استعداد کی وجہ سے پمپنگ آپریشن مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی فراہمی معمول پر لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم بجلی کی مکمل بحالی تک صورتحال معمول پر آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی کمی کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور متبادل ذرائع سے پانی حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر پانی کا استعمال انتہائی احتیاط اور کفایت شعاری سے کریں تاکہ قلت کے دوران زیادہ سے زیادہ افراد کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ -

آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے کی تاریخ پر غور، لاکھوں افراد کی شرکت متوقع
ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے اور تدفین کے حوالے سے انتظامات پر غور جاری ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنگی صورتحال اور سکیورٹی خدشات کے باعث جنازے کی تقریب کو مؤخر کیا گیا تھا، جبکہ اب اس کے انعقاد کے لیے مختلف تاریخوں پر مشاورت کی جا رہی ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کی تقریب کے اعلان کے بعد ملک بھر سے لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے سکیورٹی اور انتظامی امور پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ تقریب منظم انداز میں منعقد ہو سکے۔
تہران کی اسلامی رابطہ کونسل کے سربراہ محسن محمودی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنازے کے انعقاد کے لیے ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوشش کی جا رہی ہے کہ عوام کو بھرپور انداز میں شرکت کا موقع فراہم کیا جائے اور تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جائے۔
رپورٹس کے مطابق متعلقہ حکام 14 جون سے 17 جون کے درمیان نماز جنازہ کے انعقاد کی مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم تاحال کسی حتمی تاریخ کا سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔ حکام کی جانب سے تاریخ کے تعین کے بعد باضابطہ اعلان متوقع ہے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنازے کی تقریب ملک کی حالیہ تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے سکیورٹی ادارے، مقامی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ محکمے ممکنہ انتظامات کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ اطلاعات ایرانی میڈیا رپورٹس اور حکام کے بیانات پر مبنی ہیں، جبکہ جنازے کی حتمی تاریخ اور تفصیلات کے بارے میں سرکاری اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔