امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کے ٹول یا فیس کے نظام کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر ٹول سسٹم نافذ کرنے میں مدد دینے والے عناصر کے خلاف “سخت اور جارحانہ کارروائی” کرے گا۔
انہوں نے عمان کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایسے تمام کرداروں کو نشانہ بنائے گا جو اس نظام کو سہولت فراہم کریں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک غیر سرکاری مجوزہ معاہدے کی رپورٹ نشر کی تھی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران اور عمان مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کا انتظام سنبھال سکتے ہیں جبکہ ایک ماہ کے اندر جنگ سے پہلے جیسی شپنگ صورتحال بحال کی جائے گی۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اس رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا۔
دوسری جانب عمان نے بھی ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے مشترکہ کنٹرول سے متعلق کسی منصوبے کی تصدیق نہیں کی۔
عمانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ صرف جہاز رانی کی آزادی اور خطے میں استحکام سے متعلق بات چیت ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی اور تیل گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران، امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز عالمی سیاست اور معیشت کا حساس ترین مرکز بنتی جا رہی ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

آبنائے ہرمز پر ٹول سسٹم برداشت نہیں کریں گے، امریکا
-

خلیجی ممالک نے کویت پر حملوں کی شدید مذمت کردی
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے کویت پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی بڑھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مملکت کویت پر حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب ہر اس جارحیت کو مسترد کرتا ہے جو ریاستوں کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرے یا علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالے۔
متحدہ عرب امارات نے بھی کویت پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں استحکام اور امن برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب قطر کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
قطری وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ تمام فریقین کو کشیدگی بڑھانے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ خطہ مزید بحران کا شکار نہ ہو۔
قطر نے کویت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سلامتی اور استحکام کیلئے حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیجی خطے میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے۔
حالیہ دنوں آبنائے ہرمز، امریکی فوجی اڈوں اور خلیجی ممالک کی سکیورٹی سے متعلق متعدد واقعات نے عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک اس وقت خطے میں ممکنہ بڑے تصادم سے بچنے کیلئے سفارتی کوششوں پر زور دے رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ -

اسرائیلی حملوں سے جنوبی لبنان کے لاکھوں افراد بے گھر
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی نے جنوبی لبنان میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے جہاں لاکھوں شہری اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے شہر صور (Tyre) اور اطراف میں حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے نئے فضائی حملے شروع کیے ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کی ثالثی میں 16 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی بھی تشدد روکنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔
تقریباً چھ ہفتوں تک جاری لڑائی کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اسرائیل اور حزب اللہ ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہوئے تقریباً روزانہ حملے کر رہے ہیں۔
عالمی مبصرین کے مطابق مسلسل بمباری اور فوجی کارروائیوں کے باعث جنوبی لبنان کے سینکڑوں دیہات اور قصبے خالی ہو چکے ہیں۔
جنگ بندی کے فوراً بعد اسرائیل نے ایک نقشہ جاری کیا تھا جس میں تقریباً 600 مربع کلومیٹر پر مشتمل ایک بفر زون دکھایا گیا تھا جس پر اسرائیلی زمینی افواج نے قبضہ کیا ہوا ہے۔
اس نقشے میں 57 قصبوں اور دیہاتوں کو بھی نشان زد کیا گیا تھا جہاں کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں کے مطابق ہزاروں خاندان عارضی کیمپوں، اسکولوں اور پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں جبکہ بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں بجلی، پانی، طبی سہولیات اور خوراک کی قلت بھی سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں ایک طویل المدتی سکیورٹی بفر قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ حزب اللہ اسے لبنانی خودمختاری پر حملہ قرار دے رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو لبنان میں پہلے سے موجود معاشی اور انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد اور شہری آبادی کے تحفظ کیلئے مسلسل مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ -

امریکہ کی ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، مجتبیٰ خامنہ ای
ایرانی میڈیا نے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک تحریری پیغام شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل شکست کے بعد ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے جاری اس پیغام میں ایرانی قوم کے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور داخلی استحکام برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
اسلامی مشاورتی اسمبلی کے قیام کی سالگرہ کے موقع پر جاری ہونے والے اس پیغام میں کہا گیا کہ موجودہ حالات میں پارلیمنٹ کو بنیادی قومی مسائل پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
پیغام میں معیشت، روزگار، مہنگائی میں کمی، پیداوار میں اضافے اور عوام میں امید پیدا کرنے کو قومی ترجیحات قرار دیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران اس وقت شدید اقتصادی دباؤ اور کساد بازاری کا سامنا کر رہا ہے۔
پیغام میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باعث صنعتی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا جبکہ طویل انٹرنیٹ بندش اور بڑھتی مہنگائی نے عوام کیلئے معاشی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں موجودہ معاشی صورتحال، عالمی پابندیاں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی حکومت کیلئے بڑے چیلنجز بن چکے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات ایران کے اندر قومی اتحاد کو مضبوط رکھنے اور بیرونی دباؤ کے خلاف عوامی حمایت برقرار رکھنے کی کوشش کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں عسکری سرگرمیوں نے مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھا دی ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری تنازعات کے باعث ایران کو معاشی اور سفارتی دونوں محاذوں پر سخت دباؤ کا سامنا ہے۔ -

اجتماعی شادی کے نام پر نوجوانوں سے لاکھوں کا فراڈ
بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں اجتماعی شادیوں کے نام پر نوجوانوں سے فراڈ کرنے والے ایک گروہ کا انکشاف ہوا ہے جہاں درجنوں افراد کو شادی کا جھانسہ دے کر رقم بٹوری گئی۔
رپورٹس کے مطابق 24 مئی بروز اتوار دیواس کے مشہور ماتا ٹیکری مندر میں کئی نوجوان اپنی مبینہ شادیوں کے انتظار میں موجود تھے۔
کچھ نوجوانوں نے گلے میں ہار پہن رکھے تھے جبکہ ان کے اہل خانہ اور رشتہ دار بھی خوشی کے موقع پر وہاں پہنچے ہوئے تھے۔
متاثرہ افراد کو بتایا گیا تھا کہ اگلے 24 گھنٹوں میں ان کی شادی اندور کے ایک یتیم خانے میں رہنے والی لڑکیوں سے کرا دی جائے گی۔
تاہم رات گزرنے کے باوجود نہ کوئی دلہن آئی اور نہ ہی شادی کی کوئی تقریب منعقد ہوئی۔
بعد ازاں انکشاف ہوا کہ یہ پورا معاملہ ایک منظم فراڈ تھا۔
پولیس کے مطابق اس اسکینڈل میں ملوث 4 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ 2 ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔
دیواس کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جیویرسن بہادریہ نے میڈیا کو بتایا کہ “شادی کے نام پر متعدد نوجوانوں سے رقم وصول کی گئی اور انہیں دھوکے میں رکھا گیا۔”
پولیس کے مطابق ملزمان پہلے ایسے نوجوانوں سے رابطہ کرتے تھے جو شادی کیلئے رشتہ تلاش کر رہے ہوتے تھے۔
بعد ازاں انہیں بتایا جاتا تھا کہ اندور کے ایک آشرم یا یتیم خانے میں رہنے والی لڑکیاں شادی کیلئے تیار ہیں۔
تحقیقات کے مطابق رجسٹریشن، دستاویزات اور دیگر اخراجات کے نام پر نوجوانوں سے آن لائن رقم وصول کی جاتی تھی۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں موبائل فون پر لڑکیوں کی تصاویر بھی بھیجی گئیں، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ تصاویر دراصل سوشل میڈیا سے لی گئی تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس فراڈ کے پیچھے ایک منظم نیٹ ورک موجود ہے اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے بڑھتے استعمال کے ساتھ شادی اور رشتوں کے نام پر فراڈ کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
پولیس نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی آن لائن شادی یا رشتہ سروس پر اعتماد کرنے سے پہلے مکمل تصدیق ضرور کریں۔ -

اسحاق ڈار کل واشنگٹن میں مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار جمعے کے روز واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے اہم ملاقات کریں گے۔
وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور پاکستان سفارتی سطح پر امن کوششوں میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد ایران کے خلاف جاری جنگ کے مستقل خاتمے اور ممکنہ امن معاہدے کیلئے مختلف سفارتی رابطوں میں مصروف ہے۔
وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ اسحاق ڈار اور مارکو روبیو باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر بھی گفتگو کریں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ علاقائی صورتحال میں پاکستان اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایران سے متعلق جاری سفارتی سرگرمیاں اس ملاقات کا اہم محور ہو سکتی ہیں۔
پاکستان اس سے قبل بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں اور بیک چینل رابطوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس ملاقات سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ خطے کی بدلتی صورتحال پر بھی اہم پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ -

بجٹ میں عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی کوشش، وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ بجٹ میں عوام پر کم سے کم مالی بوجھ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ ٹیکس بڑھانے کے بجائے انفورسمنٹ اور کمپلائنس پر توجہ دی جائے گی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں حکومت کی کوشش ہے کہ نئے ٹیکسز کے بجائے ٹیکس نظام کو بہتر بنایا جائے اور ٹیکس وصولی کے نظام میں شفافیت لائی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں انفورسمنٹ اور کمپلائنس کے ذریعے محصولات بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے تاکہ عام آدمی پر اضافی دباؤ نہ پڑے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی سطح پر متحرک کردار ادا کر رہی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کو سراہا جا رہا ہے۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ تنقید برائے تنقید کے بجائے معاشی استحکام کیلئے مشترکہ کوششیں کی جائیں تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالا جا سکے۔
زرعی شعبے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے گندم کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بعض کاشتکار فی ایکڑ گندم کی پیداوار 60 سے 70 من تک لے جا چکے ہیں، جو اس شعبے میں بہتری کی بڑی مثال ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف زرعی شعبے کے مسائل سے مکمل آگاہ ہیں اور حکومت زراعت کو مضبوط بنانے کیلئے مختلف اقدامات پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں زرعی پیداوار بڑھی تو ملکی ایکسپورٹ پوٹینشل میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا جس سے معیشت کو استحکام ملے گا۔
ماہرین کے مطابق آئندہ بجٹ میں عوامی ریلیف، مہنگائی کنٹرول اور زرعی ترقی اہم نکات کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔ -

پاکستان ذمہ دار اور امن پسند ایٹمی ریاست ہے، صدر زرداری
صدر مملکت آصف علی زرداری نے یومِ تکبیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار، پرامن اور خودمختار ایٹمی ریاست ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ 28 مئی 1998 کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جب پاکستان نے کامیاب ایٹمی دھماکوں کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ یومِ تکبیر پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع، قومی خودمختاری اور اسٹریٹجک استحکام کی علامت ہے۔
صدر مملکت کے مطابق پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام قومی سلامتی اور دفاعی ضروریات کے تحت شروع کیا تھا تاکہ ملک کے دفاع کو مضبوط بنایا جا سکے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ قوم اپنے سائنس دانوں، انجینئرز اور مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جن کی محنت اور قربانیوں کی بدولت پاکستان ایٹمی طاقت بنا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود پاکستان نے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کیا اور دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا۔
صدر زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی دفاعی حکمت عملی خطے میں امن، توازن اور استحکام کیلئے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے جدید جنگی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی جنگوں میں سائبر وارفیئر، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈرون ٹیکنالوجی انتہائی اہم کردار ادا کریں گے۔
صدر مملکت نے واضح کیا کہ پاکستان کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا، تاہم اگر کسی بھی قسم کی جارحیت مسلط کی گئی تو اس کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے 28 مئی 1998 کو بلوچستان کے علاقے چاغی میں کامیاب ایٹمی دھماکے کیے تھے، جس کے بعد ہر سال اس دن کو “یومِ تکبیر” کے طور پر منایا جاتا ہے۔ -

امریکی دھمکیوں اور بندر عباس حملوں کی شدید مذمت
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا کی جانب سے ایران اور خطے کے بعض دیگر ممالک کے خلاف استعمال کی جانے والی دھمکی آمیز زبان کی شدید مذمت کی ہے۔
ایرانی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی اشتعال انگیز پالیسی خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
اسماعیل بقائی نے بندر عباس کے ساحلی شہر پر امریکا کے حالیہ حملوں کی بھی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں ایران کی علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی واضح خلاف ورزی ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا کی فوجی کارروائیاں خطے میں کشیدگی بڑھانے اور سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہیں۔
ترجمان نے زور دیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور سرحدوں کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
مبصرین کے مطابق بندر عباس اور آبنائے ہرمز کے قریب بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں نے خلیجی خطے میں تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی عالمی تیل منڈیوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
دوسری جانب عالمی برادری خطے میں بڑھتے تناؤ کے خاتمے اور سفارتی حل پر زور دے رہی ہے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔ -

عید پر بھی کراچی کے بیشتر علاقوں میں گیس غائب
شہر قائد کراچی میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر بھی بیشتر علاقوں کے شہری گیس سے محروم رہے جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بھاری ٹیکسز اور بل ادا کرنے کے باوجود عید جیسے اہم موقع پر بھی بنیادی سہولت دستیاب نہیں رہی۔
رپورٹس کے مطابق شادمان ٹاؤن، یو پی موڑ، کیماڑی، جیکسن مارکیٹ، شیریں جناح کالونی، اختر کالونی، نارتھ ناظم آباد، لیاقت آباد اور نیو کراچی سمیت مختلف علاقوں میں گیس کی بندش برقرار رہی۔
متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے شکایت کی کہ گھروں میں گیس پریشر انتہائی کم نہیں بلکہ پائپ لائنوں میں گیس مکمل طور پر غائب تھی، جس کے باعث کھانا پکانے اور قربانی کے گوشت کی تیاری میں شدید دشواری پیش آئی۔
شہریوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے دوران گیس کی ضرورت معمول سے زیادہ ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود انہیں مہنگی ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
واضح رہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) نے عید کے تینوں دن گیس لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم متعدد علاقوں کے صارفین اس دعوے سے محروم رہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے تجارتی شہر میں بار بار گیس بحران پیدا ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ عوام سے بھاری بل اور ٹیکس وصول کرنے کے ساتھ بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔
دوسری جانب بعض علاقوں میں شہریوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرتے ہوئے گیس بندش پر شدید احتجاج بھی کیا۔
ماہرین کے مطابق کراچی میں گیس فراہمی کا مسئلہ ہر سال عید اور سردیوں کے موسم میں شدت اختیار کر جاتا ہے، جس کیلئے مستقل اور مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔