پاکستان میں مہنگائی ایک بار پھر تیزی سے بڑھنے لگی ہے، جہاں مئی 2026 کے دوران افراطِ زر کی شرح گزشتہ 23 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ماہانہ رپورٹ کے مطابق اشیائے ضروریہ اور دیگر اخراجات میں اضافے کے باعث عوام کو مزید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 کے مقابلے میں مئی 2026 کے دوران مہنگائی کی ماہانہ شرح میں 0.52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا رجحان دوبارہ تیز ہو رہا ہے۔
ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح بڑھ کر 11.66 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ مئی 2025 میں یہی شرح 3.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس نمایاں فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک سال کے دوران قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی 2025 سے مئی 2026 تک اوسط مہنگائی کی شرح 6.69 فیصد رہی۔ اس کے علاوہ اپریل 2026 میں سالانہ افراطِ زر کی شرح 10.89 فیصد تھی، جو مئی میں مزید بڑھ کر 11.66 فیصد ہو گئی۔
شہری اور دیہی علاقوں کے اعداد و شمار بھی مہنگائی میں اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ ماہ دیہی علاقوں میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح میں 0.30 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ شہری علاقوں میں یہ اضافہ 0.68 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو نسبتاً زیادہ ہے۔
سالانہ بنیاد پر دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 11.48 فیصد رہی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 11.79 فیصد تک پہنچ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں رہائش، ٹرانسپورٹ، توانائی اور خوراک کے بڑھتے ہوئے اخراجات مہنگائی میں اضافے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی کی موجودہ صورتحال حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب نئے مالی سال کا بجٹ پیش کیے جانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ عوام کی توقع ہے کہ آئندہ بجٹ میں مہنگائی کے اثرات کم کرنے اور کم و متوسط آمدنی والے طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

مئی میں مہنگائی 23 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
-

پنجاب کا آئندہ بجٹ ٹیکس فری ہونے کا امکان
پنجاب حکومت کے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق صوبائی بجٹ کو عوام دوست اور ٹیکس فری رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نئے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے موجودہ محصولات کے نظام کو مؤثر بنا کر آمدن میں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کی مجموعی ٹیکس وصولیاں آئندہ مالی سال میں تقریباً 712 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ان محصولات میں سب سے بڑا حصہ جی ایس ٹی آن سروسز کا ہوگا، جس سے 320 ارب روپے آمدن حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
بجٹ تخمینوں کے مطابق ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 128 ارب روپے وصول ہونے کا امکان ہے، جبکہ اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس سے 90 ارب روپے حاصل کیے جانے کا ہدف مقرر کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سیلز ٹیکس سے 82 ارب روپے اور موٹر وہیکل ٹیکس سے 47 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی سے متعلق ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں سے 35.2 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے، جبکہ لینڈ ریونیو کی مد میں 1.7 ارب روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ اور مقامی حکومتوں کے منصوبوں کے لیے 550 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
آئندہ بجٹ میں کسانوں، طلبہ اور مزدور طبقے کے لیے جاری فلاحی پروگراموں کو برقرار رکھنے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق کسانوں کو ٹریکٹرز، سولر ٹیوب ویلز، معیاری بیج، کھاد اور زرعی قرضوں پر سبسڈی فراہم کرنے کی تجاویز شامل کی جا رہی ہیں تاکہ زرعی شعبے کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
تعلیمی شعبے میں بھی متعدد منصوبوں کو جاری رکھنے کا امکان ہے۔ ہونہار اسکالرشپ پروگرام اور طلبہ کے لیے الیکٹرک بائیک اسکیم کو برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے نوجوانوں کو تعلیم اور سفری سہولتوں میں مدد ملے گی۔
ذرائع محکمہ خزانہ کے مطابق جنوبی پنجاب کی ترقی کے لیے مختص فنڈز کی موجودہ پالیسی برقرار رکھنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس پالیسی کے تحت صوبائی ترقیاتی بجٹ کا کم از کم 35 فیصد حصہ جنوبی پنجاب کے منصوبوں کے لیے مختص کیا جائے گا تاکہ پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ -

ایران کا فوجی کارروائیوں کے تناظر میں امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ معطل
لبنان میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں ایران نے امریکا کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ اقدام خطے میں جاری کشیدگی اور لبنان و غزہ کی صورتحال کے پس منظر میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی مذاکراتی وفد نے واضح کیا ہے کہ جب تک لبنان اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق ایران کے مطالبات پر پیش رفت نہیں ہوتی، اس وقت تک امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات یا سفارتی رابطوں کو آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں تہران کی توجہ خطے میں جاری تنازعات اور ان کے ممکنہ اثرات پر مرکوز ہے۔ اسی لیے سفارتی سطح پر بھی نئی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے تاکہ علاقائی صورتحال کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں۔
تسنیم کی رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادی مزاحمتی گروپوں نے خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں مختلف آپشنز اور حکمت عملیوں پر غور کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز زیرِ بحث آئی ہیں۔
تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے آزاد ذرائع سے فوری تصدیق سامنے نہیں آئی اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر ان تمام نکات کی باضابطہ توثیق کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مختلف بیانات اور دعوؤں کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں تعطل خطے کی سفارتی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات، توانائی کی عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے مسلسل سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جا سکے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ خطے میں پائیدار استحکام کے لیے سیاسی اور سفارتی حل ناگزیر ہے۔ -

حزب اللہ کا طبریہ میں اسرائیلی فوجی اڈے پر راکٹ حملے کا دعویٰ
لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے اسرائیل کے شہر طبریہ میں واقع ایک زیر زمین فوجی اڈے کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے مبینہ جنگ بندی خلاف ورزیوں کے جواب میں کی گئی۔
حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مزاحمتی فورسز نے طبریہ میں موجود اسرائیلی فوج کے ایک اہم زیر زمین اڈے پر متعدد راکٹ داغے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ یہ حملہ اسرائیلی اقدامات کے ردعمل میں کیا گیا اور اس کا مقصد اپنے موقف کا اظہار کرنا تھا۔
بیان کے مطابق حزب اللہ نے اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ کارروائی انہی واقعات کے جواب میں انجام دی گئی۔ تنظیم نے حملے کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
تاحال اسرائیلی حکام کی جانب سے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی حملے سے ہونے والے ممکنہ نقصان یا جانی نقصانات کی تصدیق کی گئی ہے۔ آزاد ذرائع سے بھی اس دعوے کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایسے دعوے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدی کشیدگی گزشتہ عرصے سے عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جبکہ مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے عالمی برادری مسلسل تحمل، مذاکرات اور سفارتی حل پر زور دے رہی ہے۔ -

امریکی افواج کا کویت میں دو ایرانی بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے کویت میں تعینات امریکی فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے دو ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو کامیابی سے تباہ کر دیا۔ سینٹکام کے مطابق کارروائی گزشتہ رات انجام دی گئی اور اس دوران کسی بھی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں سینٹکام نے کہا کہ امریکی دفاعی نظام نے ممکنہ خطرے کا بروقت سراغ لگایا اور فوری ردعمل دیتے ہوئے دونوں بیلسٹک میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس کامیاب کارروائی کے نتیجے میں فوجی تنصیبات اور اہلکار محفوظ رہے۔
سینٹکام نے مزید کہا کہ امریکی افواج اپنے اہلکاروں، اتحادیوں اور خطے میں موجود فوجی اڈوں کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ کسی بھی خطرے یا حملے کی صورت میں فوری اور مؤثر دفاعی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
امریکی فوج کے مطابق خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور دفاعی نظام کو ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے فعال رکھا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امریکی افواج اپنے دفاع اور علاقائی استحکام کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھیں گی۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک اور عالمی ادارے خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
دوسری جانب اس دعوے پر ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ آزاد ذرائع سے بھی واقعے کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ -

وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش ہوگا، ترقیاتی پروگرام کا حجم 4264 ارب روپے
مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ 5 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 4264 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی پروگراموں کو ملکی ترقی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور عوامی فلاحی منصوبوں کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق مجموعی ترقیاتی بجٹ میں وفاقی حکومت کے ترقیاتی پروگرام کا حجم 1126 ارب روپے ہوگا، جبکہ چاروں صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگراموں کے لیے مجموعی طور پر 3138 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔
آئندہ مالی سال میں صوبوں کے اپنے وسائل سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کا مجموعی حجم 2478 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے غیر ملکی امداد اور مالی تعاون کی مد میں 660 ارب روپے فراہم کیے جانے کی تجویز بھی شامل ہے۔
صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کے جائزے کے مطابق پنجاب سب سے بڑے ترقیاتی پروگرام کے ساتھ فہرست میں سرفہرست ہے۔ پنجاب کے لیے 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے، جس میں 1306 ارب روپے صوبائی وسائل سے جبکہ 144 ارب روپے غیر ملکی امداد سے حاصل کیے جائیں گے۔
سندھ کے لیے مجموعی ترقیاتی پروگرام کا حجم 816 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ اس میں 520 ارب روپے مقامی وسائل سے جبکہ 296 ارب روپے بیرونی امداد اور ترقیاتی شراکت داریوں کے ذریعے فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔
خیبر پختونخوا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 564 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس رقم میں 377 ارب روپے صوبائی وسائل سے جبکہ 187 ارب روپے غیر ملکی امداد کی صورت میں فراہم کیے جائیں گے۔
بلوچستان کے لیے 308 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام تجویز کیا گیا ہے، جس میں 275 ارب روپے مقامی وسائل اور 33 ارب روپے بیرونی امداد سے حاصل کیے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ -

کراچی میں پانی کا شدید بحران، شہری سراپا احتجاج
کراچی میں پانی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے، جس کے باعث لاکھوں شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں پانی کی قلت نے عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں لوگ بنیادی ضرورت کے لیے بھی پانی حاصل کرنے سے محروم ہیں۔
شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی عدم فراہمی کے خلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاجی مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے فوری طور پر پانی کی فراہمی بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے اس بحران کا ذمہ دار کے الیکٹرک کو قرار دیا ہے۔ واٹر کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق 31 مئی کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فنی خرابی پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں نارتھ ایسٹ کراچی پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہو گئی تھی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ بجلی کی بندش کے باعث کے ٹو (K-II) اور کے تھری (K-III) پمپنگ اسٹیشنز سے پانی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی، جس سے شہر کو روزانہ تقریباً 122 ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال نے ضلع وسطی، ضلع غربی اور دیگر کئی علاقوں میں پانی کے بحران کو مزید گہرا کر دیا۔
واٹر کارپوریشن کے مطابق بجلی کی فراہمی متاثر ہونے سے پمپنگ آپریشن رکاوٹ کا شکار ہوا، جس کے باعث سپلائی سسٹم میں خلل پیدا ہوا اور شہریوں تک پانی کی ترسیل متاثر ہوئی۔ کئی علاقوں میں ٹینکر مافیا کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے شہریوں کے مسائل مزید بڑھ گئے۔
بعد ازاں واٹر کارپوریشن نے بتایا کہ کے الیکٹرک کی جانب سے مین کیبل میں پیدا ہونے والی خرابی کو دور کر دیا گیا ہے اور نارتھ ایسٹ کراچی پمپنگ اسٹیشن کی بجلی بحال ہو چکی ہے۔ بجلی کی بحالی کے بعد کے ٹو اور کے تھری پمپنگ اسٹیشنز سے پانی کی فراہمی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سپلائی لائنوں میں پریشر بحال ہونے اور پانی کی ترسیل مکمل طور پر معمول پر آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں صورتحال معمول پر آنے کی توقع ہے۔ -

ایپکا کا تنخواہوں میں 200 فیصد اور الاؤنسز میں 500 فیصد اضافے کا مطالبہ
آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ سے قبل آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (ایپکا) نے سرکاری ملازمین کے لیے بڑے مالی ریلیف کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے سامنے 6 نکاتی چارٹر پیش کر دیا ہے۔ تنظیم نے تنخواہوں اور الاؤنسز میں نمایاں اضافے کے مطالبات کے ساتھ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔
ایپکا کی مرکزی قیادت کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتوں اور روزمرہ اخراجات میں اضافے نے سرکاری ملازمین کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں فوری طور پر 200 فیصد اضافہ کیا جائے۔
تنظیم نے اپنے مطالبات میں ہاؤس رینٹ الاؤنس، میڈیکل الاؤنس اور دیگر مراعات میں 500 فیصد اضافے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ایپکا کا مؤقف ہے کہ موجودہ الاؤنسز مہنگائی کی موجودہ شرح کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہو چکے ہیں اور ملازمین کی ضروریات پوری نہیں کر پا رہے۔
اپنے 6 نکاتی ایجنڈے میں ایپکا نے سرکاری اداروں کی ممکنہ نجکاری کے عمل کو بھی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نجکاری سے ملازمین کے روزگار اور مستقبل سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایپکا رہنماؤں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں مہنگائی کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس نے متوسط اور کم آمدنی والے سرکاری ملازمین کی معاشی حالت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ تنخواہوں کے ساتھ گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔
تنظیم نے اپنے مطالبات کے حق میں دو جون کو اسلام آباد میں ملک گیر احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایپکا کا کہنا ہے کہ ملک بھر سے سرکاری ملازمین اور کلرک بڑی تعداد میں وفاقی دارالحکومت پہنچیں گے تاکہ اپنے مطالبات حکومت تک مؤثر انداز میں پہنچا سکیں۔
اطلاعات کے مطابق احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد کی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سکیورٹی انتظامات سخت کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ سے قبل سرکاری ملازمین کی جانب سے سامنے آنے والے یہ مطالبات حکومتی مالی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ -

انمول پنکی کے مبینہ سہولت کاروں کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ
کراچی میں منشیات اسمگلنگ کے ایک اہم مقدمے میں پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مبینہ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کے دو اہم سہولت کاروں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے سیشن عدالت سے رجوع کر لیا۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواستِ ضمانت پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جیل میں قید ملزمہ انمول عرف پنکی کے مبینہ ساتھیوں سہیل الرحمان اور ذیشان نے سیشن عدالت جنوبی میں قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ دونوں ملزمان کے خلاف کراچی کے تھانہ گارڈن میں منشیات فروشی اور مبینہ سہولت کاری کا مقدمہ درج ہے۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکلان بے قصور ہیں اور ان کا انمول عرف پنکی یا کسی منشیات کے نیٹ ورک سے کوئی تعلق نہیں۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں، اس لیے انہیں ضمانت دی جائے۔
دوسری جانب سرکاری وکیل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزمان مبینہ طور پر انمول پنکی کے نیٹ ورک کے اہم کردار ہیں۔ استغاثہ کے مطابق انمول پنکی کے جیل میں ہونے کے باوجود اس کا نیٹ ورک بیرونِ جیل فعال رہا اور اس میں سہیل الرحمان اور ذیشان کا کردار انتہائی اہم بتایا جا رہا ہے۔
سرکاری وکیل نے عدالت سے مؤقف اپنایا کہ ملزمان کی گرفتاری تفتیش کے لیے ضروری ہے اور انہیں ضمانت دینا تحقیقات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ عدالت نے دونوں جانب کے دلائل تفصیل سے سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
عدالتی ذرائع کے مطابق محفوظ فیصلہ رواں ہفتے سنائے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ ملزمان کو ریلیف ملتا ہے یا انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔
یاد رہے کہ انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات اسمگلنگ اور منشیات کے مبینہ نیٹ ورک چلانے کے الزامات کے تحت مختلف مقدمات زیرِ تفتیش ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ -

فیری میڈوز جانے والی سیاحوں کی گاڑی حادثے کا شکار، 7 افراد جاں بحق
گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے علاقے چلاس میں سیاحتی مقام فیری میڈوز جانے والی ایک گاڑی خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب سیاحوں کو لے جانے والی گاڑی دشوار گزار پہاڑی راستے پر سفر کر رہی تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق گاڑی بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری، جس کے باعث متعدد افراد شدید زخمی بھی ہوئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی شناخت اور حادثے کی وجوہات کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ زخمیوں کو قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
فیری میڈوز پاکستان کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے اور ہر سال ملک بھر کے علاوہ غیر ملکی سیاح بھی بڑی تعداد میں یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم اس مقام تک جانے والے پہاڑی راستے دشوار اور خطرناک سمجھے جاتے ہیں، جس کے باعث ڈرائیوروں کو انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
مقامی حکام نے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پہاڑی علاقوں میں سفر کے دوران حفاظتی ہدایات پر عمل کریں اور صرف تجربہ کار ڈرائیوروں کی خدمات حاصل کریں تاکہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔