پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ یکم جون کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالاس شرکت کریں گی۔ سفارتی اور سیاسی حلقے اس دورے کو دونوں فریقوں کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دنیا کو بدلتی ہوئی سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی صورتحال کا سامنا ہے۔ پاکستان اپنی اقتصادی ترقی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی شراکت داریوں کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ یورپی یونین جنوبی ایشیا میں قابل اعتماد اور مؤثر شراکت داروں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آغاز 2012 میں ہوا تھا۔ اس مکالمے کا مقصد سیاسی، تجارتی، اقتصادی اور سیکیورٹی شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔ گزشتہ برسوں کے دوران یہ پلیٹ فارم دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات کو نئی جہت دینے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
2019 میں اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر دستخط کے بعد دوطرفہ تعاون کو مزید ادارہ جاتی بنیادیں فراہم کی گئیں۔ اس معاہدے کے تحت تجارت، تعلیم، ماحولیات، انسانی ترقی اور گورننس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھایا گیا۔
یورپی یونین پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔ 2014 میں پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، چمڑے کی مصنوعات اور سرجیکل آلات نے یورپی منڈیوں میں مضبوط مقام حاصل کیا، جس سے ملکی معیشت کو اہم فوائد حاصل ہوئے۔
تعلیم اور سماجی ترقی کے شعبوں میں بھی یورپی یونین پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایراسمس پلس جیسے پروگرام پاکستانی طلبہ کو یورپ میں اعلیٰ تعلیم اور بین الاقوامی تجربے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں، جبکہ صحت، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی ترقی کے مختلف منصوبوں میں بھی یورپی تعاون جاری ہے۔
کاجا کالاس اپنے دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کریں گی۔ ان ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی امن، افغانستان کی صورتحال، موسمیاتی تبدیلی اور سیکیورٹی تعاون جیسے اہم امور زیر بحث آئیں گے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

اسلام آباد میں پاکستان اور یورپی یونین کا آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ
-

خواجہ آصف کا لیسکو میں مبینہ کرپشن سے متعلق بڑا انکشاف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) میں مبینہ بدعنوانی اور غیر شفاف طرز عمل کے حوالے سے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے ادارے کے اندر موجود مسائل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے گھریلو ملازم کے گاؤں میں خراب ہونے والے ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے لیسکو عملے نے مبینہ طور پر 80 ہزار روپے طلب کیے۔
خواجہ آصف کے مطابق گاؤں میں ٹرانسفارمر جل جانے کے بعد مقامی افراد کو بجلی کی بحالی کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے خود لیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سے رابطہ کیا اور مسئلے کے حل میں تعاون کی درخواست کی۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ ان کی مداخلت اور اعلیٰ حکام سے رابطے کے باوجود گاؤں کے مکینوں کو اپنی مدد آپ کے تحت چندہ جمع کرنا پڑا تاکہ مطلوبہ رقم ادا کی جا سکے۔ ان کے مطابق دیہاتیوں نے آپس میں رقم اکٹھی کرکے ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے ادائیگی کی، تاہم اس تمام عمل نے ادارے کے طریقہ کار پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید دعویٰ کیا کہ رقم وصول کیے جانے کے باوجود متعلقہ افراد کو کوئی سرکاری رسید جاری نہیں کی گئی۔ ان کے بقول اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ معاملہ نہ صرف مالی بے ضابطگی بلکہ شفافیت اور احتساب کے نظام پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
وزیر دفاع کی جانب سے سامنے آنے والے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔ صارفین کی جانب سے معاملے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے شہریوں سے غیر قانونی ادائیگیاں طلب کی جا رہی ہیں تو اس کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ -

جنوبی لبنان میں جھڑپ، ایک اسرائیلی فوجی ہلاک
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی کے دوران حزب اللہ کے مبینہ ڈرون حملے میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ چار دیگر زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی فوج نے اتوار کی صبح جاری بیان میں تصدیق کی کہ جنوبی لبنان میں ایک کارروائی کے دوران اس کا ایک اہلکار جان کی بازی ہار گیا۔ ہلاک ہونے والے فوجی کی شناخت اسٹاف سارجنٹ مائیکل تیوکن کے نام سے کی گئی ہے۔
فوجی حکام کے مطابق حملہ دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون کے ذریعے کیا گیا، جس کے نتیجے میں مائیکل تیوکن موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ چار دیگر اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق مائیکل تیوکن کا تعلق اصل میں یوکرین سے تھا اور وہ تقریباً چھ سال قبل اسرائیل منتقل ہوا تھا۔ بعد ازاں اس نے اسرائیلی فوج میں شمولیت اختیار کی۔
زخمی فوجیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی اور انہیں قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق زخمیوں کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ مہینوں میں جھڑپوں اور حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔
علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق سرحدی علاقوں میں ڈرونز اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کے استعمال نے تنازعات کی نوعیت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے جانی نقصانات اور سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ -

استنبول میں کانئیے ویسٹ کے کنسرٹ نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا
ترکیہ کے شہر استنبول میں امریکی ریپر اور گریمی ایوارڈ یافتہ فنکار کانئیے ویسٹ کے شاندار کنسرٹ نے مداحوں کی غیر معمولی شرکت کے باعث نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔
استنبول کے معروف اتاترک اولمپک اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والے اس میگا میوزک ایونٹ میں تقریباً ایک لاکھ 18 ہزار افراد نے شرکت کی، جسے حالیہ برسوں کے سب سے بڑے موسیقی پروگراموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
کنسرٹ میں نہ صرف ترکیہ بلکہ دنیا کے مختلف ممالک سے بھی مداحوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ شرکا میں روس، قازقستان، برطانیہ، جرمنی، امریکا اور پولینڈ سمیت کئی ممالک سے آنے والے موسیقی کے شوقین افراد شامل تھے۔
رات بھر جاری رہنے والے اس رنگا رنگ پروگرام میں جدید لیزر لائٹ شو، شاندار اسٹیج پرفارمنس اور موسیقی کے منفرد امتزاج نے حاضرین کو محظوظ کیے رکھا۔
مشہور امریکی ریپر ٹریوس اسکاٹ نے بھی کنسرٹ میں خصوصی پرفارمنس پیش کی، جس پر مداحوں نے بھرپور جوش و خروش کا اظہار کیا۔
اپنی پرفارمنس کے دوران کانئیے ویسٹ نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کنسرٹ میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت نے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی اس ایونٹ کی ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جہاں مداح اسے سال کا سب سے بڑا میوزیکل ایونٹ قرار دے رہے ہیں۔
موسیقی کے ماہرین کے مطابق عالمی شہرت یافتہ فنکاروں کے بڑے کنسرٹس نہ صرف تفریحی صنعت کو فروغ دیتے ہیں بلکہ سیاحت اور مقامی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ -

اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی اہم ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے اہم ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی صورتحال سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی محکمہ خارجہ میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو کی۔
ملاقات میں تجارتی روابط، سرمایہ کاری کے فروغ، معاشی تعاون، انسداد دہشت گردی اور خطے میں امن و استحکام سے متعلق امور خصوصی طور پر زیر بحث آئے۔
دونوں ممالک کے حکام نے مذاکرات کو مثبت، تعمیری اور مستقبل پر مبنی قرار دیا اور باہمی مفادات کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق یہ ملاقات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور تعمیری شراکت داری کی بنیاد پر مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقین نے اقتصادی تعاون کو وسعت دینے، سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے اور علاقائی امن کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو حال ہی میں بھارت کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق جنوبی ایشیا میں سفارتی رابطوں کا مقصد خطے کے اہم شراکت دار ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔
ملاقات کے دوران پاکستان کے علاقائی استحکام اور امن کے فروغ میں کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک باہمی تعلقات میں نئی پیش رفت اور تعاون کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔ -

جی 7 سربراہی اجلاس میں مودی اور ٹرمپ ملاقات متوقع
فرانس میں 15 سے 17 جون تک ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم دوطرفہ ملاقات متوقع ہے، جس کے لیے سفارتی تیاریاں جاری ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کو جی 7 اجلاس میں خصوصی مہمان کے طور پر شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اجلاس میں اپنی شرکت کی تصدیق کر چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے حکام مجوزہ ملاقات کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ اس ملاقات میں تجارت، ٹیرف، توانائی کے شعبے میں تعاون، دفاعی تعلقات، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور بحرالکاہل خطے کی صورتحال سمیت متعدد اہم امور زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بدلتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال کے تناظر میں واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
جی 7 اجلاس میں بھارت کے علاوہ برازیل، کینیا، جنوبی کوریا اور دیگر مہمان ممالک بھی شرکت کریں گے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے باضابطہ طور پر وزیراعظم مودی کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔
مبصرین کے مطابق جی 7 اجلاس دونوں رہنماؤں کے درمیان براہ راست ملاقات کے لیے ایک موزوں سفارتی پلیٹ فارم فراہم کرے گا، جبکہ یہ ملاقات مستقبل میں ممکنہ وائٹ ہاؤس دورے کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی وزیراعظم مودی کو صدر ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت پہنچا چکے ہیں، جسے دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ملاقات طے پاتی ہے تو اس کے نتیجے میں امریکا اور بھارت کے درمیان اقتصادی، دفاعی اور تزویراتی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ -

کرن جوہر نے بالی وڈ ستاروں کو ان فالو کر دیا
بالی وڈ کے معروف پروڈیوسر اور ہدایت کار کرن جوہر نے سوشل میڈیا پر ایک غیر متوقع اقدام کرتے ہوئے کئی قریبی دوستوں اور مشہور بالی وڈ شخصیات کو ان فالو کر دیا، جس کے بعد شوبز حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرن جوہر نے جن شخصیات کو ان فالو کیا ہے ان میں بالی وڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان، اداکارہ کرینہ کپور خان، عالیہ بھٹ، کارتک آریان، اننیا پانڈے، ورون دھون، سدھارتھ ملہوترا، ملائکہ اروڑا اور معروف فیشن ڈیزائنر منیش ملہوتھرا شامل ہیں۔
کرن جوہر کے اس اقدام نے مداحوں اور سوشل میڈیا صارفین کو حیران کر دیا ہے کیونکہ ان میں سے کئی شخصیات کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات اور طویل دوستی مشہور رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے بعد کرن جوہر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی زندگی میں غیر ضروری شور اور توجہ ہٹانے والی چیزوں کو کم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ یہ فیصلہ کسی ذاتی اختلاف یا تنازعے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی ذہنی سکون اور ذاتی ترجیحات کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین اس اقدام پر مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ صرف ایک ڈیجیٹل صفائی مہم کا حصہ ہے جبکہ کچھ مداح اسے بالی وڈ کے اندرونی تعلقات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
کرن جوہر بالی وڈ کی بااثر شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے تعلقات انڈسٹری کے تقریباً تمام بڑے ستاروں کے ساتھ رہے ہیں، اسی لیے ان کا یہ اقدام خبروں کی زینت بن گیا ہے۔ -

رومانیہ میں روسی ڈرون گرنے سے 2 افراد زخمی
رومانیہ کے مشرقی شہر گالاتسی میں ایک روسی ڈرون رہائشی عمارت سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور دو افراد زخمی ہو گئے۔
رومانیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ واقعہ جمعے کے روز پیش آیا۔ گالاتسی شہر یوکرین کی سرحد کے قریب واقع ہے اور حالیہ برسوں میں سرحدی کشیدگی کے باعث حساس علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
حادثے کے بعد عمارت میں آگ لگ گئی جس پر امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قابو پا لیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق زخمی ہونے والے دو افراد کو موقع پر طبی امداد فراہم کی گئی اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
حکام نے احتیاطی اقدامات کے تحت عمارت سے تقریباً 70 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا تاکہ مزید کسی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
رومانیہ کی وزارتِ خارجہ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے روس کی جانب سے "سنگین اور غیر ذمہ دارانہ اشتعال انگیزی” قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ نیٹو کے رکن ملک کی سرزمین پر اس نوعیت کا واقعہ خطے کی سلامتی کے لیے تشویش ناک ہے اور اس کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
یوکرین اور روس کے درمیان چار سال سے جاری جنگ کے دوران متعدد بار روسی ڈرونز اور میزائل نیٹو ممالک کی فضائی حدود کے قریب پہنچے یا ان میں داخل ہوئے ہیں، تاہم رومانیہ میں یہ پہلا واقعہ ہے جس میں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس واقعے سے خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں اور نیٹو ممالک اپنی فضائی نگرانی اور دفاعی اقدامات مزید مضبوط کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب روس کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات یوکرین جنگ کے اثرات کو سرحدوں سے باہر پھیلنے کے خطرات کی یاد دہانی کراتے ہیں اور یورپی سلامتی کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔ -

ایران امریکا معاہدے کی خبروں پر تیل سستا، عالمی مارکیٹس میں تیزی
ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ ایشیائی اور پاکستانی اسٹاک مارکیٹوں میں مثبت رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت ایک فیصد سے زائد کم ہو گئی ہے، جس کے بعد برینٹ خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 87 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی پیش رفت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث توانائی کی منڈیوں میں دباؤ کم ہوا اور قیمتوں میں نرمی دیکھنے میں آئی۔
دوسری جانب ممکنہ معاہدے اور خطے میں کشیدگی میں کمی کی توقعات کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی تیزی کا رجحان سامنے آیا ہے۔
جاپان کے اہم نکئی انڈیکس میں 2.67 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں ایک فیصد سے زائد بہتری دیکھی گئی۔
سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو مشرق وسطیٰ میں استحکام پیدا ہوگا، جس کے مثبت اثرات عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر مرتب ہوں گے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی کاروباری ہفتے کے پہلے سیشن کے دوران زبردست تیزی دیکھی گئی۔
کاروبار کے آغاز پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں 1400 پوائنٹس سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جسے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی پاکستان جیسے درآمدی ممالک کے لیے خوش آئند ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے درآمدی بل، مہنگائی اور توانائی کے اخراجات پر مثبت اثر پڑنے کا امکان ہے۔ -

لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدت، ایران کی شدید مذمت
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لبنان کے مختلف علاقوں، بشمول دارالحکومت بیروت، پر اسرائیلی حملوں میں حالیہ شدت کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی اداروں کی خاموشی خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے۔
ایک بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ لبنان پر جاری حملے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں اور ان کے نتیجے میں شہری آبادی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کی خاموشی اور بے حسی اسرائیل کو مزید جارحانہ اقدامات کرنے کا موقع فراہم کر رہی ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ایرانی ترجمان کے مطابق لبنان، فلسطینی علاقوں اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصوں میں جاری صورتحال پر عالمی برادری کو فوری توجہ دینی چاہیے تاکہ مزید جانی نقصان روکا جا سکے۔
اسماعیل بقائی نے امریکا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن خطے میں اسرائیل کی پالیسیوں اور اقدامات کی حمایت کے باعث ان واقعات سے الگ نہیں رہ سکتا۔
دوسری جانب حالیہ دنوں میں لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملوں میں درجنوں افراد کے جاں بحق اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا ہدف حزب اللہ کے ٹھکانے اور عسکری تنصیبات ہیں، جبکہ لبنانی حکام اور مختلف تنظیمیں ان حملوں میں شہری نقصانات پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان اور بعض دیگر علاقوں کے رہائشیوں کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے اور نسبتاً محفوظ شمالی علاقوں کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں سفارتی کوششوں اور جنگ بندی کے اقدامات کو فروغ دینا خطے میں مزید تباہی روکنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔