Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
امریکا ایران مذاکرات پر شکوک، تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ

    
امریکا ایران مذاکرات پر شکوک، تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ

    ‎امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت سے متعلق بڑھتے شکوک و شبہات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
    ‎جمعے کے روز ایشیائی مارکیٹ میں ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 2.13 فیصد اضافے کے بعد 104.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.70 فیصد اضافے کے ساتھ 97.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
    ‎یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایک روز قبل دونوں بینچ مارکس تقریباً 2 فیصد گر کر دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئے تھے۔ سرمایہ کاروں نے ابتدائی طور پر امریکا ایران مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت کی امید پر قیمتوں میں کمی دیکھی، تاہم بعد میں مذاکرات سے متعلق متضاد بیانات کے بعد مارکیٹ کا رجحان دوبارہ تبدیل ہو گیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ایک سینئر ایرانی ذریعے نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان ابھی کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا، اگرچہ بعض اختلافات کم ہوئے ہیں۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مذاکرات میں “مثبت اشاروں” کا ذکر کیا، لیکن خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز پر کسی بھی قسم کی پابندی یا رکاوٹ ناقابل قبول ہو گی۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ بندی کے چھ ہفتے گزرنے کے باوجود مستقل معاہدے کی جانب کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی، جس کے باعث عالمی آئل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تیل کی سپلائی میں مسلسل دباؤ اور عالمی ذخائر میں تیزی سے کمی کے باعث دنیا بھر میں مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
    ‎ادھر متحدہ عرب امارات کی کمپنی ADNOC کے چیف ایگزیکٹو نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر کشیدگی ختم بھی ہو جائے تو آبنائے ہرمز سے مکمل تیل سپلائی بحال ہونے میں 2027 تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق عالمی آئل مارکیٹ کے استحکام کے لیے آبنائے ہرمز کا مکمل طور پر کھلنا ناگزیر ہے، جبکہ سرمایہ کار اب کسی بڑے سفارتی معاہدے یا ممکنہ فوجی کشیدگی کے منتظر ہیں۔

  • 
وزیراعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی تک چین کا دورہ کریں گے

    
وزیراعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی تک چین کا دورہ کریں گے

    ‎دفتر خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔
    ‎یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دورے کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف چینی صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چیانگ سمیت اعلیٰ چینی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
    ‎ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، سیاسی روابط، اسٹریٹجک شراکت داری اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی غور کیا جائے گا۔
    ‎وزیر اعظم اپنے دورے کا آغاز چین کے شہر ہانگژو سے کریں گے جہاں وہ پاکستان چین بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس کی صدارت کریں گے۔ اس کانفرنس میں دونوں ممالک کے کاروباری رہنما اور سرمایہ کار شریک ہوں گے۔
    ‎بعد ازاں بیجنگ میں وزیر اعظم پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی تقریب میں شرکت کریں گے، جہاں دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی اور شراکت داری کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔
    ‎دفتر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم کے دورہ چین کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی زیر بحث آئے گی۔ پاکستان اور چین خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل سفارتی رابطوں میں ہیں۔

  • 
چین نے دنیا کا پہلا زیرِ آب ڈیٹا سینٹر فعال کر دیا

    
چین نے دنیا کا پہلا زیرِ آب ڈیٹا سینٹر فعال کر دیا

    ‎چین میں سمندر کے اندر تعمیر کیے گئے دنیا کے پہلے زیرِ آب ڈیٹا سینٹر نے باقاعدہ کمرشل آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے، جہاں ہزاروں سرورز سمندر کی گہرائی میں کام کر رہے ہیں۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جدید ڈیٹا سینٹر شنگھائی کے قریب لیانگانگ اسپیشل ایریا میں تعمیر کیا گیا ہے اور اسے سمندر کی سطح سے تقریباً 35 میٹر نیچے نصب کیا گیا ہے۔
    ‎چینی حکام اور نجی کمپنی ہائی کلاؤڈ ٹیکنالوجی نے مشترکہ طور پر 22 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے یہ منصوبہ مکمل کیا۔ ڈیٹا سینٹر میں تقریباً 2 ہزار جدید سرورز نصب کیے گئے ہیں جو آرٹی فیشل انٹیلی جنس، 5 جی سروسز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور دیگر جدید ڈیجیٹل آپریشنز کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    ‎اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ اسے ٹھنڈا رکھنے کے لیے روایتی کولنگ سسٹمز کے بجائے سمندری پانی استعمال کیا جائے گا، جس سے توانائی کے استعمال میں نمایاں کمی آئے گی۔
    ‎ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے اے آئی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل سروسز کے استعمال کے باعث ڈیٹا سینٹرز کی توانائی ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عام ڈیٹا سینٹرز بڑی مقدار میں حرارت پیدا کرتے ہیں، جنہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے بھاری بجلی درکار ہوتی ہے۔
    ‎چین کے اس منصوبے میں آف شور ونڈ پاور کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ زیرِ آب کمپیوٹنگ انفرا اسٹرکچر کی بجلی ضروریات کو ماحول دوست انداز میں پورا کیا جا سکے۔
    ‎ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ مستقبل کے گرین ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف بجلی کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ ماحول پر منفی اثرات بھی محدود کیے جا سکیں گے۔

  • 
آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران میں معاہدے کا امکان 50 فیصد

    
آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران میں معاہدے کا امکان 50 فیصد

    ‎متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے پر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے امکانات پچاس فیصد ہیں۔
    ‎ویب ڈیسک کے مطابق انور قرقاش نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم ابھی کسی حتمی پیش رفت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایران ماضی میں اس حوالے سے کئی اہم مواقع ضائع کر چکا ہے، جس کی وجہ سے خطے میں کشیدگی اور عدم اعتماد میں اضافہ ہوا۔
    ‎انور قرقاش کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، اس لیے اس کی بندش یا کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
    ‎انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریق خطے کے استحکام اور عالمی اقتصادی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارتی حل کی طرف بڑھیں گے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے، جبکہ امریکا، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور بڑی مقدار میں تجارتی سامان عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔

  • 
24 گھنٹوں میں 35 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گئے، پاسداران انقلاب

    
24 گھنٹوں میں 35 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گئے، پاسداران انقلاب

    ‎ایرانی پاسداران انقلاب بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آئل ٹینکرز، کنٹینر بردار جہازوں اور دیگر تجارتی بحری جہازوں سمیت 35 جہازوں نے آبنائے ہرمز کو عبور کیا۔
    ‎ویب ڈیسک کے مطابق پاسداران بحریہ نے اپنے بیان میں کہا کہ تمام جہاز ایرانی حکام کی اجازت اور نگرانی کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرے۔ بیان میں کہا گیا کہ بحری ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے اور جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم انداز میں مانیٹر کیا جا رہا ہے۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق گزرنے والے جہازوں میں آئل ٹینکرز، کنٹینر بردار جہاز اور مختلف تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے بحری جہاز شامل تھے۔
    ‎پاسداران بحریہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی اور نگرانی کے اقدامات مزید سخت کیے گئے ہیں تاکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے اور عالمی بحری تجارت کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔
    ‎یاد رہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز حالیہ دنوں میں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ یہ بحری راستہ دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی عالمی توانائی مارکیٹ، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

  • 
فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے

    
فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے

    چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اہم ایرانی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔
    ‎سکیورٹی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنے دورۂ ایران کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات، خطے میں قیامِ امن اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر اہم بات چیت کریں گے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اعلیٰ ایرانی حکام اور عسکری قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جن میں باہمی تعاون، علاقائی سلامتی اور سفارتی پیش رفت سے متعلق امور زیرِ بحث آئیں گے۔
    ‎دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس وقت ایران میں موجود ہیں۔ ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا ایران جنگ کے خاتمے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ملاقات میں ایران امریکا جنگ بندی سے متعلق مختلف مسودوں اور ممکنہ سفارتی حل پر بھی گفتگو ہوئی، جبکہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا۔
    ‎سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی آج بھی تہران میں قیام کریں گے اور امریکا ایران مذاکرات سے متعلق مزید اہم ملاقاتیں جاری رکھیں گے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اس وقت خطے میں سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور تہران میں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔

  • 
ملک میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2700 روپے تک پہنچ گیا

    
ملک میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2700 روپے تک پہنچ گیا

    ‎ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت بعض شہروں میں 2700 روپے تک پہنچ گئی ہے، جس کے باعث شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
    ‎دستاویزات کے مطابق کراچی، بنوں اور پشاور میں 20 کلو آٹے کا تھیلا سب سے مہنگا فروخت ہو رہا ہے، جہاں شہریوں کو ایک تھیلے کے لیے 2700 روپے ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2693 روپے 33 پیسے جبکہ راولپنڈی میں 2666 روپے 67 پیسے میں دستیاب ہے۔
    ‎ادارہ شماریات کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ گوجرانوالہ میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2260 روپے، سیالکوٹ میں 2200 روپے، لاہور میں 2250 روپے اور فیصل آباد میں 2350 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
    ‎اسی طرح سرگودھا میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2200 روپے، ملتان اور بہاولپور میں 2266 روپے 66 پیسے میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ حیدرآباد میں اس کی قیمت 2600 روپے تک جا پہنچی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق سکھر میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2300 روپے، کوئٹہ میں 2670 روپے اور خضدار میں 2400 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
    ‎شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹے سمیت روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے گھریلو بجٹ شدید متاثر کر دیا ہے، جبکہ کم آمدنی والے طبقے کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق گندم کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ اخراجات اور مہنگائی میں اضافے کے باعث آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

  • 
برطانیہ نے 17 ہزار غیر قانونی تارکین وطن ملک بدر کر دیے

    
برطانیہ نے 17 ہزار غیر قانونی تارکین وطن ملک بدر کر دیے

    ‎برطانیہ نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کارروائیاں تیز کرتے ہوئے جولائی 2024 سے اب تک 17 ہزار افراد کو ملک بدر کر دیا ہے۔
    ‎برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق حکومت نے امیگریشن قوانین کے نفاذ اور سرحدی سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ اپیل سسٹم میں کئی خامیاں موجود تھیں جن کی وجہ سے غیر قانونی تارکین وطن کی بے دخلی کے عمل میں تاخیر اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی تھیں۔
    ‎وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت اب امیگریشن نظام میں فوری اور جامع اصلاحات متعارف کرانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ ملک بدری کے فیصلوں کو زیادہ شفاف، مؤثر اور تیز رفتار بنایا جا سکے۔
    ‎برطانوی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد سرحدی قوانین پر سختی سے عمل درآمد، عوامی تحفظ کو یقینی بنانا اور امیگریشن سسٹم پر عوامی اعتماد بحال کرنا ہے۔
    ‎حکومت نے واضح کیا ہے کہ آئندہ بھی غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، خاص طور پر ان لوگوں کے خلاف جو طویل عرصے سے بغیر قانونی دستاویزات کے ملک میں مقیم ہیں یا سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق برطانوی حکومت غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے مزید سخت پالیسیوں پر بھی غور کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بعض اقدامات پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اقدامات برطانیہ میں امیگریشن کے مسئلے کو آئندہ انتخابات سے قبل ایک اہم سیاسی موضوع بنا سکتے ہیں۔

  • 
امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان ثالثی کر رہا ہے، مارکو روبیو

    
امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان ثالثی کر رہا ہے، مارکو روبیو

    ‎امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مسلسل رابطہ برقرار ہے۔
    ‎ویب ڈیسک کے مطابق مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران جا رہے ہیں اور امریکا ایران مذاکراتی عمل میں پاکستان اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ امریکا کی پہلی ترجیح ہے اور اب فیصلہ ایران کو کرنا ہے کہ وہ معاہدے کی طرف بڑھتا ہے یا نہیں۔ مارکو روبیو نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان جلد معاہدہ طے پا جائے گا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
    ‎امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا اس وقت معاہدے پر کام کر رہا ہے تاہم واشنگٹن کے پاس متبادل حکمت عملی یعنی “پلان بی” بھی موجود ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس نظام نافذ کرنے سے روکنے کے لیے عالمی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
    ‎مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا اور یورینیم افزودگی سمیت آبنائے ہرمز کے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ ثالثی کردار خطے میں اس کی سفارتی اہمیت کو مزید بڑھا سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔

  • ‎ایران امریکا مذاکراتی فریم ورک کو “اسلام آباد ڈیکلریشن” کا نام دینے کا امکان

    ‎ایران امریکا مذاکراتی فریم ورک کو “اسلام آباد ڈیکلریشن” کا نام دینے کا امکان

    ‎عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات کے ممکنہ فریم ورک کو “اسلام آباد ڈیکلریشن” کا نام دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    رپورٹس کے مطابق ابتدائی معاہدہ ایک صفحے پر مشتمل ہوگا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان بنیادی نکات اور آئندہ مذاکرات کے خدوخال شامل ہوں گے۔
    ‎العربیہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ابتدائی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے بعد ایک مقررہ مدت کے اندر جامع اور تفصیلی مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا، جس کے لیے باقاعدہ ٹائم فریم بھی طے کیا جائے گا۔
    ‎ذرائع کے مطابق مجوزہ فریم ورک کے تحت ایران اور امریکا مختلف متنازع امور پر مرحلہ وار بات چیت کریں گے تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے اور سفارتی حل کی راہ ہموار ہو۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکراتی فریم ورک کو “اسلام آباد ڈیکلریشن” کا نام دیا جاتا ہے تو یہ پاکستان کے سفارتی کردار کے لیے ایک اہم پیش رفت تصور کی جائے گی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق پاکستان حالیہ علاقائی کشیدگی میں سفارتی رابطوں اور مذاکراتی کوششوں کے ذریعے اہم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ مختلف عالمی اور علاقائی قوتیں بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے متحرک ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر توانائی، تجارت اور سیکیورٹی سے متعلق خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔