Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
پاکستان کو ایک اور خطرناک مون سون اور سیلابی خطرات کا سامنا

    
پاکستان کو ایک اور خطرناک مون سون اور سیلابی خطرات کا سامنا

    ‎اسلام آباد: عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو آئندہ مون سون سیزن کے دوران ایک بار پھر شدید سیلابی خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، غیر متوازن بارشیں اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
    ‎یورپی یونین، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اقوام متحدہ کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کی گئی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سیلاب کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں، جبکہ قومی، صوبائی اور ضلعی سطح پر آفات سے نمٹنے کی تیاریوں میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق 2010 سے 2025 کے درمیان سیلابوں کے باعث پاکستان کو 50 سے 55 ارب ڈالر تک کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ 2022 کے تباہ کن سیلابوں نے اکیلے ہی 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا، جبکہ 2010 کے سیلاب سے تقریباً 10 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ گزشتہ سال کے سیلاب سے بھی 2.9 ارب ڈالر یعنی تقریباً 822 ارب پاکستانی روپے کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے جڑی آفات، جن میں سیلاب اور زلزلے شامل ہیں، ہر سال پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کا 3 سے 4 فیصد نقصان کر رہی ہیں۔ گزشتہ سال بارشیں معمول سے 23 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئیں، جس نے تباہی میں مزید اضافہ کیا۔
    ‎عالمی اداروں کے مطابق گزشتہ 15 برسوں میں پاکستان 6 بڑے اور مجموعی طور پر 12 سیلابی واقعات کا سامنا کر چکا ہے۔
    ‎رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ اگرچہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں بہت کم حصہ ڈالتا ہے، اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
    ‎رپورٹ میں پاکستان کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام میں کئی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں ابتدائی وارننگ سسٹمز کی ناکامی، امدادی معلومات کی بروقت فراہمی میں مسائل، وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطوں کا فقدان، ادارہ جاتی کمزوریاں اور انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال کے لیے فنڈز کی کمی شامل ہیں۔
    ‎عالمی اداروں نے سفارش کی ہے کہ پاکستان فوری ردعمل کے بجائے پیشگی منصوبہ بندی پر توجہ دے، موسمیاتی خطرات کو ترقیاتی منصوبوں کا حصہ بنایا جائے، ڈیزاسٹر فنڈنگ کا نیا نظام متعارف کرایا جائے اور غریب، خواتین اور متاثرہ طبقات کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جائے۔

  • 
کراچی ایئرپورٹ پر اربوں روپے کا ایئر کارگو اسکینڈل بے نقاب

    
کراچی ایئرپورٹ پر اربوں روپے کا ایئر کارگو اسکینڈل بے نقاب

    ‎کراچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کسٹمز حکام نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے اربوں روپے مالیت کے ایئر کارگو اسکینڈل کا پردہ فاش کر دیا، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کارگو ہینڈلنگ کمپنی پر 2 ارب 70 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
    ‎دستاویزات کے مطابق کراچی ایئرپورٹ کے ذریعے قیمتی الیکٹرانکس سامان کی اسمگلنگ کا منظم نیٹ ورک چلایا جا رہا تھا، جس میں آئی فون، لیپ ٹاپ، میک بک اور آئی پیڈ سمیت مہنگی اشیا جعلی گیٹ پاسز کے ذریعے غیر قانونی طور پر کلیئر کی جاتی رہیں۔
    ‎ایف بی آر رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ سامان کو کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کیے بغیر ایئرپورٹ سے باہر منتقل کیا جاتا تھا۔ تحقیقات کے دوران ایئروے بل چھپانے، جعلی گیٹ پاسز جاری کرنے اور ریکارڈ حذف کرنے جیسے سنگین الزامات بھی سامنے آئے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے 22 کروڑ 10 لاکھ روپے ڈیوٹی اور ٹیکس کی ریکوری کا حکم بھی جاری کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اسکینڈل میں کمپنی کے سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے جعلی دستاویزات تیار کی جاتی تھیں۔
    ‎کسٹمز حکام نے کارروائی کے دوران 8 ملزمان کو گرفتار کیا، جن میں کارگو کمپنی کے 5 ملازمین بھی شامل ہیں۔ ایک خاتون ملازمہ نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سپروائزرز کی ہدایات پر جعلی گیٹ پاسز جاری کیے۔
    ‎تحقیقات میں گرفتار کارگو ایجنٹ نے انکشاف کیا کہ یہ منظم نیٹ ورک کئی سال سے سرگرم تھا اور بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس سامان غیر قانونی طریقے سے کلیئر کیا جاتا رہا۔
    ‎وفاقی ٹیکس محتسب نے بھی اس بڑے کارگو فراڈ کی تصدیق کر دی ہے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق واقعے کے بعد ملک بھر کے ایئر کارگو آپریشنز کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ متعدد افسران اور اہلکار بھی تحقیقات کی زد میں ہیں۔

  • 
خیبرپختونخوا میں 48 گھنٹوں کے دوران 23 دہشتگرد ہلاک

    
خیبرپختونخوا میں 48 گھنٹوں کے دوران 23 دہشتگرد ہلاک

    ‎سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 23 دہشتگرد ہلاک کر دیے۔
    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کارروائیاں دتہ خیل، اسپن وام اور بنوں کے مختلف علاقوں میں کی گئیں جہاں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا، جبکہ دہشتگردوں کے زیر استعمال زیر زمین سرنگوں اور بنکرز کو بھی تباہ کر دیا گیا۔
    ‎بیان میں بتایا گیا کہ مارے جانے والوں میں مطلوب خارجی دہشتگرد کمانڈر جان میر عرف طور ثاقب بھی شامل ہے، جس کے سر کی قیمت مقرر تھی۔ سکیورٹی اداروں کے مطابق مذکورہ دہشتگرد مختلف دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔
    ‎آئی ایس پی آر نے کہا کہ “عزمِ استحکام” آپریشن کے تحت دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔ فورسز ملک میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پرعزم ہیں اور دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
    ‎سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے دوران فورسز نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور حساس علاقوں کو دہشتگردوں سے پاک بنانے کے لیے متعدد مقامات پر کارروائیاں کیں۔
    ‎یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ڈی آئی خان اور ٹانک میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران کئی دہشتگرد ہلاک کیے گئے تھے، جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

  • 
آئی ایم ایف کا پاکستان پر ٹیکس نیٹ بڑھانے پر زور

    
آئی ایم ایف کا پاکستان پر ٹیکس نیٹ بڑھانے پر زور

    ‎اسلام آباد میں آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ سے متعلق مذاکرات جاری ہیں، جبکہ عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان پر ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ٹیکس وصولی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا ہے۔
    ‎ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف وفد کے ساتھ بجٹ مذاکرات اب ورچوئل انداز میں جاری رہیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کل سے ہونے والے مذاکرات میں نئے مالی سال کے اہم معاشی اہداف اور مالیاتی پالیسیوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔
    ‎آئی ایم ایف کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے اسٹیٹ بینک سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مذاکرات کے دوران توانائی کے شعبے، سرکاری اداروں میں اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔
    ‎ذرائع کے مطابق کلائمٹ فنڈنگ، پاور سبسڈی اصلاحات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے فریم ورک پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات بھی زیر غور آئے۔
    ‎آئی ایم ایف نے پاکستان سے آئندہ تین سال کے لیے میکرو اکنامک فریم ورک طلب کر لیا ہے، جبکہ اگلی قرض قسط کے لیے مالیاتی اہداف پر سختی سے عمل درآمد کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔
    ‎اعلامیے کے مطابق پاکستان نے 2027 تک جی ڈی پی کے 2 فیصد بنیادی سرپلس ہدف کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ حکام نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پر مسلسل نظر رکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا اگلا جائزہ مشن 2026 کے دوسرے نصف میں پاکستان کا دورہ کرے گا، جہاں معاشی اصلاحات اور بجٹ اہداف پر پیشرفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

  • 
آبنائے ہرمز میں ٹول سسٹم سفارتی معاہدے کو متاثر کر سکتا ہے، امریکی وزیر خارجہ

    
آبنائے ہرمز میں ٹول سسٹم سفارتی معاہدے کو متاثر کر سکتا ہے، امریکی وزیر خارجہ

    ‎امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ٹول سسٹم نافذ کرنے کا نظام ایران کے ساتھ ممکنہ سفارتی معاہدے کو ناقابلِ عمل بنا سکتا ہے۔
    ‎سوئیڈن روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ نیٹو اجلاس میں فوجی تعیناتی اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر اتحادی ممالک سے اہم بات چیت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں مجوزہ ٹول سسٹم عالمی تجارت اور سفارتی کوششوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
    ‎امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں کچھ مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے اور بعض معاملات پر حوصلہ افزا اشارے مل رہے ہیں، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حتمی معاہدہ ہو پائے گا یا نہیں۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اور اس کے اتحادی اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے استحکام اور عالمی سلامتی کے لیے ایران کے جوہری پروگرام پر قابو پانا ضروری ہے۔
    ‎امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے معاملے پر بعض نیٹو اتحادیوں کے مؤقف پر امریکا کو شدید تحفظات ہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ تمام اتحادی ایک واضح اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔
    ‎یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے بعض حصوں میں نگرانی اور اجازت نامے کے نئے نظام کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے بڑی مقدار میں عالمی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

  • 
فرانس نے آبنائے ہرمز میں نیٹو کے کردار کی مخالفت کردی

    
فرانس نے آبنائے ہرمز میں نیٹو کے کردار کی مخالفت کردی

    ‎فرانس نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے لیے نیٹو کے کردار ادا کرنے کے تصور کو مسترد کر دیا ہے۔
    ‎عرب میڈیا کے مطابق فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ فرانس کا مؤقف اس معاملے پر واضح اور مستقل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی بحر اوقیانوس معاہدہ صرف شمالی بحر اوقیانوس کے علاقوں تک محدود ہے اور مشرقِ وسطیٰ یا آبنائے ہرمز میں مداخلت نیٹو کے دائرہ کار میں نہیں آتی۔
    ‎فرانسیسی ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرنا نہ تو نیٹو کا بنیادی مقصد ہے اور نہ ہی یہ اتحاد اس کردار کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔
    ‎بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں عالمی بحری تجارت کے تحفظ اور جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے کے لیے اتحادی کردار پر زور دیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں نگرانی اور اجازت ناموں کے نئے نظام کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے باعث عالمی تجارت اور توانائی مارکیٹ پر اثرات کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
    ‎فرانسیسی حکومت کا مؤقف سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ یورپی اتحادی اس معاملے پر یکساں رائے نہیں رکھتے اور خطے میں عسکری کردار کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

  • 24 گھنٹوں میں 31 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گئے، پاسداران انقلاب

    24 گھنٹوں میں 31 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گئے، پاسداران انقلاب

    ‎ایرانی پاسداران انقلاب بحریہ نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 31 بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز کو کامیابی سے عبور کیا۔
    ‎ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب بحریہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جہازوں کی آمد و رفت ایرانی بحری حکام کے تعاون اور نگرانی میں جاری رہی۔ ان بحری جہازوں میں آئل ٹینکرز، کنٹینر بردار جہاز اور دیگر تجارتی بحری جہاز شامل تھے۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے مقررہ طریقہ کار اور اجازت ناموں پر عمل کیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں بحری ٹریفک کو محفوظ اور منظم رکھا جا سکے۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال کے باوجود بحری راستے مکمل طور پر فعال ہیں اور تجارتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ بحری جہازوں کو ایرانی بحریہ کی معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
    ‎یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہونے والی اس آبنائے سے روزانہ بڑی مقدار میں عالمی تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ عالمی توانائی منڈی اور عالمی تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے، اسی لیے دنیا بھر کی نظریں اس خطے کی صورتحال پر مرکوز ہیں۔

  • 
روپے کی گرتی قدر پر بھارت تشویش میں مبتلا، حکومتی اقدامات زیر غور

    
روپے کی گرتی قدر پر بھارت تشویش میں مبتلا، حکومتی اقدامات زیر غور

    ‎بھارت کے وزیرِ تجارت پیوش گوئل نے اعلان کیا ہے کہ انڈین روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حکومت مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے جبکہ مالیاتی منڈیوں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
    ‎پیوش گوئل نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت موجودہ معاشی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور متعدد تجاویز زیر غور ہیں۔ ان کے مطابق عالمی حالات اس وقت انتہائی پیچیدہ اور چیلنجنگ ہو چکے ہیں، جس کے اثرات بھارتی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔
    ‎بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں انڈین روپیہ کئی بار اپنی تاریخ کی کم ترین سطح تک گر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے بھارتی کرنسی کی قدر میں چھ فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
    ‎معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روپے پر دباؤ کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے، کیونکہ بھارت اپنی توانائی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل میں اضافہ اور زرمبادلہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے مختلف مالیاتی اور اقتصادی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ مرکزی بینک کی ممکنہ مداخلت، درآمدی پالیسی میں تبدیلی اور مارکیٹ استحکام کے دیگر اقدامات بھی زیر بحث ہیں۔
    ‎معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات نہ صرف بھارت بلکہ خطے کی دیگر معیشتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں، خاص طور پر ان ممالک پر جو توانائی درآمد کرتے ہیں۔

  • 
ایران پالیسی پر ٹرمپ انتظامیہ میں اختلافات شدت اختیار کر گئے

    
ایران پالیسی پر ٹرمپ انتظامیہ میں اختلافات شدت اختیار کر گئے

    ‎اسرائیلی اخبار “اسرائیل ہیوم” نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ دو مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے اور وائٹ ہاؤس میں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے شدید اختلافات پائے جا رہے ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے یا سخت مؤقف اپنانے پر سینئر امریکی حکام کے درمیان سخت بحث ہوئی۔ اخبار نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے بعض اعلیٰ حکام کی مخالفت کے باوجود ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات جاری رکھنے کی منظوری دے دی۔
    ‎اسرائیلی میڈیا کے مطابق اجلاس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جبکہ وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف سخت پالیسی کی حمایت کی۔
    ‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے حق میں مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی حالیہ تجاویز میں لچک موجود ہے اور اس بنیاد پر ابتدائی معاہدے کی جانب پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔
    ‎دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کا کہنا تھا کہ ایران سے کسی بھی قسم کی رعایت صرف دباؤ اور سخت پالیسی کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ سفارتی مذاکرات سے خاطر خواہ نتائج کی توقع کم ہے۔
    ‎اسرائیلی اخبار نے مزید دعویٰ کیا کہ اجلاس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی موجود تھے، جنہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس کے مؤقف کی حمایت کی۔ ان مباحث کے بعد صدر ٹرمپ ایران کو ایک اور موقع دینے پر آمادہ ہوئے۔
    ‎ادھر امریکی اور ایرانی مذاکرات سے متعلق نئی تجاویز سامنے آنے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی تشویش میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بعض امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ممکنہ معاہدہ ایران کو مزید سفارتی اور اقتصادی ریلیف دے سکتا ہے۔

  • 
ایران جنگ کے باعث حج اخراجات میں کئی گنا اضافہ

    
ایران جنگ کے باعث حج اخراجات میں کئی گنا اضافہ

    ‎ایران سے متعلق جاری کشیدگی اور خطے میں جنگی صورتحال کے باعث اس سال حج کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ بعض سفری پیکجز کی قیمتیں تین سے چار گنا تک بڑھ گئی ہیں۔
    ‎بین الاقوامی نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق خلیجی خطے میں فضائی آپریشن متاثر ہونے، پروازوں کی محدود دستیابی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث عازمینِ حج کو غیر معمولی مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روانگی سے قبل ٹریول پیکجز کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان متاثر ہو رہے ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق پاکستان، انڈونیشیا اور ملائیشیا سمیت کئی مسلم ممالک نے اپنے شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے خصوصی سبسڈی فراہم کی ہے تاکہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود زیادہ سے زیادہ افراد حج کی سعادت حاصل کر سکیں۔
    ‎انڈونیشیا نے اپنے دو لاکھ سے زائد عازمین کے لیے فضائی اخراجات میں اضافی 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم برداشت کی، جبکہ پاکستان اور ملائیشیا نے بھی حج پیکجز پر سبسڈی دینے کے اقدامات کیے ہیں۔ دوسری جانب بھارت نے فضائی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بناتے ہوئے عازمین پر اضافی سرچارج عائد کر دیا ہے۔
    ‎آئندہ ہفتے مکہ مکرمہ میں حج کے مرکزی مناسک کا آغاز ہوگا۔ گزشتہ برس تقریباً 16 لاکھ مسلمان دنیا بھر سے حج کے لیے سعودی عرب پہنچے تھے، جن میں پاکستان، بھارت اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے عازمین کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔
    ‎سعودی عرب کی جانب سے بھی حج اور عمرہ کے شعبے کو وژن 2030 کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مملکت ہوائی اڈوں، ٹرانسپورٹ، میٹرو سروس اور ہوٹلنگ کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ مذہبی سیاحت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔