لاہور سے کراچی سفر کرنے والے مسافروں کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب دو اہم ٹرینوں میں فنی خرابیاں سامنے آ گئیں۔
رپورٹس کے مطابق کراچی ایکسپریس کو مہراب پور اور پڈی دان کے درمیان انجن میں خرابی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث ٹرین کو ٹریک پر روکنا پڑا۔
صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب ٹرین کی پاور وین بھی خراب ہو گئی، جس کے نتیجے میں ایئر کنڈیشننگ سسٹم بند ہو گیا اور شدید گرمی میں مسافر سخت اذیت کا شکار ہو گئے۔
مسافروں نے شکایت کی کہ کئی گھنٹوں تک نہ مناسب معلومات فراہم کی گئیں اور نہ ہی متبادل انتظامات کیے گئے، جس سے خواتین، بچوں اور بزرگوں کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب کراچی جانے والی گرین لائن ٹرین میں بھی ایک تشویشناک واقعہ پیش آیا جہاں دو بوگیوں کو جوڑنے والی اسٹیل پلیٹ سفر کے دوران ٹوٹ گئی۔
رپورٹس کے مطابق خرابی کے باوجود ریلوے عملے نے متاثرہ حصے کو کپڑے کی پٹی سے باندھ کر ٹرین کو دوبارہ روانہ کر دیا، جس پر مسافروں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اس واقعے نے ریلوے کے حفاظتی انتظامات اور مینٹیننس کے معیار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی صارفین نے ریلوے حکام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرینوں کی بروقت مرمت اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے خطرناک واقعات سے بچا جا سکے۔