وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے میانمار کے وزیر خارجہ ایچ۔ای۔ یو تھان سوی کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ بات چیت کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور میانمار کے موجودہ دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا۔
رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں مشترکہ اور علاقائی مسائل پر قریبی رابطے اور تبادلہ خیال جاری رکھا جائے گا تاکہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
Author: Aqsa Younas Rana

پاکستان اور میانمار کے وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا 27ویں آئینی ترمیم پر سخت ردِعمل، عدلیہ کی آزادی کو خطرہ قرار
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کے آئین میں کی گئی 27ویں ترمیم کو عدلیہ کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ترمیم بین الاقوامی قانونی اصولوں سے متصادم ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیر کے روز جاری کردہ اپنی تفصیلی رپورٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کا جائزہ لیتے ہوئے متعدد سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ترمیم پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور عدالتی آزادی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کے تحت قائم کی جانے والی وفاقی آئینی عدالت حقیقی خودمختاری سے محروم ہے اور اس کے ججوں کے عہدے کے تحفظ کو کمزور کر دیا گیا ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق اس ترمیم کے نتیجے میں عدالتی نظام پر انتظامیہ کا اثر و رسوخ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 27ویں ترمیم کے ذریعے صدرِ مملکت کے ساتھ ساتھ بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو عملی طور پر احتساب سے باہر کر دیا گیا ہے، جو انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان ترامیم پر نظرثانی نہ کی گئی تو پاکستان میں انسانی حقوق، شفافیت اور عدالتی آزادی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
جنوبی کوریا: صدر نے گنج پن کو قومی مسئلہ قرار دے دیا
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے گنج پن کو ملک کے لیے ایک
سنگین اور غیر معمولی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اسے قومی بقا سے جوڑ دیا ہے۔ ان کے اس بیان نے ملک بھر میں بحث چھیڑ دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر لی جے میونگ کا کہنا ہے کہ بالوں کا جھڑنا صرف ظاہری مسئلہ نہیں بلکہ اس کے گہرے نفسیاتی اور سماجی اثرات ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق گنج پن ذہنی دباؤ، خود اعتمادی میں کمی اور سماجی مشکلات کا سبب بنتا ہے، اس لیے اسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
صدر نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر ممکنہ اقدامات اور سبسڈی دینے کی تجاویز بھی پیش کی ہیں، تاکہ متاثرہ افراد کو علاج اور معاونت فراہم کی جا سکے۔
صدر کے اس بیان کے بعد جنوبی کوریا میں رائے عامہ تقسیم ہو گئی ہے۔ ایک طبقہ اسے عوامی صحت اور ذہنی فلاح و بہبود کے لیے ایک مثبت قدم قرار دے رہا ہے اور کہتا ہے کہ ایسے مسائل کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا مؤقف ہے کہ حکومت کو اس وقت معیشت، روزگار اور دیگر سنگین سماجی مسائل پر زیادہ توجہ دینی چاہیے، اور گنج پن کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا سوالات کو جنم دیتا ہے۔
یہ بیان سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، جہاں لوگ حکومت کی ترجیحات پر مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
انڈین سپریم کورٹ کا فیصلہ: پانچ برس سے بغیر ٹرائل قید مسلم طلبہ کو ضمانت نہ مل سکی
انڈیا کی سپریم کورٹ نے پیر کے روز دو مسلم طلبہ، عمر خالد اور شرجیل امام، کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی۔ دونوں طلبہ کو گزشتہ پانچ برس سے بغیر ٹرائل حراست میں رکھا گیا ہے اور ان پر 2020 کے دہلی فسادات میں سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
عمر خالد اور شرجیل امام کو فروری 2020 میں انڈیا کے سخت گیر اسٹیٹ سیکیورٹی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ دونوں طلبہ نے دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کو منظم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان فسادات میں 53 افراد جان سے گئے تھے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ یہ واقعات اس وقت پیش آئے تھے جب دہلی میں 2019 کے متنازع شہریت قانون کے خلاف مسلسل مظاہرے جاری تھے، جسے ناقدین مسلمانوں کے خلاف امتیازی قرار دیتے ہیں۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اسی مقدمے میں نامزد پانچ دیگر ملزمان کو ضمانت دے دی، تاہم عمر خالد اور شرجیل امام کے بارے میں عدالت کا کہنا تھا کہ ان کا کردار دیگر ملزمان سے مختلف اور زیادہ سنگین نوعیت کا ہے۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ صرف ٹرائل میں تاخیر ضمانت کے لیے کافی بنیاد نہیں بن سکتی۔
عدالت کے مطابق خالد اور امام پر عائد الزامات انہیں مبینہ سازش کے مرکزی کردار کے طور پر پیش کرتے ہیں، اس لیے ان کی درخواستِ ضمانت قبول نہیں کی جا سکتی۔
واضح رہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام شہریت قانون کے خلاف ہونے والے ملک گیر مظاہروں میں نمایاں آواز سمجھے جاتے تھے۔ ان مظاہروں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کو شدید سیاسی دباؤ میں ڈال دیا تھا۔ اسی پس منظر میں ان کی گرفتاری کو ناقدین مودی حکومت کے دور میں اختلافی آوازوں کے خلاف کارروائیوں کی ایک مثال قرار دیتے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل اس بات پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں کہ انڈیا میں انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کو طلبہ، سماجی کارکنوں اور سیاسی ناقدین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ دہلی فسادات کے بعد پولیس نے متعدد ایکٹیوسٹس اور احتجاجی مظاہروں کے منتظمین کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت گرفتار کیا، جن میں عمر خالد اور شرجیل امام بھی شامل تھے۔
یہ قانون ماضی میں زیادہ تر مسلح بغاوتوں کے خلاف استعمال ہوتا رہا، تاہم نریندر مودی کے دور میں اس کے دائرۂ کار میں نمایاں توسیع دیکھی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت کسی شخص کو طویل عرصے تک بغیر ٹرائل حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایسے درجنوں افراد، بالخصوص مسلمان، فسادات سے متعلق مقدمات میں برسوں سے قید ہیں۔ بعض کیسز میں بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ پولیس حراست میں لیے گئے افراد کے خلاف الزامات ثابت کرنے کے لیے شواہد ناکافی تھے، مگر اس کے باوجود انہیں طویل عرصے تک جیل میں رکھا گیا۔
عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد ہونے کے بعد ایک بار پھر انڈیا میں عدالتی تاخیر، ریاستی قوانین کے استعمال اور شہری آزادیوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، خیموں پر بمباری سے پانچ سالہ بچی سمیت دو فلسطینی جاں بحق
امریکی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے جنوبی غزہ میں فضائی اور ہیلی کاپٹر حملے تیز کر دیے ہیں، جن میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
حالیہ حملوں میں مزید دو فلسطینی جان سے گئے، جن میں ایک پانچ سالہ بچی بھی شامل ہے۔ مقامی حکام کے مطابق پیر کے روز ہونے والی ان ہلاکتوں کے بعد اکتوبر میں جنگ بندی کے نفاذ سے اب تک اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد کم از کم 422 ہو چکی ہے۔
جنوبی خان یونس میں واقع ناصر میڈیکل کمپلیکس کا کہنا ہے کہ تازہ حملہ ساحلی علاقے المواسی میں ایک خیمے پر کیا گیا، جہاں بچوں سمیت چار افراد زخمی بھی ہوئے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک ایسے حماس جنگجو کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر اسرائیلی فورسز پر فوری حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ تاہم فوج کی جانب سے اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے اور یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ آیا یہ بیان خیمے پر کیے گئے حملے سے متعلق ہے یا کسی اور کارروائی کا۔
گزشتہ سال 75 ہزار سے زائد آپریشنز، 2597 عسکریت پسند ہلاک,پاک فوج
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی ریاستِ پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق سال 2025 کے دوران انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مجموعی طور پر 75 ہزار 175 آپریشنز کیے گئے، جن میں 2597 عسکریت پسند مارے گئے۔
منگل کو راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ سال عسکریت پسندوں کے خلاف غیر معمولی اور مسلسل کارروائیاں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا اور متعدد خطرات کو بروقت ناکام بنایا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2025 میں ملک بھر میں دہشت گردی کے 5397 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے 71 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں جبکہ 29 فیصد بلوچستان میں پیش آئے۔ ان واقعات کے نتیجے میں مجموعی طور پر 1235 افراد جان سے گئے، جن میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاستی ادارے پرعزم ہیں اور ملک کے امن و استحکام کے لیے یہ کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
اسحاق ڈار اور انڈونیشیا کے وزیر خارجہ کا رابطہ، دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر تبادلۂ خیال
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سمیت مختلف عالمی فورمز پر تعاون پر خیالات کا تبادلہ کیا۔
گفتگو کے دوران عالمی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی، جس میں صومالیہ کی تازہ پیش رفت اور غزہ میں دیرپا امن کے لیے کی جانے والی کوششیں شامل تھیں۔ دونوں وزرائے خارجہ نے ان امور پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
آئی سی سی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، نسیم شاہ پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پاکستانی فاسٹ بولر نسیم شاہ پر جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی انٹرنیشنل لیگ ٹی ٹوئنٹی میں لیول ون خلاف ورزی پر کی گئی۔
ڈیزرٹ وائپرز کی نمائندگی کرنے والے 22 سالہ نسیم شاہ کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سیزن فور کے فائنل کے دوران ایم آئی ایمریٹس کے خلاف میچ میں آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.5 کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا۔ اس خلاف ورزی پر ان کی میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا۔
آرٹیکل 2.5 آؤٹ ہونے کے بعد بیٹر کو اشتعال دلانے، یا توہین آمیز رویے، زبان یا اشاروں سے متعلق ہے۔ واقعہ فائنل کے 11ویں اوور میں پیش آیا، جب ایم آئی ایمریٹس کے کپتان کیرون پولارڈ نے نسیم شاہ کی گیند کھیلی اور گیند واپس بولر کی جانب آئی۔
نسیم شاہ نے گیند اٹھا کر مسکراتے ہوئے پولارڈ کی طرف دیکھا، جس پر پولارڈ نے سخت ردِعمل دیا اور دونوں کے درمیان تلخ کلامی شروع ہو گئی۔ بات بڑھنے پر دونوں کھلاڑی ایک دوسرے کے قریب آ گئے اور صورتحال کشیدہ ہو گئی۔
امپائرز اور ڈیزرٹ وائپرز کے دیگر کھلاڑیوں نے مداخلت کر کے معاملہ قابو میں کیا، تاہم دونوں کھلاڑی واضح طور پر ناخوش دکھائی دیے۔
بعد ازاں نسیم شاہ نے 16ویں اوور کی پہلی گیند پر کیرون پولارڈ کو آؤٹ کر کے اپنی کارکردگی سے جواب دیا۔
واضح رہے کہ ڈیزرٹ وائپرز نے فائنل میں ایم آئی ایمریٹس کو 46 رنز سے شکست دے کر پہلی بار انٹرنیشنل لیگ ٹی ٹوئنٹی کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔
اوہائیو میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی رہائش گاہ پر حملہ، ایک شخص گرفتار
امریکا کی ریاست اوہائیو میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے گھر پر حملے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق واقعے کے وقت جے ڈی وینس اور ان کے اہلِ خانہ گھر پر موجود نہیں تھے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم گھر میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکا، تاہم اس نے ایک کھڑکی کو نقصان پہنچایا۔ حملے کے دوران سیکریٹ سروس کی ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کو چوبیس گھنٹے سیکریٹ سروس کی سکیورٹی حاصل ہوتی ہے، تاہم ان کی نجی رہائش گاہ پر سکیورٹی کی نوعیت ان کے سفری شیڈول کے مطابق کم یا زیادہ کی جاتی رہتی ہے۔
یو این سیکرٹری جنرل کا امریکی کارروائی پر اعتراض، وینزویلا کے خلاف اقدام کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے دیا
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 3 جنوری کو کی گئی یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین کے مطابق نہیں تھی۔
وینزویلا کی صورتحال پر غور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جس کے ایجنڈے میں عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات پر بات چیت شامل ہے۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا تحریری بیان پڑھ کر سنایا گیا۔
اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے دوران عالمی قوانین کی پاسداری نہیں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ اس وقت امریکی تحویل میں ہیں، جس سے ملک میں عدم استحکام بڑھنے اور پورے خطے پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔
یو این سیکرٹری جنرل نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی مکمل پابندی کریں اور ایک جامع، جمہوری مکالمہ شروع کریں تاکہ وینزویلا کے تمام طبقات اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی امن اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قانونی اصولوں کا احترام ناگزیر ہے۔ ریاستوں کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام ہر حال میں ہونا چاہیے۔
انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ دھمکی یا طاقت کے استعمال پر پابندی ضروری ہے اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔









