سعودی عرب میں ذوالحجہ 1447 ہجری کا چاند نظر آگیا ہے، جس کے بعد مملکت میں عیدالاضحیٰ 27 مئی بروز بدھ منانے کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق سعودی سپریم کورٹ نے چاند نظر آنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم ذوالحجہ 18 مئی کو ہوگی جبکہ وقوف عرفہ 26 مئی کو ادا کیا جائے گا۔
سعودی عرب کے ساتھ ساتھ انڈونیشیا میں بھی ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ انڈونیشیا کی وزارت مذہبی امور نے اعلان کیا کہ ملک میں بھی عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائے گی۔
اس سے قبل تیونس اور ترکیہ بھی ذوالحجہ کے چاند کا اعلان کرنے والے ممالک میں شامل ہو چکے ہیں۔
تیونس پہلا ملک بنا جہاں ذوالقعدہ کی 29 تاریخ کو چاند نظر آنے کی باضابطہ تصدیق کی گئی، جس کے بعد پیر 18 مئی کو یکم ذوالحجہ قرار دیا گیا۔
دوسری جانب ترکیہ نے بھی فلکیاتی حساب کتاب کی بنیاد پر اسلامی کیلنڈر کے مطابق 18 مئی کو یکم ذوالحجہ اور 27 مئی کو عیدالاضحیٰ منانے کا اعلان کیا ہے۔
ترکیہ میں روایتی رویت ہلال کے بجائے سائنسی اور فلکیاتی کیلنڈر کو بنیاد بنا کر اسلامی مہینوں کی تاریخوں کا تعین کیا جاتا ہے۔
دنیا بھر کے مسلمان اب عیدالاضحیٰ اور حج کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جبکہ لاکھوں عازمین حج سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں ذوالحجہ کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو ہوگی
-

امریکا کی کسی نئی جارحیت کا جواب مزید شدید ہوگا، ایران
ایران کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے امریکا کی جانب سے مسلسل دی جانے والی دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی جارحیت کا جواب پہلے سے زیادہ شدید اور تباہ کن حملوں کی صورت میں دیا جائے گا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اگر وہ اپنی سبکی مٹانے کیلئے دوبارہ کوئی حماقت کرتا ہے تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکی صدر کی دھمکیاں عملی شکل اختیار کرتی ہیں اور ایران کے خلاف کوئی نئی فوجی کارروائی کی جاتی ہے تو امریکا کے مفادات اور اس کی فوج کو غیر متوقع اور سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایرانی فوجی ترجمان کے مطابق ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے دفاع کیلئے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے جھکنے والا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی عوام اور مسلح افواج نے اتحاد اور مزاحمت کا مظاہرہ کیا، جس سے دشمن اپنے مقاصد میں ناکام رہا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی لفظی جنگ خطے میں کشیدگی کو مزید خطرناک سطح تک لے جا سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری مسلسل سفارتی حل پر زور دے رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ عالمی توانائی منڈی، بحری تجارت اور خطے کے امن و استحکام پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔ -

امریکا نے مذاکرات میں کوئی بڑی رعایت نہیں دی: ایران
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے جنگ کے خاتمے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے ایران کی تجاویز کے جواب میں کوئی ٹھوس رعایت پیش نہیں کی، جس کے باعث مذاکراتی عمل ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق واشنگٹن نے ایران کو پانچ نکات پر مشتمل ایک فہرست دی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران صرف ایک جوہری تنصیب کو فعال رکھے اور اپنے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ امریکا کے حوالے کرے۔
ایرانی خبر ایجنسی مہر نیوز کے مطابق امریکا بغیر کسی عملی رعایت کے وہی اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے جو وہ جنگ کے دوران حاصل نہیں کر سکا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے ایران سے تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم امریکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ جنگی نقصانات کے ازالے اور ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے سے بھی انکار کیا گیا ہے۔
فارس نیوز کے مطابق امریکی تجاویز میں ایران کی صرف ایک جوہری تنصیب فعال رکھنے، منجمد اثاثوں کا صرف محدود حصہ بھی جاری نہ کرنے اور جنگ بندی کو مذاکرات سے مشروط کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر ایران ان شرائط کو تسلیم بھی کر لے تب بھی امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ جارحیت کا خطرہ برقرار رہے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے مذاکرات کیلئے اپنی پانچ بنیادی شرائط واضح کر رکھی ہیں، جن میں تمام محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ، ایران مخالف پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگی نقصانات کا ازالہ اور آبنائے ہرمز پر ایران کے حق کا اعتراف شامل ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کا فقدان مذاکرات کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے، جبکہ دونوں فریق اپنی اپنی شرائط پر سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہیں۔ -

امریکا نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو اہم شراکت دار قرار دے دیا
امریکا نے دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کو ایک اہم اور کلیدی شراکت دار قرار دیتے ہوئے انسدادِ دہشتگردی میں اس کے کردار کو سراہا ہے۔
امریکی سینیٹ کی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ افغانستان اب بھی دہشتگرد سرگرمیوں اور سکیورٹی خطرات کے باعث واشنگٹن کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان امریکی نگرانی کی فہرست میں بدستور پہلے نمبر پر موجود ہے، جبکہ وسطی ایشیائی ممالک بھی افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشتگردی کے خطرات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ایڈمرل بریڈ کوپر نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان انسدادِ دہشتگردی میں امریکا کا قابلِ اعتماد شراکت دار ثابت ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں داعش خراسان کے خلاف کارروائیوں میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے نتیجے میں دہشتگردوں کے خلاف مؤثر اور ٹھوس نتائج حاصل ہوئے ہیں۔
سینٹرل کمانڈ کے سربراہ کے مطابق پاکستان اور امریکا کی مشترکہ کوششوں نے خطے میں دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں پاکستان اور امریکا کے درمیان دوستی، اعتماد اور مشترکہ عزم کا واضح ثبوت ہیں۔
دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق امریکی حکام کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور دہشتگردی کے خلاف اس کی کارروائیاں خطے میں استحکام کیلئے اہم سمجھی جاتی ہیں، جبکہ امریکا بھی افغانستان اور خطے کی صورتحال کے باعث پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنا چاہتا ہے۔ -

پاکستان میں تین ماہ میں 10 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے رواں سال فروری سے اپریل تک کمپنی رجسٹریشن کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق ملک میں تین ماہ کے دوران 10 ہزار 511 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق گزشتہ سال اسی عرصے میں رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں کی تعداد 8 ہزار 693 تھی، جس کے مقابلے میں اس سال نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ صرف اپریل 2026 کے دوران 4 ہزار 82 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ 22 سے زائد ممالک کے سرمایہ کاروں نے بھی پاکستان میں کاروباری ادارے قائم کیے۔
ایس ای سی پی کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کے مجموعی سرمایہ میں 218 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ادا شدہ سرمایہ 88 کروڑ 20 لاکھ روپے تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سال یہی سرمایہ 27 کروڑ 70 لاکھ روپے تھا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تجارت، خدمات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعمیرات اور معدنیات کے شعبوں میں سب سے زیادہ کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔
ایس ای سی پی نے بتایا کہ کمپنیوں کی ریگولیٹری کمپلائنس میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور اس میں 61 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح رواں تین ماہ کے دوران 61 ہزار 960 کمپنیوں نے اپنے سالانہ ریٹرنز جمع کرائے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 38 ہزار 326 تھی۔
کمیشن کے مطابق نان لسٹڈ کمپنیوں کے شیئر سرٹیفکیٹس کو ڈیجیٹلائز کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے، جس سے شیئر ہولڈنگ تنازعات کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
اس مقصد کیلئے اسلام آباد، کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور فیصل آباد میں خصوصی سہولت مراکز قائم کیے جائیں گے۔
ایس ای سی پی نے مزید کہا کہ مستقبل میں کمپنی رجسٹریشن کے نظام کو مزید خودکار بنایا جائے گا اور کمپنی نام ریزرویشن کیلئے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال بھی متعارف کرایا جائے گا۔ -

کراچی فیکٹری اور مارگلہ پہاڑیوں میں آگ بے قابو، ریسکیو آپریشن جاری
کراچی کے لانڈھی ایکسپورٹ پروسسنگ زون میں واقع فیکٹری میں لگنے والی آگ شدت اختیار کر گئی ہے، جبکہ اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں پر بھی دو مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی ہے۔
کراچی میں فیکٹری میں لگنے والی آگ کو تیسرے درجے کی آگ قرار دیا گیا ہے، جہاں کئی گھنٹوں سے فائرفائٹرز آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ بجھانے کیلئے 14 فائر ٹینڈرز اور ایک اسنارکل استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم آگ کی شدت کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق فیکٹری سے دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دیے جبکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم حکام نے احتیاطی اقدامات کے طور پر قریبی عمارتوں کو بھی الرٹ کر دیا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں پر دو مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، جس نے شدید گرمی اور خشک موسم کے باعث تیزی سے پھیلنا شروع کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق آگ مارگلہ کی پہاڑی منگھیال کے علاقے میں لگی ہوئی ہے اور سیاہ دھواں دور دور تک دیکھا جا سکتا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ آگ کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اب تک سی ڈی اے کے فائرفائٹرز اور اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کا عملہ متاثرہ مقام تک نہیں پہنچ سکا۔
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو قیمتی جنگلات اور جنگلی حیات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق گرمی کی شدت، خشک موسم اور تیز ہوائیں جنگلاتی آگ کو مزید خطرناک بنا رہی ہیں، جبکہ شہریوں کو متاثرہ علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔ -

ذی الحج کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری
ذی الحج کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اہم اجلاس کراچی میں جاری ہے، جہاں چاند کی رویت سے متعلق مختلف شہادتوں اور سائنسی معلومات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
کراچی کے محکمہ موسمیات کے دفتر میں ہونے والے اجلاس کی صدارت چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کر رہے ہیں۔
اجلاس میں مرکزی اور زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے ارکان کے ساتھ محکمہ موسمیات اور سپارکو کے ماہرین بھی شریک ہیں۔
ذرائع کے مطابق آج چاند نظر آنے کی صورت میں پاکستان میں عیدالاضحیٰ بدھ 27 مئی کو منائی جائے گی، جبکہ چاند نظر نہ آنے کی صورت میں عید 28 مئی بروز جمعرات ہوگی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ تاحال چاند نظر آنے کی کوئی مستند شہادت موصول نہیں ہوئی، تاہم زونل کمیٹیوں سے مسلسل رابطہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ چاند نظر آنے کے امکانات کافی زیادہ ہیں اور جیسے ہی قابلِ اعتماد شہادت موصول ہوگی، عیدالاضحیٰ سے متعلق باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔
محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق ساحلی علاقوں میں چاند نظر آنے کے امکانات روشن ہیں۔
سپارکو کے مطابق نیا چاند 17 مئی کو رات 1 بج کر 1 منٹ پر پیدا ہوا تھا، جبکہ غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 18 گھنٹے 30 منٹ ہوگی، جو رویت کیلئے موزوں سمجھی جاتی ہے۔
سپارکو نے پیش گوئی کی ہے کہ یکم ذی الحج 1447 ہجری پیر 18 مئی کو ہونے کا امکان ہے، جبکہ عیدالاضحیٰ 27 مئی کو متوقع ہے، تاہم حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی ہی کرے گی۔
دوسری جانب سعودی سپریم کورٹ نے بھی شہریوں سے آج 30 ذی القعدہ کی شام ذی الحج کا چاند دیکھنے کی اپیل کی ہے۔ -

ابراہیم حیدری میں مسلح افراد پولیس کی تحویل سے چھالیہ بھری گاڑی چھین کر فرار
کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں نامعلوم مسلح افراد پولیس کی تحویل سے چھالیہ سے بھری گاڑی چھین کر فرار ہو گئے، جبکہ واقعے کے بعد پولیس نے دو الگ الگ مقدمات درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ ریڑھی روڈ چائنا کٹ کے قریب پیش آیا جہاں پولیس اور مسلح افراد کے درمیان جھگڑا اور ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
پہلا مقدمہ سب انسپکٹر عبدالقادر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق پولیس کو مخبر کے ذریعے اطلاع ملی تھی کہ ایک سلور رنگ کی گاڑی میں چھالیہ اسمگل کی جا رہی ہے۔
پولیس نے مشتبہ گاڑی کو روک کر تلاشی شروع کی تو ڈرائیور نے اپنا نام اسماعیل جبکہ اس کے ساتھی نے عرفان بتایا۔
مدعی مقدمہ کے مطابق تلاشی کے دوران اچانک 14 سے 15 نامعلوم افراد ڈبل کیبن گاڑیوں میں موقع پر پہنچ گئے، جن میں سے بعض افراد نے مبینہ طور پر کوسٹ گارڈ کی وردی پہن رکھی تھی۔
پولیس کے مطابق ان افراد نے اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کی اور زبردستی چھالیہ سے بھری گاڑی چھین کر فرار ہو گئے، جبکہ ڈرائیور اسماعیل کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے موقع پر موجود ملزم عرفان کو گرفتار کر لیا۔
دوسرا مقدمہ گرفتار ملزم عرفان کی نشاندہی پر گٹکا برآمد ہونے کے بعد درج کیا گیا۔
پولیس کے مطابق عرفان کی نشاندہی پر نئی آبادی کے علاقے میں ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں سے تیار اور غیر تیار شدہ گٹکے کا بھاری مقدار میں سامان برآمد ہوا۔
کارروائی کے دوران انس نامی شخص کو بھی حراست میں لیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں مقدمات درج کر کے واقعے میں ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کیلئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
شہری حلقوں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں اسمگلنگ اور گٹکا مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ -

ایران کی اسٹاک مارکیٹ 80 دن بعد دوبارہ کھلنے کیلئے تیار
ایران کی اسٹاک مارکیٹ تقریباً 80 دن بند رہنے کے بعد منگل 19 مئی سے دوبارہ ٹریڈنگ شروع کرنے جا رہی ہے، جبکہ سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ مارکیٹ کھلنے کے بعد صورتحال کس رخ پر جاتی ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی اور جنگی حالات کے دوران اسٹاک مارکیٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا تاکہ سرمایہ کاروں کے اثاثوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج آرگنائزیشن کے ڈپٹی سپروائزر حمید یاری نے کہا کہ مارکیٹ کی معطلی کا مقصد خوف و ہراس کے تحت ہونے والی ٹریڈنگ کو روکنا اور قیمتوں کے زیادہ شفاف تعین کیلئے حالات پیدا کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ تمام ضروری منظوریوں اور رابطہ کاری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد حصص، سرمایہ کاری فنڈز اور ڈیریویٹوز کی ٹریڈنگ دوبارہ بحال کی جا رہی ہے۔
حمید یاری کے مطابق مارکیٹ کھلنے کے بعد سرمایہ جاتی منڈی کے تمام شعبے دوبارہ مکمل طور پر فعال ہو جائیں گے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے یکم مارچ کو اسٹاک مارکیٹ معطل کی تھی، جبکہ بعد میں 7 مارچ کو اس بندش کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا تھا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی بحالی کے بعد لاکھوں ریٹیل سرمایہ کار دوبارہ سرگرم ہو جائیں گے، تاہم یہ خدشہ موجود ہے کہ کئی سرمایہ کار ایک ساتھ اپنے حصص فروخت کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس سے مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام ممکنہ بحران سے بچنے کیلئے مختلف حفاظتی اقدامات پر کام کر رہے ہیں، جن میں مخصوص شیئرز پر قیمتوں کی سخت حدود مقرر کرنا اور مارکیٹ میکرز کے ذریعے لیکویڈیٹی فراہم کرنا شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر فروخت کا دباؤ بہت زیادہ ہوا تو حکومتی اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں شدید گراوٹ دیکھی جا سکتی ہے۔
سیاسی اور معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کی اسٹاک مارکیٹ کی بحالی صرف اقتصادی سرگرمی نہیں بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کیلئے ایک اہم اشارہ بھی سمجھی جا رہی ہے کہ تہران کشیدگی کے باوجود معاشی استحکام بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ -

خیبرپختونخوا کو گیس کی فراہمی بند، عوام سڑکوں پر آ سکتے ہیں: فیصل کریم کنڈی
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو گیس کی فراہمی بند کر دی گئی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا اس وقت گندم اور گیس دونوں کے سنگین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر پنجاب گندم فراہم نہیں کرتا تو سندھ سے گندم لانے کیلئے راہداری دی جائے تاکہ عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لوگوں کو روٹی نہیں ملے گی تو وہ سڑکوں پر نکل آئیں گے، اس لیے حکومت کو فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ اڈیالہ جیل کی سیاست کے بجائے صوبے کے مسائل پر توجہ دیں اور خیبرپختونخوا کے حقوق کیلئے مؤثر کیس تیار کر کے وفاق کے سامنے پیش کریں۔
فیصل کریم کنڈی کے مطابق خیبرپختونخوا کو درپیش مسائل صرف سیاسی بیانات سے حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات اور وفاقی سطح پر مضبوط مؤقف اپنانا ہوگا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا میں گیس لوڈشیڈنگ اور گندم کی صورتحال عوام کیلئے تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے، جبکہ بڑھتی مہنگائی نے بھی شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبوں کے درمیان وسائل اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی پر تعاون نہ ہونے کی صورت میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔