Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • پنجاب حکومت کا خواتین کیلئے ‘ای لرن شی ارن’ پروگرام شروع

    پنجاب حکومت کا خواتین کیلئے ‘ای لرن شی ارن’ پروگرام شروع

    ‎پنجاب حکومت نے خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے اور انہیں جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے 70 کروڑ روپے مالیت کا “ای لرن شی ارن” پروگرام شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت میٹرک پاس خواتین کو مفت تربیت، لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ سہولت اور ماہانہ وظیفہ فراہم کیا جائے گا۔
    ‎حکام کے مطابق اس پروگرام کا مقصد صوبے بھر کی خواتین کو آن لائن روزگار، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل کاروبار کے مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ گھر بیٹھے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے آمدن حاصل کر سکیں۔
    ‎پروگرام کے تحت منتخب امیدواروں کو تین ماہ کی مفت آن لائن ٹریننگ دی جائے گی۔ اس تربیت میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، آن لائن مصنوعات کی فروخت، برانڈ مینجمنٹ اور گرافک ڈیزائننگ جیسے شعبے شامل ہیں۔ خواتین کو تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال کے ساتھ بصری مواد تیار کرنے کی مہارت بھی سکھائی جائے گی۔
    ‎اس کے علاوہ ورچوئل اسسٹنٹ کی تربیت بھی پروگرام کا حصہ ہوگی، جس کے ذریعے خواتین بین الاقوامی کلائنٹس کو انتظامی اور آن لائن سپورٹ فراہم کرنے کے قابل بن سکیں گی۔ آن لائن کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ اور جدید ڈیجیٹل ٹولز کی پیشہ ورانہ تربیت بھی دی جائے گی۔
    ‎حکومت نے خواتین کو تربیت کے دوران درپیش مالی اور تکنیکی مشکلات کم کرنے کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ منتخب خواتین کو مفت لیپ ٹاپ، ماہانہ وظیفہ، انٹرنیٹ پیکج اور کورس مکمل کرنے پر پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹ دیے جائیں گے۔
    ‎پروگرام میں درخواست دینے کے لیے عمر کی حد 15 سے 35 سال مقرر کی گئی ہے، تاہم بعض کورسز کے لیے 40 سال تک رعایت دی جائے گی۔ صرف پنجاب کی مستقل رہائشی خواتین درخواست دینے کی اہل ہوں گی جن کے پاس شناختی کارڈ یا ب فارم موجود ہو۔ کم از کم تعلیمی قابلیت میٹرک یا انٹرمیڈیٹ رکھی گئی ہے۔
    ‎خواہشمند خواتین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے پورٹل اور پنجاب اسکلز ڈویلپمنٹ فنڈ کی ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن کروا سکتی ہیں۔ امیدواروں کا انتخاب میرٹ اور اہلیتی امتحان کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ خواتین کو ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنانے اور بے روزگاری کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

  • حج ضوابط کی خلاف ورزی، سعودی عرب میں پاکستانیوں سمیت 18 غیر ملکی گرفتار

    حج ضوابط کی خلاف ورزی، سعودی عرب میں پاکستانیوں سمیت 18 غیر ملکی گرفتار

    ‎سعودی عرب میں حج 2026 کی تیاریاں عروج پر ہیں اور دنیا بھر سے عازمینِ حج کی آمد کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ مکہ مکرمہ میں بڑھتے ہوئے رش اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سعودی حکام نے حج ضوابط پر سختی سے عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں مختلف کارروائیوں کے دوران پاکستانیوں اور افغان باشندوں سمیت 18 غیر ملکیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
    ‎عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق مکہ ریجن پولیس نے ان افراد کو اقامہ، نسک کارڈ اور حج بریسلیٹ میں جعلسازی کے الزام میں حراست میں لیا۔ گرفتار افراد میں پاکستانی، افغان، سوڈانی، مصری اور یمنی شہری شامل ہیں۔ حکام کے مطابق بعض افراد جعلی دستاویزات کے ذریعے حدودِ مکہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ کچھ لوگ بغیر اجازت قیام کے لیے مکہ پہنچے تھے۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا کہ دس غیر ملکیوں کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ حج پرمٹ کے بغیر مکہ میں داخل ہو کر وہاں رہنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سعودی سکیورٹی فورسز نے چیک پوسٹس اور نگرانی کے نظام کو مزید سخت کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن بھی کیے۔
    ‎اس سے قبل پانچ افغان باشندوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جو صحرائی راستے سے پیدل مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ سعودی حکام کے مطابق حج سیزن کے دوران غیر قانونی داخلے اور جعلی دستاویزات کے استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔
    ‎سعودی وزارتِ داخلہ نے تمام شہریوں اور غیر ملکیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ حج سے متعلق جاری قوانین اور ہدایات پر مکمل عمل کریں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ عازمینِ حج کی حفاظت، سکیورٹی اور بہتر انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے ضوابط کی پابندی انتہائی ضروری ہے۔
    ‎حکام نے واضح کیا کہ حج پرمٹ کے بغیر مکہ میں داخل ہونے یا کسی بھی قسم کی جعلسازی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ گرفتار تمام افراد کو ابتدائی کارروائی کے بعد پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

  • اٹک میں مشتبہ نوجوان کو روکنے والا شہری جان کی بازی ہار گیا

    اٹک میں مشتبہ نوجوان کو روکنے والا شہری جان کی بازی ہار گیا

    ‎پنجاب کے ضلع اٹک کے سرحدی علاقے میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ گاؤں منکور کے رہائشی 40 سالہ لیاقت علی ایک مشتبہ نوجوان کو روکنے کی کوشش کے دوران جان کی بازی ہار گئے۔ واقعہ گیارہ مئی کی شام دریائے سندھ کے قریب پیش آیا جہاں مقامی افراد معمول کے مطابق اپنے مویشی چرا رہے تھے۔
    ‎منکور، تحصیل جنڈ کا ایک سرحدی گاؤں ہے جو دریائے سندھ کے قریب واقع ہے۔ دریا کے دوسری جانب خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق لیاقت علی اپنے بڑے بھائی نوید علی اور دیگر دیہاتیوں کے ساتھ موجود تھے جب ایک نوجوان تیزی سے خوشحال گڑھ چیک پوسٹ کی طرف دوڑتا ہوا دکھائی دیا۔
    ‎نوید علی نے بتایا کہ نوجوان کی مشکوک حرکات دیکھ کر لیاقت علی فوراً اس کی طرف بڑھے اور راستہ روکنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق لیاقت علی نے نوجوان کے قریب پہنچ کر دونوں ہاتھ پھیلا کر اسے روک لیا اور اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے اور کہاں جا رہا ہے۔
    ‎عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نوجوان کو پنجابی زبان سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ نوید علی کے مطابق اس شخص نے جواب دیا کہ اسے پنجابی نہیں آتی۔ موقع پر موجود افراد کے مطابق صورتحال کچھ لمحوں میں کشیدہ ہو گئی اور بعد ازاں افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں لیاقت علی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
    ‎واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف پایا جا رہا ہے جبکہ سکیورٹی اداروں اور پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مشتبہ شخص کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
    ‎مقامی لوگوں نے لیاقت علی کی جرات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے علاقے اور لوگوں کی حفاظت کے لیے بہادری کا مظاہرہ کیا۔ اہلِ علاقہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کی جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

  • قطر کا ایران کو انتباہ، آبنائے ہرمز کو دباؤ کے لیے استعمال نہ کیا جائے

    قطر کا ایران کو انتباہ، آبنائے ہرمز کو دباؤ کے لیے استعمال نہ کیا جائے

    ‎قطر نے ایران کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو خلیجی ممالک پر دباؤ ڈالنے یا انہیں بلیک میل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور عالمی سطح پر اہم بحری راستوں کی سکیورٹی پر تشویش پائی جا رہی ہے۔
    ‎قطری وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے دوحہ میں ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اس لیے اسے سیاسی دباؤ یا علاقائی تنازعات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ حالیہ امریکی دورے کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور اس کے منفی اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ان کے مطابق قطر نے امریکہ کو باور کرایا کہ جنگ یا تنازع کا پھیلاؤ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے مفاد کے خلاف ہوگا۔
    ‎قطری وزیر اعظم نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں کی بھی حمایت کی جا رہی ہے تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد از جلد سیاسی اور سفارتی حل نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
    ‎اس موقع پر ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکی اس اہم تجارتی بحری راستے کو کسی بھی تنازع میں “ہتھیار” کے طور پر استعمال کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے اس گزرگاہ کی اہمیت انتہائی زیادہ ہے۔
    ‎ہاکان فیدان نے مزید کہا کہ ترکی ان سفارتی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے جن کی قیادت پاکستان کر رہا ہے، تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے ختم کیا جا سکے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے حوالے سے بڑھتے بیانات خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں کسی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں۔

  • کراچی میں منشیات فروش خاتون گرفتار، بغیر ہتھکڑی پیشی پر پولیس حکام برہم

    کراچی میں منشیات فروش خاتون گرفتار، بغیر ہتھکڑی پیشی پر پولیس حکام برہم

    ‎کراچی میں منشیات اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں گرفتار خاتون ملزمہ انمول عرف پنکی کو عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد ایک نیا تنازع سامنے آ گیا۔ پولیس حکام نے ملزمہ کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کیے جانے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق گارڈن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ انمول عرف پنکی کو گرفتار کیا تھا، جس کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، مختلف کیمیکلز، نشہ آور اشیا اور ایک پستول برآمد کیا گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ شہر میں منشیات کی سپلائی کے ایک بڑے نیٹ ورک کو چلا رہی تھی اور اس کے خلاف 10 مقدمات پہلے سے درج تھے جبکہ وہ کئی کیسز میں مطلوب بھی تھی۔
    ‎تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ جدید طریقوں سے منشیات کی سپلائی میں ملوث تھی۔ وہ آن لائن آرڈرز کے ذریعے مخصوص رائیڈرز کے ذریعے منشیات پہنچاتی تھی جبکہ خواتین رائیڈرز کا استعمال بھی کیا جاتا تھا تاکہ پولیس کو شک نہ ہو۔
    ‎ملزمہ کو عدالت میں پیش کیا گیا تو وہاں اسے بغیر ہتھکڑی لائے جانے پر شدید سوالات اٹھے۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔ انہوں نے واقعے میں غفلت یا قواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب تفتیشی افسران اور اہلکاروں کو فوری معطل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
    ‎ترجمان سندھ پولیس کے مطابق معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے سینئر افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ آئی جی سندھ کا کہنا ہے کہ قانون اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ملوث اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
    ‎کراچی پولیس چیف آزاد خان نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا کہ تمام پولیس افسران اور اہلکار قانون اور قواعد و ضوابط کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزمہ کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کرنا ایک سنگین غفلت ہے جس کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

  • ‎اسکولوں میں کتابوں پر پلاسٹک کور لگانے پر پابندی

    ‎اسکولوں میں کتابوں پر پلاسٹک کور لگانے پر پابندی

    ‎قومی اسمبلی نے وفاقی دارالحکومت کے اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں کتابوں پر پلاسٹک کور استعمال کرنے کے خلاف اہم قانون منظور کر لیا ہے۔ اس اقدام کو ماحولیاتی تحفظ اور عوامی صحت کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎منظور کیے گئے بل کے مطابق اب تعلیمی اداروں میں کتابوں پر پلاسٹک کور چڑھانے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی جبکہ اس کے متبادل کے طور پر کاغذ، کپڑے اور بائیو ڈیگریڈیبل مواد کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ماحول دوست پالیسی کے تحت کیا گیا ہے تاکہ پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال کو کم کیا جا سکے۔
    ‎بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ پلاسٹک کور بظاہر کتابوں کو محفوظ رکھنے کا آسان طریقہ سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ماحول اور انسانی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پلاسٹک فضلہ زمین، پانی اور ہوا کو آلودہ کر رہا ہے جبکہ اس کے اثرات جنگلی حیات پر بھی پڑ رہے ہیں۔
    ‎قانون سازوں نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک فضلہ پیدا ہوتا ہے، جس میں بڑی مقدار ناقابلِ ری سائیکل مواد پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہی پلاسٹک بعد ازاں ندی نالوں، دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر میں شامل ہو کر آلودگی میں اضافہ کرتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ماحولیاتی ماہرین طویل عرصے سے پلاسٹک کے استعمال کو محدود کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
    ‎نئے قانون کے تحت تعلیمی اداروں کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ طلبہ اور والدین میں ماحول دوست شعور اجاگر کریں اور کتابوں کے لیے ایسے کور استعمال کیے جائیں جو قدرتی طور پر تحلیل ہو سکیں۔ حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے نئی نسل میں ماحول کے تحفظ کا شعور بڑھے گا اور پلاسٹک کے مضر اثرات میں کمی آئے گی۔
    ‎ماہرین تعلیم نے بھی اس قانون کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکولوں سے اس مہم کا آغاز مستقبل میں ملک بھر میں ماحول دوست رجحان پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

  • 
ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں رکھنے دیں گے، ٹرمپ

    
ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں رکھنے دیں گے، ٹرمپ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو مشرقِ وسطیٰ اور اسرائیل شدید خطرے سے دوچار ہو جاتے، اس لیے ایران کو کسی صورت ایٹمی طاقت بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
    ‎اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر بی ٹو بمبار طیارے نہ بھیجے جاتے تو ایران دو ہفتوں میں ایٹمی صلاحیت حاصل کر سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس ایٹم بم ہونے کی صورت میں عالمی صورتحال بالکل مختلف ہوتی اور شاید دنیا ایک بڑے بحران کا سامنا کر رہی ہوتی۔
    ‎صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہونے سے پوری دنیا خطرے میں پڑ سکتی ہے، اس لیے امریکا اس حوالے سے سخت مؤقف رکھتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اب کمزور ہو چکا ہے اور اس کے پاس کوئی خاص آپشن باقی نہیں رہا۔
    ‎انہوں نے اپنی خارجہ پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت سمیت کئی تنازعات کو روکنے میں کردار ادا کیا، تاہم انہیں اس پر مناسب عالمی پذیرائی نہیں ملی۔
    ‎ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے، حتیٰ کہ اس کی بحریہ کو بھی ختم کر دیا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
    ‎ماہرین کے مطابق ایسے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر سفارتی کوششوں کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔

  • 
پنجاب میں پولیس مقابلے، 11 ڈاکو ہلاک

    
پنجاب میں پولیس مقابلے، 11 ڈاکو ہلاک

    ‎پنجاب کے مختلف شہروں میں پولیس اور سی سی ڈی کے ساتھ مقابلوں کے دوران 11 ڈاکو ہلاک ہو گئے، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق فیصل آباد کے نواحی علاقے رشیدہ آباد میں ڈائیوو روڈ پر ہونے والے مقابلے میں 4 ڈاکو موقع پر مارے گئے۔ اسی طرح چنیوٹ میں ایک گھر میں واردات کے بعد فرار ہونے والے 3 ڈاکوؤں کو پولیس نے مقابلے کے دوران ہلاک کر دیا، جن کی شناخت علی حمزہ، نوید عباس اور غلام رضا کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ ملزمان متعدد سنگین وارداتوں میں مطلوب تھے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں سے اسلحہ اور لوٹی گئی رقم بھی برآمد کر لی گئی ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
    ‎دوسری جانب گوجرانوالہ اور جڑانوالہ میں سی سی ڈی کے ساتھ مقابلوں میں مزید 4 ڈاکو مارے گئے، جس سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
    ‎شہریوں نے پولیس کی ان کارروائیوں کو سراہتے ہوئے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ایسے اقدامات کو ضروری قرار دیا ہے۔

  • 
امریکا کی ایران کو دھمکی، جہازوں پر حملہ ہوا تو سخت کارروائی

    
امریکا کی ایران کو دھمکی، جہازوں پر حملہ ہوا تو سخت کارروائی

    ‎امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے تجارتی جہازوں پر حملے کیے تو اسے سخت فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    ‎نیوز کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی گزرگاہ ہے اور ایران کو یہاں کسی قسم کا کنٹرول قائم کرنے یا ٹیکس وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج کی جانب سے جاری آپریشن کا مقصد جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے اور اس سلسلے میں ایرانی بندرگاہوں کا گھیراؤ بھی کیا گیا ہے۔
    ‎پیٹ ہیگستھ نے واضح کیا کہ امریکا جنگ نہیں چاہتا بلکہ "پروجیکٹ فریڈم” کے تحت ایک دفاعی اور عارضی مشن جاری ہے، جس کا مقصد تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فورسز کو ایرانی حدود میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں، اور امریکا کا کسی دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کا ارادہ بھی نہیں۔
    ‎امریکی وزیر جنگ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ درست نہیں اور اسے عالمی آبی گزرگاہ کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی عسکری صلاحیت محدود ہو چکی ہے اور امریکی بحریہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ ایران کے 6 جہازوں نے ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی، تاہم انہیں واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا۔
    ‎ماہرین کے مطابق ایسے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بحری تجارت اور سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • بھارت نے پہلگام حملے کا الزام بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر عائد کیا : اسحاق ڈار

    بھارت نے پہلگام حملے کا الزام بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر عائد کیا : اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت نے پہلگام حملے کا الزام بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر عائد کیا ہے، جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎اسحاق ڈار کے مطابق اگر بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے کی کوئی کوشش کی تو اسے جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کو ترجیح دی ہے لیکن کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان فضائیہ نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں دشمن قوتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین کا کامیابی سے دفاع کیا اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔
    ‎وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے دونوں ممالک کو تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔