Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • بھارت کے سابق آرمی چیف کا پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر زور

    بھارت کے سابق آرمی چیف کا پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر زور

    بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) منوج مکند نروانے نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے رہنما دتاتریہ ہوسابالے کے اس موقف کی تائید کی ہے جس میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی بات کی گئی تھی۔ سابق آرمی چیف نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی اور روابط کی بحالی ہی بہتر دو طرفہ تعلقات کی بنیاد بن سکتی ہے۔
    جنرل نروانے کا کہنا تھا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے مابین تناؤ کم کرنے اور تعلقات کو پٹری پر لانے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، عوامی سطح پر میل جول اور مثبت تعلقات کے ذریعے ہی دونوں حکومتوں کے درمیان موجود سرد مہری کو ختم کیا جا سکتا ہے اور خطے میں پائیدار امن کے امکانات کو روشن کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل آر ایس ایس کے اہم رہنما نے بھی پاکستان کے ساتھ مکالمے کے حق میں بیان دیا تھا، جسے اب بھارتی عسکری قیادت کے سابق سربراہ کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے۔

  • ‎ضلع بارکھان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن: ‘فتنہ الہندوستان’ کے 7 دہشت گرد ہلاک

    ‎پاک فوج اور فرنٹیئر کونسٹیبلری (FC) بلوچستان کے دستوں نے ضلع بارکھان کے علاقے ‘نوشم’ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ایک منظم سرچ اور کلیئرنس آپریشن کا آغاز کیا۔ اس کارروائی کا بنیادی مقصد بھارت کی پشت پناہی حاصل کرنے والے دہشت گرد گروہ ‘فتنہ الہندوستان’ کے عناصر کا صفایا کرنا اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا تھا۔
    ‎آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کا سامنا دہشت گردوں کے ایک گروہ سے ہوا، جس کے بعد دونوں اطراف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ پاک فوج کے جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ‘فتنہ الہندوستان’ کے 7 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ ہلاک ہونے والے ان دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، گولہ بارود اور تباہ کن دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
    ‎دہشت گردوں کے خلاف اس شدید معرکے میں وطنِ عزیز کے پانچ جانباز سپوتوں نے دشمن کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ شہداء میں پاکپتن سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ میجر توصیف احمد بھٹی، سکھر کے رہائشی 36 سالہ نائیک فدا حسین، سکردو کے 32 سالہ سپاہی ذاکر حسین، خانیوال کے 21 سالہ سپاہی سہیل احمد اور رحیم یار خان کے 24 سالہ سپاہی محمد ایاز شامل ہیں۔ ان جوانوں کی قربانی مادرِ وطن کے دفاع کے لیے پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
    ‎نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ ویژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف یہ مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔ علاقے میں کسی بھی ممکنہ مفرور دہشت گرد کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر سرچ آپریشن تاحال جاری ہے تاکہ غیر ملکی سرپرستی میں کام کرنے والے ان عناصر کا مکمل خاتمہ کر کے ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کیا جا سکے۔

  • جنوبی کوریا بھی آبنائے ہرمز سکیورٹی مشن میں شمولیت پر غور کرنے لگا

    جنوبی کوریا بھی آبنائے ہرمز سکیورٹی مشن میں شمولیت پر غور کرنے لگا

    ‎جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے کے لیے عالمی کوششوں میں مرحلہ وار تعاون پر غور کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی بحری راستوں کی سکیورٹی اہم مسئلہ بن چکی ہے۔
    ‎جنوبی کوریا کے وزیر دفاع آن گیو بیک نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ دو روز قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے ملاقات میں سیول کا مؤقف پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق جنوبی کوریا ایک ذمے دار عالمی رکن کے طور پر مختلف تعاون کے طریقوں کا جائزہ لے رہا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ممکنہ تعاون میں سیاسی حمایت، فوجی اہلکاروں کی محدود تعیناتی، انٹیلی جنس اور معلومات کا تبادلہ، اور فوجی سازوسامان کی فراہمی شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر فوجی شرکت میں بڑے پیمانے پر اضافے سے متعلق کوئی تفصیلی بات چیت نہیں ہوئی۔
    ‎دوسری جانب جنوبی کوریا کے قومی سلامتی کے مشیر وی سنگ لاک نے کہا کہ سیول امریکا کی قیادت میں قائم “میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ” میں شمولیت کے امکان کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد آبنائے ہرمز اور دیگر اہم بحری راستوں میں تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانا ہے۔
    ‎اس سے قبل فرانس، برطانیہ اور آسٹریلیا بھی آبنائے ہرمز میں سکیورٹی مشن میں شامل ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔ عالمی طاقتوں کی بڑھتی دلچسپی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بین الاقوامی تجارت اور توانائی سپلائی کے لیے کتنی اہم ہو چکی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق دنیا کے تیل اور گیس کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرتا ہے، اس لیے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

  • چینی آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا، خلیج عمان میں امریکی ناکہ بندی کے قریب لنگر انداز

    چینی آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا، خلیج عمان میں امریکی ناکہ بندی کے قریب لنگر انداز

    ‎عراقی خام تیل لے جانے والا ایک چینی آئل ٹینکر کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیج عمان پہنچ گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔
    ‎الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل سے لدا چینی جہاز “یوآن ہوا ہو” اس وقت خلیج عمان کے قریب لنگر انداز ہے۔ اطلاعات کے مطابق جس مقام پر جہاز موجود ہے وہاں امریکی بحریہ نے ایرانی جہازوں کی نگرانی اور ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگی صورتحال شروع ہونے کے بعد یہ تیسرا چینی آئل ٹینکر ہے جس کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
    ‎خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صورتحال سے آگاہ ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے خطے میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے عراق اور پاکستان کے ساتھ مخصوص معاہدوں پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کے معاہدوں کے امکانات تلاش کر رہے ہیں تاکہ توانائی کی سپلائی کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا اثر عالمی تیل منڈی اور معیشت پر فوری طور پر پڑتا ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چینی آئل ٹینکر کی محفوظ گزرگاہ اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود عالمی طاقتیں توانائی کی ترسیل جاری رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم امریکی بحری ناکہ بندی اور ایرانی کنٹرول کے باعث صورتحال اب بھی انتہائی حساس ہے۔

  • امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، ایران

    امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، ایران

    ‎ایران نے امریکا کے رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی دھمکی آمیز پالیسی، اشتعال انگیز بیان بازی اور بے ایمانی خطے میں امن قائم ہونے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
    ‎ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ناروے کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی اصل وجہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدوں کی بار بار خلاف ورزیاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں استحکام اور امن چاہتا ہے، تاہم مسلسل دباؤ اور دھمکیوں سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
    ‎عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس اہم اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق نئے ضوابط تیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران عالمی بحری قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے خطے میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔
    ‎دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی مسلح افواج ہر ممکن صورتحال اور کسی بھی منظرنامے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اگر دنیا واقعی “بربریت اور تسلط” کو مسترد کرتی ہے تو اسے ایران کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے۔
    ‎ایرانی حکام کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے امریکا پر تنقید اور دفاعی تیاریوں کے اعلانات خطے میں مزید تناؤ کا اشارہ دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو صورتحال عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی طاقتیں خطے میں بڑھتی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دے رہی ہیں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔

  • آسٹریلیا بھی آبنائے ہرمز کے دفاعی مشن میں شامل، برطانیہ اور فرانس قیادت کریں گے

    آسٹریلیا بھی آبنائے ہرمز کے دفاعی مشن میں شامل، برطانیہ اور فرانس قیادت کریں گے

    ‎آسٹریلیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں قائم کیے جانے والے کثیرالملکی دفاعی مشن میں شامل ہوگا۔ اس اعلان کے بعد خطے میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی بحری سلامتی کے معاملات مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
    ‎غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق آسٹریلوی وزیر دفاع رچرڈ مارلز نے 40 ممالک کے اجلاس کے بعد بتایا کہ آسٹریلیا اس مشن کے لیے اپنا جدید E-7A ویجٹیل نگرانی طیارہ فراہم کرے گا۔ یہ طیارہ پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں متحدہ عرب امارات کو مبینہ ایرانی ڈرون حملوں سے بچانے کے لیے تعینات ہے۔
    ‎رچرڈ مارلز نے کہا کہ آسٹریلیا ایک “آزاد، دفاعی اور کثیرالملکی فوجی مشن” کی حمایت کرے گا جس کی قیادت برطانیہ اور فرانس کریں گے۔ ان کے مطابق اس مشن کا مقصد عالمی بحری تجارت کے اہم راستے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔
    ‎اس سے قبل برطانیہ بھی اعلان کر چکا ہے کہ وہ اس مشن کے لیے جدید خودکار مائن ہنٹنگ آلات، جنگی طیارے اور جنگی بحری جہاز روانہ کرے گا۔ برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے ورچوئل اجلاس کے دوران کہا کہ یہ مشن مناسب حالات میں فعال کیا جائے گا اور اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
    ‎برطانیہ نے اس دفاعی مشن کے لیے 11 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ کی اضافی فنڈنگ بھی مختص کی ہے۔ یہ رقم جدید مائن ہنٹنگ ڈرونز اور کاؤنٹر ڈرون سسٹمز کی خریداری پر خرچ کی جائے گی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق رائل نیوی کا جدید “Beehive” سسٹم بھی اس مشن کا حصہ ہوگا، جو تیز رفتار “Kraken” ڈرون کشتیوں کے ذریعے سمندری خطرات کی نگرانی اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎اس کے علاوہ برطانیہ ٹائفون جنگی طیارے بھی آبنائے ہرمز میں فضائی نگرانی کے لیے تعینات کرے گا جبکہ خصوصی مائن کلیئرنس ماہرین بھی مشن میں شامل ہوں گے۔ رائل نیوی کا جنگی جہاز HMS Dragon پہلے ہی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہو چکا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور اس کے تحفظ کے لیے عالمی طاقتوں کی بڑھتی سرگرمیاں خطے کی کشیدہ صورتحال کو ظاہر کرتی ہیں۔

  • پاکستانی پاسپورٹ کی نئی رینکنگ جاری، شہری کتنے ممالک میں بغیر ویزا جا سکیں گے؟

    پاکستانی پاسپورٹ کی نئی رینکنگ جاری، شہری کتنے ممالک میں بغیر ویزا جا سکیں گے؟

    ‎معروف عالمی ادارے ہینلے اینڈ پارٹنرز کی تازہ پاسپورٹ انڈیکس رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی فہرست میں 100ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ نئی رینکنگ کے بعد پاکستانی شہریوں کی عالمی سفری آزادی اب بھی محدود تصور کی جا رہی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد دنیا کے تقریباً 30 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول سہولت کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ سہولت پاکستانی شہریوں کے لیے کچھ آسانی پیدا کرتی ہے، تاہم پاکستان اب بھی کمزور پاسپورٹس والے ممالک میں شمار ہو رہا ہے۔
    ‎کیریبین اور امریکی خطے میں پاکستانی شہری بارباڈوس، ڈومینیکا، ہیٹی، مونٹسیراٹ، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گرینیڈائنز اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو جیسے ممالک میں ویزا فری یا آن ارائیول سہولت سے سفر کر سکتے ہیں۔
    ‎افریقی ممالک میں کینیا، روانڈا، سینیگال، سیچلز، سیرالیون، مڈغاسکر، موریطانیہ، جبوتی، گیمبیا، کیپ وردے اور گنی بساؤ شامل ہیں جہاں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز کو نسبتاً آسان سفری سہولت دستیاب ہے۔
    ‎ایشیائی خطے میں مالدیپ، نیپال، سری لنکا، کمبوڈیا اور تیمور لیسٹے پاکستانی شہریوں کو ویزا آن ارائیول یا محدود ویزا فری رسائی فراہم کرتے ہیں۔ جبکہ اوشیانا کے ممالک کک آئی لینڈز، مائیکرونیشیا، نیوئی، پلاؤ، ساموا، ٹوالو اور وانواتو بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق سنگاپور ایک بار پھر دنیا کا سب سے طاقتور پاسپورٹ قرار پایا ہے، جس کے شہری 192 ممالک میں بغیر ویزا سفر کر سکتے ہیں۔ جاپان، جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات بھی طاقتور پاسپورٹس کی فہرست میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
    ‎جنوبی ایشیا میں بھارت 78ویں جبکہ بنگلہ دیش 96ویں نمبر پر موجود ہے۔ افغانستان دنیا کا سب سے کمزور پاسپورٹ قرار دیا گیا ہے جو 103ویں نمبر پر ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی کسی ملک کے سفارتی تعلقات، معاشی استحکام اور عالمی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی سفارتی اور اقتصادی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

  • مشتاق احمد خان تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل

    مشتاق احمد خان تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل

    ‎سابق سینیٹر مشتاق احمد خان باضابطہ طور پر اپوزیشن اتحاد “تحریک تحفظ آئین پاکستان” میں شامل ہو گئے ہیں، جبکہ ان کی جماعت پاکستان رائٹس موومنٹ نے بھی اتحاد کا حصہ بننے کا اعلان کر دیا ہے۔
    ‎اس موقع پر اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے مشتاق احمد خان کی شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے آئین، جمہوریت اور پارلیمانی بالادستی کی جدوجہد کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
    ‎ملاقات میں علامہ ناصر عباس، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور حسن رضا سمیت دیگر سیاسی رہنما بھی شریک ہوئے، جہاں ملک کی موجودہ سیاسی اور آئینی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
    ‎رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک میں آئین کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام جمہوری اور آئین پسند قوتوں کو متحد ہونا ہوگا۔
    ‎اجلاس کے دوران قانون کی حکمرانی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔ شرکاء نے اعلان کیا کہ وہ آئین اور جمہوریت کے دفاع کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
    ‎مشتاق احمد خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں آئینی بالادستی اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لیے متحدہ آواز کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر عوام کے حقوق اور آئین کے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں گی۔
    ‎رہنماؤں نے اس موقع پر تمام آئین پسند سیاسی و سماجی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

  • دنیا کی سب سے مہنگی مرغی، قیمت سن کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

    دنیا کی سب سے مہنگی مرغی، قیمت سن کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

    ‎اگر کوئی آپ سے کہے کہ ایک مرغی کی قیمت لاکھوں روپے ہے اور اس کا ایک انڈا بھی ہزاروں میں فروخت ہوتا ہے تو شاید یقین کرنا مشکل ہو، مگر دنیا میں واقعی ایک ایسی نایاب مرغی موجود ہے جس کی قیمت سن کر لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔
    ‎دنیا کی سب سے مہنگی مرغی “ایام سلیمانی” کہلاتی ہے، جو انڈونیشیا کی ایک انتہائی نایاب نسل ہے۔ اس مرغی کی سب سے حیران کن بات اس کا مکمل کالا رنگ ہے۔ اس کے صرف پر ہی نہیں بلکہ گوشت، جلد، چونچ، ہڈیاں اور حتیٰ کہ اندرونی اعضا بھی کالے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے اسے “مرغیوں کی لیمبورگینی” بھی کہا جاتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس مرغی کے مکمل کالے رنگ کی وجہ ایک جینیاتی کیفیت ہے جسے “فائبرومیلا نوسس” کہا جاتا ہے۔ اس خاص جینیاتی تبدیلی کی وجہ سے اس کے جسم میں میلانین کی مقدار عام مرغیوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کا پورا جسم سیاہ دکھائی دیتا ہے۔
    ‎ایام سلیمانی نہ صرف اپنی منفرد شکل بلکہ غذائیت کے باعث بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے گوشت میں عام برائلر چکن کے مقابلے میں زیادہ پروٹین اور کم چکنائی پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھی بھرپور ہوتی ہے، اسی لیے کئی لوگ اسے “سپر فوڈ” قرار دیتے ہیں۔
    ‎بین الاقوامی مارکیٹ میں ایک اعلیٰ نسل کی ایام سلیمانی مرغی کی قیمت 5 ہزار سے 6 ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ جاتی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 14 سے 17 لاکھ روپے بنتی ہے۔ حیران کن طور پر اس کا ایک انڈا بھی 4 سے 5 ہزار پاکستانی روپے میں فروخت ہوتا ہے۔
    ‎انڈونیشیا میں اس مرغی کو صرف ایک نایاب پرندہ ہی نہیں بلکہ روحانی اور مقدس حیثیت بھی دی جاتی ہے۔ بعض علاقوں میں اسے مذہبی اور روایتی رسومات میں استعمال کیا جاتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس نسل کی مرغی کی افزائش انتہائی مشکل ہے اور یہ کم تعداد میں انڈے دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی قیمت آسمان کو چھوتی ہے اور دنیا بھر میں اسے شاہانہ شوق سمجھا جاتا ہے۔

  • ایک سال میں لوڈشیڈنگ ٹرانسفارمر سطح تک محدود کر دیں گے، اویس لغاری

    ایک سال میں لوڈشیڈنگ ٹرانسفارمر سطح تک محدود کر دیں گے، اویس لغاری

    ‎وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے ملک بھر میں لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی کر دی ہے اور آئندہ ایک سال کے دوران بجلی بندش کے نظام کو مزید محدود کرتے ہوئے اسے فیڈرز کے بجائے ٹرانسفارمر کی سطح تک لے جایا جائے گا۔
    ‎قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں موجود 14 ہزار فیڈرز میں سے تقریباً 11 ہزار 500 فیڈرز پر زیرو لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، جبکہ صرف 3 ہزار فیڈرز ایسے ہیں جہاں بجلی کی بندش جاری ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ حکومت بجلی چوری اور نادہندگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اب پورے فیڈر کو بند کرنے کے بجائے صرف ان علاقوں کے ٹرانسفارمر بند کیے جائیں گے جہاں بجلی چوری یا بلوں کی عدم ادائیگی کے مسائل موجود ہیں۔
    ‎وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کا مقصد ایمانداری سے بل ادا کرنے والے صارفین کو ریلیف دینا اور بجلی کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
    ‎اویس لغاری نے آئی پی پیز کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے نئے معاہدوں کے بعد تقریباً 3400 ارب روپے کے مالی معاملات بہتر کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی کے شعبے میں اصلاحات لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔
    ‎انہوں نے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سولر انرجی کی حوصلہ شکنی نہیں کر رہی بلکہ موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے ہی ملک میں ہزاروں میگاواٹ سولر انرجی نصب ہوئی ہے۔
    ‎وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ سولر انرجی کا فروغ ایک مثبت پیش رفت ہے اور اگر کسی پالیسی میں عوام دشمن شق موجود ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے تاکہ اس کا جائزہ لیا جا سکے۔