Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • آئی ایم ایف کا پاکستان سے رئیل اسٹیٹ میں مشکوک لین دین پر سخت نگرانی کا مطالبہ

    آئی ایم ایف کا پاکستان سے رئیل اسٹیٹ میں مشکوک لین دین پر سخت نگرانی کا مطالبہ

    ‎عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مشکوک مالی لین دین اور منی لانڈرنگ کے خدشات پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے نگرانی کا نظام مزید سخت اور مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے خاص طور پر رئیل اسٹیٹ اور دیگر غیر مالیاتی کاروباری و پیشہ ورانہ شعبوں کی جانب سے مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس کی کم تعداد کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ ادارے کو خدشہ ہے کہ پاکستان میں غیر ٹیکس شدہ اور کالے دھن کا بڑا حصہ جائیداد کے کاروبار میں استعمال ہو رہا ہے۔
    ‎آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ “بینفیشل اونرشپ” یعنی حقیقی مالکان کی معلومات کے تبادلے میں موجود خامیوں کو بھی جلد دور کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی نگرانی کے لیے قائم ڈی این ایف بی پی نظام کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔ یہ نظام فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے بنایا گیا تھا تاکہ مشکوک لین دین کی رپورٹس فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو بھجوائی جا سکیں۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور جائیداد کے کاروبار سے وابستہ اداروں پر چھاپے مار کر فروخت اور آمدنی چھپانے کے الزامات کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔ تاہم آئی ایم ایف موجودہ نگرانی کے نظام اور رپورٹنگ کی رفتار سے مطمئن نہیں۔
    ‎مالیاتی ماہرین کے مطابق پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر طویل عرصے سے غیر دستاویزی سرمایہ کاری اور کالے دھن کے استعمال کے حوالے سے زیر بحث رہا ہے۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ مؤثر نگرانی کے بغیر منی لانڈرنگ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں جس سے معیشت اور بینکاری نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
    ‎آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں مالیاتی نگرانی، بینکاری شفافیت اور منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ ماہرین کے مطابق ان سفارشات پر عملدرآمد سے نہ صرف عالمی اعتماد بحال ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی طویل المدتی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

  • مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا بڑا احتجاج، ہڑتال کا عندیہ

    مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا بڑا احتجاج، ہڑتال کا عندیہ

    ‎امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی عوامی احتجاج کرے گی جبکہ ہڑتال اور پہیہ جام ہڑتال کا آپشن بھی زیر غور ہے۔ انہوں نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے۔
    ‎اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کے حساب سے پاکستان میں پیٹرول کی اصل قیمت تقریباً 271 روپے فی لیٹر بنتی ہے، مگر حکومت مختلف لیوی اور ٹیکسز کی مد میں 117 روپے وصول کر رہی ہے، جس کے بعد عوام کو مہنگا پیٹرول خریدنا پڑ رہا ہے۔
    ‎انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر خطے کے دیگر ممالک جیسے بھارت اور بنگلا دیش میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنا اضافہ نہیں ہوا تو پھر پاکستان میں ہی عوام پر اضافی بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگی صورتحال یا عالمی بحران کا اثر صرف پاکستانی عوام پر ڈالنا ناانصافی ہے۔
    ‎حافظ نعیم الرحمان نے بجلی اور گیس کے بلوں میں شامل فکس چارجز کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں عوام سے بجلی کے ٹیکسز کی مد میں 19 کھرب روپے وصول کیے گئے، جس نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
    ‎انہوں نے آئی پی پیز معاہدوں پر بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت صرف چند آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں تبدیلی کر رہی ہے جبکہ باقی معاہدوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران طبقہ اپنے مفادات کے لیے مہنگے معاہدوں کو طول دینا چاہتا ہے۔
    ‎امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ 15 مئی کو اسلام آباد میں مہنگائی کے خلاف بڑا احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دیا تو ملک گیر ہڑتال اور پہیہ جام ہڑتال جیسے آپشنز بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

  • چین نے انسانوں کو لے جانے والا انوکھا روبوٹ متعارف کرا دیا

    چین نے انسانوں کو لے جانے والا انوکھا روبوٹ متعارف کرا دیا

    ‎چین کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی نے ایسا حیرت انگیز روبوٹ متعارف کرا دیا ہے جو کسی سائنس فکشن فلم کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ جدید روبوٹ نہ صرف چل سکتا ہے بلکہ انسان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، جس نے دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
    ‎چینی کمپنی یونی ٹری روبوٹیکس نے “جی ڈی 01” نامی یہ منفرد روبوٹ تیار کیا ہے۔ یہ روبوٹ عام انسان نما مشینوں سے مختلف ہے کیونکہ یہ دو ٹانگوں پر چلنے کے ساتھ ساتھ خود کو چار ٹانگوں والے موڈ میں بھی تبدیل کر سکتا ہے۔ اس منفرد فیچر کی وجہ سے یہ مختلف راستوں اور حالات میں بہتر انداز سے حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎روبوٹ کی ظاہری شکل ہالی وڈ کی مشہور فلم سیریز “ٹرانسفارمرز” کے کرداروں سے ملتی جلتی محسوس ہوتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اسے مستقبل کی ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے تاکہ لوگ آسانی سے اس پر سوار ہو کر سفر کر سکیں۔
    ‎اس جدید روبوٹ کا وزن تقریباً 500 کلو گرام ہے اور اس میں ایک شخص یا پائلٹ کے بیٹھنے کے لیے خاص کاک پٹ بنایا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ روبوٹ نہ صرف انسان کو لے جا سکتا ہے بلکہ اپنے مضبوط بازوؤں کی مدد سے اینٹوں کی دیوار گرانے جیسی طاقتور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
    ‎جی ڈی 01 اپنی ساخت تبدیل کرکے چار ٹانگوں پر تیزی سے دوڑ بھی سکتا ہے، جس سے یہ مشکل راستوں پر بھی مؤثر انداز میں کام کر سکتا ہے۔ کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دنیا کا پہلا ایسا روبوٹ ہے جو انسان کو لے جانے کے ساتھ دو اور چار ٹانگوں کے درمیان تبدیلی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎کمپنی نے اس روبوٹ کی قیمت تقریباً 39 لاکھ یوآن مقرر کی ہے۔ دوسری جانب یونی ٹری روبوٹیکس نے “آر 1” نامی ایک انسان نما روبوٹ بھی متعارف کرایا ہے جس کی قیمت صرف 6 ہزار ڈالر رکھی گئی ہے، جو امریکی اور یورپی کمپنیوں کے مہنگے روبوٹس کے مقابلے میں کافی کم ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسے روبوٹس نقل و حمل، ریسکیو آپریشنز اور صنعتی کاموں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

  • کویت میں پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ تعلق رکھنے والے 4 افراد گرفتار

    کویت میں پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ تعلق رکھنے والے 4 افراد گرفتار

    ‎کویت کی وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ تعلق رکھنے والے چار افراد کو سمندر کے راستے ملک میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔ اس واقعے کے بعد کویت میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حکام معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔
    ‎سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ گرفتار افراد خفیہ طور پر کویت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ سکیورٹی اداروں کو مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع ملی جس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا۔
    ‎وزارت کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس میں کویتی مسلح افواج کا ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔ زخمی اہلکار کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
    ‎کویتی حکام نے گرفتار افراد کی شناخت مکمل طور پر ظاہر نہیں کی تاہم ابتدائی تحقیقات میں ان کے ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے مبینہ روابط سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ سکیورٹی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ افراد کسی مخصوص مشن کے تحت ملک میں داخل ہونا چاہتے تھے یا نہیں۔
    ‎واقعے کے بعد کویت میں ساحلی نگرانی مزید بڑھا دی گئی ہے جبکہ سمندری حدود میں گشت تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور غیر قانونی داخلے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔
    ‎علاقائی کشیدگی کے تناظر میں اس واقعے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ خلیجی ممالک پہلے ہی سکیورٹی خدشات کے باعث حساس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس گرفتاری کے بعد خطے میں سفارتی اور سکیورٹی سطح پر مزید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
    ‎کویتی وزارتِ داخلہ نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ تمام سکیورٹی ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور ملک کے امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • ‎وزیراعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    ‎وزیراعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے آج آذربائیجان کے صدر الہام علییف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات، دوطرفہ تعاون اور برادرانہ روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
    ‎سرکاری ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور صدر الہام علییف نے ایک دوسرے کے لیے نیک خواہشات اور تہنیتی پیغامات کا تبادلہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستی اور قریبی تعلقات کو خطے کے لیے اہم قرار دیا۔
    ‎ٹیلیفونک رابطے میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کی پاکستان کے لیے مسلسل حمایت کو سراہا جبکہ صدر الہام علییف نے بھی دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
    ‎ذرائع کے مطابق گفتگو خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کے رابطے جاری رکھنے پر زور دیا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں مزید مضبوط ہوئے ہیں اور دونوں ممالک عالمی و علاقائی معاملات پر ایک دوسرے کے مؤقف کی حمایت کرتے رہے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس رابطے سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے، جبکہ مستقبل میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

  • صومالی قزاقوں کا تاوان دگنا، پاکستانیوں سمیت عملے کی زندگی خطرے میں

    صومالی قزاقوں کا تاوان دگنا، پاکستانیوں سمیت عملے کی زندگی خطرے میں

    ‎صومالی قزاقوں کی جانب سے اغوا کیے گئے تیل بردار جہاز کے عملے کی رہائی کے لیے تاوان کی رقم میں بڑا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد یرغمال بنائے گئے افراد کے اہلخانہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ جہاز پر پاکستانی شہریوں سمیت مختلف ممالک کے افراد موجود ہیں جن کی زندگیوں کو خطرات لاحق بتائے جا رہے ہیں۔
    ‎عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق صومالی قزاقوں نے تیل بردار جہاز “ایم ٹی یوریکا” پر قبضہ کر رکھا ہے اور اب انہوں نے یرغمال عملے کی رہائی کے لیے تاوان کی رقم بڑھا کر 10 ملین ڈالر کر دی ہے۔ اس سے قبل قزاقوں نے 3 ملین ڈالر کا مطالبہ کیا تھا، تاہم مذاکرات میں تعطل آنے کے بعد رقم میں اچانک اضافہ کر دیا گیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق جہاز پر پاکستان کے 11 شہری بھی موجود ہیں جبکہ 8 مصری ملاح بھی اغوا کاروں کے قبضے میں ہیں۔ مغویوں کے اہلخانہ مسلسل اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے فکرمند ہیں اور حکومتوں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
    ‎اغوا ہونے والے تھرڈ انجینئر محمد راضی عبدالمنعم کے بھائی احمد راضی نے میڈیا کو بتایا کہ چند روز قبل ان کے بھائی کی مختصر فون کال موصول ہوئی تھی جس میں اس نے بتایا کہ جہاز کی مالکانہ کمپنی اور قزاقوں کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے تھے، مگر بعد میں حالات مزید خراب ہو گئے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی نے بتایا کہ جہاز پر موجود افراد شدید خوف اور دباؤ کا شکار ہیں اور ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ اہلخانہ نے مصری اور بین الاقوامی حکام سے اپیل کی ہے کہ فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ یرغمالیوں کو بحفاظت رہا کرایا جا سکے۔
    ‎دوسری جانب مغوی انجینئر کی اہلیہ امیرہ محمد نے کہا کہ کمپنی کی جانب سے تاوان ادا نہ کرنے کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اغوا کار پہلے مختصر فون کالز کی اجازت دیتے تھے لیکن مذاکرات رکنے کے بعد رابطے بھی محدود ہو گئے ہیں۔
    ‎مصری وزارت خارجہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے موغادیشو میں مصری سفارت خانے کو ہدایت جاری کی ہے کہ مغوی ملاحوں کی حفاظت اور جلد رہائی کے لیے صومالی حکام سے مسلسل رابطہ رکھا جائے۔

  • ٹرمپ کا ایک بار پھر ایران کے 159 بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ

    ٹرمپ کا ایک بار پھر ایران کے 159 بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے 159 بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں ایران، سابق امریکی صدور اور کیوبا سے متعلق بھی سخت بیانات دیے۔
    ‎غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر تقابلی تصاویر شیئر کیں جن میں مختلف ادوار میں ایرانی بحری سرگرمیوں کو دکھایا گیا۔ تصاویر میں سابق امریکی صدور باراک اوباما اور جو بائیڈن کے دور کا بھی ذکر کیا گیا، جہاں ایرانی بحری جہاز سمندر میں متحرک دکھائے گئے۔
    ‎ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی پالیسیوں کے باعث ایران کو شدید نقصان پہنچا اور بڑی تعداد میں اس کے بحری جہاز تباہ ہوئے۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات یا شواہد پیش نہیں کیے۔
    ‎اپنی پوسٹ میں امریکی صدر نے سابق صدور اوباما اور بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے ادوار میں ایران کو کھلی چھوٹ ملی، جبکہ ان کی حکومت نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔
    ‎ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا سے متعلق بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ “کسی ریپبلکن نے کبھی مجھ سے کیوبا کے بارے میں بات نہیں کی کیونکہ کیوبا ایک ناکام ملک ہے جو صرف ایک سمت میں جا رہا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ کیوبا اب مدد مانگ رہا ہے اور امریکہ اس معاملے پر بات چیت کرے گا۔
    ‎امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ وہ جلد چین کے دورے پر روانہ ہوں گے، تاہم انہوں نے اس دورے کی تفصیلات واضح نہیں کیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں ایران سے متعلق کشیدگی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
    ‎دوسری جانب سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے دعوؤں پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقے ان بیانات کو سیاسی مہم کا حصہ قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ تجزیہ کار ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ان بیانات کو اہم قرار دے رہے ہیں۔

  • ایران جنگ کے اثرات، امریکا میں مہنگائی 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    ایران جنگ کے اثرات، امریکا میں مہنگائی 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    ‎ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے اثرات اب امریکی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ امریکا میں مہنگائی کی شرح گزشتہ تین برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ پیٹرول اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے عوام اور معیشت دونوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
    ‎امریکی محکمہ محنت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں ختم ہونے والے سال کے دوران کنزیومر پرائس انڈیکس یعنی سی پی آئی کی شرح 3.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس سے قبل مارچ میں یہ شرح 3.3 فیصد جبکہ فروری میں 2.4 فیصد تھی۔ ماہرین کے مطابق مہنگائی میں اس تیزی سے اضافے کی بڑی وجہ توانائی کے شعبے میں بڑھتی قیمتیں ہیں۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف اپریل کے مہینے میں مہنگائی میں ماہانہ بنیاد پر 0.6 فیصد اضافہ ہوا، جس میں سب سے زیادہ کردار پیٹرول اور دیگر توانائی مصنوعات کی مہنگی قیمتوں نے ادا کیا۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں گزشتہ ماہ پیٹرول کی قیمتوں میں 5.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ایک سال کے دوران پیٹرول تقریباً 30 فیصد مہنگا ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔
    ‎معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات عالمی مارکیٹ میں بے چینی پیدا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا سمیت کئی ممالک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق ستمبر 2023 کے بعد یہ مہنگائی میں سالانہ بنیاد پر سب سے بڑا اضافہ ہے۔ امریکی عوام پہلے ہی بڑھتے اخراجات اور بلند شرح سود کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ اب پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران سے متعلق تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تیل مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس کے اثرات براہ راست امریکی اور عالمی معیشت پر پڑیں گے۔

  • نواب ٹاؤن میں کروڑوں کی ڈکیتی، چور زیورات اور نقدی لے کر فرار

    نواب ٹاؤن میں کروڑوں کی ڈکیتی، چور زیورات اور نقدی لے کر فرار

    ‎لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں چوری کی ایک بڑی واردات نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ نامعلوم چور ایک گھر سے کروڑوں روپے مالیت کے زیورات اور نقدی چوری کرکے فرار ہوگئے، جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
    ‎پولیس کے مطابق واردات اس وقت پیش آئی جب گھر کے افراد کسی کام کے سلسلے میں باہر گئے ہوئے تھے۔ چوروں نے اہلخانہ کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھایا اور بالائی منزل کے دروازے کا شیشہ توڑ کر گھر میں داخل ہوئے۔ ملزمان نے گھر کے مختلف کمروں کی تلاشی لی اور قیمتی سامان سمیٹ کر باآسانی فرار ہو گئے۔
    ‎ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ چور تقریباً 4 کروڑ روپے مالیت کے زیورات اور 3 لاکھ روپے نقدی ساتھ لے گئے۔ چوری ہونے والے زیورات میں 80 تولہ سونا شامل ہے، جبکہ 30 طلائی انگوٹھیاں، 4 قیمتی طلائی سیٹ اور ایک ڈائمنڈ سیٹ بھی واردات میں چوری کیا گیا۔
    ‎واقعے کے بعد پولیس اور فرانزک ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ تفتیشی حکام نے گھر سے فنگر پرنٹس اور دیگر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں تاکہ ملزمان تک جلد رسائی حاصل کی جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور قریبی علاقوں کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔
    ‎علاقہ مکینوں نے شہر میں بڑھتی ہوئی چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
    ‎پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور شواہد کی مدد سے ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نے گھروں کی سکیورٹی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

  • گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    ‎پاکستان میں مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا، روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
    ‎تفصیلات کے مطابق پیداواری لاگت، درآمدی اخراجات اور مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث گھی اور کوکنگ آئل مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ نئی قیمتوں کے مطابق گھی کی فی کلو قیمت میں 3 روپے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد یہ 598 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جبکہ کوکنگ آئل 618 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔
    ‎مارکیٹ ذرائع کے مطابق اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ ضروریات پوری کرنا اب انتہائی مشکل ہو چکا ہے اور گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب آٹے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے 10 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 10 سے 20 روپے تک اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد مختلف علاقوں میں آٹا مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح اچھی کوالٹی کے چاول بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
    ‎ماہرین معاشیات کے مطابق خوراک کی بڑھتی قیمتیں مہنگائی کی مجموعی شرح میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں، جبکہ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم ہو۔
    ‎عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کا یہی سلسلہ جاری رہا تو عام شہری کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہو جائے گا۔ لوگوں نے حکومت سے سبسڈی اور قیمتوں کی نگرانی کا مؤثر نظام متعارف کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔