پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے آغاز کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تین ٹیلی کام آپریٹرز کو فائیو جی اسپیکٹرم کے لائسنس جاری کر دیے گئے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس اقدام کو جدید دور کا ایک بڑا سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی شفاف طریقے سے مکمل کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا فروغ صنعت، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں ترقی کے نئے دروازے کھولے گا، جبکہ حکومت کا ہدف ہے کہ ملک کے دور دراز علاقوں، دیہاتوں اور شہروں تک جدید سہولیات پہنچائی جائیں۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ فائیو جی کے حوالے سے درپیش قانونی چیلنجز کو کامیابی سے حل کیا گیا اور اس میں متعلقہ اداروں نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس حوالے سے ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اس منصوبے کو قانونی رکاوٹوں کا سامنا تھا، جسے اب مؤثر انداز میں دور کر لیا گیا ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana

پاکستان میں فائیو جی کا آغاز، تین ٹیلی کام کمپنیوں کو اسپیکٹرم لائسنس جاری

چین کا پاکستان افغانستان جنگ بندی کا خیرمقدم، مذاکرات پر زور
چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی سے گریز کریں اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کریں تاکہ مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہی خطے کے امن اور استحکام کی ضمانت ہے، اور چین سمیت دیگر دوست ممالک اس حوالے سے ثالثی کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان نے عیدالفطر کے موقع پر جاری کشیدگی میں عارضی وقفے کا اعلان کیا ہے، جو چند روز تک نافذ العمل رہے گا۔ اس فیصلے کو خطے میں امن کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں عارضی وقفے کی تصدیق کی ہے، جسے عیدالفطر کے موقع سے منسلک کیا گیا ہے۔
ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب نہیں تھا، سابق امریکی عہدیدار کا دعویٰ
واشنگٹن میں امریکی انسداد دہشتگردی مرکز کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے کہا ہے کہ حالیہ کشیدگی سے پہلے بھی ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب نہیں تھا۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایٹمی پروگرام کو کم شدت کی طرف لے جا رہے تھے۔ ان کے مطابق ایران میں 2004 سے ایک مذہبی فتویٰ بھی موجود ہے جو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکتا ہے، اور اس کے خلاف کوئی ٹھوس انٹیلیجنس شواہد سامنے نہیں آئے۔
جو کینٹ نے مزید کہا کہ جون میں جب امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تب بھی ایران ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے قریب نہیں تھا۔
انہوں نے امریکی داخلی مباحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی چارلی کرک نے بھی ایران کے ساتھ فوجی تصادم سے گریز کرنے پر زور دیا تھا۔ ان کے مطابق جن شخصیات کو حملوں میں نشانہ بنایا گیا، ان میں علی لاریجانی جیسے سنجیدہ مذاکرات کار شامل تھے جو کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہاں تھے۔
ایران میں کریک ڈاؤن: اسرائیل سے مبینہ روابط پر 97 افراد گرفتار
ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس نے اسرائیل کے لیے مبینہ طور پر کام کرنے کے الزام میں 97 افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ گرفتاریاں ایک وسیع سکیورٹی کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں، جس کے تحت جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیل اور امریکا سے مبینہ روابط کے شبے میں سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد اندرونی سکیورٹی کو مضبوط بنانا اور بیرونی اثر و رسوخ کو روکنا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔
اس سے قبل بھی صوبہ البرز میں درجنوں افراد کو غیر ملکی اپوزیشن میڈیا کو ویڈیوز فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جسے حکام نے قومی سلامتی کے خلاف اقدام قرار دیا۔
ایران کی سخت وارننگ: توانائی تنصیبات پر حملے کا بھرپور جواب جاری
ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کی جارحانہ اور دفاعی کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا دشمن کی سنگین غلطی ہے، جس کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے حملے دوبارہ کیے گئے تو ایران نہ صرف جواب دے گا بلکہ دشمن اور اس کے اتحادیوں کی توانائی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ایران اپنی دفاعی حکمت عملی پر مکمل عمل کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا سختی سے مقابلہ کرے گا۔
ایران جنگ کے تناظر میں ٹرمپ کا 200 ارب ڈالر دفاعی بجٹ بڑھانے کا عندیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پینٹاگون کے لیے 200 ارب ڈالر تک اضافی فنڈنگ طلب کر سکتے ہیں، جسے انہوں نے فوجی تیاری کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ضروری قدم قرار دیا۔
اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنی فوج کو بہترین حالت میں رکھنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے بڑے وسائل مختص کرنا ایک معمولی قیمت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فنڈنگ صرف ایران سے متعلق صورتحال تک محدود نہیں ہوگی بلکہ دیگر دفاعی ضروریات بھی اس میں شامل ہوں گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ امریکی فوج کے پاس وافر مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود موجود ہو، تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ امریکہ کو ہتھیاروں کی کمی کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت دفاعی اخراجات میں احتیاط برت رہی ہے اور موجودہ وسائل کو محفوظ رکھتے ہوئے مستقبل کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
سعودی عرب میں امریکی شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت
سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے ملک میں موجود امریکی شہریوں کو فوری طور پر سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری کمرشل پروازوں کے ذریعے جلد از جلد ملک سے روانہ ہو جائیں، کیونکہ سعودی فضائی حدود میں میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بیان کے مطابق ریاض، جدہ اور دمام کے ائیرپورٹس بدستور فعال ہیں اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقامی وارننگ سسٹم اور حکومتی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔
امریکی حکام نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہا جا سکے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج نہیں بھیجی جا رہی: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی دستے تعینات نہیں کر رہے۔
اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کہیں بھی فوج نہیں بھیج رہے، اور اگر ایسا کوئی فیصلہ ہوتا بھی تو وہ اس کا اعلان نہ کرتے، تاہم فی الحال ایسی کوئی تعیناتی زیر غور نہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بھی کہا کہ اس وقت زمینی افواج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم تمام آپشنز کھلے رکھے گئے ہیں۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ ایک میرین ایکسپڈیشنری یونٹ کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا امریکہ مستقبل میں زمینی فوج بھیجے گا یا نہیں۔
یورپی ممالک اور جاپان کی ایران پر شدید تنقید، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ
متعدد یورپی ممالک اور جاپان نے مشترکہ بیان میں خلیج میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش پر ایران کی شدید مذمت کی ہے۔
بیان میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز اور جاپان کے رہنماؤں نے کہا کہ غیر مسلح تجارتی جہازوں، تیل و گیس تنصیبات اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی عملی بندش نے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کو متاثر کر دیا ہے، جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رہنماؤں نے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر دھمکیوں، بارودی سرنگوں کی تنصیب، ڈرون اور میزائل حملوں اور بحری راستے کی بندش جیسے اقدامات بند کرے۔
مشترکہ بیان میں تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ شہری تنصیبات، خصوصاً تیل و گیس کے انفراسٹرکچر پر حملوں کو فوری طور پر روکنے کے لیے جامع اقدامات کریں۔
ممالک نے یہ بھی کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں، جبکہ توانائی کی عالمی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ مل کر پیداوار بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ایندھن بچاؤ پالیسی پر اہم اجلاس، حکومت کا کفایت شعاری پر زور
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات پر اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملکی ذخائر، کھپت اور پیٹرولیم کارگوز سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے اور آئندہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزید انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ وزیراعظم کی بروقت ہدایات کے باعث ایندھن کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں مدد ملی ہے۔
شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں غیر مستحکم صورتحال کے باعث ایندھن کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مزید بچت اقدامات ناگزیر ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبوں کے ساتھ مل کر ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
اجلاس میں کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ وزیراعظم نے کہا کہ ان پالیسیوں کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے اشرافیہ پر زور دیا کہ وہ مثال قائم کرتے ہوئے بچت کو فروغ دیں۔
حکومت نے عوام سے اپیل کی کہ پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں احتیاط برتیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کار پولنگ کو فروغ دیں تاکہ ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں اور پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے۔
اجلاس میں اعلیٰ سول و عسکری قیادت اور وفاقی وزرا نے شرکت کی اور بدلتی صورتحال کے مطابق حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔









