مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "بلاول برخوردار، میری بات کا برا نہیں ماننا، نوک جھوک ہونی چاہیے، مار کٹائی نہیں۔ اس کو کشمور نہیں سمجھنا، یہ کشمیر ہے اور یہ میرپور ہے، میرپور خاص نہیں۔”
نواز شریف نے کہا کہ کشمیر سے ان کا رشتہ ہمیشہ مضبوط رہا ہے اور وہ آزاد کشمیر کو اپنا دوسرا نہیں بلکہ پہلا گھر سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرپور ایک خوبصورت شہر ہے، تاہم آج اس کی حالت اتنی بہتر نہیں جتنی ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے اقتدار کے بعد آزاد کشمیر میں ترقیاتی کاموں کی رفتار سست پڑ گئی۔
سابق وزیراعظم نے سوال اٹھایا کہ ان کے بعد آنے والی حکومتوں نے آزاد کشمیر کے لیے کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کے علاوہ کسی جماعت نے آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے نمایاں کام کیا ہو تو بتایا جائے۔ ان کے بقول پاکستان اور آزاد کشمیر میں ہونے والے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر مسلم لیگ (ن) کی مہر ثبت ہے۔
انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کو حکومت بنانے کا موقع ملا تو آزاد کشمیر میں موٹرویز اور ایکسپریس ویز تعمیر کی جائیں گی، مری سے مظفرآباد تک جدید شاہراہ بنائی جائے گی، جبکہ میرپور کے ہر گھر تک گیس کی سہولت پہنچائی جائے گی۔ نواز شریف نے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف سے میرپور میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قیام کی بھی سفارش کریں گے۔
نواز شریف نے تعلیم اور صحت کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں کینسر اور دل کے امراض کے جدید اسپتال قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز میرپور کے لیے جدید الیکٹرک بسیں اور 10 موبائل اسپتال فراہم کر رہی ہیں تاکہ عوام کو بہتر سفری اور طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کیا تو وہ خود آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں کا دورہ کریں گے اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کریں گے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

"نوک جھوک ہونی چاہیے، مار کٹائی نہیں”نواز شریف کا بلاول بھٹو کو پیغام
-

بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے واچ ٹاور کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، پاسداران انقلاب
ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2” کی 27ویں لہر کے دوران کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق کویت میں واقع امریکی فوجی اڈے "العدیری” پر گولہ بارود اور عسکری سازوسامان ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے تین مقامات پر حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں وہاں آگ بھڑک اٹھی۔
پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ ان حملوں کا مقصد امریکی فوجی صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا تھا۔ دعوے کے مطابق العدیری فوجی اڈے پر موجود گوداموں میں دھماکوں کے بعد آگ لگ گئی، جس سے وہاں موجود عسکری سامان کو نقصان پہنچا۔
آئی آر جی سی نے مزید دعویٰ کیا کہ بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر کے واچ ٹاور کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اس تنصیب کو نقصان پہنچا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی امریکی حکام یا بحرینی حکومت کی جانب سے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔
بیان میں ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ یہ کارروائیاں امریکی اہداف کے خلاف جاری دفاعی آپریشنز کا حصہ ہیں۔ آئی آر جی سی نے ایرانی عوام کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایسی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
دوسری جانب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ان دعوؤں کی تصدیق ہوتی ہے تو اس سے مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری مسلسل فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی ذرائع سے تنازع کے حل پر زور دے رہی ہے۔ -

کراچی کے اسپتال میں مزید 15 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص، والدین میں تشویش
کراچی میں بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز نے والدین اور طبی ماہرین میں تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ ولیکا اسپتال کے بعد اب سوشل سیکیورٹی اسپتال لانڈھی میں بھی چار ماہ سے آٹھ سال تک کی عمر کے 15 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد شہر میں اس بیماری کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ بچوں کی عمریں چار ماہ سے آٹھ سال کے درمیان ہیں اور ان کی تشخیص مختلف طبی معائنے کے دوران ہوئی۔ ان کیسز کے سامنے آنے کے بعد والدین نے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے علاج کے لیے درکار ادویات ان کی مالی استطاعت سے باہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری مدد فراہم کریں تاکہ بچوں کا علاج بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
متاثرہ خاندانوں نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ اسپتال انتظامیہ اس معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے باعث اصل صورتحال سامنے نہیں آ رہی۔ ان کے مطابق مزید بچوں میں بھی ایچ آئی وی کی موجودگی کا خدشہ ہے، اس لیے تمام ممکنہ متاثرہ مریضوں کی فوری اسکریننگ اور جامع تحقیقات کی جائیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کے ایسے کیسز سامنے آنے کے بعد ضروری ہے کہ انفیکشن کے ممکنہ ذرائع کا تعین کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے طبی ریکارڈ، خون کی منتقلی، استعمال ہونے والے آلات اور دیگر طبی طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لینا ناگزیر ہے تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
والدین نے حکومت سندھ، محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ بچوں کو مفت علاج، ادویات اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ -

دفتر خارجہ اور کامسٹیک کے اشتراک سے سائنس کمیونیکیشن اینڈ ڈپلومیسی جرنل کا پہلا شمارہ 2026 جاری
پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلامی تعاون تنظیم کے ذیلی ادارے کامسٹیک (COMSTECH) کے اشتراک سے جرنل آف سائنس کمیونیکیشن اینڈ ڈپلومیسی کا سال 2026 کا پہلا شمارہ جاری کر دیا۔ اس موقع پر جرنل کی اشاعت کے دو سال مکمل ہونے کی تقریب بھی منعقد کی گئی، جس میں سفارت کاروں، سائنس دانوں، ماہرین تعلیم اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ نے کہا کہ موجودہ عالمی چیلنجز کا مقابلہ صرف اجتماعی تعاون سے ممکن ہے اور سائنس ڈپلومیسی، سائنس اور خارجہ پالیسی کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے درمیان سائنسی تعاون کو مزید فروغ دینے اور ترقی پذیر ممالک کی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی عالمی حکمرانی میں مؤثر شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔
کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ کامسٹیک مسلم دنیا کی سائنسی صلاحیتوں کو یکجا کرنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ جرنل سائنس، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعلقات کے سنگم پر تحقیق اور پالیسی سے متعلق مباحث کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
جرنل کے 2026 کے پہلے شمارے میں مجموعی طور پر 11 تحقیقی مضامین شامل کیے گئے ہیں، جن میں سے 7 مضامین وزارت خارجہ کے سفارت کاروں نے تحریر کیے ہیں۔ ادارتی بورڈ، جس کی سربراہی ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کر رہے ہیں، نے تمام مصنفین کو مبارکباد دیتے ہوئے وزارت خارجہ اور کامسٹیک کی ٹیموں کی مسلسل کاوشوں کو سراہا۔
وزارت خارجہ کی جانب سے اس شمارے میں مضامین لکھنے والوں میں سفیر آمنہ بلوچ، سفیر ظہور احمد، شکیب رفیق، حشام احمد، عمیر خالد، محمد عدیل، حسن عباس اور صدام شاہ شامل ہیں۔ -

لاہور میں بیسمنٹ میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر ایک شخص جاں بحق
لاہور کے علاقے ڈیفنس میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں گھر کے بیسمنٹ میں جمع ہونے والے بارش کے پانی میں ڈوب کر ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔ پولیس کے مطابق متوفی کی لاش کو قانونی کارروائی کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یہ حادثہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پنجاب بھر میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر کر رکھے ہیں۔ مختلف شہروں میں مسلسل بارش کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں اور متعدد مقامات پر شہریوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق رواں مون سون سیزن کے دوران بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں اب تک صوبے بھر میں 21 افراد جاں بحق جبکہ 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہلاکتوں کی بڑی وجوہات میں مکانات کی چھتیں گرنا، کرنٹ لگنا، دیواریں منہدم ہونا اور بارش کے پانی میں ڈوبنے جیسے واقعات شامل ہیں۔
لاہور میں حالیہ بارش کے دوران کئی گھنٹوں تک موسلا دھار بارش جاری رہی، جس کے نتیجے میں شہر کے متعدد علاقے زیرِ آب آ گئے۔ کئی سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی جبکہ شہریوں کو روزمرہ کے کاموں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ مون سون کے دوران غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، بارش کے پانی سے بھرے علاقوں، بیسمنٹس اور نشیبی مقامات سے دور رہیں اور خستہ حال عمارتوں میں رہائش اختیار نہ کریں۔ ادارے نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ -

اورنگی ٹاؤن میں خاتون سے نازیبا حرکت، سی سی ٹی وی منظر عام پر، ملزم کی تلاش شروع
کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں گلی سے گزرنے والی خاتون کے ساتھ موٹر سائیکل سوار ایک نوجوان کی جانب سے نازیبا حرکت کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے گیارہ، چشتی نگر میں شاہد پکوان کے سامنے واقع گلی میں 17 جولائی کو پیش آیا۔ واقعے کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون گلی سے گزر رہی ہوتی ہے، اسی دوران موٹر سائیکل پر سوار ایک نوجوان اس پر نظر پڑتے ہی اپنی موٹر سائیکل واپس موڑتا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق ملزم خاتون کے قریب پہنچ کر چلتی موٹر سائیکل پر اس کے ساتھ نازیبا حرکت کرتا ہے اور فوری طور پر موقع سے فرار ہو جاتا ہے۔ اچانک پیش آنے والے اس واقعے پر متاثرہ خاتون گھبرا کر فوری طور پر گلی سے باہر نکل جاتی ہے۔
فوٹیج میں ملزم کا چہرہ واضح طور پر نظر آ رہا ہے، جس کی مدد سے اس کی شناخت ممکن بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد پولیس نے شواہد اکٹھے کرتے ہوئے ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور جلد اسے گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس ملزم سے متعلق معلومات ہوں تو فوری طور پر پولیس سے رابطہ کریں۔
شہری اور سماجی حلقوں نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ -

ٹانک میں مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملہ، 12 دہشت گرد ہلاک، 15 اہلکار شہید
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے حملہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق دہشت گردوں نے چیک پوسٹ کی سیکیورٹی توڑنے کی کوشش کی، تاہم وہاں موجود سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے فوری، مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ کارروائی کے دوران فرار ہونے کی کوشش کرنے والے 12 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے میں ناکامی کے بعد دہشت گردوں نے بارود سے بھری ایک گاڑی چیک پوسٹ کی حفاظتی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں شدید دھماکہ ہوا اور چیک پوسٹ کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا۔
اس حملے میں وطن کے 15 بہادر سپوت شہید ہوئے، جن میں پاک فوج کے 12 جوان، دو پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری اہلکار شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر نے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
فوج کے مطابق علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ وہاں موجود کسی بھی دوسرے دہشت گرد کا خاتمہ کیا جا سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ قومی ایکشن پلان کے تحت عزمِ استحکام وژن کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی۔
آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ شہداء کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ -

ہولی فیملی اسپتال میں 23 روزہ نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، مقدمہ درج
راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال میں زیر علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹ جانے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد بچی کے والد کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ واقعے نے اسپتال میں طبی دیکھ بھال اور مریضوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود، جو ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے اعتبار سے کارپینٹر ہیں، نے بتایا کہ ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی اسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے وہ اسپتال کی نرسری میں زیر علاج تھی۔ ان کے مطابق جب وہ اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے اسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔
والد کا کہنا ہے کہ انہوں نے فوری طور پر ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر سے اس بارے میں استفسار کیا، جس پر انہیں بتایا گیا کہ نرس سے غلطی کے باعث بچی کا انگوٹھا کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول اسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی، لیکن نہ واقعے کی مکمل وضاحت کی گئی اور نہ ہی فوری طور پر کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
قیصر محمود نے انصاف کے حصول کے لیے پولیس سے رجوع کیا، جس کے بعد تھانہ نیوٹاؤن میں ان کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 334 کے تحت درج کیا گیا ہے، جو انسانی اعضا کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہے۔ مقدمے میں اسپتال کی نرس نیلم صدیق کو نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں اور قانون کے مطابق مزید کارروائی جاری ہے۔ دوسری جانب ہولی فیملی اسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
یہ واقعہ صحت کے شعبے میں مریضوں، خصوصاً نومولود بچوں کی حفاظت اور طبی عملے کی ذمہ داریوں کے حوالے سے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ -

پینٹاگون کی ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقی و تعلیمی اداروں پر پابندیاں
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ایران، روس اور چین سے تعلق رکھنے والے 130 تحقیقی اور تعلیمی اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام حساس دفاعی ٹیکنالوجی اور تحقیق کے غیر مجاز تبادلے کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں شامل اداروں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کی سرگرمیاں امریکی قومی سلامتی اور حساس ٹیکنالوجی کے تحفظ کے حوالے سے تشویش کا باعث ہیں۔ اسی بنیاد پر ان اداروں کو امریکی قوانین کے تحت خصوصی نگرانی اور پابندیوں کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق ان پابندیوں کا بنیادی مقصد دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور حساس معلومات کی غیر مجاز یا غیر مطلوبہ منتقلی کو روکنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے امریکی دفاعی مفادات اور قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق فہرست میں شامل اداروں کے ساتھ دفاعی تعاون، تحقیقاتی شراکت داری، فنڈنگ اور حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی پر امریکی قوانین کے مطابق مخصوص پابندیاں نافذ ہوں گی۔ ان اقدامات کے تحت امریکی اداروں اور کمپنیوں کو ان تنظیموں کے ساتھ بعض معاملات میں اضافی قانونی تقاضوں اور نگرانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور چین، روس اور ایران کے درمیان ٹیکنالوجی، سلامتی اور جغرافیائی سیاسی معاملات پر کشیدگی برقرار ہے۔ واشنگٹن مسلسل حساس ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، دفاعی تحقیق اور جدید سائنسی شعبوں میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے مختلف حفاظتی اقدامات کر رہا ہے۔ -

پنجاب میں 4 روزہ مون سون بارشوں کی رپورٹ جاری، لاہور میں 383 ملی میٹر ریکارڈ
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے گزشتہ چار روز کے دوران ہونے والی مون سون بارشوں کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق لاہور سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کرنے والا شہر رہا جہاں مجموعی طور پر 383 ملی میٹر بارش ہوئی۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق گوجرانوالہ میں 328 ملی میٹر، سیالکوٹ میں 321 ملی میٹر، نارووال میں 270 ملی میٹر، مری میں 211 ملی میٹر، منڈی بہاؤالدین میں 177 ملی میٹر، گجرات میں 144 ملی میٹر اور جہلم میں 115 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حافظ آباد میں 108 ملی میٹر، منگلا میں 102 ملی میٹر، چکوال میں 96 ملی میٹر، شیخوپورہ میں 85 ملی میٹر، اوکاڑہ میں 72 ملی میٹر، جھنگ میں 66 ملی میٹر، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 57 ملی میٹر، اٹک میں 56 ملی میٹر، قصور میں 52 ملی میٹر، راولپنڈی میں 47 ملی میٹر، لیہ میں 35 ملی میٹر اور ساہیوال میں 34 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ فیصل آباد، سرگودھا، ڈیرہ غازی خان، خانیوال، بہاولنگر اور بھکر میں بھی مختلف مقامات پر بارش ہوئی۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر دریاؤں، ڈیموں اور بیراجوں کی مسلسل نگرانی جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور ہنگامی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ مون سون بارشوں کے دوران شدید متاثرہ علاقوں میں ریکارڈ وقت میں نکاسی آب کا عمل مکمل کیا گیا۔ پنجاب کے 41 اضلاع میں واسا کے نظام، ایک ہزار سے زائد مشینری اور فیلڈ عملے کی موجودگی کے باعث ہفتوں میں مکمل ہونے والا کام چند گھنٹوں میں انجام دیا گیا، جس سے شہریوں کو کافی حد تک ریلیف ملا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون سیزن کے دوران تمام متعلقہ اضلاع کی صورتحال پر سیف سٹی کیمروں اور کنٹرول رومز کے ذریعے مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہر ممکن ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رکھا گیا ہے۔