Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • ‎بھارت میں طلبہ احتجاج میں شدت، نصیرالدین شاہ بھی مظاہرین کے حق میں بول پڑے

    ‎بھارت میں طلبہ احتجاج میں شدت، نصیرالدین شاہ بھی مظاہرین کے حق میں بول پڑے

    ‎بھارت میں طلبہ کے احتجاجی مظاہروں میں شدت آ گئی ہے، جہاں دارالحکومت نئی دہلی سمیت مختلف علاقوں میں طلبہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مسلسل سڑکوں پر موجود ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ حکام نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق نئی دہلی میں احتجاج کے دوران پولیس اور طلبہ کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی، جس کے بعد متعدد طلبہ کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ طلبہ تنظیموں نے ان مقدمات کو اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن قرار دیا ہے۔
    ‎احتجاجی طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے اب تک اس معاملے پر مختلف بیانات سامنے آئے ہیں، تاہم احتجاجی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں۔
    ‎معروف بھارتی اداکار نصیرالدین شاہ نے بھی طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کے ردعمل پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے نوجوانوں کے مؤقف کو سننا چاہیے اور جمہوری معاشروں میں پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
    ‎نصیرالدین شاہ نے مظاہرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے اختیار کیے جانے والے بعض اقدامات جمہوری اقدار سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر بحث تیز ہو گئی ہے، جہاں مختلف حلقے ان کی رائے کی حمایت اور مخالفت میں اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
    ‎ادھر طلبہ تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا، جبکہ حکام کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ صورتحال پر ملکی اور بین الاقوامی حلقے بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

  • ‎امریکی حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، ایران کا مؤقف

    ‎امریکی حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، ایران کا مؤقف

    ‎ایران نے اپنے پرامن جوہری پروگرام سے متعلق امریکی حملوں اور دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قوانین اور عالمی جوہری اداروں کی متعلقہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق امریکا کی حالیہ کارروائیاں ایران کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کو روکنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
    ‎ایرانی بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کی تمام جوہری سرگرمیاں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ کیے گئے حفاظتی معاہدوں کے مطابق مکمل طور پر ظاہر کی گئی ہیں اور ان سے متعلق تمام ضروری معلومات ادارے کو فراہم کی جاتی رہی ہیں۔
    ‎ایران کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے کولنگ کوہ (Kolang Kouh) کے مقام کو نشانہ بنانے یا اس پر توجہ مرکوز کرنے کی کوئی حقیقت نہیں، کیونکہ ایرانی مؤقف کے مطابق وہاں کوئی جوہری سرگرمی موجود نہیں۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ اس مقام کو بنیاد بنا کر ایران کے خلاف جارحیت، تخریب کاری اور دباؤ کے لیے ایک مصنوعی جواز پیدا کیا جا رہا ہے۔
    ‎ایرانی حکام نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں عالمی اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنی چاہئیں۔ بیان میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل، جو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار بھی ہیں، اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔
    ‎ایران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملکی خودمختاری، قومی سلامتی اور سائنسی ترقی کے تحفظ کے لیے ایرانی عوام متحد ہیں اور کسی بھی بیرونی جارحیت یا خلاف ورزی کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ مذکورہ بیان ایران کا سرکاری مؤقف ہے۔ امریکا اور دیگر متعلقہ فریقین ایران کے جوہری پروگرام اور حالیہ کشیدگی کے حوالے سے مختلف مؤقف رکھتے ہیں، جبکہ ان معاملات پر بین الاقوامی سطح پر سفارتی رابطے اور بحث جاری ہے۔

  • ‎کراچی میں افغان شہریوں کے جعلی کاغذات بنانے کا معاملہ، نادرا کے 2 افسران سمیت 4 افراد گرفتار

    ‎کراچی میں افغان شہریوں کے جعلی کاغذات بنانے کا معاملہ، نادرا کے 2 افسران سمیت 4 افراد گرفتار

    ‎وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے کراچی میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی اور سرکاری دستاویزات تیار کرنے والے ایک منظم نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے نادرا کے دو افسران سمیت چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے افغان شہریوں کے لیے جعلی دستاویزات تیار کرنے میں ملوث تھے۔
    ‎ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاعات اور ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر کی گئی، جس کے دوران چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار افراد سے تفتیش کا عمل جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ ارکان اور سہولت کاروں کا بھی سراغ لگایا جا سکے۔
    ‎ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نادرا کا ایک چوکیدار اور ایک نجی شخص بھی گرفتار کیا گیا ہے، جن پر مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کی تیاری اور فراہمی میں معاونت کا الزام ہے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان افغان شہریوں کے لیے غیر قانونی شناختی دستاویزات اور دیگر سرکاری ریکارڈ تیار کرنے کے مبینہ دھندے میں ملوث تھے۔ ایف آئی اے اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا اس نیٹ ورک نے مزید افراد کو بھی غیر قانونی دستاویزات فراہم کیں اور اس میں کسی دوسرے ادارے یا شخص کا کردار تو موجود نہیں۔
    ‎تحقیقاتی ادارے کے مطابق گرفتار ملزمان سے ریکارڈ، کمپیوٹر ڈیٹا اور دیگر شواہد حاصل کیے جا رہے ہیں تاکہ جعلی دستاویزات کی تیاری کے طریقہ کار اور اس سے وابستہ تمام افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔ اگر تحقیقات کے دوران مزید شواہد سامنے آئے تو مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
    ‎ایف آئی اے نے واضح کیا ہے کہ سرکاری دستاویزات میں جعل سازی اور غیر قانونی شناختی ریکارڈ کی تیاری قومی سلامتی اور ریاستی نظام کے لیے سنگین جرم ہے، اس لیے ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
    ‎ادارے کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے آگے بڑھائی جا رہی ہیں اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جائے گا۔

  • ‎غیر قانونی کچرے کے ڈھیروں سے خطرناک کیمیکلز کا انکشاف

    ‎غیر قانونی کچرے کے ڈھیروں سے خطرناک کیمیکلز کا انکشاف

    ‎برطانیہ میں غیر قانونی طور پر قائم کچرے کے تین بڑے ڈھیروں سے سیکڑوں خطرناک کیمیکلز کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، جنہیں ماہرین نے انسانی صحت اور ماحول کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ تحقیقات کے دوران فضائی آلودگی، پانی اور مٹی کے نمونوں میں ایسے زہریلے مادے پائے گئے جو طویل مدت میں مختلف بیماریوں اور ماحولیاتی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران اسکائی نیوز نے ماحولیاتی تحقیقاتی ادارے آکسفورڈ انڈائسز کے سائنسدانوں کے تعاون سے گلوسٹر، وگن اور رینسکل (ڈونکاسٹر کے قریب) واقع تین غیر قانونی ویسٹ سائٹس پر ہوا، پانی اور مٹی کے تفصیلی ٹیسٹ کیے۔ ان تجزیوں میں سیکڑوں مختلف کیمیائی مرکبات کی نشاندہی ہوئی، جن میں سے کئی کو انسانی صحت کے لیے خطرناک قرار دیا گیا۔
    ‎ماحولیاتی ادارے انوائرمنٹ ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ ان نتائج کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ ادارے کے مطابق ابتدائی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان مقامات پر موجود کیمیائی مادے مقامی آبادی، جنگلی حیات اور ماحول پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
    ‎تحقیقات کے مطابق گلوسٹر کے علاقے اوور فارم میں گزشتہ سات برس سے تقریباً ایک لاکھ ٹن کچرا جمع ہے۔ وہاں سے اٹھنے والے دھوئیں کے تجزیے میں معلوم ہوا کہ فضا میں موجود کیمیائی مادوں کی تعداد ایک عام گاڑی کے ایگزاسٹ سے خارج ہونے والے کیمیکلز کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ تھی۔
    ‎سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان مقامات پر ایسے کیمیائی مرکبات پائے گئے جو عام طور پر جلتے ہوئے یا گرم کیے گئے ایندھن، تیل، پلاسٹک، ٹائروں، ریزن، پینٹس، سالوینٹس، خوراک کے فضلے، خوشبو دار مصنوعات اور کلورین والے مواد سے خارج ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض مادے سانس، جلد اور دیگر جسمانی نظاموں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں، جبکہ طویل عرصے تک ان کے سامنے رہنے سے صحت کے سنگین مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
    ‎ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی کچرے کے ڈھیر نہ صرف فضائی آلودگی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ زیر زمین پانی، زرعی زمین اور قریبی آبادیوں کے لیے بھی مستقل خطرہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ ان مقامات کی فوری صفائی، ماحولیاتی نگرانی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی صحت اور ماحول کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

  • ‎ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اینڈی بگز ایریزونا میں ریپبلکن گورنر امیدوار نامزد

    ‎ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اینڈی بگز ایریزونا میں ریپبلکن گورنر امیدوار نامزد

    ‎امریکا کی ریاست ایریزونا میں ریپبلکن پارٹی نے گورنر کے انتخاب کے لیے کانگریس کے رکن اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اینڈی بگز کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ اینڈی بگز نے پارٹی کے پرائمری انتخاب میں اپنے حریف اور ایوانِ نمائندگان کے رکن ڈیوڈ شوائکارٹ کو واضح اکثریت سے شکست دے کر نومبر میں ہونے والے گورنر کے انتخاب کے لیے پارٹی کی نامزدگی حاصل کر لی۔
    ‎ریپبلکن پرائمری میں کامیابی کے بعد اینڈی بگز کا مقابلہ اب موجودہ ڈیموکریٹک گورنر کیٹی ہوبز سے ہوگا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایریزونا میں گورنر کا انتخاب رواں برس ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے سب سے سخت اور دلچسپ مقابلوں میں سے ایک ثابت ہو سکتا ہے۔
    ‎ایریزونا کو امریکا کی اہم سیاسی ریاستوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں گزشتہ چند برسوں کے دوران ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک وقت تھا جب ریپبلکن پارٹی اس ریاست پر مضبوط گرفت رکھتی تھی، تاہم حالیہ انتخابات میں دونوں جماعتیں باری باری کامیاب ہوتی رہی ہیں۔
    ‎2020 کے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن نے ایریزونا میں کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ اس ریاست میں فتح حاصل کر کے ریپبلکن پارٹی کی پوزیشن مضبوط کی۔
    ‎اس وقت ایریزونا سے امریکی سینیٹ کی دونوں نشستیں ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس ہیں، جبکہ ریاست کے تین اہم آئینی عہدوں پر بھی ڈیموکریٹس فائز ہیں۔ اسی وجہ سے ریپبلکن پارٹی اس انتخاب کو ریاست میں اپنی سیاسی برتری بحال کرنے کے لیے انتہائی اہم قرار دے رہی ہے۔
    ‎دوسری جانب پرائمری انتخابات کے بعد ایریزونا میں کانگریس کی متعدد اہم نشستوں پر بھی انتخابی مقابلے واضح ہو گئے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی کوشش ہے کہ وہ ان نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے امریکی کانگریس میں ریپبلکن اکثریت کو ختم کر سکے، جبکہ ریپبلکن امیدوار اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق ایریزونا کے گورنر اور کانگریس کے انتخابات نہ صرف ریاست بلکہ امریکی قومی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کے نتائج آئندہ سیاسی منظرنامے کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • ‎حکومت سے مذاکرات کامیاب، پیٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال مؤخر کر دی

    ‎حکومت سے مذاکرات کامیاب، پیٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال مؤخر کر دی

    ‎حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد آل پاکستان پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن اور پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مجوزہ ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں پیٹرول پمپس معمول کے مطابق کھلے رہیں گے اور ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
    ‎مذاکرات کے نتیجے میں پیٹرول پمپ مالکان نے آج رات 12 بجے سے شروع ہونے والی ہڑتال کی کال واپس لے لی، جبکہ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے بھی صبح 6 بجے سے مجوزہ احتجاج مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔ حکومتی یقین دہانی کے بعد دونوں تنظیموں نے مذاکرات کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
    ‎وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے مذاکرات کی کامیابی پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے آل پاکستان پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن اور دیگر ڈیلرز تنظیموں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیلرز کے تحفظات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور ان کے مسائل مشاورت کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔
    ‎وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ 28 فروری سے خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال نے حکومت اور عوام دونوں کو متاثر کیا ہے، جبکہ ایک بار پھر خطے میں کشیدگی کے باعث غیر یقینی حالات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عوام کو درپیش مشکلات سے مکمل طور پر آگاہ ہیں اور حکومت معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
    ‎علی پرویز ملک کے مطابق حکومت اب تک توانائی کے شعبے میں کئی سو ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر چکی ہے، جبکہ مستحق طبقے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا مؤثر نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے آئل ریفائنریز اور پیٹرولیم تنظیموں کے تعاون کو بھی سراہا۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن سے متعلق معاملہ باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا اور اس حوالے سے ایک سمری وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی۔ مزید برآں، یومیہ پیٹرولیم قیمتوں کے نظام کا دو ہفتوں بعد متعلقہ تنظیموں کے ساتھ دوبارہ جائزہ لیا جائے گا تاکہ اس کے اثرات کا مکمل تجزیہ کیا جا سکے۔
    ‎پیٹرولیم اونرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری اطلاعات ندیم خان نے کہا کہ حکومت نے ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کے بعد احتجاج مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے آئندہ دو ہفتوں کے دوران کمیشن اور مارجن سے متعلق تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل کر لیے جائیں گے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے یومیہ پیٹرولیم نرخوں کے نظام کو بھی دو ہفتوں کے لیے آزمائشی بنیادوں پر جاری رکھنے کی تجویز دی ہے، جس پر دونوں فریقوں نے اتفاق کیا ہے۔ ڈیلرز نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل کا مستقل حل نکال لیا جائے گا۔

  • ‎بحرین کا ایرانی فضائی حملے ناکام بنانے کا دعویٰ، کئی اہداف تباہ کرنے کا اعلان

    ‎بحرین کا ایرانی فضائی حملے ناکام بنانے کا دعویٰ، کئی اہداف تباہ کرنے کا اعلان

    ‎بحرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے کیے گئے متعدد فضائی حملوں کو کامیابی سے ناکام بناتے ہوئے حملہ آور اہداف کو تباہ کر دیا۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے اتحادی ممالک کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
    ‎بحرین کی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے "ایران کی جانب سے کیے گئے متعدد فضائی حملوں کو بروقت نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔” فوج کے مطابق کارروائی کے دوران ملکی فضائی حدود اور اہم تنصیبات کا مؤثر دفاع کیا گیا۔
    ‎بیان میں ایران پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ بحرین کے خلاف اپنی "منظم جارحیت” جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کے حملوں کا ہدف شہری آبادی ہے۔ بحرینی فوج کا کہنا ہے کہ ملکی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری دفاعی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
    ‎حکام نے حملوں کی نوعیت، استعمال ہونے والے ہتھیاروں یا ممکنہ نقصانات کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ دفاعی فورسز مکمل الرٹ ہیں اور کسی بھی نئے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
    ‎دوسری جانب، اس خبر کے وقت تک ایران کی جانب سے بحرین کے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی بحرین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
    ‎علاقائی کشیدگی میں اضافے کے باعث خلیجی ممالک نے اپنی فضائی نگرانی اور دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کر دیا ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ تنازع مزید نہ بڑھے۔

  • پاکستان جدید ٹیکنالوجی سے دفاع مضبوط بنائے گا، وزیراعظم

    پاکستان جدید ٹیکنالوجی سے دفاع مضبوط بنائے گا، وزیراعظم

    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان دفاع، معیشت اور قومی ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو ترجیح دے رہا ہے اور ملک اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے جدید سائنسی اور تکنیکی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرے گا۔ انہوں نے روبوٹکس، ڈرون ٹیکنالوجی اور خودکار نظاموں کی ترقی کے لیے اسپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام اور 20 ملین ڈالر کے پاکستان وینچر فنڈ کے قیام کا اعلان بھی کیا۔
    ‎اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سلامتی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک نے ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اب ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی سطح پر تیاری ممکن ہو چکی ہے، جو قومی خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
    ‎وزیراعظم نے کہا کہ روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام نہ صرف ملکی سلامتی کو مزید مضبوط بنائیں گے بلکہ معیشت، صنعت، زراعت، صحت اور دیگر شعبوں میں بھی ترقی کی نئی راہیں کھولیں گے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، نئی سرمایہ کاری آئے گی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
    ‎شہباز شریف نے کہا کہ حکومت خودکار نظاموں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے واضح قانون سازی اور ایک مؤثر اخلاقی فریم ورک تشکیل دے گی تاکہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ذمہ دارانہ انداز میں کیا جا سکے۔
    ‎وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ حالیہ "معرکۂ حق” کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے جدید خودکار نظاموں، سائبر سیکیورٹی اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے ذریعے ملکی سرحدوں کا مؤثر دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں اپنایا، جبکہ ایئر چیف اور نیول چیف نے بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کیا۔
    ‎انہوں نے پاکستان میں روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی تحقیق اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے اسپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے تحت عالمی معیار کی تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے اداروں اور نوجوان ماہرین کی بھرپور معاونت کی جائے گی۔
    ‎وزیراعظم نے اس موقع پر 20 ملین ڈالر کے پاکستان وینچر فنڈ کے قیام کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی، اسٹارٹ اپس اور اختراعی منصوبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے تاکہ پاکستان عالمی ٹیکنالوجی معیشت میں اپنا کردار مزید مؤثر بنا سکے۔
    ‎تقریب میں آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء، اعلیٰ عسکری و سول حکام، ٹیکنالوجی ماہرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

  • ‎گندم ذخیرہ اندوزی پر بڑا ایکشن، محکمہ خوراک کے 5 افسران معطل

    ‎گندم ذخیرہ اندوزی پر بڑا ایکشن، محکمہ خوراک کے 5 افسران معطل

    ‎صوبائی وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزمان نے گندم کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں پر سخت کارروائی کرتے ہوئے ضلع خیرپور سے تعلق رکھنے والے محکمہ خوراک کے پانچ افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ان افسران پر ذخیرہ اندوزوں سے مبینہ ملی بھگت اور سرکاری کارروائی کو متاثر کرنے کے الزامات ہیں۔
    ‎صوبائی وزیر خوراک کے مطابق معطل کیے گئے افسران میں فوڈ سپروائزر شفاعت بلوچ، ندیم احمد شیخ، خلیل احمد میمن، نصیر احمد میمن اور فوڈ انسپکٹر وحید احمد شیخ شامل ہیں۔ ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور مکمل تحقیقات تک انہیں اپنی ذمہ داریوں سے الگ کر دیا گیا ہے۔
    ‎مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق بعض افسران نے مبینہ طور پر چھاپوں سے قبل ذخیرہ اندوزوں کو آگاہ کیا، جس کے نتیجے میں گندم کے ذخائر خفیہ طور پر دوسری جگہ منتقل کر دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سرکاری اہلکار عوامی مفاد کے بجائے ذخیرہ اندوزوں کی معاونت کریں تو ایسے رویے کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سندھ نے کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور ذخیرہ اندوزوں کی سرپرستی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ جو بھی سرکاری ملازم قانون کی خلاف ورزی یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا، اس کے خلاف سخت قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
    ‎صوبائی وزیر نے پانچوں معطل افسران کے خلاف شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ پر مبنی محکمانہ انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات میں اگر مزید افراد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو ان کے خلاف بھی بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ گندم کی ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق عوام کو مناسب قیمت پر آٹا فراہم کرنا، گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

  • ‎اردن کا ایرانی ڈرونز گرانے کا دعویٰ، فضائی حدود میں 4 ڈرون تباہ

    ‎اردن کا ایرانی ڈرونز گرانے کا دعویٰ، فضائی حدود میں 4 ڈرون تباہ

    ‎اردن نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے ایران سے چھوڑے گئے چار حملہ آور ڈرونز کو اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل تباہ کر دیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور امریکا کے اتحادی ممالک پر حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
    ‎عرب میڈیا کے مطابق ایک فوجی ذریعے نے بتایا کہ اردنی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے ایک طرفہ حملے کے لیے استعمال ہونے والے چار ڈرونز کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ حکام کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
    ‎فوجی ذریعے کا کہنا ہے کہ ڈرونز کا ملبہ مختلف مقامات پر گرا، جس کے بعد انجینئرنگ کور کے اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے، ملبہ اپنی تحویل میں لیا اور متاثرہ علاقوں کو محفوظ بنا دیا۔
    ‎اردنی فوج کے مطابق ملک کی مسلح افواج فضائی حدود کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل آپریشنل تیاری برقرار رکھی گئی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور ملکی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
    ‎تاہم اس خبر کے وقت تک ایران کی جانب سے اردن کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی ان ڈرونز کے ایرانی ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
    ‎مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث خطے کے متعدد ممالک اپنی فضائی نگرانی اور دفاعی اقدامات مزید سخت کر رہے ہیں، کیونکہ حالیہ فوجی سرگرمیوں نے علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔