کراچی کی تاریخی لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران اہم آثارِ قدیمہ سامنے آنے کا انکشاف ہوا ہے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ اولڈ سٹی ایریا میں جاری بحالی کے منصوبے کے دوران دو قدیم طرز کے مجسمے دریافت ہوئے ہیں، جن کی تاریخی حیثیت اور عمر کا تعین اب ماہرینِ آثارِ قدیمہ کریں گے۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق لی مارکیٹ کی تزئین و بحالی کا کام جاری تھا کہ کھدائی کے دوران یہ قدیم مجسمے برآمد ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر یہ اشیا تاریخی اہمیت کی حامل معلوم ہوتی ہیں، تاہم ان کے بارے میں حتمی رائے ماہرین کی جانچ کے بعد ہی دی جا سکے گی۔
میئر کراچی نے کہا کہ دریافت ہونے والے مجسموں کو محفوظ طریقے سے متعلقہ ماہرین کے سپرد کیا جائے گا تاکہ ان کی عمر، اصل، تاریخی پس منظر اور ثقافتی اہمیت کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ اگر یہ آثار قدیمہ واقعی تاریخی اعتبار سے اہم ثابت ہوتے ہیں تو یہ کراچی کی قدیم تاریخ اور ثقافتی ورثے کے حوالے سے نئی معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اولڈ سٹی ایریا کی بحالی کا مقصد صرف انفراسٹرکچر کی بہتری نہیں بلکہ شہر کے تاریخی ورثے کا تحفظ بھی ہے۔ اس لیے بحالی کے تمام منصوبوں میں اس بات کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے کہ کسی بھی تاریخی مقام یا قدیم آثار کو نقصان نہ پہنچے۔
ماہرین کے مطابق کراچی کے قدیم علاقوں میں مختلف ادوار کی تاریخی باقیات موجود ہونے کے امکانات پہلے بھی ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔ حالیہ دریافت بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہر کی تاریخی تہذیب اور ماضی کے حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت، ماہرین تاریخی اہمیت کا جائزہ لیں گے
-

آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش سے خواتین کی شرح اموات میں اضافہ ہوا، عذرا فضل پیچوہو
کراچی میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں "ماں رہے سلامت” کے عنوان سے منعقدہ فیملی پلاننگ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ آپریشن (سی سیکشن) کے ذریعے بچوں کی پیدائش میں اضافے کے باعث خواتین کی شرح اموات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ حکومت سندھ ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور اس مقصد کے لیے متعدد قوانین اور اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ اس شعبے میں ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے اور زچہ و بچہ کی صحت بہتر بنانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر ضروری سی سیکشن آپریشنز ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکے ہیں، جس کے باعث بعض خواتین کو پیچیدگیوں اور صحت کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وزیر صحت کے مطابق حکومت اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے اور اس حوالے سے اصلاحی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ جو خواتین تیسری مرتبہ سی سیکشن کے ذریعے بچے کو جنم دینے آتی ہیں، ان کے لیے مانع حمل آپریشن پر بھی غور کیا جانا چاہیے تاکہ آئندہ حمل کے دوران ممکنہ طبی خطرات سے بچا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ محفوظ زچگی، بروقت طبی سہولیات اور مؤثر فیملی پلاننگ نہ صرف ماؤں کی زندگیوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بلکہ نومولود بچوں کی صحت اور خاندانوں کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔ -

حوثیوں کی ناکہ بندی کے باوجود چینی آئل ٹینکرز سعودی تیل لے کر باب المندب سے گزر گئے
یمنی حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں ناکہ بندی کے دعوؤں کے باوجود چین کے دو آئل ٹینکرز سعودی عرب کا خام تیل لے کر باب المندب کی اہم آبی گزرگاہ سے بحفاظت گزر گئے۔ اس پیش رفت کو خطے میں جاری کشیدگی کے دوران عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی کے مطابق 23 جولائی کو مجموعی طور پر 32 بحری جہاز باب المندب سے گزرے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے باوجود اس اہم سمندری راستے پر تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل نہیں ہوئیں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق 23 جولائی کو اس اہم آبی گزرگاہ سے صرف ایک بحری جہاز گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں سیکیورٹی خدشات کے باعث کئی شپنگ کمپنیاں متبادل راستوں پر غور کر رہی ہیں یا اپنے جہازوں کی نقل و حرکت محدود کر رہی ہیں۔
باب المندب اور آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے عالمی تجارت اور تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ان راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی، شپنگ انڈسٹری اور بین الاقوامی منڈیوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
حالیہ صورتحال کے باعث عالمی شپنگ کمپنیوں اور توانائی کی منڈیوں کی نظریں ان دونوں آبی راستوں پر مرکوز ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ -

ایران نے امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، آبنائے ہرمز تنازع بنیادی وجہ قرار
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکا کی جنگ بندی کی تجویز کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمزکی رپورٹ کے مطابق یہ تجویز عراقی وزیرِ اعظم کے ذریعے تہران پہنچائی گئی تھی، تاہم ایرانی حکام نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں کسی بھی عارضی یا محدود جنگ بندی پر اتفاق اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آبنائے ہرمز سے متعلق بنیادی تنازع کا واضح، شفاف اور مستقل حل سامنے نہ آئے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس اہم معاملے کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی بھی جنگ بندی کی پیشکش دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال خطے کی سلامتی، عالمی توانائی کی ترسیل اور ایران کے قومی مفادات سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے، اس لیے اس مسئلے کے حل کے بغیر کسی بھی جنگ بندی کو قابلِ قبول نہیں سمجھا جا سکتا۔
امریکی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی غرض سے جنگ بندی کی تجویز عراق کے ذریعے ایران تک پہنچائی گئی تھی، تاہم تہران نے اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر بنیادی تنازعات حل کیے بغیر صرف عارضی جنگ بندی کی جائے تو مستقبل میں دوبارہ تصادم کے امکانات برقرار رہیں گے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شدت اختیار کرنے والا یہ تنازع تقریباً دو ہفتوں سے جاری ہے، جس کے باعث پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے۔ اس دوران متعدد فوجی کارروائیاں، حملے اور جوابی اقدامات سامنے آ چکے ہیں، جبکہ عالمی برادری مسلسل دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی ذرائع سے تنازع کے حل پر زور دے رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی بین الاقوامی منڈیوں اور خطے کی سیکیورٹی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تنازع پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں اور سفارتی کوششیں تاحال جاری ہیں۔ -

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، امریکا نے اپنے شہریوں کے لیے عالمی سفری انتباہ جاری کر دیا
پاکستان سمیت مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے تناظر میں امریکی محکمہ خارجہ نے خطے میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی عالمی سفری انتباہ جاری کر دیا ہے۔ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تناؤ کے باعث فضائی آپریشن متاثر ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں پروازوں کی اچانک منسوخی، تاخیر، شیڈول میں تبدیلی اور فضائی حدود کی عارضی یا مستقل بندش جیسے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام امریکی شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی سفر سے قبل متعلقہ ایئر لائنز اور مقامی حکام کی تازہ ترین ہدایات ضرور حاصل کریں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے باعث سفری منصوبے کسی بھی وقت متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے شہری ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
محکمہ خارجہ نے مزید خبردار کیا کہ ایران کے حامی مسلح گروہ اور پراکسی تنظیمیں خطے میں موجود امریکی شہریوں، سفارتی تنصیبات اور دیگر امریکی مفادات کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔ اسی لیے امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عوامی مقامات پر غیر ضروری نقل و حرکت محدود رکھیں، ہجوم والی جگہوں سے گریز کریں اور مقامی سیکیورٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں خطے کے مختلف ممالک کی فضائی حدود کسی بھی وقت بند کی جا سکتی ہیں، جس سے بین الاقوامی پروازوں کا شیڈول شدید متاثر ہونے کا امکان ہے۔ امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سفری دستاویزات ہمہ وقت تیار رکھیں، ہنگامی رابطہ معلومات اپنے پاس محفوظ رکھیں اور امریکی سفارت خانوں یا قونصل خانوں کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ ہدایات پر فوری عمل کریں۔
امریکی حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ خطے میں سیکیورٹی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے شہری صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔ محکمہ خارجہ کے مطابق موجودہ انتباہ کا مقصد امریکی شہریوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نہ صرف سیکیورٹی صورتحال بلکہ عالمی فضائی آمدورفت، تجارتی سرگرمیوں اور توانائی کی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی لیے مختلف ممالک اپنے شہریوں کے لیے سفری ہدایات اور حفاظتی مشورے مسلسل اپ ڈیٹ کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ -

یو اے ای میں دوپہر کے اوقات میں کھلے مقامات پر کام پر پابندی برقرار
متحدہ عرب امارات میں شدید گرمی کے پیش نظر ملازمین کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر سال کی طرح اس سال بھی دوپہر کے اوقات میں کھلے مقامات پر کام کرنے پر پابندی نافذ ہے۔ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اسلام آباد کے مطابق یہ پابندی 15 جون سے نافذ ہو چکی ہے اور 15 ستمبر تک برقرار رہے گی۔
اس دوران دوپہر 12:30 بجے سے سہ پہر 3:00 بجے تک کھلی جگہوں اور براہ راست دھوپ میں کام کرنا ممنوع ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد شدید گرمی کے باعث ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر طبی مسائل سے کارکنوں کو محفوظ رکھنا ہے۔
حکام کے مطابق بعض ایسے کام جنہیں تکنیکی یا ہنگامی وجوہات کی بنا پر مؤخر نہیں کیا جا سکتا، انہیں اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ ان میں اسفالٹ بچھانے اور کنکریٹ ڈالنے کے وہ منصوبے شامل ہیں جنہیں مقررہ وقت کے بعد تک ملتوی کرنا ممکن نہ ہو۔
اسی طرح پانی، بجلی اور ٹریفک کی بحالی سے متعلق ہنگامی مرمتی کام بھی اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ علاوہ ازیں ایسے منصوبے جن کے لیے عوامی مفاد یا نقل و حرکت کے باعث متعلقہ سرکاری اداروں سے خصوصی اجازت درکار ہو، وہ بھی مقررہ شرائط کے تحت جاری رکھے جا سکیں گے۔
متحدہ عرب امارات کے قوانین کے مطابق تمام کمپنیوں پر لازم ہے کہ پابندی کے اوقات میں کارکنوں کو آرام کے لیے مناسب سایہ دار جگہیں فراہم کریں۔ اس کے علاوہ ٹھنڈک کے انتظامات، پنکھے، صاف پینے کا پانی اور ہائیڈریشن کی دیگر ضروری سہولتیں مہیا کرنا بھی آجر کی ذمہ داری ہوگی۔
حکام نے کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان حفاظتی ہدایات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ گرمی کے موسم میں کارکنوں کی صحت اور جان کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔ -

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کر دیا
اسلام آباد میں جدید ترین سکائی 47 ڈیٹا سینٹر "قراقرم ون” کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ طور پر ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کیا اور منصوبے کی مختلف سہولتوں کا جائزہ لینے کے ساتھ تفصیلی بریفنگ بھی حاصل کی۔
تقریب کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ قراقرم ون ڈیٹا سینٹر کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا ہوسٹنگ اور جدید ڈیجیٹل خدمات کے لیے مضبوط اور محفوظ انفراسٹرکچر فراہم کرے گا۔ منصوبہ مصنوعی ذہانت (AI)، مشین لرننگ (Machine Learning) اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ حساس قومی اور تجارتی معلومات کے محفوظ ذخیرے کے لیے بھی اہم کردار ادا کرے گا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جدید ترین ڈیٹا سینٹر کو متاثر کن اور قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عظیم منصوبے کو دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ انتہائی مختصر مدت میں غیر معمولی عزم، پختہ یقین اور اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ مکمل کیا گیا، جو قومی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بصیرت افروز قیادت اور منصوبے کے شراکت دار ادارے زیڈ ٹی ای (ZTE) کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے منصوبے پاکستان کو ٹیکنالوجی کے میدان میں خودانحصاری کی جانب لے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ "معرکۂ حق” میں کامیابی ملکی تاریخ کا ایک عظیم لمحہ تھا، جس نے ثابت کیا کہ قوم اگر امید، حوصلے اور اتحاد کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرے تو تاریخی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل محنت اور قومی عزم ہی ایسے عظیم منصوبوں کو حقیقت کا روپ دیتے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سکائی 47 جیسے منصوبے پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں اور یہ ملک کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ناقابلِ تسخیر سکیورٹی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے قوم کو یہ تحفہ دینے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر پوری قوم متحد ہو کر کام کرے تو کوئی بھی ہدف ناقابلِ حصول نہیں رہتا۔
-

روس میں بلی کے ذریعے جیل میں منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام
روس میں ایک غیر معمولی واقعہ اس وقت سامنے آیا جب جیل میں منشیات اسمگل کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی ایک بلی کو سیکیورٹی اہلکاروں نے پکڑ لیا۔ حکام کے مطابق بلی کے جسم کے ساتھ مخصوص کپڑے کے بنے دو کالر نما پیکٹ بندھے ہوئے تھے، جن میں مبینہ طور پر منشیات اور دیگر ممنوعہ اشیا چھپائی گئی تھیں۔
روسی حکام کے مطابق یہ واقعہ 21 جولائی کو نزنی نووگوروڈ ریجن کی کریکشنل کالونی نمبر 17 کے قریب پیش آیا، جہاں جیل کے اہلکاروں نے مشتبہ نقل و حرکت دیکھ کر بلی کو قابو میں لیا۔ تلاشی کے دوران اس کے ساتھ بندھے پیکٹوں سے منشیات برآمد ہونے کے بعد انہیں قبضے میں لے لیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بلی کو اس مقصد کے لیے باقاعدہ تربیت دی گئی تھی یا پھر اسے خوراک کے ذریعے مخصوص راستے پر آنے جانے کا عادی بنایا گیا تھا تاکہ وہ بغیر شک کے جیل کے اندر ممنوعہ اشیا پہنچا سکے۔
واقعے کے بعد روسی حکام نے منشیات اسمگلنگ کی اس کوشش کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان افراد کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں جنہوں نے بلی کو استعمال کرتے ہوئے جیل کے اندر منشیات پہنچانے کی منصوبہ بندی کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی اسمگلنگ کے واقعات دنیا کے مختلف ممالک میں پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں، جہاں جیلوں میں موبائل فون، منشیات اور دیگر ممنوعہ اشیا پہنچانے کے لیے جانوروں کو استعمال کیا گیا۔ تاہم روس میں پیش آنے والے اس تازہ واقعے نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی ہے اور صارفین اس پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ -

ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، حکومت نے 37 فارما کمپنیوں سے جواب طلب کر لیا
ڈی ریگولیٹڈ ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے معاملے نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے، جس پر وفاقی حکومت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے 37 فارما کمپنیوں سے وضاحت طلب کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ان کمپنیوں سے ادویات کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافے کی وجوہات بیان کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض ادویات کی قیمتوں میں کم از کم 76.8 فیصد جبکہ زیادہ سے زیادہ 1621 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ کمپنیوں کو اظہارِ وجوہ کے نوٹسز جاری کیے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انہوں نے ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کرنے والی فارما کمپنیوں کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ان کے مطابق تمام کمپنیوں سے قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافے کی تفصیلی وجوہات طلب کی گئی ہیں تاکہ معاملے کا شفاف جائزہ لیا جا سکے۔
وزارت صحت کے ذرائع کے مطابق نوٹسز مقامی اور ملٹی نیشنل، دونوں نوعیت کی فارما کمپنیوں کو بھیجے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 37 کمپنیوں سے 92 مختلف ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے جواب طلب کیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اب تک 12 فارما کمپنیوں نے 35 ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق اپنے جوابات جمع کرا دیے ہیں، جبکہ دو کمپنیوں نے جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت کی درخواست کی ہے۔
دوسری جانب 23 فارما کمپنیوں نے تاحال اظہارِ وجوہ کے نوٹسز کا کوئی جواب جمع نہیں کرایا، جس پر انہیں یاد دہانی نوٹس بھی ارسال کر دیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تمام کمپنیوں کے جوابات موصول ہونے کے بعد ان کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور قواعد و ضوابط کے مطابق آئندہ کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ادویات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر مریضوں اور عوامی حلقوں نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ عوام کے مفادات کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ -

وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں آئی ٹی سیکٹر کے اسٹریٹجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کی ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی برآمدات اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ بڑھ کر 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ اور پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر کا فروغ اور برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ آئی ٹی تربیتی پروگراموں کی معتبر تیسرے فریق سے تصدیق کرائی جائے، ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنایا جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز کے مقابلے میں جون 2026 تک موبائل اسپیکٹرم 880 میگا ہرٹز تک بڑھ چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اجلاس میں "کنیکٹ پاکستان وژن 2030” پر عمل درآمد کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کی شرح 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گئی ہے۔ اسی عرصے میں 51 لاکھ گھروںکو فکسڈ براڈبینڈ اور فائبر کنیکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران فری لانسرز نے آئی ٹی برآمدات میں 1.164 ارب ڈالر کا حصہ ڈالا۔ ڈیجیٹل نیشن پاکستانپروگرام کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل بنایا جا چکا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں 9 لاکھ 42 ہزار 646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، جن میں 5 ہزار 53 ہائی اینڈ اور 2 ہزار 700 لیڈرشپ و سافٹ اسکلز ٹریننگ پروگرام شامل تھے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب منصوبہ جلد شروع کیا جائے گا۔ چینی کمپنی علی باباکے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی متعدد وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔