Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
امریکا ایران پر حملے کے لیے کن آپشنز پر غور کر رہا ہے؟ پینٹاگون کی ٹرمپ کو بریفنگ

    
امریکا ایران پر حملے کے لیے کن آپشنز پر غور کر رہا ہے؟ پینٹاگون کی ٹرمپ کو بریفنگ

    
امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے محکمہ دفاع پینٹاگون نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تفصیلی بریفنگ دی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق دفاعی حکام نے صدر کو مختلف عسکری اور غیر عسکری آپشنز سے آگاہ کیا۔
    محکمہ دفاع کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی ردعمل میں فضائی طاقت اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے منصوبہ سازوں نے سائبر آپریشنز اور نفسیاتی مہمات کے آپشنز بھی پیش کیے ہیں، جن کا مقصد ایرانی کمانڈ سسٹم، مواصلاتی نیٹ ورکس اور سرکاری میڈیا کو متاثر کرنا ہو سکتا ہے۔
    ‎امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سائبر حملوں، نفسیاتی کارروائیوں اور روایتی فوجی طاقت کو یکجا کر کے استعمال کرنے کا امکان بھی زیر غور ہے۔ تاہم دونوں عہدیداروں نے اس بات پر زور دیا کہ تاحال جنگ کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور سفارتی راستے اب بھی کھلے ہوئے ہیں۔

  • اگر امریکا نے دوبارہ فوجی آپشن کیا تو ہم تیار ہیں: ایرانی وزیر خارجہ

    اگر امریکا نے دوبارہ فوجی آپشن کیا تو ہم تیار ہیں: ایرانی وزیر خارجہ

    
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر امریکا ماضی کی طرح ایک بار پھر فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو ایران اس کے لیے تیار ہے۔
    عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران دھمکیوں اور ڈکٹیشن کے بغیر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم واشنگٹن کی نیت پر سنجیدہ شکوک موجود ہیں۔ ان کے مطابق ایران کو یہ تاثر نہیں ملتا کہ امریکا منصفانہ اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔
    ‎ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ ملٹری آپشن کی کوشش کی تو ایران اپنا دفاع کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہوگا۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں خبردار کیا کہ ایران سے تجارتی روابط رکھنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔
    ‎اس سے قبل امریکی صدر یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے خلاف مختلف آپشنز زیر غور ہیں، جن میں فوجی کارروائی کا امکان بھی شامل ہے۔

  • 4 سالہ سوتیلے بچے کے قتل کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    4 سالہ سوتیلے بچے کے قتل کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    
سپریم کورٹ نے 4 سالہ سوتیلے بچے کے قتل کی ملزمہ کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔ سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی، جس میں جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس مسرت ہلالی بھی شامل تھے۔
    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچے کی موت قدرتی نہیں تھی۔ جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ یہ تحقیقات سے ہی معلوم ہوگا کہ آیا بچے کو ماں نے مارا یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقدمے کے نصف پہلو مدعی کی طرف سے اور نصف پولیس کی جانب سے متاثر ہو رہا ہے۔
    ‎ملزمہ کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ ان کے خلاف نہ کوئی گواہ موجود ہے اور نہ ہی کوئی مضبوط ثبوت دستیاب ہے، اور یہ کہ خاتون کو جیل میں ایک بچے کی ولادت بھی ہوئی ہے۔

  • 
پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں، عمران خان چیئرمین تھے، ہیں اور رہیں گے: بیرسٹر گوہر

    
پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں، عمران خان چیئرمین تھے، ہیں اور رہیں گے: بیرسٹر گوہر

    
چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر نے واضح کیا ہے کہ پارٹی کے اندر کسی قسم کا کوئی فارورڈ بلاک موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان چیئرمین تھے، چیئرمین ہیں اور آئندہ بھی چیئرمین ہی رہیں گے، اور ان کے فیصلوں کو کوئی سیاسی یا ایپکس کمیٹی تبدیل نہیں کر سکتی۔
    بیرسٹر گوہر کی قیادت میں پی ٹی آئی کے وفد نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے اسپیکر آفس میں ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی میں مکمل اتحاد ہے اور قیادت کے معاملے پر کوئی ابہام نہیں۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ جمعرات تک اپوزیشن لیڈر کے تقرر کا عمل مکمل ہو جائے گا، اس حوالے سے کاغذات جمع کرائے جا چکے ہیں اور کل تک ان کی تصدیق متوقع ہے۔
    ‎اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر نے کہا کہ قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق تمام تقاضے پورے کر کے اپ ڈیٹڈ فہرست اسپیکر کو جمع کرا دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر کوئی گروپنگ نہیں، اور محمود خان اچکزئی کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے جا چکے ہیں، وہی پی ٹی آئی کے نامزد اپوزیشن لیڈر ہیں۔

  • ‎ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا پر عدلیہ مخالف پوسٹیں ہٹانے اور پوسٹ کرنے والوں کی فہرست بنانے کا حکم دے دیا

    ‎ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا پر عدلیہ مخالف پوسٹیں ہٹانے اور پوسٹ کرنے والوں کی فہرست بنانے کا حکم دے دیا

    
لاہور ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا پر عدلیہ مخالف مواد فوری ہٹانے اور اس میں ملوث تمام افراد کی فہرست مرتب کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ یہ حکم جسٹس علی ضیاء باجوہ نے وکیل چودھری ظہور الہی کی درخواست پر سماعت کے دوران دیا۔
    عدالت نے کہا کہ آئندہ اگر کوئی عدلیہ مخالف پوسٹ سامنے آئی تو اس کے ذمہ دار نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے سربراہ ہوں گے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے موقف اختیار کیا کہ عدلیہ مخالف مہم واضح طور پر توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے، جبکہ وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ جو بھی مواد سوشل میڈیا پر موجود ہے، اسے فوری ہٹایا جائے گا۔
    ‎عدالت نے ایف آئی اے کی ازخود کارروائی نہ کرنے پر بھی ناراضگی ظاہر کی اور کہا کہ یہ تو سائبر گردی ہے جو عدلیہ کے خلاف کی گئی، اور پیکا ایکٹ کے تحت تو یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے ازخود کارروائی کیوں نہیں کر رہا اور سوشل میڈیا پر مہم کی شدت کے باوجود کارروائی کی تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔
    ‎بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے درخواست پر سماعت کو 15 جنوری تک ملتوی کر دیا۔

  • 
بنگلہ دیش کا بھارت میں ورلڈ کپ میچز نہ کھیلنے کا مؤقف برقرار، آئی سی سی کو آگاہ

    
بنگلہ دیش کا بھارت میں ورلڈ کپ میچز نہ کھیلنے کا مؤقف برقرار، آئی سی سی کو آگاہ

    
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ایک بار پھر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ بھارت میں جا کر ورلڈ کپ کے میچز نہیں کھیلے گا۔ بی سی بی کے مطابق یہ مؤقف ویڈیو کانفرنس کے ذریعے آئی سی سی کے سامنے دہرایا گیا۔
    بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ بھارت میں میچز کھیلنے کے حوالے سے سنگین سیکیورٹی خدشات موجود ہیں، جس کے باعث ٹیم کے لیے وہاں جانا ممکن نہیں۔ بورڈ نے واضح کیا کہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔
    ‎بی سی بی نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ بنگلہ دیش کے میچز بھارت کے بجائے کسی دوسرے ملک میں منتقل کیے جائیں تاکہ سیکیورٹی خدشات سے بچا جا سکے۔
    ‎دوسری جانب آئی سی سی نے مؤقف اختیار کیا کہ ورلڈ کپ کا شیڈول پہلے ہی جاری کیا جا چکا ہے، اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ سے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کو کہا گیا ہے۔ تاہم بی سی بی نے آئی سی سی کو آگاہ کر دیا ہے کہ اس کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

  • کراچی کے لیے 83 ارب روپے کا ترقیاتی پیکیج، منصوبوں کی تکمیل سے شہر میں نمایاں بہتری آئے گی: مراد علی شاہ

    کراچی کے لیے 83 ارب روپے کا ترقیاتی پیکیج، منصوبوں کی تکمیل سے شہر میں نمایاں بہتری آئے گی: مراد علی شاہ

    
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں صوبے بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور تمام محکموں کو کام کی رفتار بڑھانے کی ہدایت دی گئی۔
    اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت نے کراچی کے لیے 83 ارب روپے کا خصوصی ترقیاتی پیکیج منظور کیا ہے۔ ان کے مطابق ایف ڈبلیو او شہر میں اہم ترقیاتی منصوبوں پر کام کرے گی، جبکہ ان منصوبوں کی تکمیل سے کراچی کے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئے گی۔
    ‎مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ترقیاتی بجٹ کو شفاف اور مؤثر انداز میں عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ، سڑکوں کی تعمیر، نکاسیٔ آب، پانی کی فراہمی، صحت کے شعبے کے ساتھ ساتھ صنعتی اور زرعی ترقی کے منصوبے بھی جاری ہیں۔
    ‎وزیراعلیٰ سندھ نے وزراء کو ہدایت کی کہ وہ اپنے محکموں کے ترقیاتی منصوبوں کی خود نگرانی کریں تاکہ کام مقررہ وقت میں مکمل ہو اور عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔

  • ٹرمپ پہلے حملہ، پھر مذاکرات کے حامی، ایران کے جوہری اور میزائل مراکز ممکنہ ہدف

    ٹرمپ پہلے حملہ، پھر مذاکرات کے حامی، ایران کے جوہری اور میزائل مراکز ممکنہ ہدف

    
امریکی اخبارات کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کی صورت میں پہلے فوجی کارروائی اور بعد ازاں مذاکرات کی حکمتِ عملی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ فضائی حملے کے بعد سفارتی دروازے کھولنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
    ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات سے متعلق پینٹاگون نے صدر کو تفصیلی بریفنگ دی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ کی سوچ یہ ہے کہ دباؤ بڑھانے کے لیے ابتدائی طور پر فضائی حملہ کیا جائے، جس کے بعد بات چیت کا آغاز کیا جائے۔
    ‎نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ اہداف میں ایران کا جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل کے ٹھکانے، سائبر انفراسٹرکچر اور داخلی سیکیورٹی نظام شامل ہو سکتے ہیں۔
    ‎اسی دوران ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی سمت پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ نے مذاکرات کے لیے امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف سے رابطہ کیا ہے، جس سے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی کے اشارے مل رہے ہیں۔

  • ‎ڈی جی آئی ایس پی آر اور این پی اے سی کی ملاقات، داخلی سلامتی اور قومی بیانیے پر اتفاق

    ‎ڈی جی آئی ایس پی آر اور این پی اے سی کی ملاقات، داخلی سلامتی اور قومی بیانیے پر اتفاق

    
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر سے نیشنل پیس اینڈ کونسل (این پی اے سی) کے وفد نے ملاقات کی، جس میں داخلی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں فتنہ الخوارج (FAK)، افغان طالبان (TTA) اور دیگر ریاست دشمن عناصر کے تناظر میں سکیورٹی چیلنجز زیرِ بحث آئے۔
    اجلاس کے دوران کشمیر اور غزہ کے معاملات پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی توثیق کی گئی۔ این پی اے سی نے قومی بیانیے کے فروغ کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے پاک افواج سے غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا اور ریاست مخالف بیانیے کے خلاف مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
    ‎این پی اے سی کے نمائندوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا، اور فتنہ الخوارج (FAK) اور افغان طالبان (TTA) کی کھل کر مذمت کی۔
    ‎ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق معاملات میں یکسوئی اور متفقہ بیانیہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں مظلوموں کی حمایت پاکستان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
    ‎ملاقات میں این پی اے سی اور آئی ایس پی آر نے نفرت انگیزی اور فرقہ واریت کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا اور سماجی ہم آہنگی کے پیغام کو ملک بھر میں پھیلانے کے عزم کا اظہار کیا۔

  • 
رواں سال بجلی صارفین کو کیپسٹی پیمنٹس پر اربوں روپے ادا کرنا ہوں گے

    
رواں سال بجلی صارفین کو کیپسٹی پیمنٹس پر اربوں روپے ادا کرنا ہوں گے

    
نئی دستاویز کے مطابق رواں سال بجلی صارفین کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 2 ہزار 163 ارب روپے کے قریب ادا کرنا ہوں گے۔ پاور پرچیز پرائس کا تخمینہ 25.32 روپے فی یونٹ لگایا گیا ہے جبکہ 2026 کے لیے یہ تخمینہ 3 ہزار 185 ارب روپے ہے۔
    ‎دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ سال 2026 میں سب سے مہنگی بجلی درآمدی کوئلے سے پیدا ہوگی جس کی فی یونٹ لاگت 45.94 روپے ہوگی، جبکہ جوہری ایندھن سے 20.85 روپے، درآمدی ایل این جی سے 28.95 روپے، فرنچ آئل سے 45.97 روپے، مقامی کوئلے سے 25.27 روپے، بگاس سے 17.66 روپے اور مقامی گیس سے 14.51 روپے فی یونٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔
    ‎اس کے علاوہ، پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کی فی یونٹ لاگت رواں سال 12 روپے رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔