انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع نے اسلام آباد میں پاکستان ایئر فورس کے سربراہ سے ملاقات کی، جس میں جکارتہ کو لڑاکا طیاروں اور حملہ آور ڈرونز کی فروخت سمیت ممکنہ دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب پاکستان کی دفاعی صنعت مختلف ممالک کے ساتھ دفاعی سازوسامان کی فراہمی سے متعلق بات چیت کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ان میں لیبیا کی نیشنل آرمی اور سوڈان کی فوج کے ساتھ ممکنہ معاہدے بھی شامل ہیں، جبکہ پاکستان خود کو خطے میں ایک مؤثر دفاعی سپلائر کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔
ایک ذریعے کے مطابق بات چیت کا محور جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کی فروخت تھا، جو پاکستان اور چین کی مشترکہ طور پر تیار کردہ ملٹی رول جنگی طیارہ ہے، اس کے علاوہ نگرانی اور ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرونز بھی زیرِ غور آئے۔ دیگر دو ذرائع نے بتایا کہ بات چیت ایک ایڈوانس مرحلے میں ہے اور اس میں 40 سے زائد جے ایف 17 طیارے شامل ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک ذریعے کے مطابق انڈونیشیا نے پاکستان کے شاہپر ڈرونز میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت طیاروں یا ڈرونز کی ترسیل کا وقت کیا ہوگا یا یہ معاہدہ کتنے برسوں پر محیط ہوگا۔
انڈونیشیا کی وزارتِ دفاع اور پاکستان کی فوج دونوں نے اس ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع سجادری سجامس الدین اور پاکستان ایئر فورس کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے درمیان ہونے والی ملاقات پر بات کرتے ہوئے وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ریکو ریکارڈو سریت نے رائٹرز کو بتایا کہ بات چیت میں مجموعی دفاعی تعاون، اسٹریٹجک ڈائیلاگ، دفاعی اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور طویل المدتی بنیادوں پر باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون کے مواقع پر غور کیا گیا، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
پاکستانی فوج کے بیان کے مطابق انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور عالمی سکیورٹی صورتحال، اور دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔
انڈونیشیا کی فضائیہ کی جدید کاری
فوجی خریداری سے متعلق بات چیت سے آگاہ ایک اور سکیورٹی ذریعے کے مطابق پاکستان انڈونیشیا کو جے ایف 17 تھنڈر طیارے، فضائی دفاعی نظام، اور انڈونیشین ایئر فورس کے جونیئر، مڈ لیول اور سینئر افسران کے لیے تربیت، نیز انجینئرنگ اسٹاف کی تربیت پر بھی بات کر رہا ہے۔
ریٹائرڈ ایئر مارشل عاصم سلیمان، جو اب بھی فضائیہ کے معاہدوں سے باخبر رہتے ہیں، نے رائٹرز کو بتایا کہ انڈونیشیا کے ساتھ ڈیل پائپ لائن میں ہے اور جے ایف 17 طیاروں کی تعداد 40 کے قریب ہو سکتی ہے۔
گزشتہ ماہ انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبیانتو نے پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا تھا، جہاں دوطرفہ تعلقات، بالخصوص دفاعی تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوئی۔
انڈونیشیا حالیہ برسوں میں اپنی پرانی فضائی بیڑے کی جگہ جدید طیارے شامل کرنے کے لیے بڑے دفاعی معاہدے کر چکا ہے۔ 2022 میں فرانس سے 8.1 ارب ڈالر مالیت کے 42 رافیل طیاروں کی خریداری کی گئی، جبکہ گزشتہ سال ترکی سے 48 کان فائٹر جیٹس کا آرڈر دیا گیا۔ جکارتہ چین کے جے 10 طیاروں کی خریداری پر بھی غور کر چکا ہے اور امریکا سے ایف 15 ای ایکس طیاروں کے حصول کے لیے بات چیت جاری ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کی ممکنہ ڈیل پر بات چیت
-

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیمی معاہدہ، 500 طلبہ کو اسکالرشپ ملیں گی
پاکستان اور بنگلہ دیش نے تعلیمی میدان میں تعاون کے لیے معاہدہ طے کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں 500 بنگلہ دیشی طلبہ کو پاکستان کی جامعات میں داخلے دیے جائیں گے، جہاں وہ مختلف شہروں کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کریں گے۔
اعلامیہ کے مطابق یہ اسکالرشپس مکمل مالی معاونت کے ساتھ دی جائیں گی اور انڈرگریجویٹ پروگراموں کے لیے ہیں۔ اس اسکالرشپ پروگرام کو علامہ اقبال کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔
داخلے کے لیے بنگلہ دیشی طلبہ کی بڑی تعداد نے انٹری ٹیسٹ میں شرکت کی، جو چٹاکانگ، ڈھاکا اور راج شاہی میں ایچ ای سی کے زیر اہتمام منعقد کیے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کا بنگلہ دیشی نوجوانوں نے استقبال کیا اور اس موقع پر تصاویر بھی بنوائیں۔ -

باغی ٹی وی کی 14ویں سالگرہ: سچائی، جرات اور عوامی شعور کی علامت
آج باغی ٹی وی 14 سال مکمل کر رہا ہے، اور یہ محض ایک چینل کی سالگرہ نہیں بلکہ پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا کے نئے دور کا جشن ہے۔ 2009 میں سینئر صحافی مبشر لقمان کے قیام کے ساتھ شروع ہونے والا یہ پلیٹ فارم، آج پانچ مختلف زبانوں میں قارئین اور ناظرین کو باخبر رکھ رہا ہے — اردو، انگریزی، پشتو، چینی اور ایک اور علاقائی زبان۔
باغی ٹی وی کا آغاز اور مشن
باغی ٹی وی کی بنیاد ایسے وقت میں رکھی گئی جب پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا تیزی سے ابھر رہا تھا، مگر معیار، تحقیق اور ذمہ داری کا فقدان نمایاں تھا۔ مبشر لقمان نے سچ پر مبنی صحافت کو اپنا مشن بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ چینل عوام کا اعتماد حاصل کر چکا ہے اور نہ صرف بڑے شہروں بلکہ دور دراز اور نظر انداز شدہ علاقوں کی آواز بھی عالمی فورمز تک پہنچا رہا ہے۔
پروگرامز اور انوسٹیگیشن
گزشتہ 14 برسوں میں باغی ٹی وی نے صرف خبر فراہم کرنے تک محدود نہیں رہا۔ "باغی بریسٹر” اور "باغی کا پاکستان” جیسے پروگرام عوام کو حقائق سے آگاہ کرتے رہے۔ معروف انوسٹیگٹیو جرنلسٹ محسن بھٹی کا پروگرام "موت کا دھندا” ایک ایسا ایپی سوڈ ہے جسے 1.8 ملین سے زائد افراد نے دیکھا۔ "باغی ستارے” اور "خوابوں کی تعبیر” جیسے پروگرام بھی عوامی شعور بیدار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں لاہور کی بادشاہی مسجد سے نماز تراویح کی لائیو کوریج، باغی ٹی وی کی عوام دوست پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یوٹیوب اور ڈیجیٹل موجودگی
باغی ٹی وی نے یوٹیوب پر بھی اپنی موجودگی مستحکم کی ہے، جہاں 2200 سے زائد ویڈیوز دستیاب ہیں۔ یہ محض تعداد نہیں بلکہ سنسرشپ کے دور میں سچ کی داستان ہے، جو عوام کو باخبر رکھنے اور حقائق پہنچانے کا ذریعہ ہے۔
عوام کے لیے آواز
باغی ٹی وی نے ہر سطح کی آواز کو سنا، چاہے وہ چھوٹے اور نظر انداز شدہ علاقوں کی ہو یا بڑے شہروں کی۔ علاقائی اور ریجنل ہیڈ لائنز کی کوریج، عوام تک معلومات پہنچانے اور انہیں باخبر رکھنے کے سلسلے کا حصہ ہیں۔
سچائی، جرات اور صحافتی اصول
پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا میں باغی ٹی وی کی پہچان صرف خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں، بلکہ یہ سچ بولنے اور طاقت کے سامنے نہ جھکنے کی علامت ہے۔ ایسے وقت میں جب جھوٹ ریٹنگ اور مفاد کے درمیان ترجیح پا رہا ہو، باغی نے سچ بولنا منتخب کیا۔ یہ پلیٹ فارم ان لوگوں کی آواز ہے جنہیں طاقت کے مراکز تک پہنچنے کا موقع نہیں ملتا، اور یہ سوالوں کی نمائندگی کرتا ہے جو اکثر فائلوں میں دفن رہ جاتے ہیں۔
مستقبل کی امید
14 سال مکمل کرنے کے بعد باغی ٹی وی نئے ولولے، جرات اور عوامی شعور کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ پلیٹ فارم صرف ایک میڈیا ادارہ نہیں، بلکہ وقت کے ضمیر کی طرح ہے، جو سچائی، حق اور عوامی شعور کی پاسداری کرتا ہے۔
آج باغی ٹی وی کی سالگرہ محض ایک جشن نہیں بلکہ سچ کے ساتھ ایک اور سال مکمل ہونے کا اعلان ہے، اور یہ ثابت کرتی ہے کہ آزاد اور غیر جانبدار صحافت کے لیے حوصلہ اور عزم کی ضرورت ہے۔چودہ برسوں سے سچائی، تحقیق اور عوامی شعور کی خدمت کرتے ہوئے، باغی ٹی وی نے پاکستان کے ڈیجیٹل میڈیا میں اپنی پہچان قائم کی۔
آج بھی ہم خبریں، انوسٹیگیشن اور پروگرامز کے ذریعے آپ کے ساتھ ہیں، ہر آواز کو نمایاں کرتے ہوئے۔ -

’کیا آپ زندہ ہیں؟‘ اکیلے رہنے والوں کیلئے چینی ایپ وائرل
چین میں ایک نئی موبائل ایپ ’آر یو ڈیڈ؟‘ (کیا آپ زندہ ہیں؟) تیزی سے مقبول ہو رہی ہے جو خاص طور پر اکیلے رہنے والے افراد کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس ایپ میں صارف کو ہر دو دن بعد ایک بٹن دبا کر یہ تصدیق کرنی ہوتی ہے کہ وہ خیریت سے ہے۔ اگر مقررہ وقت میں چیک اِن نہ کیا جائے تو ایپ خود بخود صارف کے نامزد ایمرجنسی نمبر پر اطلاع بھیجتی ہے کہ وہ ممکنہ خطرے میں ہو سکتا ہے۔
یہ ایپ مئی 2025 میں لانچ ہوئی تھی، مگر حالیہ ہفتوں میں چینی شہروں میں نوجوانوں میں اس کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہ اب ملک کی سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی پریمیم ایپ بن چکی ہے۔
چینی تحقیقی اداروں کے اندازے کے مطابق 2030 تک چین میں اکیلے رہنے والے افراد کے گھر 20 کروڑ تک پہنچ سکتے ہیں، اور یہ ایپ انہی افراد کو ہدف بناتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ نام کی وجہ سے ہونے والی تنقید کے پیش نظر تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔
یہ ایپ عالمی سطح پر Demumu کے نام سے دستیاب ہے اور امریکا، سنگاپور، ہانگ کانگ میں ادائیگی والی یوٹیلٹی ایپس میں دوسرے نمبر پر ہے جبکہ آسٹریلیا اور اسپین میں ٹاپ 4 ایپس میں شامل ہے۔ -

صدر کے دستخط کے بغیر اسپیشل اکنامک زونز آرڈیننس جاری، پی پی کا قومی اسمبلی سے واک آؤٹ
پاکستان پیپلزپارٹی نے صدر مملکت آصف زرداری کے دستخط کے بغیر اسپیشل اکنامک زونز آرڈیننس جاری کیے جانے پر قومی اسمبلی کا اجلاس چھوڑ دیا۔ پی پی کے ارکان نے واک آؤٹ کرتے ہوئے احتجاج کیا اور رہنما نوید قمر نے کہا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ حکومت نے ایک ایسا آرڈیننس نافذ کیا جس کی صدر نے منظوری نہیں دی، اس قانون کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر واضح کرتی ہے کہ صدر کی توثیق کے بغیر آرڈیننس کو نوٹیفائی نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری کیے جانے کے بعد پارلیمانی پارٹی اجلاس بلایا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں پارٹی آئینی عمل کے تحفظات پر ارکان سے مشاورت کرے گی تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جا سکے۔ -

غزہ میں نسل کشی روکنے کے لیے فوری اقدام کیا جائے، اقوام متحدہ سے اپیل
انسانی حقوق کے اداروں کے اتحاد حریہ نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں دو ملین سے زائد فلسطینی شہریوں کے خلاف قابض اسرائیل کی جاری نسل کشی کو روکنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کریں۔
حریہ نے اپنے بیان میں زور دیا کہ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے، بالخصوص انروا، فوری طور پر مستقل اور محفوظ انسانی امدادی راستے کھولیں تاکہ خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات بغیر کسی شرط اور رکاوٹ کے متاثرہ شہریوں تک پہنچ سکیں۔
بیان میں کہا گیا کہ دنیا کے وزرائے خارجہ اور اقوام متحدہ کو قابض اسرائیل اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ ڈالنا ہوگا تاکہ غزہ پر عائد سخت محاصرہ ختم کرایا جا سکے۔ حریہ نے سیاسی مفادات کے تحت معابر کھولنے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے امدادی سامان پر قابض اسرائیل کے مکمل کنٹرول کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا۔
حریہ نے خبردار کیا کہ غزہ اس وقت ایک سنگین انسانی بحران سے دوچار ہے، جہاں خوراک کی قلت، طبی سہولیات کی شدید کمی اور بیرون ملک علاج پر پابندی کے باعث اموات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ بیان کے مطابق اکتوبر 2023 سے غزہ پر مکمل لاک ڈاؤن نافذ ہے جس نے شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ خوراک اور ادویات کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کو جسمانی اور نفسیاتی نقصان پہنچانا ہے۔ حقوقی اداروں کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کے تحت نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔
حریہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فوری اور مؤثر اقدامات کے ذریعے غزہ کے مظلوم عوام کی جانیں بچائی جائیں اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی جائے۔ -

بلغاریہ ورک فرام ہوم کرنے والوں کے لیے خوش آمدید کہنے والا یورپی ملک
اگر آپ کسی کمپنی کے لیے ورک فرام ہوم کر رہے ہیں اور کسی اور ملک میں منتقل ہونے کا سوچ رہے ہیں، تو بلغاریہ آپ کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے۔
بلغاریہ نے حال ہی میں یورو کرنسی اپنائی اور Schengen زون کا حصہ بنا، جو 29 ایسے ممالک پر مشتمل ہے جن کی سرحدیں ایک دوسرے کے لیے کھلی ہیں۔ اس یورپی ملک نے غیر یورپی شہریوں کے لیے ڈیجیٹل نوماڈ ویزا پروگرام متعارف کرایا ہے۔
ورک فرام ہوم اب بیشتر افراد کی زندگی کا معمول بنتا جا رہا ہے، جس میں دفتر جانے کی ضرورت نہیں رہتی، اور لوگ اپنے کام کے ساتھ دنیا کو دیکھنے کا موقع حاصل کر رہے ہیں۔ ایسے افراد کو ڈیجیٹل نوماڈ کہا جاتا ہے۔
بلغاریہ کا نیا ڈیجیٹل نوماڈ پروگرام ان افراد کے لیے ہے جو کسی کمپنی کے لیے ورک فرام ہوم کر رہے ہوں یا فری لانسر کے طور پر سرگرم ہوں۔ اس پروگرام کے لیے درخواست دینے والے افراد کی سالانہ آمدنی کم از کم 31 ہزار یورو ہونی چاہیے۔
اپلائی کرنے والے افراد کو اپنے ملک میں بلغاریہ کے سفارتخانے سے ڈی لونگ اسٹے ویزا کے لیے رابطہ کرنا ہوگا۔ ویزا کے تحت غیرملکی بلغاریہ میں جا کر رہائش کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔ بلغاریہ پہنچنے کے 14 دن کے اندر رہائشی پرمٹ کے لیے درخواست دینا ضروری ہے۔
پرمٹ کے لیے درخواست گزار کو بلغاریہ میں قیام کا ثبوت، جرائم سے پاک ریکارڈ، دستاویزات کا بلغارین ترجمہ، سالانہ آمدنی اور ہیلتھ انشورنس کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔
ڈیجیٹل نوماڈ ویزا کی مدت ایک سال ہوگی، جس میں مزید ایک سال کے اضافے کا امکان موجود ہے۔ -

توشہ خانہ کے ریکارڈ سامنے، اہم شخصیات نے کیا کیا تحائف وصول کیے
توشہ خانہ کے تازہ ریکارڈ کے مطابق صدر مملکت، وزیراعظم اور دیگر اہم شخصیات نے موصولہ تحائف توشہ خانہ میں جمع کرادیے ہیں۔ کابینہ ڈویژن نے اکتوبر تا دسمبر 2025ء کے توشہ خانہ ریکارڈ جاری کیا، جس میں تحائف کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری، اسحاق ڈار، محسن نقوی، عطاء تارڑ، شزا فاطمہ، اویس لغاری، احد چیمہ، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور معاون خصوصی طارق فاطمی سمیت دیگر شخصیات نے تحائف وصول کیے۔
موصولہ تحائف میں روزہ رسول، خانہ کعبہ اور مکہ مکرمہ کے ماڈلز، پینٹنگز، پرفیومز، شیلڈز، کارپٹ، ٹی سیٹ، تلوار، خنجر، گلدان، گھڑیاں، ڈیکوریشن پیسز، سعودی کافی، کتابیں، رائل کیپ، یادگار، ٹیبل واچ، میٹرو بس کا ماڈل، قہوہ پاٹ، شرٹس، میوزیکل انسٹرومنٹس، کمبل، اسکارف اور ٹائی سمیت دیگر تحائف شامل ہیں۔ -

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ, بنگلادیشی ٹیم کے بھارت نہ آنے پر بھارتی میڈیا کا منفی پروپیگنڈا شروع
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلادیش کرکٹ ٹیم کے بھارت میں شیڈول میچز غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگئے ہیں۔ بنگلادیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے آئی سی سی کو بھیجی گئی ای میل کے جواب کا تاحال انتظار کیا جا رہا ہے، تاہم اس سے قبل ہی بھارتی میڈیا نے قیاس آرائیوں اور منفی پروپیگنڈے کا آغاز کر دیا ہے۔
بھارتی کرکٹ ویب سائٹس کا دعویٰ ہے کہ بنگلادیش کے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کیے جانے کے امکانات کم ہیں اور اب میچز کے وینیوز تبدیل کرنے کا آپشن زیر غور ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش کے میچز کے لیے چنئی اور تھیرو وننتھاپورم کو متبادل مقامات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ویب سائٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئی سی سی اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے درمیان مؤقف پر اختلافات برقرار ہیں۔ دوسری جانب سکیورٹی خدشات کے باعث بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ اس کے تمام میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں۔
اس معاملے پر آئی سی سی کی جانب سے تاحال کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ -

امریکی کمپنی نے دنیا کی پہلی اُڑنے والی کار متعارف کرانے کی تیاری شروع کردی
امریکی کمپنی الیف ایرو ناٹکس نے دنیا کی پہلی اُڑنے والی کار کی تیاری کا آغاز کردیا ہے۔ کمپنی کے مطابق الیف ماڈل اے الٹرا لائٹ نامی یہ گاڑی 2026 کے اوائل میں صارفین کے لیے دستیاب ہوسکتی ہے۔
الیف ایرو ناٹکس کا کہنا ہے کہ یہ مکمل طور پر برقی گاڑی ہے جو زمین پر چلنے کے ساتھ ساتھ فضا میں اڑان بھرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ اس گاڑی کو شہری علاقوں میں ٹریفک کے شدید مسائل سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق اگر صارف پرواز نہ کرنا چاہے تو الیف ماڈل اے کو زمین پر اتار کر عام کار کی طرح سڑک پر بھی چلایا جاسکتا ہے۔
اڑنے والی اس گاڑی کی ابتدائی قیمت 3 لاکھ ڈالر مقرر کی گئی ہے جبکہ اب تک ساڑھے تین ہزار سے زائد پری آرڈرز موصول ہوچکے ہیں۔