Baaghi TV


اے آئی تربیت کے لیے کتابیں اسکین کرنے کے بعد اصل نسخے تلف کیے جانے کا انکشاف

برطانوی میڈیا کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کی چند بڑی ٹیک کمپنیاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈلز کی تربیت کے لیے بڑی تعداد میں کتابیں خریدنے، انہیں ڈیجیٹل شکل میں اسکین کرنے اور بعد ازاں بعض صورتوں میں ان کے اصل نسخے تلف کرنے کا طریقہ اختیار کر رہی ہیں۔ اس انکشاف کے بعد علمی، ادبی اور ثقافتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹیک کمپنیاں پرانی اور مختلف موضوعات پر مشتمل کتابیں بڑی تعداد میں حاصل کرتی ہیں، جنہیں تیز رفتار اسکیننگ مشینوں کے ذریعے ڈیجیٹل فارمیٹ میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران بعض اوقات کتابوں کی جلد کو کاٹنا یا انہیں الگ کرنا پڑتا ہے تاکہ ہر صفحے کو تیزی سے اسکین کیا جا سکے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسکیننگ مکمل ہونے کے بعد بعض کتابوں کے اصل نسخے محفوظ رکھنے کے بجائے تلف کر دیے جاتے ہیں۔
‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ طریقہ عام کتابوں تک محدود رہے تو بھی یہ قابلِ بحث معاملہ ہے، لیکن اگر اس میں نایاب، تاریخی یا محدود تعداد میں دستیاب کتابیں بھی شامل ہوں تو یہ انسانی علم، ادبی سرمایہ اور ثقافتی ورثے کے لیے ایک بڑا نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اصل کتابیں صرف معلومات کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ اپنی اشاعت، کاغذ، طباعت اور تاریخی حیثیت کے باعث بھی اہمیت رکھتی ہیں۔
‎ادبی اور لائبریری شعبے سے وابستہ ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسی کتابوں کی اسکیننگ کے دوران ان کے اصل نسخوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نقل کبھی بھی اصل تاریخی دستاویز یا کتاب کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی، اس لیے قیمتی علمی ذخیرے کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
‎دوسری جانب ٹیکنالوجی کے حامی ماہرین کا مؤقف ہے کہ کتابوں کی ڈیجیٹلائزیشن سے معلومات تک رسائی آسان ہوتی ہے اور مصنوعی ذہانت کی ترقی میں بھی مدد ملتی ہے۔ تاہم وہ بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نایاب اور تاریخی اہمیت کی حامل کتابوں کو تلف کرنے کے بجائے محفوظ کیا جانا چاہیے تاکہ آئندہ نسلیں بھی اس علمی ورثے سے مستفید ہو سکیں۔
‎یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹا، کاپی رائٹ قوانین اور علمی وسائل کے تحفظ سے متعلق دنیا بھر میں بحث تیزی سے جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ علمی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے

More posts