اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان بولورما امگابازار کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معاشی صورتحال، مالیاتی اصلاحات اور وفاقی و صوبائی تعلقات سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے پاکستان کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں ورلڈ بینک کے دیرینہ تعاون کو سراہتے ہوئے اس شراکت داری کو انتہائی اہم قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی ترقیاتی ترجیحات کے حصول میں ورلڈ بینک کے مسلسل تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پر بھرپور انداز میں عمل پیرا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئینی وفاقی نظام، صوبائی خودمختاری اور وفاق و صوبوں کے درمیان باہمی مشاورت اور تعاون ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
اس موقع پر ورلڈ بینک کے وفد نے "پاکستان میں مالیاتی وفاقی نظام کو مضبوط بنانا” کے عنوان سے تیار کردہ رپورٹ پیش کی اور اس کے اہم نکات سے آگاہ کیا۔ وفد نے رپورٹ میں اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے بعد پاکستان میں مالیاتی وفاقی نظام کے ارتقا، محصولات، اخراجات، وفاق اور صوبوں کے مالیاتی تعلقات، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔
ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے، وسائل کے مؤثر استعمال، عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کے فروغ کے لیے متعدد پالیسی سفارشات بھی پیش کیں۔
وزیراعظم نے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ بینک کی جانب سے پیش کیا گیا تجزیہ اور عالمی تجربات کی روشنی میں کیا گیا تقابلی جائزہ قابلِ تحسین ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی تحقیقی رپورٹس پالیسی سازی کے عمل میں مفید رہنمائی فراہم کرتی ہیں اور بہتر فیصلے کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف سے ورلڈ بینک وفد کی ملاقات
