تلہ گنگ میں چھ روز قبل لاپتا ہونے والی 17 سالہ لڑکی تحریم اختر کی لاش برآمد ہونے کے بعد علاقے میں افسوس اور تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ فرانزک شواہد کی مدد سے موت کی وجوہات اور ممکنہ ملزمان کا تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق تحریم اختر گزشتہ چار برس سے اپنے ماموں کے گھر، ڈھوک ڈالی داخلی موگلہ میں رہائش پذیر تھیں۔ اہل خانہ کے مطابق وہ 24 اور 25 جولائی کی درمیانی شب اچانک گھر سے لاپتا ہو گئی تھیں، جس کے بعد ان کی تلاش شروع کی گئی۔
لڑکی کے ماموں کی درخواست پر تھانہ صدر تلہ گنگ میں 25 جولائی کو نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی تھی اور لاپتا لڑکی کی تلاش جاری تھی۔
آج موگلہ کے قریب ایک دربار کے نزدیک جھاڑیوں سے تحریم اختر کی لاش برآمد ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق لاش گھاس سے ڈھکی ہوئی تھی جبکہ ناک سے جھاگ نکل رہی تھی اور چہرے پر خون کے نشانات بھی موجود تھے۔ تاہم موت کی اصل وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ صدر تلہ گنگ کی پولیس ٹیم ایس ایچ او امان اللہ کی سربراہی میں موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔
پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیم کو بھی موقع پر طلب کیا گیا تاکہ جائے وقوعہ سے شواہد اور نمونے حاصل کیے جا سکیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک رپورٹ، پوسٹ مارٹم، موبائل ریکارڈ اور دیگر شواہد کی روشنی میں واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق فی الحال واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں اور قبل از وقت کسی نتیجے پر پہنچنا مناسب نہیں ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ شواہد کی بنیاد پر قتل کے محرکات اور اس میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جائے گی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
تلہ گنگ: چھ روز سے لاپتا 17 سالہ لڑکی کی لاش برآمد
