اڈیالہ جیل میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کی نگرانی میں بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ شروع کر دیا گیا ہے، جس کی تصدیق جیل انتظامیہ نے کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق مختلف سرکاری اور نجی اسپتالوں کے ماہر ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم معائنے میں شریک ہے، جبکہ اسلام آباد کے معروف اسپتالوں کے ڈاکٹرز بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آنکھوں کے تفصیلی معائنے کے لیے ہولی فیملی اسپتال سے خصوصی طبی آلات بھی جیل منتقل کیے گئے ہیں تاکہ مکمل طبی جانچ ممکن بنائی جا سکے۔
جیل حکام کے مطابق طبی معائنے کی رپورٹ مرتب کیے جانے کے بعد متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا جائے گا۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں بانی پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ شروع
-

وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری: اہم تقرریاں اور توسیع، نوٹیفکیشن جاری
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے مختلف اہم سرکاری تقرریوں اور توسیع کی منظوری دے دی، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق تنویر احمد کو پراجیکٹ مانیٹرنگ اینڈ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سیل میں ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے، اور انہیں وزارتِ آئی ٹی کے منصوبے میں کنٹریکٹ بنیادوں پر 22 جون تک تعینات کیا گیا ہے۔
اسی طرح کاشف ذوالفقار کو منصوبے کا ڈائریکٹر (پالیسی اینڈ گورننس) مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
مزید برآں، وزیراعظم نے انڈس واٹر کمشنر محمد مہر علی شاہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی بھی منظوری دی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق محمد مہر علی شاہ کو انڈس واٹر کمشنر کے اضافی چارج کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ -

کراچی کے مسائل پر جماعت اسلامی کا سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی کل سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دے گی، جس کا مقصد کراچی کے شہری مسائل اور حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتجاج شام چار بجے شروع ہوگا اور ہر صورت جاری رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق دھرنے کا مقصد شہریوں کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے لیے حکومت کو جوابدہ بنانا ہے۔
منعم ظفر نے کہا کہ احتجاج بااختیار میگا سٹی گورنمنٹ کے قیام، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے اور حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ 18 برسوں کی نااہلی کے خلاف عوامی سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ “جینے دو کراچی مارچ” کے بعد یہ احتجاجی تحریک کا اگلا مرحلہ ہے، جبکہ دھرنے کے اعلان کے بعد حکومتی حلقوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج روکنے کے لیے کسی بھی قسم کے ہتھکنڈے استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ دھرنا ہر صورت ہوگا۔ -

سعودی عرب کی عازمین حج کے لیے یونیفائیڈ ویلکم آئیڈینٹی ’حیاکم اللہ‘ متعارف
سعودی عرب کی وزارت اطلاعات کے تحت یونیفائیڈ میڈیا آپریشنز سینٹر فار حج نے ضیوف الرحمان خدمت پروگرام کے تعاون سے عازمین کے خیرمقدم کے لیے یونیفائیڈ ویلکم آئیڈینٹی ’حیاکم اللہ‘ لانچ کر دی ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اقدام حج وعمرہ، ثقافت کی وزارتوں اور ٹورازم اتھارٹی کے مربوط تعاون کا نتیجہ ہے اور مملکت کے وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
رپورٹس کے مطابق ’حیاکم اللہ‘ کا مقصد عازمین اور زائرین کی مملکت آمد کے وقت میڈیا اور آگاہی پیغامات کو معیاری بنانا ہے۔ اس کی اصطلاح ’وارم ویلکم‘ کا احساس دلاتی ہے۔
یونیفائیڈ میڈیا آپریشنز سینٹر کے مطابق یہ ویلکم آئیڈینٹی حج سیزن میں خدمات انجام دینے والے تمام سرکاری اداروں کے لیے منظور شدہ ہوگی۔ اس میں داخلے کے مقامات، خدمات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور میڈیا مواد کے لیے مختلف بصری اور میڈیا ایپلی کیشنز شامل ہیں تاکہ عازمین کے تجربے کو بہتر بنایا جا سکے اور میڈیا کے معیار میں اضافہ ہو۔ -

اسلام آباد میں کے پی ہاؤس کے باہر شفیع جان اور پولیس اہلکاروں میں ہاتھا پائی
اسلام آباد میں کے پی ہاؤس کے باہر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی کا واقعہ پیش آیا۔
واقعے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی نے پولیس کے رویے پر شدید احتجاج کیا۔ پولیس اہلکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا کے ایک رکن اور حکومتی ترجمان کے ساتھ نامناسب سلوک کیا گیا اور ان کا گریبان تک پھاڑ دیا گیا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ایک صوبائی وزیر کے ساتھ اس طرح کا رویہ افسوسناک ہے اور پولیس کو اپنے طرزِ عمل کا احساس ہونا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اہلکاروں نے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور واقعے کو غیر ضروری طور پر کشیدہ بنایا۔
واقعے کے بعد موقع پر کشیدگی دیکھنے میں آئی جبکہ پولیس اور حکومتی نمائندوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ تاہم صورتحال بعد ازاں قابو میں آ گئی۔ -

این اے 256 خضدار پر ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری، پولنگ 5 اپریل کو ہوگی
اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل کی خالی کردہ قومی اسمبلی کی نشست این اے 256 خضدار پر ضمنی انتخاب کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔
کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پولنگ 5 اپریل 2026 کو ہوگی جبکہ انتخاب کے لیے پبلک نوٹس 18 فروری کو جاری کیا جائے گا۔
ضمنی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی 20 سے 24 فروری تک جمع کرائے جا سکیں گے، نامزد امیدواروں کی فہرست 25 فروری کو جاری ہوگی اور انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ 18 مارچ کو ہوگی۔
نوٹیفکیشن میں یہ بھی بتایا گیا کہ ضمنی انتخاب کے لیے ڈپٹی کمشنر خضدار کو ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔
این اے 256 کی نشست سردار اختر مینگل کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی، جو تین روز قبل اسپیکر قومی اسمبلی نے منظور کیا تھا۔ -

پاکستانی اسپنر عثمان طارق کا بولنگ ایکشن درست، بھارتی امپائر
سابق بھارتی کرکٹر روی چندرن ایشون کے بعد بھارت کے انٹرنیشنل امپائر انیل چوہدری نے بھی پاکستانی اسپنر عثمان طارق کے بولنگ ایکشن کو قوانین کے مطابق قرار دے دیا ہے۔
آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اتوار کو پاکستان اور بھارت کے درمیان اہم مقابلہ شیڈول ہے، جس سے قبل پاکستانی اسپنر عثمان طارق کے بولنگ ایکشن پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ بھارتی سوشل اور مین اسٹریم میڈیا میں ان کے ایکشن پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔
عثمان طارق کا بولنگ انداز روایتی اسپنرز سے مختلف ضرور ہے، تاہم وہ آئی سی سی کی جانب سے کلیئر قرار دیے جا چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے امریکا کے خلاف میچ میں شرکت کی اور مؤثر بولنگ کا مظاہرہ کیا۔
بولنگ کے دوران مختصر وقفے کی وجہ سے بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی تھی، تاہم اس معاملے پر سابق بھارتی آف اسپنر روی چندرن ایشون کے بعد اب بھارتی امپائر انیل چوہدری نے بھی وضاحت پیش کی ہے۔
ایک بھارتی ڈیجیٹل پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انیل چوہدری نے کہا کہ عثمان طارق ہر گیند اپنے مخصوص انداز کے مطابق کرتے ہیں، اس لیے ان کا ایکشن قانونی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ صرف اس صورت میں پیدا ہوگا جب بولر اپنے معمول کے ایکشن سے ہٹ کر گیند کروائے۔
انیل چوہدری کے مطابق اگر عثمان طارق مستقل طور پر ایک ہی انداز برقرار رکھتے ہیں تو قوانین کے تحت ان کی بولنگ میں کوئی قباحت نہیں۔ -

وزیراعظم شہباز شریف کا بی این پی سربراہ طارق رحمان سے رابطہ، انتخابی کامیابی پر مبارکباد
وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے انہیں عام انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی۔
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے بنگلادیش کے عوام کو کامیاب عام انتخابات کے انعقاد پر بھی مبارکباد پیش کی اور پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
اعلامیے کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی، خطے کے امن اور ترقی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر بیگم خالدہ ضیا کی پاک بنگلادیش تعلقات کے فروغ کے لیے خدمات کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے رابطے میں رہنے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے طارق رحمان کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
یاد رہے کہ بنگلادیش کے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری سرکاری نتائج کے مطابق 299 نشستوں پر ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بی این پی نے 212 نشستیں حاصل کرکے دو تہائی اکثریت حاصل کی، جبکہ جماعت اسلامی 77 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔ -

احمد آباد طیارہ حادثہ پائلٹ کے مبینہ دانستہ اقدام کا نتیجہ, اطالوی میڈیا
اطالوی میڈیا کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کے شہر احمد آباد میں پیش آنے والا طیارہ حادثہ مبینہ طور پر پائلٹ کے دانستہ اقدام کے باعث پیش آیا۔
رپورٹ کے مطابق طیارے کے کمانڈر کیپٹن سمیت سبر وال نے مبینہ طور پر خود ایندھن کے سوئچ بند کیے، جس کے نتیجے میں طیارہ حادثے کا شکار ہوا۔
میڈیا رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حادثے سے تقریباً ایک ماہ قبل کیپٹن سبر وال ڈپریشن کا شکار تھے۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ اور بلیک باکس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا میں مکینیکل خرابی کے امکان کو مسترد کیا گیا ہے۔
ایک اور رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایئر انڈیا نے متاثرین کے اہل خانہ کو مالی معاوضے کی پیشکش اس شرط پر کی کہ وہ قانونی کارروائی سے گریز کریں۔
یاد رہے کہ بھارتی ایئرلائن کا طیارہ 2025 میں احمد آباد ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے کے فوراً بعد گر کر تباہ ہوگیا تھا، جس کے نتیجے میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ -

اسلام آباد میں مساجد کی سکیورٹی ، مسلح گارڈ کی تعیناتی لازم
وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے مساجد کی انتظامیہ کو سکیورٹی کے حوالے سے جوابی مراسلہ جاری کر دیا ہے۔
پولیس نے ہدایت دی ہے کہ عبادت کے اوقات میں ہر مسجد میں کم از کم ایک مسلح سکیورٹی گارڈ تعینات کیا جائے، جسے اسلحہ رکھنے کی اجازت مسجد کی حدود تک ہوگی۔
مزید ہدایات کے مطابق مسجد کے داخلی اور خارجی راستوں کے علاوہ اردگرد کی پارکنگ کے لیے کوئی اضافی راستہ نہیں ہوگا اور داخلے و نکلنے کے لیے صرف ایک مرکزی راستہ مقرر کیا گیا ہے۔
مسجد کے مین گیٹ کے باہر ریڑھی بان، گداگر، ٹوپیاں اور دیگر اشیاء کی خرید و فروخت پر پابندی ہوگی، جبکہ مشکوک افراد یا سامان کی صورت میں فوری پولیس کو اطلاع دینا لازمی ہوگی۔
پولیس نے مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ تمام اصول و ضوابط پر فوری عمل کریں، ورنہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔