وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات پر اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملکی ذخائر، کھپت اور پیٹرولیم کارگوز سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے اور آئندہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزید انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ وزیراعظم کی بروقت ہدایات کے باعث ایندھن کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں مدد ملی ہے۔
شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں غیر مستحکم صورتحال کے باعث ایندھن کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مزید بچت اقدامات ناگزیر ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبوں کے ساتھ مل کر ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
اجلاس میں کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ وزیراعظم نے کہا کہ ان پالیسیوں کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے اشرافیہ پر زور دیا کہ وہ مثال قائم کرتے ہوئے بچت کو فروغ دیں۔
حکومت نے عوام سے اپیل کی کہ پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں احتیاط برتیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کار پولنگ کو فروغ دیں تاکہ ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں اور پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے۔
اجلاس میں اعلیٰ سول و عسکری قیادت اور وفاقی وزرا نے شرکت کی اور بدلتی صورتحال کے مطابق حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔
Author: Aqsa Younas Rana

ایندھن بچاؤ پالیسی پر اہم اجلاس، حکومت کا کفایت شعاری پر زور

پاکستان کا دوٹوک مؤقف: میزائل پروگرام پر امریکی بیان مسترد
ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتیں مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی حامل ہیں اور ان کا مقصد صرف قومی خودمختاری کا تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنے دفاع کو یقینی بنانے کا حق رکھتا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کے غیر مصدقہ الزامات کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی پالیسی میں توازن برقرار رکھتے ہوئے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
پاکستان میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عیدالفطر 21 مارچ کو ہوگی
پاکستان میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا جس کے بعد مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ عیدالفطر 21 مارچ کو منائی جائے گی۔
ملک بھر سے چاند نظر آنے کی کوئی مستند شہادت موصول نہیں ہوئی، جس کے باعث رمضان المبارک کے 30 روزے مکمل کیے جائیں گے۔
رویت ہلال کمیٹی کے مطابق مختلف شہروں سے موصول ہونے والی اطلاعات اور سائنسی ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
اعلان کے بعد ملک بھر میں عیدالفطر کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں اور شہری 21 مارچ کو عید منانے کے لیے پرجوش ہیں۔
ایران کے جنوبی پارس فیلڈ پر حملہ، امارات نے عالمی توانائی سلامتی کو خطرہ قرار دے دیا
متحدہ عرب امارات نے ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایسے حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ حساس توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک خطرناک رجحان ہے جس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کرے تاکہ توانائی کے نظام کو محفوظ بنایا جا سکے اور خطے میں استحکام برقرار رہے۔
امارات نے سفارتی ذرائع کو مضبوط بنانے اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ مزید ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور عالمی معیشت کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔
بھارت اور بنگلادیش کا عیدالفطر سے متعلق اعلان
بھارت اور بنگلادیش نے عیدالفطر 2026 کے پہلے دن کا اعلان کر دیا۔
انڈین میڈیا کے مطابق بھارت میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا اس لیے عیدالفطر 21 مارچ کو ہو گی۔ لکھنوؤ اور حیدرآباد میں مسلم علما کونسل نے عیدالفطر 21مارچ کو منانے کا اعلان کیا ہے۔
بنگلادیش میں بھی شوال کا چاند نظر نہیں آیا اور یہاں بھی عیدالفطر 21 مارچ کو ہو گی۔ بھارت میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، جس کے بعد رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ عیدالفطر ہفتہ کے روز منائی جائے گی۔
رویت ہلال حکام کے مطابق ملک کے مختلف حصوں سے چاند نظر آنے کی کوئی مصدقہ شہادت موصول نہیں ہوئی، جس کے باعث رمضان المبارک کے روزے 30 دن مکمل کیے جائیں گے۔
اعلان کے بعد ملک بھر میں عید کی تیاریاں ہفتہ کے دن کے حساب سے جاری رکھی جا رہی ہیں، جبکہ شہریوں نے بھی سرکاری اعلان کے مطابق اپنی سرگرمیاں ترتیب دینا شروع کر دی ہیں۔
قطر کی گیس تنصیبات پر مبینہ میزائل حملہ، راس لفان میں آگ بھڑک اٹھی
قطر کی وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ راس لفان میں واقع گیس تنصیبات میں آگ لگ گئی ہے، جو مبینہ طور پر ایرانی میزائل حملوں کے بعد بھڑکی۔
حکام کے مطابق واقعے کے فوراً بعد ہنگامی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تنصیبات کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا ہے، تاہم جانی نقصان کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
قطری حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ سیکیورٹی ادارے واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ حملے کی نوعیت اور اس کے اثرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی بڑھ چکی ہے، اور اس طرح کے واقعات سے توانائی کی عالمی سپلائی اور علاقائی امن پر اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
شوال کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری
اسلام آباد میں شوال کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری ہے، جس کی صدارت چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کر رہے ہیں۔
اجلاس میں کمیٹی کے اراکین کے ساتھ ساتھ محکمہ موسمیات اور سپارکو کے نمائندے بھی شریک ہیں، جو مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی معلومات اور سائنسی ڈیٹا کا جائزہ لے رہے ہیں۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی ملک بھر سے چاند نظر آنے یا نہ آنے سے متعلق شواہد جمع کرے گی، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ عیدالفطر کب منائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق رویت ہلال کمیٹی کا اعلان ہی عید کے تعین کے لیے حتمی سمجھا جائے گا، اور عوام اسی اعلان کے مطابق عیدالفطر کی تیاری کریں گے۔
کئی ممالک جدید ایٹمی میزائل صلاحیت بڑھا رہے ہیں: امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ
امریکی انٹیلیجنس ڈائریکٹر تلسی گیبرڈ نے کہا ہے کہ انٹیلیجنس اداروں کے مطابق روس، چین، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان جدید ایٹمی میزائل نظام پر کام کر رہے ہیں جن کی رینج امریکہ تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان ممالک کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرامز میں پیش رفت عالمی سلامتی کے لیے ایک اہم چیلنج کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی حکام اس صورتحال کو اپنی دفاعی حکمت عملی کے تناظر میں مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت اور اسٹریٹجک توازن کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ مختلف ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ماضی میں کچھ ممالک پر میزائل پروگرام کے حوالے سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ خطے میں دیگر اتحادی ممالک کے دفاعی پروگرامز کی حمایت بھی جاری رہی ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر بحث ہوتی رہی ہے۔
ایران کے خدشات کے پیش نظر امارات اسرائیل سے تعلقات مضبوط کرے گا
متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور گرگاش نے کہا ہے کہ ایران سے لاحق خطرات کے باعث امارات اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے اقدامات نے امارات کو اپنی سیکیورٹی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس صورتحال میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کو دفاعی نقطہ نظر سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
انور گرگاش نے مزید کہا کہ امارات اپنی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داریوں کو فروغ دے رہا ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ امارات خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
مشرق وسطیٰ کشیدگی، ٹرمپ نے چین کا دورہ ملتوی کر دیا
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا طے شدہ دورہ چین ملتوی کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے متعلق صورتحال کے پیش نظر وہ امریکا میں ہی رہنا چاہتے ہیں کیونکہ اس وقت ان کی موجودگی یہیں ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کا شیڈول تبدیل کیا جا رہا ہے اور چین کو اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ٹرمپ کا دورہ چین 31 مارچ سے 2 اپریل تک طے تھا، تاہم موجودہ حالات کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں خطے کی صورتحال اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی سے متعلق فیصلے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کی ذمہ داری ان ممالک کو دی جانی چاہیے جو اس راستے کو استعمال کرتے ہیں، تاکہ وہ خود اس حوالے سے فعال کردار ادا کریں۔








