Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
سعودی عرب کا ایران سے فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کا مطالبہ

    
سعودی عرب کا ایران سے فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کا مطالبہ

    ‎ریاض: سعودی عرب نے ایران سے ہر قسم کی فوجی کشیدگی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ خطے میں جاری تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے۔
    ‎سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔ اس لیے تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو حالات کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔
    ‎بیان میں ایران کی جانب سے کویت، بحرین اور اردن پر کیے گئے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ سعودی عرب ان ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق برادر ممالک کے دفاع اور تحفظ کے لیے کیے جانے والے ہر جائز اقدام کی تائید کی جائے گی۔
    ‎سعودی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کی حالیہ کارروائیاں خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں اور یہ بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے اصولوں کے منافی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
    ‎سعودی عرب نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے اور ایسے سفارتی اقدامات کی حمایت کرے جن سے امن و استحکام کو فروغ مل سکے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ تمام تنازعات کا پائیدار حل صرف بات چیت، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام سے ہی ممکن ہے۔
    ‎سعودی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مملکت خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ سلامتی کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گی اور تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ مل کر کشیدگی میں کمی لانے کے لیے تعاون کرے گی۔

  • 
دہشت گردوں کو دوبارہ منظم نہیں ہونے دیں گے، خیبرپختونخوا پولیس کا عزم

    
دہشت گردوں کو دوبارہ منظم نہیں ہونے دیں گے، خیبرپختونخوا پولیس کا عزم

    ‎لوئر دیر: خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو کسی صورت دوبارہ منظم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے لوئر دیر میں حالیہ دہشت گرد حملے کے دوران بہادری سے مقابلہ کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس ہر قیمت پر امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھاتی رہے گی۔
    ‎آئی جی پولیس نے یہ بات تیمرگرہ اسپتال کے دورے کے دوران زخمی اہلکاروں کی عیادت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر انہوں نے زخمی پولیس اہلکاروں کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی اہلکاروں کی حالت تسلی بخش ہے اور بعض اہلکار جلد اسپتال سے ڈسچارج ہو جائیں گے۔
    ‎ذوالفقار حمید نے کہا کہ صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے نئی حکمت عملی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بعض اضلاع میں سکیورٹی چیلنجز موجود ہیں، تاہم پولیس فورس کے حوصلے بلند ہیں اور اہلکار دہشت گردی کے خلاف پوری جرات اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ فرائض انجام دے رہے ہیں۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ رواں سال پولیس کو جدید سہولیات اور آلات سے لیس کرنے کے لیے 7 کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی جا رہی ہے، جبکہ آپریشنل استعداد بڑھانے کے لیے مزید فنڈز بھی مختص کیے گئے ہیں تاکہ فورس کو جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط بنایا جا سکے۔
    ‎آئی جی پی نے کہا کہ بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے رجحان کے سدباب کے لیے خصوصی سیلز قائم کیے گئے ہیں، جو ایسے مقدمات کی نگرانی اور کارروائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بیرون ملک سے کی جانے والی بھتہ خوری کی کالز کا سراغ لگانے کے لیے دفتر خارجہ بھی متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے تاکہ اس منظم جرم میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

  • 
میرپورخاص میں 18 سالہ لڑکی کی پراسرار موت

    
میرپورخاص میں 18 سالہ لڑکی کی پراسرار موت

    ‎میرپورخاص میں 18 سالہ لڑکی کی پراسرار موت نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس نے گھر سے لڑکی کی لاش برآمد ہونے کے بعد پوسٹ مارٹم کرانے میں مزاحمت پر دو بھائیوں اور چار ماموؤں سمیت چھ افراد کو حراست میں لے لیا، جبکہ قانونی کارروائی کے تحت پولیس کی نگرانی میں لاش کا پوسٹ مارٹم بھی مکمل کروا لیا گیا۔
    ‎پولیس کے مطابق واقعہ میرپورخاص کے علاقے کریم ٹاؤن میں پیش آیا، جہاں اہلِ محلہ کی اطلاع پر پولیس رات گئے موقع پر پہنچی اور گھر سے نوجوان لڑکی کی لاش اپنی تحویل میں لے لی۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران اہل خانہ نے لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کیا اور پولیس کارروائی میں مزاحمت بھی کی۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مزاحمت اور تفتیش میں مداخلت پر لڑکی کے دو بھائیوں اور چار ماموؤں کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق قانون کے مطابق موت کی وجوہات جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم ضروری تھا، جسے پولیس کی نگرانی میں مکمل کرایا گیا۔
    ‎ابتدائی معائنے کے دوران لڑکی کے جسم پر مبینہ تشدد کے نشانات بھی پائے گئے ہیں، جس کے بعد واقعے کی حساس نوعیت کے پیش نظر تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اصل حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد واضح ہوں گے۔
    ‎ایس ایس پی میرپورخاص کی ہدایت پر چار رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جو مختلف پہلوؤں سے واقعے کی چھان بین کر رہی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اگر تحقیقات اور میڈیکل رپورٹ میں کسی جرم کے شواہد سامنے آئے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج کر کے مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • 
فرانس کا کراچی میں قونصل خانہ مستقل بند کرنے کا فیصلہ

    
فرانس کا کراچی میں قونصل خانہ مستقل بند کرنے کا فیصلہ

    ‎فرانس نے اخراجات میں کمی کی عالمی پالیسی کے تحت کراچی میں قائم اپنے قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق یہ فیصلہ صرف بجٹ میں کمی اور سفارتی اخراجات محدود کرنے کی حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے اور اس کا پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔
    ‎کراچی میں یومِ آزادیٔ فرانس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرانس کے قونصل جنرل الیکسس شاٹاہٹنسکی نے کہا کہ قونصل خانے کی بندش فرانس کی عالمی سطح پر سفارتی اخراجات کم کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا مقصد صرف انتظامی اور مالی اخراجات میں کمی لانا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ کراچی میں فرانسیسی قونصل خانے کی بندش کے باوجود پاکستان اور فرانس کے درمیان سفارتی تعلقات پہلے کی طرح مضبوط رہیں گے۔ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان سرکاری سفارتی امور بنیادی طور پر اسلام آباد میں قائم فرانسیسی سفارت خانے کے ذریعے انجام دیے جائیں گے۔
    ‎قونصل جنرل کے مطابق فرانس کراچی میں اپنی موجودگی مکمل طور پر ختم نہیں کر رہا بلکہ شہر میں تین اہم اداروں کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا۔ اعزازی قونصل جنرل قونصلر خدمات اور سندھ حکومت سمیت صوبائی اداروں کے ساتھ رابطے برقرار رکھیں گے، جبکہ پاکستان فرانس بزنس الائنس دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور کاروباری تعاون کو فروغ دیتا رہے گا۔
    ‎انہوں نے مزید بتایا کہ الائنس فرانسیز کراچی فرانسیسی زبان، ثقافت اور تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ کا سلسلہ بھی بدستور جاری رکھے گا، تاکہ عوامی سطح پر دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں۔
    ‎الیکسس شاٹاہٹنسکی نے کراچی کو پاکستان کا اہم تجارتی اور معاشی مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر کی اہمیت مستقبل میں بھی برقرار رہے گی اور فرانسیسی ادارے مختلف شعبوں میں تعاون اور روابط کو فروغ دیتے رہیں گے۔

  • 
آپریشن شعبان میں مزید 3 دہشت گرد ہلاک، مجموعی تعداد 91 ہوگئی

    
آپریشن شعبان میں مزید 3 دہشت گرد ہلاک، مجموعی تعداد 91 ہوگئی

    ‎راولپنڈی: پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس کی جانب سے بلوچستان میں جاری مشترکہ آپریشن شعبان کے دوران مزید 3 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جس کے بعد اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 91 ہو گئی ہے۔
    ‎سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز فتنہ الخوارج کے خلاف مختلف علاقوں میں بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تازہ کارروائیوں کے دوران مزید تین دہشت گرد مارے گئے، جبکہ دشوار گزار علاقوں میں قائم دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو بھی مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج، ایف سی اور پولیس کی مربوط حکمت عملی کے باعث دہشت گردوں کو مسلسل بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ فورسز جدید انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہی ہیں تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 5 جولائی سے شروع ہونے والی مختلف کارروائیوں کے دوران اب تک مجموعی طور پر 129 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ ان آپریشنز کا مقصد بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا اور دہشت گرد عناصر کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن شعبان بلا تعطل جاری رکھا جائے گا۔ فورسز نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملک دشمن عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کا کوئی موقع نہیں دیا جائے گا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
    ‎سیکیورٹی اداروں نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ دہشت گردی کے خاتمے کی قومی کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

  • 
علاقائی کشیدگی کے تناظر میں حکومت الرٹ، پیٹرول کی مصنوعی قلت برداشت نہیں ہوگی: وزیراعظم

    
علاقائی کشیدگی کے تناظر میں حکومت الرٹ، پیٹرول کی مصنوعی قلت برداشت نہیں ہوگی: وزیراعظم

    ‎اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہے اور حکومت ہر قسم کی علاقائی اور معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ اگر حالات مزید اقدامات کا تقاضا کریں تو فوری عمل درآمد کے لیے جامع ہنگامی منصوبہ تیار رکھا جائے۔
    ‎وزیراعظم کی زیر صدارت علاقائی کشیدگی کے ممکنہ معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں حکام نے حکومت کی کفایت شعاری اور اخراجات میں کمی سے متعلق اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
    ‎اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی صورتحال غیر یقینی ہے، اس لیے تمام متعلقہ ادارے ہر ممکن چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری برقرار رکھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت معیشت کے استحکام اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری فیصلے بروقت کرے گی۔
    ‎شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی بحران پیدا کرنے کی کسی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور عوام کو بلا تعطل پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
    ‎وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح معاشی استحکام کو برقرار رکھنا، کاروباری سرگرمیوں کا تسلسل یقینی بنانا اور عوام کو غیر ضروری مشکلات سے محفوظ رکھنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور مؤثر رابطے کے ذریعے کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت مقابلہ کریں۔
    ‎انہوں نے گزشتہ کفایت شعاری مہم کے دوران عوام کے تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ قوم نے مشکل حالات میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اگر آئندہ بھی غیر معمولی حالات پیدا ہوئے تو عوام اور تمام ادارے اسی جذبے کے ساتھ حکومت کا ساتھ دیں گے تاکہ ملک کی معیشت مستحکم رہے اور قومی مفادات کا بھرپور تحفظ کیا جا سکے۔

  • 
ایف آئی اے میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے، متعدد افسران نئی ذمہ داریوں پر تعینات

    
ایف آئی اے میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے، متعدد افسران نئی ذمہ داریوں پر تعینات

    ‎اسلام آباد: فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) میں بڑے پیمانے پر افسران کے تقرر و تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت مختلف زونز، ونگز اور سرکلز میں متعدد افسران کو نئی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
    ‎جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سید رضوان شاہ کا ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز سے تبادلہ کر کے اینٹی کرپشن سرکل پشاور تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ محمد طاہر تنویر کو کاؤنٹر ٹیررازم ونگ سے منتقل کر کے ایف آئی اے اکیڈمی میں تعینات کیا گیا ہے۔
    ‎اسی طرح سید مرتضیٰ حیدر کو گوجرانوالہ سے تبدیل کر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ایڈمن، ملتان زون مقرر کیا گیا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر اعجاز احمد شیخ کو ہیڈ کوارٹرز سے کمرشل بینکنگ سرکل پشاور بھیج دیا گیا ہے۔
    ‎نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ قمر زمان کو ہیڈ کوارٹرز سے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ میں تعینات کیا گیا ہے، جبکہ بہاول استو کو ہیڈ کوارٹرز سے کمپوزٹ سرکل میرپورخاص منتقل کر دیا گیا ہے۔
    ‎مزید برآں رانا شاہد حبیب کا اینٹی کرپشن سرکل سے تبادلہ کر کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل پشاور میں تقرر کیا گیا ہے۔ محمد ریاض جنجوا کو مردان سے منتقل کر کے ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
    ‎اس کے علاوہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد نذیر کو پشاور سے تبدیل کرتے ہوئے انہیں بھی ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
    ‎حکام کے مطابق یہ تقرر و تبادلے انتظامی ضروریات اور ادارہ جاتی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے مقصد سے کیے گئے ہیں، تاکہ مختلف شعبوں میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے بہتر انداز میں استفادہ کیا جا سکے۔

  • ایران معاہدہ سبوتاژ کرنے کے لیے اسرائیلی عناصر نے مہم چلائی: جے ڈی وینس

    ایران معاہدہ سبوتاژ کرنے کے لیے اسرائیلی عناصر نے مہم چلائی: جے ڈی وینس

    واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کو ناکام بنانے کے لیے اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر نے امریکا میں بااثر مہم چلائی اور اس مقصد کے لیے بھاری مالی وسائل بھی استعمال کیے۔
    ‎ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجے جانے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایسی کسی فوجی مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اسرائیلی عناصر نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے امریکا میں اثرورسوخ کی مہم چلائی، تاہم امریکی حکومت اپنے قومی مفادات کو ہر صورت مقدم رکھے گی۔
    ‎نائب امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کا پائیدار اور مؤثر حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔ ان کے مطابق امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے زمینی فوج نہیں بھیجے گا اور اگر ایرانی عوام اپنے سیاسی نظام میں کسی قسم کی تبدیلی چاہتے ہیں تو یہ ان کا اپنا فیصلہ ہوگا۔
    ‎جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ واشنگٹن کی اولین ترجیح خطے میں استحکام برقرار رکھنا، آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور عالمی سطح پر تیل و گیس کی بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
    ‎انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے اور تمام فریقین کو مذاکرات کے ذریعے اختلافات ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

  • 
مکہ مکرمہ میں ایک ہزار سال قدیم نادر قرآنِ پاک کا نسخہ نمائش کے لیے پیش

    
مکہ مکرمہ میں ایک ہزار سال قدیم نادر قرآنِ پاک کا نسخہ نمائش کے لیے پیش

    ‎ریاض: سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں ایک ہزار سال قدیم قرآنِ کریم کے نادر اور تاریخی نسخے کو زائرین کے لیے نمائش میں پیش کر دیا گیا، جہاں یہ قیمتی مخطوطہ عقیدت مندوں اور اسلامی فنون سے دلچسپی رکھنے والوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
    ‎سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق حرمین شریفین میں دینی امور کے ادارے کے زیر اہتمام منعقدہ "اقرا” نمائش میں اسلامی تاریخ سے وابستہ متعدد نایاب مخطوطات اور تاریخی نوادرات رکھے گئے ہیں، تاہم ان میں سب سے نمایاں مقام قرآنِ کریم کے اس نادر نسخے کو حاصل ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق یہ عظیم تاریخی نسخہ تقریباً ایک ہزار برس قبل معروف اسلامی خطاط علی بن ہلال نے تحریر کیا تھا، جو اسلامی دنیا میں ابن البواب کے نام سے شہرت رکھتے ہیں۔ ابن البواب کو اسلامی خطاطی کے عظیم ترین فنکاروں میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کے قلم سے تحریر کردہ یہ نسخہ فنِ کتابت کا ایک بے مثال شاہکار تصور کیا جاتا ہے۔
    ‎اس نادر نسخے کی ایک نمایاں خصوصیت اس کے نہایت خوبصورت حاشیے، نفیس خطاطی اور دلکش آرائش ہے، جو اسلامی فنون، عربی خطاطی اور اس دور کی علمی روایت کی بہترین مثال پیش کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نسخے کی تاریخی، فنی اور دینی اہمیت غیر معمولی ہے۔
    ‎نمائش کے منتظمین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اس معیار اور تاریخی اہمیت کے صرف دو مکمل نسخے موجود ہیں، جو اسلامی تہذیب، قرآنِ کریم سے مسلمانوں کی وابستگی اور صدیوں پر محیط علمی ورثے کی عظمت کو نمایاں کرتے ہیں۔
    ‎نمائش میں آنے والے زائرین اس قیمتی مخطوطے کو نہایت عقیدت اور دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے تاریخی قرآنی نسخے نہ صرف اسلامی ورثے کے تحفظ کی علامت ہیں بلکہ نئی نسل کو اپنی مذہبی، علمی اور تہذیبی تاریخ سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

  • 
این سی سی آئی اے کے دو انسپکٹرز پر غیر قانونی حراست اور بھتہ طلبی کا الزام، پشاور ہائیکورٹ سے رجوع

    
این سی سی آئی اے کے دو انسپکٹرز پر غیر قانونی حراست اور بھتہ طلبی کا الزام، پشاور ہائیکورٹ سے رجوع

    ‎پشاور: پشاور ہائیکورٹ میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دو انسپکٹرز کے خلاف ایک درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں انہیں ایک شہری کو مبینہ طور پر غیر قانونی حراست میں رکھنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور بھاری رقم بطور بھتہ طلب کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔
    ‎درخواست محمد سہیل خان کی جانب سے اپنے وکیل شاہد محمود ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں وزارت داخلہ، این سی سی آئی اے، انسپکٹر احمد جان اور انسپکٹر نعمان کو فریق بنایا گیا ہے۔
    ‎درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ پیشے کے اعتبار سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق 2 جولائی کو پشاور کے ایک نجی ریسٹورنٹ سے دونوں انسپکٹرز نے بغیر کسی وارنٹ اور قانونی جواز کے انہیں حراست میں لیا اور بعد ازاں این سی سی آئی اے کے دفتر منتقل کر دیا۔
    ‎درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دفتر میں انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ مزید دعویٰ کیا گیا کہ متعلقہ افسران نے رہائی کے بدلے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔
    ‎درخواست گزار کے مطابق ان کی جیب سے 52 لاکھ روپے نقد رقم اور موبائل فون بھی مبینہ طور پر لے لیا گیا، جبکہ تشدد کے دوران ایک اقرار نامے پر زبردستی انگوٹھے کے نشانات بھی ثبت کرائے گئے۔
    ‎درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور درخواست گزار کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
    ‎تاحال این سی سی آئی اے یا دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔