Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • لبنان میں امن ضروری، مذاکرات جاری مگر کوئی بریک تھرو نہیں

    لبنان میں امن ضروری، مذاکرات جاری مگر کوئی بریک تھرو نہیں

    ‎ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ لبنان جاری جنگ بندی مذاکرات کا حصہ ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، لہٰذا وہاں مسلح کارروائیوں کا خاتمہ اور قیامِ امن ناگزیر ہے۔
    ‎اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل جاری رہا، تاہم نہ کوئی بڑا بریک تھرو سامنے آیا اور نہ ہی مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا۔ انہوں نے اس صورتحال کو “نہ بریک تھرو نہ بریک ڈاؤن” قرار دیا۔
    ‎ترجمان کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے طویل اور سنجیدہ مذاکرات ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر یہ سفارتی عمل 24 گھنٹوں سے بھی زائد جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس طویل اور پیچیدہ مذاکراتی عمل میں فریقین کے عزم اور سنجیدگی کو سراہا جانا چاہیے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس امن عمل میں ثالث اور سہولت کار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا اور تہران و واشنگٹن کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ اس سلسلے میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور وفود کے تبادلے بھی اسی عمل کا حصہ ہیں۔
    ‎ترجمان نے واضح کیا کہ سفارتی رابطوں کی تفصیلات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے تاکہ اعتماد اور رازداری برقرار رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان معلومات کو شیئر کیا جائے تو یہ اعتماد کے منافی ہوگا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے اور اس حوالے سے دوست ممالک اور عالمی طاقتوں، بشمول روس، سے مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے امن عمل کی حمایت کرنے والے ممالک کا خیر مقدم بھی کیا۔
    ‎ترجمان نے آئندہ مذاکرات کی تاریخ سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی حتمی شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔

  • ایران کا دعویٰ، ڈرون پیداوار میں 10 گنا اضافہ

    ایران کا دعویٰ، ڈرون پیداوار میں 10 گنا اضافہ

    ‎ایرانی مسلح افواج کے نائب چیف آف اسٹاف بریگیڈیئر جنرل علی رضا شیخ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ برس جون میں ہونے والی امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد ایران نے اپنی ڈرون پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
    ‎ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 7 ماہ کے دوران ایران نے حملہ آور ڈرونز کی پیداوار میں 10 گنا اضافہ کیا ہے، جو دفاعی حکمت عملی میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔
    ‎بریگیڈیئر جنرل علی رضا شیخ کے مطابق ایران نے ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا ہے اور مستقبل میں کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کر لی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات نے ایران کی عسکری حکمت عملی کو بہتر بنایا، جس کے نتیجے میں اب ایران دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے اور فوری و مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی میں اس طرح کا اضافہ خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے اور اس سے دفاعی حکمت عملیوں میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے، جس کے باعث عالمی برادری کی توجہ اس صورتحال پر مرکوز ہو گئی ہے۔

  • آج رات سے لوڈشیڈنگ میں کمی، وزیر توانائی کا اعلان

    آج رات سے لوڈشیڈنگ میں کمی، وزیر توانائی کا اعلان

    ‎وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے اعلان کیا ہے کہ آج رات سے ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کی جائے گی، جس سے عوام کو فوری ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
    ‎پریس کانفرنس کے دوران اویس لغاری نے کہا کہ حکومت عوام کو درپیش مشکلات سے آگاہ ہے اور لوڈشیڈنگ کے باعث ہونے والی تکلیف پر معذرت خواہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات سے بجلی کی فراہمی میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے اور آج رات سے صورتحال مزید بہتر ہو جائے گی۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ حیدرآباد اور کے الیکٹرک کے علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی، جبکہ کے الیکٹرک نیشنل گرڈ سے ریکارڈ 2100 میگاواٹ بجلی حاصل کر رہا ہے۔ وزیر توانائی کے مطابق اس وقت ملک کو تقریباً 4 ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔
    ‎اویس لغاری نے بتایا کہ اس شارٹ فال کی بڑی وجوہات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث گیس کی فراہمی میں رکاوٹ اور پن بجلی کی پیداوار میں تقریباً 1600 میگاواٹ کمی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایل این جی کی عدم دستیابی سے بھی 3000 میگاواٹ سے زائد کمی ہوئی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ حکومت قابل تجدید توانائی اور سولر کے فروغ پر کام کر رہی ہے، تاہم موجودہ بحران عارضی نوعیت کا ہے۔ ان کے مطابق فرنس آئل سے 1400 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے تاکہ قلت کو کم کیا جا سکے۔
    ‎وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ اپریل میں بجلی کی طلب 9 ہزار سے بڑھ کر 20 ہزار میگاواٹ تک رہی، اور جب طلب ساڑھے 16 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرتی ہے تو لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہونے اور ایل این جی کی فراہمی بحال ہونے کے بعد لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ممکن ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ فرنس آئل کے استعمال سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو تقریباً 1 روپے 30 پیسے فی یونٹ تک جا سکتا ہے۔

  • ایران کا پاکستان پر اعتماد، مذاکرات صرف اسلام آباد میں ہوں گے

    ایران کا پاکستان پر اعتماد، مذاکرات صرف اسلام آباد میں ہوں گے

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان آئندہ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے اور ایران کسی اور مقام پر بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران پاکستان پر اعتماد کرتا ہے جبکہ امریکا کو قابلِ بھروسہ نہیں سمجھتا۔
    ‎اسلام آباد میں پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، اسی لیے ایران مذاکرات کے لیے پاکستان کو ترجیح دے رہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور امن کے لیے کردار کو سراہا۔
    ‎رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں بالادستی نہیں بلکہ اپنی خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن ہے اور اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جبکہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی بھی ایران کے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی تصدیق کر چکی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ ایران 1979 کے انقلاب کے بعد سے مسلسل دباؤ کا سامنا کر رہا ہے اور گزشتہ 47 برسوں میں امریکا اور صیہونی قوتوں کا دباؤ برداشت کیا، مگر ایران اپنی پالیسیوں پر قائم رہا۔
    ‎ایرانی سفیر نے اسرائیل پر خطے میں بالادستی کی خواہش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکا کی جانب سے اچانک حملوں نے سفارتی عمل کو متاثر کیا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ نقصانات کے باوجود ایرانی قوم متحد اور مضبوط ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

  • قالیباف کا امریکا سے مطالبہ، ’اسرائیل فرسٹ‘ پالیسی ترک کرنے پر زور

    قالیباف کا امریکا سے مطالبہ، ’اسرائیل فرسٹ‘ پالیسی ترک کرنے پر زور

    ‎ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے سفارتی معاہدوں کی پاسداری کرے اور خطے میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ’اسرائیل فرسٹ‘ پالیسی ترک کرنی چاہیے تاکہ خطے میں توازن اور استحکام قائم ہو سکے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کو طے شدہ معاہدوں پر عمل کرنا چاہیے اور یکطرفہ ترجیحات سے گریز کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ پالیسیوں کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور خطے کی مزاحمتی تحریکوں کے درمیان مضبوط اسٹریٹجک تعلق موجود ہے اور یہ عناصر جنگ یا جنگ بندی، دونوں صورتوں میں مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اتحاد خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور کشیدگی دونوں ساتھ ساتھ جاری ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کی پالیسیوں پر تنقید اور خطے میں اتحادوں کی بات عالمی سفارت کاری میں ایک نئے رخ کی نشاندہی کرتی ہے۔
    ‎یہ پیش رفت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے حل کے لیے مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کو مزید مضبوطی سے پیش کر رہے ہیں۔

  • ایران کی امریکا کو دھمکی، جنگی جہاز نشانے پر

    ایران کی امریکا کو دھمکی، جنگی جہاز نشانے پر

    ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کے لانچرز امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں تباہ کیا جا سکتا ہے۔
    ‎ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی نے کہا کہ دشمن پر دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے اور ایران اس حوالے سے اپنی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی لانچرز پہلے ہی امریکی جنگی جہازوں کو نشانے پر لے چکے ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو ایران کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے اور امریکی بحری طاقت کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دفاع اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
    ‎محسن رضائی نے امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ بحری ناکہ بندی کے منصوبے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوشش کامیاب نہیں ہوگی اور ایران اس کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سفارتی حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔

  • ‎ایران کیخلاف آپریشن عارضی بند، امریکا کا اعلان

    ‎ایران کیخلاف آپریشن عارضی بند، امریکا کا اعلان

    ‎امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشنز کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، تاہم امریکی فوج ہر ممکن کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
    ‎وزیر جنگ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جنرل ڈین کین نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا فوری طور پر دوبارہ کارروائی شروع کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کا گھیراؤ برقرار ہے اور اس کا اطلاق تمام ممالک کے جہازوں پر ہو رہا ہے۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی بندرگاہوں کی جانب جانے اور وہاں سے آنے والے تمام جہازوں پر پابندی عائد ہے، اور یہ ناکہ بندی کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ تمام جہازوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے۔
    ‎جنرل ڈین کین کے مطابق اس ناکہ بندی کا بنیادی مقصد ایران کی تیل کی ترسیل کو روکنا ہے، اور اس کے نتیجے میں ایرانی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے آپریشنز کی عارضی معطلی اور ساتھ ہی سخت بحری پابندیاں ایک دوہری حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہیں، جس کا مقصد ایران پر دباؤ برقرار رکھنا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے خطے میں کشیدگی برقرار رہ سکتی ہے، تاہم سفارتی حل کی گنجائش بھی موجود ہے۔

  • اغوا برائے تاوان میں پولیس اہلکار ملوث، 4 ملزمان گرفتار

    اغوا برائے تاوان میں پولیس اہلکار ملوث، 4 ملزمان گرفتار

    ‎کراچی میں اغوا برائے تاوان کی سنگین واردات میں سندھ پولیس کے اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد اینٹی وائلنٹ کرائم سیل نے کارروائی کرتے ہوئے پولیس افسر سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزمان میں بہادر آباد تھانے کا اے ایس آئی محسن آصف اور فارن سیکیورٹی سیل کا اہلکار راشد علی بھی شامل ہیں۔ دیگر ملزمان میں حماد نامی شخص اور اس کے ساتھی شامل ہیں، جبکہ 3 ملزمان تاحال فرار ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق ملزمان نے گلستانِ جوہر سے 60 سالہ شہری مرزا یوسف بیگ کو اغوا کیا۔ ملزمان پولیس پارٹی کا روپ دھار کر شہری کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں زبردستی گاڑی میں ڈال کر ساتھ لے گئے۔ اس دوران ملزمان نے گھر سے 35 لاکھ روپے نقد بھی لوٹ لیے۔
    ‎اغوا کے بعد مغوی کو نامعلوم مقام پر منتقل کر کے اہل خانہ سے 5 کروڑ روپے تاوان طلب کیا گیا، تاہم بعد ازاں مذاکرات کے بعد یہ رقم 25 لاکھ روپے طے پائی۔ تاوان کی ادائیگی راشد منہاس روڈ پر ملینیئم مال کے قریب کی گئی۔
    ‎اے وی سی سی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کا پیچھا کیا اور مقابلے کے بعد 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ 3 ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
    ‎حکام کے مطابق واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے، جو ملزمان نے کرائے پر حاصل کی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔
    ‎یہ واقعہ پولیس کے اندر موجود کالی بھیڑوں کی نشاندہی کرتا ہے، جس پر سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

  • امریکا کی ایران کو وارننگ، معاہدہ نہ ہوا تو کارروائی کیلئے تیار

    امریکا کی ایران کو وارننگ، معاہدہ نہ ہوا تو کارروائی کیلئے تیار

    ‎امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے دانشمندانہ فیصلے نہ کیے اور معاہدہ نہ کیا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کا دارومدار اب ایران کے فیصلوں پر ہے۔
    ‎واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران کو یہ سمجھنا چاہیے کہ امریکا کی عسکری صلاحیتوں کا مقابلہ ممکن نہیں اور امریکا بدستور طاقتور ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس اب آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر بحریہ موجود نہیں۔
    ‎امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ امریکا ایران کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اسے معلوم ہے کہ ایران کون سے فوجی اثاثے منتقل کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران بمباری سے تباہ ہونے والے میزائل لانچرز کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ امریکا مزید طاقت کے ساتھ اپنی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں کنٹرول نہیں بلکہ بحری قزاقی کے مترادف ہیں۔
    ‎پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک پر امریکی بحریہ کا کنٹرول ہے اور جب تک ضرورت پڑی یہ ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی۔ انہوں نے دیگر ممالک کو بھی اس سلسلے میں تعاون کی دعوت دی۔
    ‎ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران جنگ بندی میں رہنے کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، جبکہ ایران کی قیادت سے متعلق مختلف اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران ایسا معاہدہ کرے گا جو اس کے لیے قابل عمل ہو۔
    ‎ماہرین کے مطابق امریکا کے اس سخت بیان سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور سفارتی کوششوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

  • ورلڈ کپ 2026 سے قبل ہوٹلوں کی قیمتیں کم

    ورلڈ کپ 2026 سے قبل ہوٹلوں کی قیمتیں کم

    ‎امریکا میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پیش نظر ہوٹل انڈسٹری کو بڑی تعداد میں شائقین کی آمد کی توقع تھی، تاہم موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال اور مالی خدشات کے باعث یہ اندازے درست ثابت ہوتے نظر نہیں آ رہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکی جنگ کے اثرات کے باعث کئی فٹبال شائقین نے سفر کے منصوبے مؤخر یا منسوخ کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں ہوٹلوں کی بکنگ توقع سے کم رہی ہے۔ اس صورتحال کے باعث مختلف شہروں میں ہوٹل مالکان کو اپنے کرائے کم کرنے پڑ رہے ہیں۔
    ‎فنانشل ٹائمز نے ’لائٹ ہاؤس انٹیلیجنس‘ کے ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ میامی، ڈیلس، سان فرانسسکو، فلاڈیلفیا اور اٹلانٹا سمیت اہم میزبان شہروں میں میچ کے دنوں کے لیے ہوٹل کمروں کے نرخ سال کے آغاز میں اپنی بلند ترین سطح کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی تک کم ہو چکے ہیں۔
    ‎نیویارک سٹی ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر وجے دنداپانی کے مطابق اب تک طلب میں کوئی خاص اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ مستقبل میں کچھ بہتری آ سکتی ہے، لیکن فی الحال صورتحال توقعات کے برعکس ہے۔
    ‎یاد رہے کہ 2024 میں فیفا کے صدر نے میزبان شہروں کو یقین دلایا تھا کہ ورلڈ کپ کے دوران لاکھوں شائقین کی آمد ہوگی، جس سے ہوٹل اور سیاحت کے شعبے کو بڑا فائدہ پہنچے گا۔ تاہم موجودہ اعداد و شمار اس پیش گوئی کے برعکس رجحان ظاہر کر رہے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق اگر عالمی حالات میں بہتری نہ آئی تو اس کا اثر نہ صرف ہوٹل انڈسٹری بلکہ سیاحت اور معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے۔