Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
کراچی میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے کیمپس افسر پر فائرنگ

    
کراچی میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے کیمپس افسر پر فائرنگ

    کراچی میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے گلشن اقبال کیمپس کے کیمپس افسر عدنان اختر پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس نے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

    پولیس کے مطابق واقعہ عزیز بھٹی پارک کے قریب پیش آیا، جہاں موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم ملزمان نے، جنہوں نے ہیلمٹ اور ماسک پہن رکھے تھے، عدنان اختر کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے گھر سے یونیورسٹی جانے کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

    ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آوروں نے پیچھے سے اندھا دھند فائرنگ کی اور واردات کے فوراً بعد موقع سے فرار ہو گئے۔ فائرنگ کے نتیجے میں عدنان اختر کو چار گولیاں لگیں، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔

    زخمی کیمپس افسر کو فوری طور پر اسٹیڈیم روڈ پر واقع ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کے مطابق عدنان اختر کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ حملہ آوروں کی شناخت ممکن بنائی جا سکے۔

    پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں، جن میں ذاتی دشمنی، پیشہ ورانہ معاملات اور دیگر ممکنہ محرکات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی حملے کی اصل وجہ کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہا جا سکے گا۔

    حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • 
لیاری میں جماعت اسلامی کے دفتر پر دستی بم حملہ، دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج

    
لیاری میں جماعت اسلامی کے دفتر پر دستی بم حملہ، دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج

    ‎کراچی کے علاقے لیاری میں جماعت اسلامی کے مقامی دفتر پر ہونے والے دستی بم حملے کے بعد چاکیواڑہ پولیس نے دہشت گردی اور دھماکا خیز مواد سے متعلق قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔
    ‎پولیس کے مطابق حملہ منگل کی شب چاکیواڑہ کے علاقے پھول پتی لین، حاجی بچل روڈ پر واقع جماعت اسلامی کے دفتر پر کیا گیا۔ دستی بم دھماکے کے نتیجے میں جماعت اسلامی کے مقامی حلقہ ناظم سمیت تین افراد زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
    ‎واقعے کا مقدمہ جماعت اسلامی کے مقامی ناظم حلقہ عبدالباقی کی مدعیت میں نامعلوم ملزم کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں ایکسپلوسیو سبسٹینس ایکٹ 1908، انسداد دہشت گردی ایکٹ کی متعلقہ دفعات، تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 324 سمیت دیگر قانونی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
    ‎مدعی عبدالباقی نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ جماعت اسلامی میں شمولیت اور فلاحی سرگرمیوں کے آغاز کے بعد انہیں مختلف نامعلوم ذرائع سے مسلسل دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔ ان کے مطابق حملہ آور نے جان سے مارنے کی نیت اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کے مقصد سے دفتر پر ہینڈ گرنیڈ پھینکا، جس کے دھماکے سے وہ اور ان کے دو ساتھی زخمی ہو گئے۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرنے کے بعد کیس کی تفتیش تھانہ چاکیواڑہ کے کرائم انویسٹی گیشن سیل (CIC) کے سپرد کر دی گئی ہے۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ حملہ آور کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
    ‎قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • 
نجکاری کمیٹی نے پی پی پی اتھارٹی ترمیمی بل 2026 منظور کرلیا، پی آئی اے نجکاری پر اہم بریفنگ

    
نجکاری کمیٹی نے پی پی پی اتھارٹی ترمیمی بل 2026 منظور کرلیا، پی آئی اے نجکاری پر اہم بریفنگ

    ‎اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار نے کی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے شرکت کی اور بل کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
    ‎اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن سحر کامران نے مجوزہ ترمیمی بل پر بعض تحفظات کا اظہار کیا، تاہم کمیٹی کے بیشتر ارکان نے بل کی حمایت کی جس کے بعد اسے منظور کر لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار نے اس موقع پر کہا کہ وزیراعظم کو تقرریوں سمیت اہم انتظامی فیصلوں کے اختیارات حاصل ہونے چاہییں تاکہ حکومتی امور میں تاخیر سے بچا جا سکے۔
    ‎کمیٹی کے رکن چوہدری محمود بشیر ورک نے بھی اس مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ معمولی نوعیت کے معاملات کے لیے ہر بار وفاقی کابینہ کا اجلاس بلانا مناسب نہیں، اس لیے بعض فیصلوں کے لیے وزیراعظم کو زیادہ اختیارات دیے جانے چاہییں۔ اس پر سیکرٹری نجکاری نے وضاحت کی کہ یہ تمام اقدامات کابینہ کے فیصلے کے مطابق کیے جا رہے ہیں، جبکہ وزارت قانون کے نمائندوں نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ کے سابق فیصلوں کے مطابق کابینہ اجتماعی طور پر فیصلے کرنے کی ذمہ دار ہے۔
    ‎اجلاس میں قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کے عمل پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مشیر نجکاری ڈاکٹر محمد علی نے بتایا کہ حکومت کو پی آئی اے کے سو فیصد حصص کی فروخت سے مجموعی طور پر 55 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ ان کے مطابق 10 ارب روپے پہلے ہی وصول کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی 45 ارب روپے حصص کی منتقلی کے بعد موصول ہوں گے۔
    ‎بریفنگ میں بتایا گیا کہ پی آئی اے میں اب تک 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے جبکہ مزید 45 ارب روپے سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی بھی موجود ہے۔ حکام کے مطابق 30 جون 2025 تک قومی ایئرلائن کے اثاثوں کی مالیت 191 ارب 53 کروڑ روپے جبکہ واجبات 182 ارب 43 کروڑ روپے تھے۔ ان واجبات میں ملازمین کی پنشن سے متعلق 30 ارب 34 کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔
    ‎کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پی آئی اے کے طیاروں اور اسپیئر پارٹس پر ایک سال کے لیے جی ایس ٹی سے استثنا دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے زور دیا کہ ملک کی تمام ایئرلائنز کے لیے یکساں کاروباری مواقع فراہم کیے جانے چاہییں تاکہ فضائی شعبے میں منصفانہ مقابلے کی فضا برقرار رہے۔
    ‎اجلاس کے اختتام پر نجکاری کمیشن کے حکام نے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے مقرر کردہ مالیاتی مشیر کو مجموعی طور پر ایک ارب 90 کروڑ روپے ادا کیے جانے تھے، جن میں سے ایک ارب 70 کروڑ روپے کی ادائیگی ہو چکی ہے جبکہ باقی 20 کروڑ روپے جلد ادا کیے جائیں گے۔

  • ہرات میں طالبان کی سختیاں مزید بڑھ گئیں، خواتین کی گرفتاریاں اور تعلیمی پابندیوں میں اضافہ

    ہرات میں طالبان کی سختیاں مزید بڑھ گئیں، خواتین کی گرفتاریاں اور تعلیمی پابندیوں میں اضافہ

    ‎افغانستان کے صوبہ ہرات میں طالبان حکومت نے عوام پر عائد سخت پابندیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث خواتین، طالبات اور مذہبی اقلیتوں سے متعلق صورتحال پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
    ‎امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایات کے بعد ہرات میں سخت قوانین پر عمل درآمد مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو لباس کے ضوابط اور مردوں کو داڑھی سے متعلق قواعد کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق ان کارروائیوں کے باعث خواتین میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے اور متعدد خواتین نے گھروں سے باہر نکلنے میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ صرف دو روز کے دوران کم از کم 30 خواتین کو لباس سے متعلق قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا، جبکہ مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ہرات میں گرفتار خواتین کی مجموعی تعداد 200 سے تجاوز کر چکی ہے۔
    ‎طالبان کی سخت پالیسیوں کے اثرات تعلیم کے شعبے پر بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ والدین خوف کے باعث اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجنے سے گریز کر رہے ہیں، جس سے لڑکیوں کی تعلیم مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عاشورہ کے موقع پر طالبان حکام نے شیعہ برادری کی مذہبی رسومات اور جلوسوں پر مختلف پابندیاں عائد کیں۔ اس کے علاوہ شیعہ برادری کے افراد اب بھی حکومتی نمائندگی سے محروم ہیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
    ‎دوسری جانب طالبان حکومت کی جانب سے ان الزامات پر باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم طالبان ماضی میں اپنے اقدامات کو اسلامی قوانین اور ملکی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق قرار دیتے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے افغانستان میں خواتین کے حقوق، تعلیم اور مذہبی آزادیوں کی صورتحال پر مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔

  • زائدالمیعاد یا منسوخ شدہ نائیکوپ پر پاکستان آمد ممکن نہیں، ایف آئی اے کی نئی سفری ہدایات

    زائدالمیعاد یا منسوخ شدہ نائیکوپ پر پاکستان آمد ممکن نہیں، ایف آئی اے کی نئی سفری ہدایات

    ‎وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے دہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے نئی سفری ہدایات جاری کر دی ہیں، جن کے تحت اب زائدالمیعاد یا منسوخ شدہ نائیکوپ (NICOP) کے ساتھ بیرونِ ملک سے پاکستان کا سفر ممکن نہیں ہوگا۔ نئی پالیسی کا اطلاق دنیا بھر سے آنے والے تمام پاکستانی مسافروں پر ہوگا، جن میں برطانیہ، امریکا، کینیڈا، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر ممالک میں مقیم پاکستانی بھی شامل ہیں۔
    ‎ایف آئی اے حکام کے مطابق ایسے تمام افراد جو غیر ملکی پاسپورٹ پر سفر کر رہے ہیں، ان کے پاس پاکستان میں داخلے کے لیے یا تو کارآمد پاکستانی ویزا موجود ہونا چاہیے یا پھر ایک قابلِ استعمال اور کارآمد نائیکوپ ہونا ضروری ہے۔ اگر کسی مسافر کا نائیکوپ زائدالمیعاد، منسوخ شدہ یا غیر مؤثر پایا گیا تو اسے پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ تمام ملکی اور غیر ملکی ایئرلائنز کو نئی ہدایات سے باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا ہے۔ انہیں سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے مسافروں کو پرواز میں سوار نہ کریں جن کے سفری دستاویزات نئی شرائط کے مطابق مکمل نہ ہوں۔
    ‎ایف آئی اے کے مطابق اگر کسی وجہ سے کوئی ایسا مسافر پاکستان پہنچ بھی جاتا ہے جس کے پاس کارآمد نائیکوپ یا پاکستانی ویزا موجود نہیں ہوگا تو اسے امیگریشن کلیئرنس نہیں دی جائے گی اور متعلقہ ایئرلائن کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اسے پہلی دستیاب پرواز کے ذریعے واپس روانہ کرے۔
    ‎حکام نے واضح کیا کہ ماضی میں بعض ایئرلائنز زائدالمیعاد یا منسوخ شدہ نائیکوپ رکھنے والے افراد کو بھی پاکستان لے آتی تھیں، تاہم اب اس عمل کی اجازت نہیں ہوگی۔ نئی پالیسی کا مقصد امیگریشن نظام کو مزید مؤثر بنانا، سفری دستاویزات کی تصدیق کو یقینی بنانا اور بین الاقوامی سفری قوانین کے مطابق نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
    ‎ایف آئی اے نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں، خصوصاً دہری شہریت رکھنے والے افراد کو ہدایت کی ہے کہ سفر سے قبل اپنے نائیکوپ اور دیگر سفری دستاویزات کی میعاد ضرور چیک کریں تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی، آف لوڈ ہونے یا سفر منسوخ ہونے سے بچا جا سکے۔

  • 
آزاد کشمیر کے مسائل کشمیری خود حل کریں، بلاول بھٹو کا آئینی اصلاحات کا مطالبہ

    
آزاد کشمیر کے مسائل کشمیری خود حل کریں، بلاول بھٹو کا آئینی اصلاحات کا مطالبہ

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر میں آئینی، سیاسی اور انتظامی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کو درپیش موجودہ بحران کی بنیادی وجہ سیاسی معاملات کو درست انداز میں نہ سنبھالنا اور وفاقی وزرا کے بعض غیر ذمہ دارانہ بیانات ہیں۔
    ‎ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مسائل کا حل کشمیری عوام کو خود نکالنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بیٹھے افراد کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں کہ کون کشمیری ہے اور کون نہیں۔
    ‎انہوں نے حالیہ واقعات کی تحقیقات کے لیے مکمل اختیارات رکھنے والے ایک آزاد کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کی۔ ان کے مطابق آئندہ آزاد کشمیر انتخابات کے بعد ایک آئینی کنونشن بھی بلایا جا سکتا ہے، جہاں مخصوص نشستوں سمیت دیگر آئینی اور سیاسی معاملات پر مشاورت کے ذریعے اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔
    ‎بلاول بھٹو نے کہا کہ آئینی ترامیم زبردستی نافذ نہیں کی جا سکتیں بلکہ ایسے فیصلے عوامی مشاورت اور سیاسی اتفاق سے ہونے چاہییں۔ انہوں نے پرامن احتجاج کے حق کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ تشدد پر مبنی احتجاج کسی صورت قابل قبول نہیں۔
    ‎چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی "ریڈ لائن” ہیں اور کشمیر کے اندر سے بھی پاکستان یا افواجِ پاکستان کے خلاف کوئی بیان قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا ان کی عسکری صلاحیتوں کو تسلیم کر چکی ہے اور ان کی قیادت میں پاکستان بھارت اور اسرائیل کے اقدامات کا مؤثر جواب دے رہا ہے۔
    ‎اپنے خطاب میں بلاول بھٹو نے دریائے سندھ کے پانی کے معاملے پر بھی دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • 
ایران کا توانائی کے راستوں پر ممکنہ کارروائی کا انتباہ، امریکا اور اتحادیوں کو سخت وارننگ

    
ایران کا توانائی کے راستوں پر ممکنہ کارروائی کا انتباہ، امریکا اور اتحادیوں کو سخت وارننگ

    ‎ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو خطے میں تیل اور گیس کی برآمدات کے اہم راستے بھی خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ ایرانی حکام کے اس بیان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع اور عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
    ‎الجزیرہ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایران پر دباؤ اور فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو توانائی برآمد کرنے والے بحری راستے بھی ممکنہ طور پر نشانہ بن سکتے ہیں۔ بیان میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ خطے کی صورتحال مزید بگڑنے کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوگی۔
    ‎ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق جاری بیان میں کہا گیا کہ خطے سے توانائی کی برآمدات "یا تو سب کے لیے ہوں گی یا پھر کسی کے لیے بھی نہیں”۔ اس مؤقف کو مبصرین نے اس بات کا اشارہ قرار دیا ہے کہ ایران مستقبل میں بحری جہاز رانی یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق مزید اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔
    ‎دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز بند رکھنے کے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایرانی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
    ‎بیان میں امریکی دعوؤں کو بھی مسترد کیا گیا جن میں کہا گیا تھا کہ ایران اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا تھا کہ کسی بھی بحری جہاز نے ایرانی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش نہیں کی، اس لیے ایران کی جانب سے ان پر حملے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
    ‎ادھر خطے کے کئی خلیجی ممالک نے ایران کی حالیہ کارروائیوں اور بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی تیل و گیس کی سپلائی، بحری تجارت اور بین الاقوامی منڈیوں پر اس کے نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • ‎ایف بی آر اصلاحات کا جائزہ، کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کا عزم

    ‎ایف بی آر اصلاحات کا جائزہ، کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کا عزم

    ‎اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں جاری اصلاحاتی اقدامات، ٹیکس نظام میں بہتری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
    ‎اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے اور رواں سال اقتصادی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس لیے حکومت ان کی پیداواری صلاحیت اور برآمدات میں اضافے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔
    ‎وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایف بی آر کاروباری طبقے کے ساتھ تعاون کو مزید مؤثر بنائے اور ان کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایف بی آر کے سینئر افسران ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی کا دورہ کریں تاکہ تاجروں اور صنعتکاروں سے براہ راست ملاقات کرکے ان کے مسائل فوری طور پر حل کیے جا سکیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ جو کمپنیاں ٹیکس قوانین پر مکمل عمل درآمد کر رہی ہیں، حکومت ان کی حوصلہ افزائی کرے گی اور ان کی خدمات کو باقاعدہ تسلیم کیا جائے گا۔ وزیراعظم کے مطابق حکومت کا مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنا، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا اور ٹیکس نظام کو مزید شفاف، سادہ اور مؤثر بنانا ہے تاکہ کاروباری برادری کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔
    ‎اجلاس کو ایف بی آر کی کارکردگی اور جاری اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ بتایا گیا کہ شوگر، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کی صنعتوں میں پیداواری نگرانی کا جدید نظام نصب کیا جا چکا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل اور مشروبات کی صنعت میں بھی یہ نظام مرحلہ وار نصب کیا جا رہا ہے۔
    ‎بریفنگ کے مطابق شوگر سیکٹر میں گزشتہ ایک سال کے دوران پیداواری نگرانی کے نظام کے ذریعے اضافی 42 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ اسی طرح سیمنٹ کی صنعت سے 38 ارب روپے جبکہ مشروبات کے شعبے سے 15 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا، جو اصلاحاتی اقدامات کی کامیابی کا واضح ثبوت قرار دیا گیا۔
    ‎اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور گورنر اسٹیٹ بینک سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ٹیکس اصلاحات کا عمل مزید تیز کیا جائے گا تاکہ معیشت کو مستحکم، سرمایہ کاری کو فروغ اور قومی آمدن میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے۔

  • 
عمرہ ویزے پر سعودی عرب جانے والی خاتون آف لوڈ، تحقیقات میں حیران کن انکشافات

    
عمرہ ویزے پر سعودی عرب جانے والی خاتون آف لوڈ، تحقیقات میں حیران کن انکشافات

    ‎کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر عمرہ ویزے پر سعودی عرب جانے والی ایک خاتون کو امیگریشن حکام نے مشکوک سفری معلومات کی بنیاد پر آف لوڈ کر دیا۔ بعد ازاں ہونے والی تحقیقات میں خاتون نے ایسے انکشافات کیے جن کے بعد معاملہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے شبے کے تحت مزید سنگین ہو گیا۔
    ‎فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ترجمان کے مطابق دورانِ امیگریشن کلیئرنس خاتون کی سفری معلومات مشکوک محسوس ہونے پر اسے مزید پوچھ گچھ کے لیے روک لیا گیا۔ تفتیش کے دوران خاتون نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ اس کا سعودی عرب جانے کا مقصد غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونا تھا۔
    ‎ایف آئی اے کے مطابق خاتون نے بتایا کہ وہ اس سے قبل بھی دو مرتبہ سعودی عرب جا چکی ہے، جہاں وہ مبینہ طور پر ایسی ہی سرگرمیوں میں شامل رہی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ان سرگرمیوں کے بدلے اسے ہر ماہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے معاوضہ دیا جاتا تھا۔
    ‎تحقیقات کے دوران خاتون نے مزید بتایا کہ اس کے گزشتہ سفروں کے انتظامات سعودی عرب میں مقیم ذیشان اور مانی نامی افراد نے کیے تھے، جبکہ موجودہ سفر کے تمام انتظامات الیاس نامی شخص نے کیے۔ خاتون کے مطابق اس بار وہ کسی ایجنٹ کے ذریعے نہیں بلکہ خود کام کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔
    ‎ایف آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خاتون کے موبائل فون کا ابتدائی جائزہ لینے پر بعض مشکوک وائس میسجز اور تصاویر بھی برآمد ہوئی ہیں، جنہیں تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔
    ‎حکام کے مطابق خاتون کو مزید قانونی کارروائی اور تفصیلی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس سے مبینہ نیٹ ورک، سہولت کاروں اور دیگر متعلقہ افراد کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

  • 
بھارت کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کا حساس ڈیٹا ہیک، ہزاروں فائلیں ڈارک ویب پر لیک

    
بھارت کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کا حساس ڈیٹا ہیک، ہزاروں فائلیں ڈارک ویب پر لیک

    ‎بھارت کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کوڈن کولم سے متعلق حساس معلومات مبینہ طور پر سائبر حملے کا نشانہ بن گئی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق رینسم ویئر گروپ ورلڈ لیکس نے پلانٹ سے متعلق ہزاروں فائلیں ڈارک ویب پر اپ لوڈ کرنے کے ساتھ انہیں فروخت کے لیے بھی پیش کر دیا ہے، جس کے بعد بھارتی سیکیورٹی اور سائبر تحفظ کے نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق لیک ہونے والے ڈیٹا میں پلانٹ کی مختلف تنصیبات کے نقشے، انجینئرنگ ڈیزائن، انشورنس سے متعلق دستاویزات، سپلائرز کی معلومات اور دیگر تجارتی ریکارڈ شامل ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ معلومات نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ٹھیکیدار، انیل امبانی کی ملکیت رکھنے والے ریلائنس گروپ سے متعلق ہیں۔
    ‎ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہیکرز نے براہِ راست نیوکلیئر پلانٹ کے مرکزی نظام کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ ایک تھرڈ پارٹی بھارتی ڈیٹا سینٹر کمپنی یوٹا کے سرور تک رسائی حاصل کی، جہاں متعلقہ دستاویزات محفوظ تھیں۔ اطلاعات کے مطابق سرور سے جزوی ڈیٹا حاصل کیا گیا اور واقعے کے بعد بھارتی حکام کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
    ‎کوڈن کولم نیوکلیئر پاور پلانٹ بھارتی ریاست تامل ناڈو میں واقع ہے اور اسے ملک کا سب سے بڑا فعال جوہری بجلی گھر تصور کیا جاتا ہے۔ اس پلانٹ کی قومی توانائی کے شعبے میں اہم حیثیت ہے، جس کے باعث اس سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات کا افشا ہونا سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ دستیاب معلومات سے بظاہر یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ ہیکرز کو نیوکلیئر ری ایکٹرز کے بنیادی یا آپریشنل کنٹرول سسٹمز تک رسائی حاصل ہوئی ہے، اور نہ ہی کسی قسم کے ری ایکٹر آپریشن کے متاثر ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ تاہم، پلانٹ کے نقشوں، انجینئرنگ ڈیزائنز اور دیگر حساس تجارتی معلومات کا ڈارک ویب پر پہنچ جانا مستقبل میں سیکیورٹی خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔