شانگلہ: خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ اور اس سے ملحقہ مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ احتیاطاً گھروں، دکانوں اور دیگر عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی شہری کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے کھلے مقامات کی جانب چلے گئے۔ کئی علاقوں میں لوگ کافی دیر تک گھروں میں واپس جانے کے بجائے باہر ہی موجود رہے تاکہ کسی ممکنہ آفٹرشاک کی صورت میں محفوظ رہ سکیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ تاہم ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے مختلف علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو الرٹ رکھا گیا ہے۔
زلزلہ پیما مرکز کی جانب سے فوری طور پر زلزلے کی شدت، زیرِ زمین گہرائی اور مرکز کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جس کے باعث شہری مزید معلومات کے منتظر رہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور اگر کسی علاقے سے نقصان کی اطلاع موصول ہوئی تو فوری امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں گی۔
واضح رہے کہ یکم جولائی 2026 کو بھی اسلام آباد، لاہور، پشاور، سوات، شانگلہ، مردان، بونیر، لوئر دیر اور دیگر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ اس وقت زلزلے کی شدت 5.3 ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ اس کی گہرائی 174 کلومیٹر تھی۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اس زلزلے کا مرکز افغانستان کا ہندوکش ریجن تھا۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

شانگلہ اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شہری خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے
-

اسلام آباد میں کھدائی کے دوران میزائل برآمد، سکیورٹی ادارے متحرک
اسلام آباد کے سیکٹر آئی نائن میں ایک پلاٹ پر کھدائی کے دوران میزائل نما شے برآمد ہونے کے بعد سکیورٹی ادارے فوری طور پر متحرک ہوگئے۔ واقعے کے بعد بم ڈسپوزل اسکواڈ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور احتیاطی اقدامات شروع کر دیے۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ تھانہ آئی نائن کی حدود میں پلاٹ نمبر 381 پر پیش آیا، جہاں تعمیراتی کام کے دوران مزدوروں کو زمین سے میزائل نما شے ملی۔ اطلاع ملتے ہی بم ڈسپوزل ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور شے کا تفصیلی معائنہ کیا۔
بم ڈسپوزل ٹیم نے تمام حفاظتی تقاضے پورے کرتے ہوئے میزائل کو محفوظ انداز میں ناکارہ بنایا، جس کے بعد علاقے کو کلیئر قرار دے دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی کارروائی مکمل ہونے کے بعد مزید تکنیکی اور فرانزک تحقیقات جاری ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ میزائل وہاں کیسے پہنچا، اس کی نوعیت کیا تھی اور آیا یہ فعال حالت میں تھا یا نہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور واقعے سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے فی الحال اس بارے میں کوئی حتمی رائے دینے سے گریز کیا ہے اور کہا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد ہی تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔
یہ واقعہ اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس جنوری میں بھی آئی نائن پولیس اسٹیشن کے قریب ایک مشتبہ منی راکٹ حملے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس وقت ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے زور دار دھماکے کی آواز سنی تھی، تاہم ابتدا میں اسے ٹائر پھٹنے کا واقعہ سمجھا گیا۔ اگلے روز معائنے کے دوران پولیس اسٹیشن کی دیوار پر ایسے نشانات ملے جن سے شبہ ظاہر کیا گیا کہ کوئی راکٹ نما شے عمارت سے ٹکرائی تھی۔
اس واقعے کے بعد بھی بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر فرانزک شواہد اکٹھے کیے تھے اور تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔ تازہ واقعے کے بعد ایک بار پھر دارالحکومت میں حساس تنصیبات اور تعمیراتی مقامات کی نگرانی مزید سخت کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ -

دبئی میں منی ایکسچینج پر ایک کروڑ درہم کی ڈکیتی ناکام
دبئی: دبئی پولیس نے ڈیرہ کے علاقے میں واقع ایک منی ایکسچینج پر ہونے والی مسلح ڈکیتی کی واردات کو صرف 10 منٹ کے اندر ناکام بناتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
دبئی پولیس کے مطابق مسلح اور نقاب پوش ڈاکو منی ایکسچینج سے ایک کروڑ درہم لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ واردات کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری طور پر ڈیرہ کے داخلی اور خارجی راستوں کی ناکہ بندی کر دی جبکہ فضائی نگرانی کے لیے پولیس ہیلی کاپٹر بھی حرکت میں آ گیا۔
پولیس حکام کے مطابق ملزمان نے واردات کے دوران منی ایکسچینج کے عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں باندھ دیا تھا۔ اسی دوران ایک ملازم نے موقع ملتے ہی اپنے موبائل فون کے ذریعے دبئی پولیس کو خفیہ طور پر اطلاع دی، جس کے بعد پولیس کے الرٹ نظام نے فوری کارروائی شروع کر دی۔
دبئی پولیس کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر کی مدد سے فرار ہونے والے دونوں ملزمان کا سراغ لگایا گیا اور مختصر تعاقب کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے لوٹی گئی مکمل رقم بھی برآمد کر لی۔
حکام کے مطابق گرفتار ہونے والے دونوں ملزمان کا تعلق ایک افریقی ملک سے ہے۔ انہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ واردات کے دیگر پہلوؤں کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔
دبئی پولیس نے اس کامیاب کارروائی کو اپنے جدید سیکیورٹی نظام، فوری ردعمل اور زمینی و فضائی ٹیموں کے مؤثر تعاون کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں اور کاروباری اداروں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے۔ -

10 سال پرانے قیدی فرار کیس کا فیصلہ، 2 پولیس اہلکاروں کو 6، 6 سال جبکہ ڈرائیور کو 12 سال قید
گوجرانوالہ: جیل سے عدالت لائے گئے دو خطرناک قیدیوں کے فرار کے 10 سال پرانے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا، جس میں اینٹی کرپشن کی اسپیشل کورٹ نے دو پولیس اہلکاروں کو 6، 6 سال جبکہ قیدی وین کے ڈرائیور کو 12 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
اسپیشل کورٹ کے جج نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کے اے ایس آئی نوازش علی اور کانسٹیبل بشیر احمد کو چھ، چھ سال قید اور ایک، ایک لاکھ 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے قیدی وین کے ڈرائیور کو غفلت اور ذمہ داری پوری نہ کرنے پر 12 سال قید کا حکم بھی دیا۔
یہ مقدمہ 30 مئی 2016 کو تھانہ سول لائن میں درج کیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق دو قیدیوں کو جیل سے ضلع کچہری میں پیشی کے لیے قیدی وین کے ذریعے لایا گیا تھا۔ عدالت کے باہر پہلے سے موجود ملزمان کے ساتھیوں نے پولیس اہلکاروں کو نشہ آور جوس پلا دیا، جس کے باعث اہلکار بے ہوش ہوگئے اور دونوں قیدی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ فرار ہونے والے دونوں ملزمان قتل اور دہشت گردی جیسے سنگین مقدمات میں گرفتار تھے، جن کے فرار نے اس وقت سکیورٹی انتظامات پر بھی کئی سوالات کھڑے کیے تھے۔
طویل قانونی کارروائی اور شواہد کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے ذمہ دار اہلکاروں کو قصوروار قرار دیتے ہوئے سزائیں سنائیں۔ فیصلے کو قانون نافذ کرنے والے اداروں میں غفلت اور فرائض میں کوتاہی کے خلاف ایک اہم عدالتی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ -

ایرانی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس، امریکا سے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا انتقام لینے کا مطالبہ
تہران: امریکا کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ارکان نے امریکا کے ساتھ موجود مفاہمتی یادداشت ختم کرنے، نئی قومی حکمت عملی اختیار کرنے اور آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا انتقام لینے کا مطالبہ کیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق 290 رکنی پارلیمنٹ کے 180 ارکان نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ موجود مفاہمتی یادداشت اب مزید قابل عمل نہیں رہی، اس لیے ایران کو اپنی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مطابق نیا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام فیصلے قومی اتفاق رائے سے کیے جائیں۔
چار ماہ کے وقفے کے بعد ہونے والے اس اجلاس میں پارلیمانی ضوابط میں بھی اہم ترامیم منظور کی گئیں۔ نئی ترامیم کے تحت ہنگامی حالات میں پارلیمنٹ کے ورچوئل اجلاس بلانے کی اجازت دی گئی تاکہ غیر معمولی حالات میں قانون سازی اور اہم فیصلوں کا عمل متاثر نہ ہو۔
اجلاس کے دوران آبنائے ہرمز کی اسٹریٹیجک منیجمنٹ سے متعلق ایک بل بھی پیش کیا گیا، جس کا مقصد خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں اہم بحری گزرگاہ سے متعلق پالیسی اور انتظامی اقدامات کو مزید مؤثر بنانا بتایا گیا۔
پارلیمنٹ کے متعدد ارکان اجلاس میں سرخ پرچم اٹھائے ہوئے تھے، جسے انتقام اور مزاحمت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ ارکان نے اپنے خطاب میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے امریکا سے اس کا جواب دینے کا مطالبہ کیا۔
اجلاس میں ایرانی مسلح افواج کی مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا اور مستقبل کی سفارتی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے ایک خصوصی مذاکراتی کمیشن قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی، جو بین الاقوامی مذاکرات اور خارجہ امور کے حوالے سے سفارشات مرتب کرے گا۔
واضح رہے کہ ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے تھے۔ گزشتہ ہفتے ان کی تدفین روضہ حضرت امام علی رضاؓ کے احاطے میں کی گئی، جبکہ نماز جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ بعد ازاں ان کی میت کو کربلا میں امام حسینؓ اور حضرت عباسؓ کے روضوں پر بھی لے جایا گیا۔ مشہد میں بھی لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور قومی پرچم، تصاویر اور انتقام کے مطالبات پر مبنی بینرز اٹھائے۔ -

بیرون ملک ملازمت کے نام پر فراڈ سے ہوشیار رہیں، حکومت کا ہنگامی انتباہ
اسلام آباد: حکومت پاکستان نے بیرونِ ملک روزگار کے خواہشمند شہریوں کے لیے اہم ہنگامی انتباہ جاری کرتے ہوئے نوکری اور ورک ویزا کے نام پر ہونے والے فراڈ سے محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے جاری کردہ آگاہی میں کہا گیا ہے کہ بعض افراد اور غیر قانونی گروہ جعلی ملازمتوں اور فرضی ورک ویزا کی پیشکش کر کے شہریوں سے لاکھوں روپے ہتھیا رہے ہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ صرف زبانی یقین دہانی یا غیر مصدقہ وعدوں پر کسی بھی شخص یا ایجنٹ کو رقم ادا نہ کی جائے۔
بیورو کے مطابق عام ٹریول ایجنسیاں صرف فضائی ٹکٹ، ہوٹل بکنگ اور سفری انتظامات تک محدود ہوتی ہیں۔ انہیں بیرونِ ملک ملازمت فراہم کرنے یا ورک ویزا جاری کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔ اس لیے ایسے دعووں پر بھروسا کرنے سے پہلے مکمل تصدیق کرنا ضروری ہے۔
حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ بیرونِ ملک ملازمت کے تمام مواقع صرف بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے فارن جابز پورٹل یا حکومت سے باقاعدہ لائسنس یافتہ ریکروٹنگ ایجنسیوں کے ذریعے ہی تلاش کریں۔ سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کرنے سے جعلی بھرتیوں، مالی نقصان اور انسانی اسمگلنگ جیسے خطرات سے بچا جا سکتا ہے۔
بیورو نے مزید کہا کہ اگر کوئی فرد یا ادارہ نوکری یا ورک ویزا کے نام پر غیر قانونی طور پر رقم طلب کرے یا مشکوک پیشکش کرے تو اس کی فوری اطلاع وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو دی جائے تاکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔
حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیرونِ ملک ملازمت حاصل کرنے کے خواہشمند افراد اپنی محنت کی کمائی کسی غیر رجسٹرڈ ایجنٹ یا درمیانی شخص کے حوالے نہ کریں۔ قانونی طریقہ کار اپنانا نہ صرف محفوظ ہے بلکہ اس سے ملازمت کے بہتر اور مستند مواقع بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
بیورو آف امیگریشن نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بیرونِ ملک روزگار کے سلسلے میں ہر مرحلے پر احتیاط سے کام لیں، تمام دستاویزات اور ملازمت کی پیشکش کی تصدیق کریں اور صرف سرکاری و قانونی ذرائع پر اعتماد کریں تاکہ کسی بھی قسم کے فراڈ یا دھوکے سے محفوظ رہا جا سکے۔ -

سینئر صحافی و اینکر نیلم اسلم نے پاکستان پریس کلب لندن سے علیحدگی کا اعلان کردیا
لندن: پاکستان کی سینئر صحافی اور اینکر نیلم اسلم نے پاکستان پریس کلب لندن سے اپنی وابستگی فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
نیلم اسلم نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ وہ فوری طور پر پاکستان پریس کلب لندن سے خود کو الگ کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ادارے میں شفافیت، پیشہ ورانہ طرزِ عمل، جوابدہی اور افراد، خصوصاً خواتین، کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویوں پر سنگین تحفظات کے باعث کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان اصولی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ مزید اس ادارے کے ساتھ اپنی وابستگی برقرار نہیں رکھ سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی صحافتی ادارے کی بنیاد شفافیت، احتساب، باہمی احترام اور مساوی برتاؤ پر ہونی چاہیے، اور انہی اصولوں کی پاسداری کے لیے انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔
نیلم اسلم کے اس اعلان کے بعد صحافتی حلقوں میں مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، تاہم پاکستان پریس کلب لندن کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔
نیلم اسلم پاکستان سے تعلق رکھنے والی معروف صحافی اور اینکر ہیں اور مختلف قومی و بین الاقوامی امور پر اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ -

امریکا میں مسلمان پر مذہبی نفرت پر مبنی چاقو حملہ، ملزم گرفتار
امریکا کی ریاست یوٹاہ میں مذہبی نفرت پر مبنی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک مسلمان شہری پر چاقو سے متعدد وار کیے گئے۔ پولیس نے حملہ آور کو موقع سے گرفتار کر لیا، جبکہ عدالت میں جمع کرائے گئے ریکارڈ کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے متاثرہ شخص کو مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ ویسٹ ویلی سٹی کے ویلی فیئر مال میں پیش آیا، جہاں متاثرہ شخص ایک کیوسک پر کام کر رہا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور اچانک اس کے قریب پہنچا اور چاقو کے پے در پے وار کر دیے، جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔
واقعے کے فوراً بعد مال میں موجود شہریوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور کو قابو میں کر لیا اور زمین پر گرا دیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور ملزم کو حراست میں لے لیا، جبکہ زخمی شخص کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
پولیس اور عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ اس کا مقصد مسلمان شہری کو قتل کرنا تھا۔ اس نے مزید کہا کہ وہ مسلمانوں کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ حکام نے عدالت کو بتایا کہ اگر ملزم کو ضمانت پر رہا کیا گیا تو وہ عوام کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے، اسی بنیاد پر اسے زیر حراست رکھنے کی استدعا کی گئی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے اس حملے کو نفرت انگیز جرم کے زاویے سے بھی دیکھ رہے ہیں اور مختلف شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ واقعے کی مکمل نوعیت کا تعین کیا جا سکے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد حاصل کر لیے ہیں جبکہ عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔
امریکی مسلم تنظیموں اور انسانی حقوق کے حلقوں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو بلا خوف و خطر اپنی زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے اور نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کے خلاف مزید دفعات بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔ -

امریکی ناکہ بندی سے قبل ایران سے وابستہ متعدد جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب
امریکی ناکہ بندی سے قبل ایران سے وابستہ متعدد تجارتی اور تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ایران سے منسلک 11 جہازوں میں سے 9 نے امریکی پابندیوں اور ممکنہ ناکہ بندی سے پہلے ایرانی سمندری راستہ استعمال کرتے ہوئے اس اہم آبی گزرگاہ کو عبور کیا۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں میں تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے جانے والا ایک بڑا آئل ٹینکر بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات سے لدا ایک جہاز اور مائع پیٹرولیم گیس (LPG) لے جانے والے دو بڑے ٹینکر بھی محفوظ طریقے سے اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگئے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور قدرتی گیس عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ حالیہ کشیدہ صورتحال کے باعث اس آبی راستے کی سلامتی عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران سے وابستہ جہازوں کی بروقت روانگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ممکنہ پابندیوں یا فوجی اقدامات سے پہلے توانائی کی ترسیل کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی۔ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا بحری آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو عالمی سطح پر خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے اثرات مختلف ممالک کی معیشت پر بھی پڑیں گے۔
شپ ٹریکنگ ذرائع کے مطابق امریکی ناکہ بندی کے نفاذ سے پہلے زیادہ تر ایرانی جہازوں نے اپنے سفر مکمل کر لیے، جبکہ باقی جہازوں کی نقل و حرکت پر بھی مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین کے لیے سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے باعث بحری سلامتی، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت آنے والے دنوں میں بھی عالمی توجہ کا مرکز رہیں گے، جبکہ توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔ -

ایران کے لیے جاسوسی، اسرائیلی فوجی کو 5 سال قید کی سزا
تل ابیب: اسرائیلی فوج کی ایک فوجی عدالت نے ایران کے لیے جاسوسی کے جرم میں ایک اسرائیلی فوجی کو پانچ سال قید کی سزا سنا دی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ملزم پر جون 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے دوران ایران کے مفاد میں جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ثابت ہوا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سزا پانے والے فوجی نے ایران کی ہدایات پر مختلف نوعیت کے جاسوسی مشن انجام دیے۔ حکام کے مطابق ان سرگرمیوں کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا، جس کے بعد فوجی عدالت نے شواہد کی بنیاد پر اسے قصوروار ٹھہراتے ہوئے پانچ سال قید کی سزا سنائی۔
بیان میں بتایا گیا کہ اس مقدمے کی تحقیقات اسرائیلی فوجی پولیس، اسرائیلی پولیس اور داخلی انٹیلی جنس ادارے شن بیت نے مشترکہ طور پر کیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مقدمہ فوجی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ملزم کے خلاف عائد الزامات کو ثابت قرار دیا گیا۔
اسرائیلی فوج نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر سزا پانے والے فوجی کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی ان مبینہ جاسوسی سرگرمیوں کی مکمل تفصیلات جاری کیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حساس معلومات کے پیش نظر مزید معلومات عوامی سطح پر شیئر نہیں کی جا سکتیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق جنگی حالات میں دشمن ملک کو معلومات فراہم کرنا یا اس کے مفاد میں کسی بھی قسم کی سرگرمی انجام دینا انتہائی سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے، اسی بنیاد پر عدالت نے سخت سزا سنائی۔
دوسری جانب ایران کی حکومت نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث دونوں ممالک میں جاسوسی اور انسدادِ جاسوسی کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایسے مقدمات مستقبل میں بھی سامنے آ سکتے ہیں، جبکہ حساس ادارے داخلی سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے نگرانی مزید سخت کر رہے ہیں۔