ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کی جارحانہ اور دفاعی کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا دشمن کی سنگین غلطی ہے، جس کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے حملے دوبارہ کیے گئے تو ایران نہ صرف جواب دے گا بلکہ دشمن اور اس کے اتحادیوں کی توانائی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ایران اپنی دفاعی حکمت عملی پر مکمل عمل کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا سختی سے مقابلہ کرے گا۔
Author: Aqsa Younas Rana

ایران کی سخت وارننگ: توانائی تنصیبات پر حملے کا بھرپور جواب جاری

ایران جنگ کے تناظر میں ٹرمپ کا 200 ارب ڈالر دفاعی بجٹ بڑھانے کا عندیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پینٹاگون کے لیے 200 ارب ڈالر تک اضافی فنڈنگ طلب کر سکتے ہیں، جسے انہوں نے فوجی تیاری کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ضروری قدم قرار دیا۔
اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنی فوج کو بہترین حالت میں رکھنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے بڑے وسائل مختص کرنا ایک معمولی قیمت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فنڈنگ صرف ایران سے متعلق صورتحال تک محدود نہیں ہوگی بلکہ دیگر دفاعی ضروریات بھی اس میں شامل ہوں گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ امریکی فوج کے پاس وافر مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود موجود ہو، تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ امریکہ کو ہتھیاروں کی کمی کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت دفاعی اخراجات میں احتیاط برت رہی ہے اور موجودہ وسائل کو محفوظ رکھتے ہوئے مستقبل کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
سعودی عرب میں امریکی شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت
سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے ملک میں موجود امریکی شہریوں کو فوری طور پر سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری کمرشل پروازوں کے ذریعے جلد از جلد ملک سے روانہ ہو جائیں، کیونکہ سعودی فضائی حدود میں میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بیان کے مطابق ریاض، جدہ اور دمام کے ائیرپورٹس بدستور فعال ہیں اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقامی وارننگ سسٹم اور حکومتی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔
امریکی حکام نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہا جا سکے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج نہیں بھیجی جا رہی: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی دستے تعینات نہیں کر رہے۔
اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کہیں بھی فوج نہیں بھیج رہے، اور اگر ایسا کوئی فیصلہ ہوتا بھی تو وہ اس کا اعلان نہ کرتے، تاہم فی الحال ایسی کوئی تعیناتی زیر غور نہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بھی کہا کہ اس وقت زمینی افواج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم تمام آپشنز کھلے رکھے گئے ہیں۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ ایک میرین ایکسپڈیشنری یونٹ کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا امریکہ مستقبل میں زمینی فوج بھیجے گا یا نہیں۔
یورپی ممالک اور جاپان کی ایران پر شدید تنقید، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ
متعدد یورپی ممالک اور جاپان نے مشترکہ بیان میں خلیج میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش پر ایران کی شدید مذمت کی ہے۔
بیان میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز اور جاپان کے رہنماؤں نے کہا کہ غیر مسلح تجارتی جہازوں، تیل و گیس تنصیبات اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی عملی بندش نے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کو متاثر کر دیا ہے، جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رہنماؤں نے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر دھمکیوں، بارودی سرنگوں کی تنصیب، ڈرون اور میزائل حملوں اور بحری راستے کی بندش جیسے اقدامات بند کرے۔
مشترکہ بیان میں تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ شہری تنصیبات، خصوصاً تیل و گیس کے انفراسٹرکچر پر حملوں کو فوری طور پر روکنے کے لیے جامع اقدامات کریں۔
ممالک نے یہ بھی کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں، جبکہ توانائی کی عالمی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ مل کر پیداوار بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ایندھن بچاؤ پالیسی پر اہم اجلاس، حکومت کا کفایت شعاری پر زور
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات پر اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملکی ذخائر، کھپت اور پیٹرولیم کارگوز سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے اور آئندہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزید انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ وزیراعظم کی بروقت ہدایات کے باعث ایندھن کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں مدد ملی ہے۔
شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں غیر مستحکم صورتحال کے باعث ایندھن کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مزید بچت اقدامات ناگزیر ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبوں کے ساتھ مل کر ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
اجلاس میں کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ وزیراعظم نے کہا کہ ان پالیسیوں کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے اشرافیہ پر زور دیا کہ وہ مثال قائم کرتے ہوئے بچت کو فروغ دیں۔
حکومت نے عوام سے اپیل کی کہ پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں احتیاط برتیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کار پولنگ کو فروغ دیں تاکہ ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں اور پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے۔
اجلاس میں اعلیٰ سول و عسکری قیادت اور وفاقی وزرا نے شرکت کی اور بدلتی صورتحال کے مطابق حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔
پاکستان کا دوٹوک مؤقف: میزائل پروگرام پر امریکی بیان مسترد
ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتیں مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی حامل ہیں اور ان کا مقصد صرف قومی خودمختاری کا تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنے دفاع کو یقینی بنانے کا حق رکھتا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کے غیر مصدقہ الزامات کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی پالیسی میں توازن برقرار رکھتے ہوئے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
پاکستان میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عیدالفطر 21 مارچ کو ہوگی
پاکستان میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا جس کے بعد مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ عیدالفطر 21 مارچ کو منائی جائے گی۔
ملک بھر سے چاند نظر آنے کی کوئی مستند شہادت موصول نہیں ہوئی، جس کے باعث رمضان المبارک کے 30 روزے مکمل کیے جائیں گے۔
رویت ہلال کمیٹی کے مطابق مختلف شہروں سے موصول ہونے والی اطلاعات اور سائنسی ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
اعلان کے بعد ملک بھر میں عیدالفطر کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں اور شہری 21 مارچ کو عید منانے کے لیے پرجوش ہیں۔
ایران کے جنوبی پارس فیلڈ پر حملہ، امارات نے عالمی توانائی سلامتی کو خطرہ قرار دے دیا
متحدہ عرب امارات نے ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایسے حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ حساس توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک خطرناک رجحان ہے جس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کرے تاکہ توانائی کے نظام کو محفوظ بنایا جا سکے اور خطے میں استحکام برقرار رہے۔
امارات نے سفارتی ذرائع کو مضبوط بنانے اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ مزید ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور عالمی معیشت کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔
بھارت اور بنگلادیش کا عیدالفطر سے متعلق اعلان
بھارت اور بنگلادیش نے عیدالفطر 2026 کے پہلے دن کا اعلان کر دیا۔
انڈین میڈیا کے مطابق بھارت میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا اس لیے عیدالفطر 21 مارچ کو ہو گی۔ لکھنوؤ اور حیدرآباد میں مسلم علما کونسل نے عیدالفطر 21مارچ کو منانے کا اعلان کیا ہے۔
بنگلادیش میں بھی شوال کا چاند نظر نہیں آیا اور یہاں بھی عیدالفطر 21 مارچ کو ہو گی۔ بھارت میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، جس کے بعد رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ عیدالفطر ہفتہ کے روز منائی جائے گی۔
رویت ہلال حکام کے مطابق ملک کے مختلف حصوں سے چاند نظر آنے کی کوئی مصدقہ شہادت موصول نہیں ہوئی، جس کے باعث رمضان المبارک کے روزے 30 دن مکمل کیے جائیں گے۔
اعلان کے بعد ملک بھر میں عید کی تیاریاں ہفتہ کے دن کے حساب سے جاری رکھی جا رہی ہیں، جبکہ شہریوں نے بھی سرکاری اعلان کے مطابق اپنی سرگرمیاں ترتیب دینا شروع کر دی ہیں۔









