Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
وزیراعظم کا آسان قرضوں کے فروغ کا منصوبہ، ایس ایم ای سیکٹر کے لیے مالی سہولیات بڑھانے کی ہدایت

    
وزیراعظم کا آسان قرضوں کے فروغ کا منصوبہ، ایس ایم ای سیکٹر کے لیے مالی سہولیات بڑھانے کی ہدایت

    ‎وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں ایکسیس ٹو فائنانس پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں معیشت کے مختلف شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات فراہم کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے آئندہ دو سالہ حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔
    ‎بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد مالی سہولیات تک رسائی کو وسیع کرنا اور اسے قومی معیشت کا مؤثر حصہ بنانا ہے۔ منصوبے کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)، زراعت، برآمدات، قابلِ تجدید توانائی، ہاؤسنگ اور آئی ٹی کے شعبوں کو آسان قرضوں اور کریڈٹ کی بہتر سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکے۔
    ‎اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں پر مشتمل مشترکہ گورننس نظام تشکیل دیا جائے گا۔ وزیر خزانہ اس نظام کی سربراہی کریں گے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک شریک سربراہ ہوں گے۔ اس نظام کے تحت باقاعدہ اجلاس منعقد ہوں گے اور وزیراعظم کو ہر ماہ پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس لیے بینکوں کو چاہیے کہ وہ اس شعبے اور دیگر ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں۔
    ‎وزیراعظم نے کہا کہ آسان قرضوں کی دستیابی سے برآمدات میں اضافہ، نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت مزید مستحکم ہوگی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مالی سہولیات کی فراہمی میں بہتر کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ وہ خود ہر ماہ اس منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کریں گے۔
    ‎بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت آئندہ دو برس میں نجی شعبے کے مجموعی قرضوں میں ایس ایم ای سیکٹر کا حصہ 7 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح ایس ایم ای قرضوں سے فائدہ اٹھانے والے کاروباری اداروں کی تعداد 3 لاکھ 10 ہزار سے بڑھا کر 7 لاکھ 50 ہزار تک پہنچانے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔
    ‎اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء، گورنر اسٹیٹ بینک، مختلف بینکوں کے صدور اور چیف ایگزیکٹو افسران، صوبائی چیف سیکریٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

  • 
پنجاب میں فلم ’ستلج‘ کی گاؤں گاؤں نمائش، سکھوں سے متعلق موضوع پر نئی بحث چھڑ گئی

    
پنجاب میں فلم ’ستلج‘ کی گاؤں گاؤں نمائش، سکھوں سے متعلق موضوع پر نئی بحث چھڑ گئی

    ‎دلجیت دوسانجھ کی فلم ستلج سے متعلق تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی پنجاب میں متعدد مقامات پر فلم کی نمائش کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں دیہات اور گوردواروں میں بڑی اسکرینیں نصب کر کے عوام کو فلم دکھائی جا رہی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق پنجاب کے مختلف علاقوں میں ہزاروں دیہات میں فلم کی اسکریننگ کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی سطح پر رضاکاروں اور مختلف تنظیموں کی جانب سے عوامی نمائش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ کئی گوردواروں میں بھی فلم دکھائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم میں بھارتی پنجاب کے سکھوں کو درپیش تاریخی واقعات اور ان سے متعلق مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ فلم کی کہانی اور اس میں پیش کیے گئے واقعات کے باعث مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے، جبکہ اس کے مواد پر متضاد آراء سامنے آ رہی ہیں۔
    ‎دوسری جانب بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فلم کی نمائش کو محدود کرنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم ان دعوؤں کے حوالے سے مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں۔ اس حوالے سے حکام کی جانب سے جاری کیے گئے اقدامات اور ان کی قانونی حیثیت پر بھی بحث جاری ہے۔
    ‎فلم کی نمائش کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس موضوع پر وسیع تبصرے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ایک طبقہ فلم کو تاریخی واقعات اجاگر کرنے کی کوشش قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اس کے بعض نکات پر اختلاف کا اظہار کر رہا ہے۔

  • 
اسرائیلی فورسز نے فلسطین کے مفتی اعظم شیخ محمد حسین کو گرفتار کر لیا

    
اسرائیلی فورسز نے فلسطین کے مفتی اعظم شیخ محمد حسین کو گرفتار کر لیا

    ‎شیخ محمد حسین، جو فلسطین کے مفتی اعظم اور مسجد اقصیٰ کے امام بھی ہیں، کو اسرائیلی فورسز نے نماز جمعہ کے بعد حراست میں لے لیا۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کی امامت کرائی، جس کے فوراً بعد اسرائیلی اہلکاروں نے انہیں گرفتار کر لیا۔
    ‎ذرائع کے مطابق گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب شیخ محمد حسین نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مسجد اقصیٰ کے احاطے سے باہر آ رہے تھے۔ واقعے کے بعد مسجد کے اطراف میں کشیدگی کی فضا پیدا ہوگئی، جبکہ نمازیوں اور مقامی فلسطینی شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
    ‎تاحال اسرائیلی حکام کی جانب سے گرفتاری کی باضابطہ وجہ یا ان پر عائد کیے گئے الزامات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ دوسری جانب فلسطینی حلقوں نے اس اقدام کو مذہبی آزادی اور مقدس مقامات کے احترام کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
    ‎شیخ محمد حسین فلسطین کی ایک اہم مذہبی شخصیت ہیں اور وہ کئی برسوں سے مسجد اقصیٰ میں امامت اور دینی امور کی نگرانی کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ ان کی گرفتاری کو ایسے وقت میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جب مشرقی یروشلم اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کشیدگی پہلے ہی برقرار ہے۔
    ‎فلسطینی قیادت اور مختلف مذہبی و سماجی تنظیموں کی جانب سے واقعے پر ردعمل سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں اس معاملے پر مزید سرکاری مؤقف اور تفصیلات سامنے آئیں گی۔

  • 
سعود آباد سے اغوا ہونے والا 11 سالہ بچہ 9 گھنٹوں میں بحفاظت بازیاب

    
سعود آباد سے اغوا ہونے والا 11 سالہ بچہ 9 گھنٹوں میں بحفاظت بازیاب

    ‎کراچی کے علاقے سعود آباد میں ڈینٹسٹ کے 11 سالہ بیٹے کے اغوا کا واقعہ پیش آیا، تاہم سعود آباد پولیس نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے بچے کو محض 9 گھنٹوں کے اندر بحفاظت بازیاب کرا لیا۔ پولیس حکام کے مطابق ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے اور انہیں گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
    ‎ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری کے مطابق اغوا کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ ابتدائی کارروائی کے دوران اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر ٹریس کیا گیا، جس کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور ان کے ممکنہ ٹھکانوں تک رسائی حاصل کی گئی۔
    ‎پولیس نے ایک مشتبہ مقام پر چھاپہ بھی مارا، تاہم معلوم ہوا کہ ملزمان وہاں سے پہلے ہی اپنا رہائشی مقام تبدیل کر چکے تھے۔ اس کے باوجود تفتیشی ٹیموں نے ہیومن انٹیلی جنس اور جدید تکنیکی ذرائع سے ملزمان کا تعاقب جاری رکھا۔ حکام کے مطابق جب ملزمان کو احساس ہوا کہ پولیس ان تک پہنچنے والی ہے تو انہوں نے گرفتاری کے خوف سے مغوی بچے کو ماڈل ٹاؤن میں ایک معروف اسٹور کے قریب چھوڑ دیا اور خود فرار ہو گئے۔
    ‎پولیس نے بچے کو بحفاظت اپنی تحویل میں لینے کے بعد اہل خانہ کے حوالے کر دیا۔ ایس ایس پی کورنگی کا کہنا ہے کہ ملزمان کی مکمل تفصیلات حاصل کر لی گئی ہیں اور انہیں جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بچے سے بھی واقعے کی تفصیلات حاصل کی جائیں گی تاکہ اغوا کی وجوہات اور تمام حقائق سامنے آ سکیں۔
    ‎مغوی بچے خضر دانش کے والد ریاض نے پولیس کو دی گئی درخواست میں بتایا کہ واقعے کی رات ان کے ایک بیٹے کے انتقال پر گھر میں قرآن خوانی جاری تھی۔ اسی دوران خضر دانش، اس کا بڑا بھائی اور ایک بھانجی گھر کے قریب دکان سے سامان خریدنے کے لیے باہر گئے تھے۔
    ‎ان کے مطابق کچھ ہی دیر بعد بڑا بیٹا اور بھانجی روتے ہوئے واپس آئے اور بتایا کہ سلور رنگ کی ایک گاڑی میں سوار نامعلوم افراد خضر دانش کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے ہیں۔ اہل خانہ نے اپنی مدد آپ کے تحت گاڑی کا تعاقب بھی کیا، لیکن اغوا کار فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جس کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
    ‎پولیس کی بروقت کارروائی اور مسلسل تعاقب کے باعث بچہ چند گھنٹوں کے اندر بحفاظت بازیاب ہو گیا، جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • 
پاکستان میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی

    
پاکستان میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی

    ‎پاکستان میں مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں فی تولہ سونے کی قیمت 1 ہزار 400 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 32 ہزار 436 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی کے اثرات مقامی صرافہ بازار پر بھی نمایاں طور پر دیکھنے میں آئے ہیں۔
    ‎آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج کاروباری دن کے دوران فی تولہ سونے کی قیمت میں 1 ہزار 400 روپے کی کمی ہوئی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 1 ہزار 200 روپے کم ہونے کے بعد 3 لاکھ 70 ہزار 744 روپے ہو گئی ہے، جس سے حالیہ دنوں میں مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے رجحان میں وقتی تبدیلی آئی ہے۔
    ‎بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں فی اونس سونا 14 ڈالر سستا ہونے کے بعد 4 ہزار 100 ڈالر پر آ گیا۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے رجحانات، امریکی ڈالر کی قدر، شرح سود اور عالمی معاشی صورتحال سونے کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث مقامی مارکیٹ میں بھی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آتا ہے۔
    ‎دوسری جانب چاندی کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ چاندی 11 روپے مہنگی ہونے کے بعد 6 ہزار 432 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یوں جہاں سونے کی قیمت میں کمی آئی ہے، وہیں چاندی نے آج مثبت رجحان دکھایا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ سونا روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری تصور کیا جاتا ہے، خصوصاً ایسے اوقات میں جب دنیا کو افراط زر، سیاسی بے یقینی یا معاشی بحرانوں کا سامنا ہو۔ ایسے حالات میں سرمایہ کار اپنے سرمائے کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے اس کی طلب اور قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
    ‎پاکستان میں گزشتہ برس سونے کی قیمت کے تعین کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی گئی تھی، جس کے تحت مقامی قیمت کا تعین عالمی مارکیٹ ریٹ کے مقابلے میں فی اونس 20 ڈالر اضافی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں معمولی رد و بدل بھی مقامی قیمتوں پر نمایاں اثر ڈالتا ہے۔

  • 
چین کا لانگ مارچ 10B راکٹ کامیاب، پہلی بار راکٹ کا پہلا مرحلہ بحفاظت بازیاب

    
چین کا لانگ مارچ 10B راکٹ کامیاب، پہلی بار راکٹ کا پہلا مرحلہ بحفاظت بازیاب

    ‎چین نے اپنے خلائی پروگرام میں ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے لانگ مارچ 10B (Long March-10B) راکٹ کی پہلی آزمائشی پرواز کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔ اس مشن کی سب سے نمایاں کامیابی یہ رہی کہ پہلی مرتبہ راکٹ کے پہلے مرحلے کو سمندر میں نصب خصوصی ریکوری سسٹم کے ذریعے بحفاظت واپس حاصل کر لیا گیا، جسے چین کے خلائی پروگرام کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎چینی حکام کے مطابق یہ ملک کی خلائی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب کسی راکٹ کے پہلے مرحلے کو منصوبہ بندی کے تحت محفوظ طریقے سے بازیاب کیا گیا۔ اس کامیابی سے مستقبل میں دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹس کی تیاری اور خلائی مشنز کو زیادہ مؤثر اور کم لاگت بنانے کی راہ ہموار ہوگی۔
    ‎ماہرین کے مطابق راکٹ کا پہلا مرحلہ خلائی لانچ کا سب سے مہنگا حصہ ہوتا ہے۔ اگر اسے کامیابی سے واپس لا کر دوبارہ استعمال کیا جائے تو ہر مشن پر آنے والے اخراجات میں نمایاں کمی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑے خلائی ادارے اور نجی کمپنیاں گزشتہ کئی برسوں سے ری یوز ایبل راکٹ ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں۔
    ‎لانگ مارچ 10B چین کے مستقبل کے خلائی منصوبوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اسے آئندہ برسوں میں چاند پر انسانی مشنز، قمری تحقیق اور گہرے خلائی پروگراموں میں استعمال کیا جائے گا۔ چینی خلائی ادارہ اس راکٹ کو اپنے طویل المدتی خلائی عزائم کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔
    ‎خلائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کامیاب تجربے کے بعد چین دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹس کی عالمی دوڑ میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر سکتا ہے۔ اس شعبے میں پہلے ہی کئی بین الاقوامی خلائی ادارے اور نجی کمپنیاں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خلائی سفر کو زیادہ سستا، محفوظ اور مؤثر بنانے پر کام کر رہی ہیں۔
    ‎یہ کامیابی اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ چین اپنے خلائی پروگرام کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے اور مستقبل میں چاند، مریخ اور دیگر خلائی مقامات پر سائنسی مشنز کے لیے جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

  • 
میڈیکل کالجز کی فیسوں اور خالی نشستوں پر تفصیلی رپورٹ طلب

    
میڈیکل کالجز کی فیسوں اور خالی نشستوں پر تفصیلی رپورٹ طلب

    ‎قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے ملک بھر کے سرکاری اور نجی میڈیکل کالجوں میں بھاری فیسوں، خالی نشستوں، معیارِ تعلیم اور دیگر انتظامی معاملات پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ آئندہ اجلاس میں تمام متعلقہ امور پر جامع معلومات پیش کی جائیں تاکہ مؤثر پالیسی سازی کی جا سکے۔
    ‎اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے کی، جبکہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، کمیٹی رکن عالیہ کامران، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے صدر ڈاکٹر رضوان اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
    ‎اجلاس کے دوران نجی میڈیکل کالجوں کی بڑھتی ہوئی فیسوں، تعلیمی معیار، خالی نشستوں اور پی ایم ڈی سی کے انتظامی و مالی معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ارکانِ کمیٹی نے نجی میڈیکل کالجوں کی جانب سے وصول کی جانے والی بھاری فیسوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ اور والدین پر بڑھتا ہوا مالی بوجھ ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے، جبکہ بعض اداروں میں معیارِ تعلیم سے متعلق بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
    ‎وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اجلاس کو بتایا کہ حقیقت یہ ہے کہ جن نجی میڈیکل کالجوں میں بہتر تعلیمی معیار موجود ہے، وہاں زیادہ فیسوں کے باوجود تمام نشستیں مکمل ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر میڈیکل کالج کی فیس، معیارِ تعلیم اور خالی نشستوں سے متعلق الگ الگ رپورٹ تیار کرے گی تاکہ اصل صورتحال سامنے آ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ طلبہ اور نجی تعلیمی اداروں دونوں کے جائز مفادات کا تحفظ کیا جائے، اسی لیے خالی نشستوں کی وجوہات کا مکمل جائزہ لیا جائے گا۔
    ‎چیئرمین کمیٹی ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے ملک بھر کے میڈیکل کالجوں میں خالی رہ جانے والی نشستوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ان کی وجوہات اور مستقل پالیسی بھی پیش کی جائے۔ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ متعلقہ اضلاع کے ارکانِ اسمبلی اپنے علاقوں کے میڈیکل کالجوں کا خود جائزہ لیں اور اپنی رپورٹس کمیٹی کے سامنے پیش کریں۔
    ‎اجلاس میں پنجاب کے احتجاج کرنے والے طلبہ کے منسوخ کیے گئے لائسنسز کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، جس پر متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی گئی۔ اس کے علاوہ پی ایم ڈی سی کے صدر کی اضافی مالی مراعات اور اجلاس الاؤنسز کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ کمیٹی رکن عالیہ کامران نے مطالبہ کیا کہ تنخواہوں اور مالی مراعات کی منظوری سے متعلق قانونی حیثیت واضح کی جائے۔
    ‎پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان نے کمیٹی کو بتایا کہ اضافی مالی مراعات کا معاملہ ابھی حتمی منظوری کے مرحلے میں نہیں پہنچا، بلکہ یہ صرف ابتدائی سطح پر زیرِ غور آنے والی ایک تجویز تھی۔ اجلاس کے اختتام پر قائمہ کمیٹی نے تمام متعلقہ معاملات پر تفصیلی رپورٹس طلب کرتے ہوئے

  • 
چین میں سیلاب کے بعد 900 زہریلے سانپ فارم سے فرار، شہریوں کو الرٹ جاری

    
چین میں سیلاب کے بعد 900 زہریلے سانپ فارم سے فرار، شہریوں کو الرٹ جاری

    ‎چین کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں اور تباہ کن سیلاب نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ سیلابی ریلوں کے باعث ایک سانپوں کی افزائش کے فارم کو شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں تقریباً 900 سانپ فارم سے نکل کر قریبی علاقوں میں پھیل گئے۔ فرار ہونے والے سانپوں میں دنیا کے خطرناک ترین زہریلے سانپوں میں شمار ہونے والے کوبرا بھی شامل ہیں، جس کے بعد مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
    ‎مقامی حکام کے مطابق طاقتور سیلابی ریلے سانپوں کے فارم میں داخل ہوئے اور پنجرے اور باڑیں ٹوٹ گئیں، جس کے باعث سینکڑوں سانپ آزاد ہو کر اطراف کے علاقوں کا رخ کر گئے۔ واقعے کے فوراً بعد متعلقہ اداروں نے ہنگامی کارروائی شروع کرتے ہوئے ریسکیو ٹیموں، جنگلی حیات کے ماہرین اور خصوصی عملے کو موقع پر روانہ کیا تاکہ سانپوں کو رہائشی علاقوں تک پہنچنے سے پہلے قابو میں لایا جا سکے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ خصوصی ٹیمیں اب تک بڑی تعداد میں سانپوں کو دوبارہ پکڑنے میں کامیاب ہو چکی ہیں، تاہم باقی ماندہ سانپوں کی تلاش جاری ہے۔ سرچ آپریشن کے دوران جدید آلات اور خصوصی حفاظتی اقدامات اختیار کیے جا رہے ہیں تاکہ ریسکیو اہلکاروں اور مقامی شہریوں کی جانوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فرار ہونے والے بعض سانپ انتہائی مہلک زہر رکھتے ہیں اور ان کے ڈسنے سے انسانی جان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
    ‎انتظامیہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر متاثرہ مقامات پر جانے سے گریز کریں۔ اگر کسی کو سانپ نظر آئے تو فوری طور پر متعلقہ حکام یا ریسکیو اداروں کو اطلاع دی جائے۔ شہریوں کو سختی سے تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ خود سانپ پکڑنے یا انہیں مارنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور ریسکیو کارروائی میں بھی رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔
    ‎یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چین کے کئی صوبے شدید بارشوں اور سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔ حالیہ موسمی صورتحال کے باعث بڑے پیمانے پر مالی نقصان، انفراسٹرکچر کی تباہی اور نقل و حمل کے نظام میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔ حکام نے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں اور مختلف علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • 
پی ڈی ایم اے کا پنجاب بھر میں بارشوں کا الرٹ

    
پی ڈی ایم اے کا پنجاب بھر میں بارشوں کا الرٹ

    ‎پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبے کے بیشتر اضلاع میں آئندہ دو روز کے دوران بارشوں کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق 11 جولائی کی شام سے 12 جولائی تک مختلف علاقوں میں بارش، تیز ہواؤں اور بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے۔
    ‎پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، راولپنڈی، اٹک، مری، چکوال، جہلم، میانوالی، سرگودھا، خوشاب، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور نارووال سمیت شمالی اور وسطی پنجاب کے مختلف اضلاع میں بارش متوقع ہے۔ متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔
    ‎اسی طرح شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، ساہیوال، اوکاڑہ، پاکپتن، قصور اور ان کے گرد و نواح میں بھی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ محکمہ نے شہریوں کو خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
    ‎جنوبی پنجاب کے اضلاع بہاولنگر، بہاولپور، رحیم یار خان، ملتان، خانیوال، وہاڑی، لودھراں، مظفرگڑھ، کوٹ ادو، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، لیہ اور بھکر میں بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ بعض نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور مقامی ندی نالوں میں پانی کی سطح بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
    ‎پی ڈی ایم اے نے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ریسکیو اداروں اور واسا سمیت متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ آندھی یا بارش کے دوران کمزور عمارتوں، بجلی کے کھمبوں اور غیر محفوظ مقامات سے دور رہیں، جبکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔

  • 
اچھرہ ٹیوشن سینٹر میں جاں بحق طالبہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

    
اچھرہ ٹیوشن سینٹر میں جاں بحق طالبہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

    ‎لاہور کے علاقے اچھرہ میں واقع ایک ٹیوشن سینٹر میں جاں بحق ہونے والی 10 سالہ طالبہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ بچی کی موت گلے میں پھندا لگنے سے دم گھٹنے کے باعث ہوئی۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ موت کی حتمی وجہ فرانزک اور کیمیکل ایگزامینر کی مکمل رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی طے کی جائے گی۔
    ‎پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد چھٹی جماعت میں زیر تعلیم طالبہ کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچی کے گلے پر رسی یا پھندے کا واضح نشان موجود تھا، جبکہ جسم کے دیگر حصوں پر تشدد، مزاحمت یا زبردستی کے نمایاں آثار نہیں ملے۔
    ‎تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی حساس نوعیت کے پیش نظر تمام شواہد کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جائے وقوعہ سے حاصل کیے گئے فنگر پرنٹس، ڈی این اے نمونے اور دیگر شواہد فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔
    ‎یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب 10 سالہ طالبہ روزانہ کی طرح ٹیوشن سینٹر گئی۔ اطلاعات کے مطابق کلاس کے دوران وہ واش روم گئی، لیکن کافی دیر تک واپس نہ آنے پر انتظامیہ کو تشویش ہوئی۔ جب واش روم کا دروازہ توڑا گیا تو بچی بے ہوش حالت میں ملی۔ اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد بتایا کہ اس کا انتقال اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔
    ‎مقتولہ کے والد کے مطابق ان کی مزید دو بیٹیاں بھی اسی ٹیوشن سینٹر میں زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ٹیوشن سینٹر سے فون کر کے اطلاع دی گئی کہ ان کی بیٹی کی طبیعت خراب ہو گئی ہے۔ وہ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور بچی کو اسپتال لے گئے، مگر وہ جانبر نہ ہو سکی۔
    ‎پولیس نے واقعے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے خودکشی، قتل اور دیگر تمام ممکنہ پہلوؤں پر تحقیقات جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اسی سلسلے میں ٹیوشن سینٹر کے مالکِ مکان کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، جبکہ عمارت اور اطراف میں نصب تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی تحویل میں لے لی گئی ہے تاکہ واقعے سے قبل اور بعد کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔