چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے دفتر خارجہ میں ملاقات کی، جس میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے گلگت بلتستان میں حکومت سازی پر بلاول بھٹو زرداری کو مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں منتخب حکومت کی تشکیل کے عمل میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تعاون پر اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آزاد جموں و کشمیر میں آئندہ عام انتخابات آزاد، منصفانہ اور شفاف انداز میں منعقد ہونا جمہوری عمل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے غیر ضروری دباؤ سے پاک اور عوام کے اعتماد کے مطابق بنایا جانا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال، آئینی معاملات اور خطے میں سیاسی استحکام سے متعلق مختلف امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے ملک میں جمہوری روایات کو مضبوط بنانے اور سیاسی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ قومی اہمیت کے معاملات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون اور رابطے کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ عوامی مسائل کے حل اور قومی مفاد سے متعلق فیصلوں میں اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بلاول بھٹو زرداری اور اسحاق ڈار کی یہ ملاقات موجودہ سیاسی صورتحال میں اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، خصوصاً گلگت بلتستان میں نئی حکومت کی تشکیل اور آزاد کشمیر میں متوقع انتخابات کے تناظر میں اس ملاقات کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

بلاول بھٹو اور اسحاق ڈار کی ملاقات، آزاد کشمیر میں شفاف انتخابات پر اتفاق
-

امریکا، کینیڈا اور یورپ میں بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن
امریکا، کینیڈا اور یورپ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا ہے۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران 24 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 37 ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق آپریشن ہارڈ بال (Operation HARD BALL) کے تحت بھتا خوری، منشیات کی اسمگلنگ، ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور اسلحہ اسمگلنگ میں ملوث تین منظم جرائم پیشہ گروہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کارروائی کے دوران تقریباً ایک ہزار کلوگرام کوکین، ایک کلوگرام ہیروئن، بھاری مقدار میں نقد رقم اور مختلف اقسام کا اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔
ایف بی آئی کے لاس اینجلس فیلڈ آفس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پیٹرک گرینڈی نے کہا کہ یہ جرائم پیشہ نیٹ ورکس کیلیفورنیا اور دیگر علاقوں میں مقیم مشرقی بھارتی برادری میں تشدد، خوف اور عدم استحکام کو فروغ دے رہے تھے۔ ان کے مطابق اس کارروائی کا مقصد منظم جرائم کے ان نیٹ ورکس کو ختم کرنا اور متاثرہ کمیونٹیز کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق فردِ جرم عائد کیے جانے والے ملزمان میں دو ایسے افراد بھی شامل ہیں جو بھارت کی جیلوں میں قید ہونے کے باوجود اپنے عالمی جرائم پیشہ نیٹ ورکس چلا رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید مواصلاتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے یہ ملزمان بیرون ملک سرگرمیوں کی نگرانی اور ہدایات جاری کرتے رہے۔
حکام نے بتایا کہ اس کارروائی کے باوجود اب بھی 10 مفرور ملزمان کی تلاش جاری ہے، جن میں ایک یورپ، سات امریکا اور دو بھارت میں موجود ہیں۔ متعلقہ ادارے بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق گینگ کا مبینہ سرغنہ لارنس بشنوئی بھارت کی جیل میں قید ہونے کے باوجود سیٹلائٹ فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے ساتھیوں کو ہدایات دیتا رہا۔ تحقیقات کے مطابق نیٹ ورک کئی ممالک میں منظم جرائم کی سرگرمیوں میں ملوث تھا اور اس کے خلاف مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ -

پاکستان کا ایران امریکا کشیدگی پر تحمل کا مشورہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا مطالبہ
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر پاکستان نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری کریں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے میں پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ ترجمان کے مطابق کسی بھی نئے تنازع کا آغاز کسی فریق کے مفاد میں نہیں، اس لیے تمام متعلقہ ممالک کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو خطے کے امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ موجودہ حالات میں مسلسل رابطے، سفارتکاری اور مذاکرات ہی مسائل کے حل کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اختلافات کو طاقت کے بجائے سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ خطے کو مزید عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔
دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت باہمی احترام، اعتماد اور افہام و تفہیم پر مبنی ایک اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔ پاکستان نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنائیں، کیونکہ یہی خطے اور دنیا میں امن و مشترکہ خوشحالی کے فروغ کا بہترین راستہ ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی ایران میں امریکی فوج کی کارروائیوں کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں آٹھ فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان بیانات کا تبادلہ بھی مزید سخت ہو گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مزید کارروائی کا امکان موجود ہے۔ ان کے حالیہ بیان کے بعد عالمی سطح پر خطے کی صورتحال پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ خطے میں امن، استحکام اور پائیدار حل کے لیے تمام فریقین کو تحمل، ذمہ داری اور سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ -

سرحد پار دہشت گردی پوری قوت سے کچلی جائے گی: فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دوٹوک پیغام
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج دشمن کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سرگرمیوں سے مکمل طور پر باخبر ہیں اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا پوری ریاستی طاقت کے ساتھ مؤثر جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے دورے کے موقع پر نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس کے گریجویٹ افسران سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کے پیچیدہ اسٹریٹیجک چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجک بصیرت، پیشہ ورانہ مہارت اور مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ان کے تمام عزائم ناکام ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی اور ان کے ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔
فیلڈ مارشل نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف اپنے عزم پر قائم ہیں اور ملک کے امن و خوشحالی کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے دشمنوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جنگیں صرف بیانات یا سیاسی نعروں سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ ایمان، اتحاد، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ذریعے کامیابی حاصل کی جاتی ہے۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ دیانت داری، بے لوث خدمت اور وطن سے غیر متزلزل وابستگی کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا بنیادی اصول بنائیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس میں پاک فوج، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے افسران شریک تھے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت، جدید دفاعی تقاضوں اور قومی سلامتی سے متعلق مختلف امور پر بھی اظہار خیال کیا اور افسران کی پیشہ ورانہ تیاری پر اعتماد کا اظہار کیا۔ -

برطانیہ: بیوی اور دو بیٹیوں کے قتل کے شبہے میں مطلوب شخص کی شناخت سامنے آگئی
برطانیہ میں اپنی اہلیہ اور دو کمسن بیٹیوں کے مبینہ قتل کے الزام میں مطلوب شخص کی شناخت پولیس نے ظاہر کر دی ہے۔ حکام کے مطابق 45 سالہ نڈودانا مخانیسی تشوما، جو مارک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، واردات کے بعد برطانیہ چھوڑ کر فرار ہو چکا ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔
بیڈفورڈ شائر پولیس کے مطابق مشتبہ شخص کا تعلق بیڈفورڈ سے ہے اور وہ زمبابوے سے تعلق رکھنے والے خاندان کا برطانوی شہری ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق وہ گزشتہ ہفتے ہفتے کے روز لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے زمبابوے روانہ ہوا، جبکہ پولیس کو شبہ ہے کہ قتل کا واقعہ اس کی روانگی سے پہلے پیش آیا۔
پولیس کے مطابق پیر کے روز گریٹ ڈینہم کے ایک گھر سے تین افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ اہلکار کئی روز تک متاثرہ خاندان سے رابطہ نہ ہونے پر گھر میں داخل ہوئے، جہاں انہیں خاتون اور دو بچیوں کی لاشیں ملیں۔
پولیس نے مقتولین کی شناخت 42 سالہ نوتھابو زینڈائل تشوما، جنہیں زینڈائل کے نام سے جانا جاتا تھا، ان کی 15 سالہ بیٹی نیٹلی اور 5 سالہ بیٹی نالا کے طور پر کی ہے۔ تینوں کی ہلاکت نے مقامی آبادی کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔
تفتیشی افسر ڈیٹیکٹو انسپکٹر لی مارٹن نے مشتبہ شخص سے اپیل کی ہے کہ وہ خود کو قانون کے حوالے کر دے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اس مقدمے کی ہر پہلو سے تحقیقات کر رہی ہے اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے ملزم کی گرفتاری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
برطانوی پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص کو مشتبہ ملزم کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کرے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد جمع کیے جا رہے ہیں تاکہ ملزم کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ -

نیٹو کا نیا فضائی نگرانی نظام خریدنے کا فیصلہ، 11 اتحادی ممالک کا مشترکہ معاہدہ
ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران دفاعی صنعت فورم میں 11 اتحادی ممالک نے مشترکہ طور پر ساب گلوبل آئی (Saab GlobalEye) طیارے خریدنے کا اعلان کیا ہے، جو نیٹو کے نئے ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (AWACS) کا حصہ ہوں گے۔ اس فیصلے کو اتحاد کی فضائی نگرانی اور ابتدائی وارننگ صلاحیت کو جدید بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نیٹو کے مطابق نیا گلوبل آئی نظام اتحاد کے پرانے بوئنگ ای تھری (Boeing E-3) طیاروں کی جگہ جزوی طور پر استعمال کیا جائے گا۔ جدید نظام ایک ہی پلیٹ فارم سے فضائی، زمینی اور سمندری نگرانی کی صلاحیت فراہم کرے گا، جس سے مختلف نوعیت کے خطرات کی بروقت نشاندہی اور نگرانی ممکن ہو سکے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ جدید طیارے ڈرونز کے بڑے حملوں، بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور دیگر پیچیدہ خطرات کا مؤثر انداز میں سراغ لگانے اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے نیٹو کی مجموعی صورتحال سے آگاہی میں اضافہ ہوگا اور اتحاد کی دفاعی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔
نیٹو نے اس منصوبے کو یورپی، کینیڈین اور امریکی دفاعی صنعتوں کے درمیان قریبی تعاون کی ایک نمایاں مثال قرار دیا ہے۔ منصوبے میں یورپ اور کینیڈا کی دفاعی صنعت مرکزی کردار ادا کرے گی، جبکہ امریکی کمپنیوں کی جانب سے بھی اہم تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی۔
اس کے ساتھ ہی نیٹو کے آٹھ دیگر رکن ممالک نے بھی اپنی قومی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فضائی ابتدائی وارننگ صلاحیتوں کے فروغ کے لیے ایک الگ مشترکہ منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نیٹو حکام کے مطابق انقرہ سربراہی اجلاس میں دفاعی صلاحیتوں اور صنعتی تعاون سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کا اعلان کیا جا رہا ہے، جن کا مقصد اتحاد کی دفاعی تیاری، مشترکہ ردعمل اور ممکنہ خطرات کے مقابلے کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ -

نیٹو اتحادیوں کے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ، مارک روٹے نے خیرمقدم کیا
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے یورپی اتحادی ممالک اور کینیڈا کی جانب سے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے اتحاد کی دفاعی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی اور مشترکہ سلامتی کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔
انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارک روٹے نے بتایا کہ یورپی ممالک اور کینیڈا 2025 اور 2026 کے دوران دفاعی شعبے میں مجموعی طور پر 258 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات کریں گے، جسے انہوں نے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی صنعت میں ہونے والی یہ سرمایہ کاری صرف عسکری صلاحیت بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ اس کے مثبت معاشی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یورپی اور کینیڈین سرمایہ کاری کے نتیجے میں امریکا میں تقریباً دو لاکھ ملازمتوں کو سہارا ملا ہے، جبکہ یورپ اور کینیڈا میں بھی دفاعی صنعت میں نئی ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔
مارک روٹے نے کہا کہ گزشتہ سال نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں ہونے والے نیٹو اجلاس کا محور دفاعی منصوبہ بندی اور اہداف کا تعین تھا، جبکہ اس سال کا اجلاس ان منصوبوں پر عملی درآمد کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ کیے گئے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے نیٹو کے یورپی اتحادیوں پر دفاعی اخراجات کم رکھنے پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ اتحاد کے تمام رکن ممالک کو اپنی دفاعی ذمہ داریاں مساوی انداز میں نبھانی چاہئیں تاکہ اجتماعی سلامتی کا نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
نیٹو اجلاس میں دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی، مشترکہ عسکری حکمت عملی اور مستقبل کے چیلنجز سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دفاعی اخراجات میں اضافہ اتحاد کی مجموعی تیاری اور رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ -

قصور میں نوجوان پر تیزاب حملہ، دو لڑکیاں گرفتار
قصور میں ایک نوجوان پر مبینہ تیزاب حملے کے واقعے میں پولیس نے دو لڑکیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمہ نے نوجوان کو ملاقات کے بہانے بلایا اور اسے موٹر سائیکل پر قریبی علاقے رنگ پور جانے کا کہا۔ جب دونوں ایک ویران مقام پر پہنچے تو موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھی لڑکی نے اپنے پرس سے تیزاب کی بوتل نکال کر نوجوان پر پھینک دی اور اپنے ساتھی کے ساتھ موقع سے فرار ہوگئی۔
پولیس کے مطابق متاثرہ نوجوان روزگار کے سلسلے میں ملائیشیا میں مقیم تھا اور تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل پاکستان واپس آیا تھا۔ واقعے کے بعد اس نے تھانہ صدر قصور میں مقدمہ درج کراتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ دو موٹر سائیکلوں پر چائے پینے جا رہا تھا کہ رنگ پور کے قریب سامنے سے آنے والی موٹر سائیکل پر سوار ملزمہ نے اس پر تیزاب پھینک دیا۔
ایف آئی آر کے مطابق تیزاب نوجوان کے سر، چہرے اور آنکھوں پر گرا، جس کے باعث اس کی بینائی شدید متاثر ہوئی اور وہ موٹر سائیکل سے گر گیا۔ متاثرہ شخص کا مزید کہنا ہے کہ گرنے کے بعد ملزمہ نے اس کی جیب سے ساٹھ ہزار روپے نقد، ضروری کاغذات اور آدھا تولہ وزنی طلائی چین بھی نکال لی۔
متاثرہ نوجوان کو فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کی آنکھوں کی جھلی متاثر ہوئی ہے اور مزید علاج جاری ہے۔ نوجوان نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا کہ اس پر حملہ اس کی سابقہ اہلیہ کی ایما پر کیا گیا، جسے اس نے کچھ عرصہ قبل طلاق دی تھی۔
دوسری جانب ملزمہ کے اہل خانہ نے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نوجوان مسلسل ان کی بیٹی کو شادی کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا، بار بار پیغامات بھیجتا تھا اور راستہ روک کر ہراساں کرتا تھا۔ ان کے مطابق اسی صورتحال سے تنگ آ کر ان کی بیٹی نے اپنی دوست، جو نوجوان کی سابقہ بیوی بھی بتائی جا رہی ہے، کے ساتھ مل کر یہ قدم اٹھایا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کے بیانات اور شواہد کی روشنی میں تحقیقات جاری ہیں اور حتمی حقائق سامنے آنے کے بعد قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔
پاکستان میں تیزاب گردی کے زیادہ تر واقعات خواتین کے خلاف رپورٹ ہوتے رہے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں مردوں پر بھی ایسے حملوں کے واقعات سامنے آئے ہیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت قانونی کارروائی اور مؤثر روک تھام کے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ -

وینزویلا میں دو طاقتور زلزلوں سے ہلاکتیں 3,685 تک پہنچ گئیں
جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں 24 جون کو آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 3 ہزار 685 ہو گئی ہے، جبکہ 16 ہزار 740 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہزاروں شہری اب بھی بے گھر ہیں اور ملک بھر میں امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔
قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگز نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے تازہ بیان میں بتایا کہ قدرتی آفت سے متاثرہ 86 ہزار 794 خاندانوں کو امدادی سامان اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور امدادی ادارے متاثرین کی بحالی کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق اب تک 6 ہزار 462 افراد کو ملبے اور متاثرہ علاقوں سے محفوظ نکالا جا چکا ہے۔ زلزلوں کے نتیجے میں 856 عمارتوں کو نقصان پہنچا جبکہ 190 عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو گئیں، جس کے باعث ہزاروں افراد کو عارضی رہائش گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ علاقوں میں 9 ہزار 603 میٹرک ٹن خوراک تقسیم کی جا چکی ہے، جبکہ 83 لاکھ 20 ہزار لیٹر سے زائد صاف پانی بھی فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 25 ہزار 970 زخمی اور بیمار افراد کو طبی سہولیات مہیا کی گئی ہیں تاکہ متاثرین کو فوری ریلیف دیا جا سکے۔
امدادی کارروائیوں میں 29 ہزار 567 سرکاری اہلکار اور 28 ہزار 362 رضاکار حصہ لے رہے ہیں، جبکہ مختلف ممالک سے آنے والے 4 ہزار 388 بین الاقوامی ریسکیو اہلکار بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ حکومت نے بے گھر ہونے والے شہریوں کے لیے ملک بھر میں 87 عارضی امدادی کیمپ قائم کیے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی زلزلوں کے بعد اب تک ایک ہزار 76 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس برقرار ہے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق 24 جون کو وینزویلا میں صرف 39 سیکنڈ کے وقفے سے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو طاقتور زلزلے آئے تھے، جنہوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ اس قدرتی آفت کے بعد قومی اور بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو فوری ریلیف اور بحالی کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ -

چین میں طوفان اور سیلاب کی تباہی، ہلاکتیں 17 ہوگئیں، ہزاروں افراد بے گھر
چین کے جنوبی خودمختار علاقے گوانگشی میں طوفان مایساک کے باعث آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ حکام کے مطابق سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مسلسل موسلادھار بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں، جبکہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق اتوار سے شروع ہونے والی طوفانی بارشوں نے گوانگشی کے متعدد شہروں اور دیہی علاقوں کو شدید متاثر کیا۔ گھروں، سڑکوں، زرعی زمینوں اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، جس کے باعث ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ حکام کے مطابق صرف گوانگشی سے 60 ہزار سے زائد افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 90 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
رینہے گاؤں میں سیلابی پانی چند گھنٹوں کے اندر اتنی تیزی سے بلند ہوا کہ گھروں کی نچلی منزلیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی جانیں بچانے کے لیے فوری طور پر گھروں سے نکلنا پڑا اور بیشتر افراد صرف تن پر موجود کپڑوں کے ساتھ محفوظ مقامات کی جانب روانہ ہوئے۔
طوفان مایساک کے چین سے ٹکرانے کے بعد گوانگشی، ناننگ اور گرد و نواح کے علاقوں میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ کئی علاقوں میں لوگ گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں، جبکہ دور دراز پہاڑی علاقوں میں متعدد افراد اب بھی امدادی ٹیموں کے منتظر ہیں۔ مسلسل بارشوں نے ریسکیو ٹیموں کی نقل و حرکت بھی متاثر کی ہے، جس سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ادھر صوبہ ہوبے کے مختلف علاقوں میں شدید گرج چمک، آندھی اور چند مقامات پر بگولوں نے بھی تباہی مچائی ہے، جس کے باعث خراب موسم کے اثرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی، ٹریفک اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی اور ریسکیو کارروائیوں میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ انہوں نے انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دینے اور متاثرین کو فوری امداد فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔ تاہم مقامی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بارشیں امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور کئی علاقوں تک رسائی اب بھی ممکن نہیں ہو سکی۔