پاکستان ریلویز گزشتہ ایک سال کے دوران پیش آنے والے متعدد ٹرین حادثات کی بروقت تحقیقات مکمل کرنے اور ذمہ دار افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 سے 10 جون 2026 تک ملک بھر میں 31 سے زائد مسافر اور مال بردار ٹرینیں مختلف حادثات کا شکار ہوئیں، تاہم بیشتر واقعات کی انکوائریاں تاحال مکمل نہیں ہو سکیں۔
دستاویزات کے مطابق ان حادثات میں ٹرینوں کے پٹڑی سے اترنے، ایک دوسرے سے ٹکرانے، کھڑی گاڑیوں اور پاور پلانٹ وین میں آگ لگنے جیسے واقعات شامل ہیں۔ ہر حادثے کے بعد ابتدائی تحقیقات کے بعد فیڈرل انویسٹی گیشن آفیسر کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا، مسافروں اور ریلوے ملازمین کے بیانات قلم بند کیے، شواہد اکٹھے کیے اور اپنی تفصیلی رپورٹس متعلقہ حکام کو ارسال کر دیں۔
رپورٹس چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز، چیئرمین ریلوے اور وفاقی وزیر ریلوے کو بھجوائی گئیں، لیکن ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود غفلت یا لاپروائی کے ذمہ دار افسران اور ملازمین کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔
ریلوے ذرائع کے مطابق صرف حالیہ سال ہی نہیں بلکہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ہونے والے کئی حادثات کی تحقیقات بھی مکمل ہو چکی ہیں، تاہم متعدد انکوائری رپورٹس پر مختلف اعتراضات لگا کر انہیں دوبارہ تحقیقات کے لیے واپس بھیج دیا گیا۔ دوبارہ تحقیقات مکمل ہونے کے باوجود بھی ذمہ داروں کے خلاف عملی کارروائی نہ ہونے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

پاکستان ریلویز کے حادثات کی انکوائریاں التوا کا شکار، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہو سکی
-

لاپتا کارگو طیارے کا ملبہ سمندر سے مل گیا، عملے کی تلاش جاری
نجی کمپنی کے لاپتا کارگو طیارے کی تلاش کے لیے پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (پی ایم ایس اے) کی جانب سے جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکام نے سمندر میں طویل سرچ آپریشن کے بعد طیارے کا ملبہ تلاش کر لیا ہے، جبکہ عملے کے ارکان اور دیگر شواہد کی تلاش کا عمل بدستور جاری ہے۔
حکام کے مطابق پاک بحریہ اور پی ایم ایس اے نے 12 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے مشترکہ سرچ آپریشن کے دوران لاپتا طیارے کا ملبہ اوڑمارہ کے ساحل سے تقریباً 53 ناٹیکل میل جنوب میں سمندر سے برآمد کیا۔ ملبہ ملنے کے بعد حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید شواہد اکٹھے کرنے کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں لاپتا ہونے والے عملے کے پانچ ارکان کی تلاش اب بھی جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے پاک بحریہ کے جنگی جہاز، گشتی کشتیاں، فضائی نگرانی کے طیارے اور ہیلی کاپٹر مسلسل متاثرہ علاقے میں سرچ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ پی ایم ایس اے کے بحری اثاثے بھی کارروائی میں شریک ہیں۔
حکام کے مطابق سمندر میں موسمی اور سمندری حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرچ آپریشن کو مزید وسعت دی جا رہی ہے تاکہ طیارے کے مزید حصے، فلائٹ ریکارڈنگ سے متعلق ممکنہ شواہد اور لاپتا عملے کا سراغ لگایا جا سکے۔
یاد رہے کہ نجی کمپنی کا کارگو طیارہ شارجہ سے کراچی آ رہا تھا، تاہم دورانِ پرواز نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دینے کے بعد اس سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ بعد ازاں طیارہ کراچی سے مغرب کی جانب تقریباً 155 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ریڈار سے غائب ہو گیا، جس کے بعد فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملبہ ملنے کے بعد حادثے کی تحقیقات مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھائی جائیں گی، جبکہ سرچ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک عملے کے تمام ارکان اور ضروری شواہد کا سراغ نہیں مل جاتا۔ -

بلوچستان پر آل پارٹیز کانفرنس، سیاسی جماعتوں کا مذاکرات اور لاپتا افراد کی بازیابی کا مطالبہ
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے زیر اہتمام بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے شرکاء نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا۔
کانفرنس میں منظور کی گئی تجاویز میں کہا گیا کہ بلوچستان کے دیرینہ مسائل کا پائیدار حل صرف بامعنی بات چیت، آئینی عمل اور سیاسی اتفاق رائے کے ذریعے ممکن ہے۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز کیا جائے تاکہ صوبے میں امن، استحکام اور اعتماد کی فضا بحال ہو سکے۔
شرکاء نے لاپتا افراد کے مسئلے کو بلوچستان کا ایک اہم انسانی اور سماجی مسئلہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل سے عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
آل پارٹیز کانفرنس میں شفاف، آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد پر بھی زور دیا گیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ عوام کو اپنی حقیقی نمائندگی کا حق ملنا چاہیے تاکہ منتخب قیادت صوبے کے عوام کی خواہشات کے مطابق فیصلے کر سکے اور جمہوری عمل مزید مضبوط ہو۔
شرکاء نے بلوچستان کے قدرتی وسائل میں مقامی آبادی کے مؤثر اور منصفانہ حق کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد میں مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے تاکہ بلوچستان میں ترقی، روزگار اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
کانفرنس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بہتری، عوامی اعتماد کی بحالی اور سیاسی استحکام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ مقررین نے کہا کہ اختلافات کے حل کے لیے سیاسی مکالمہ ہی سب سے مؤثر اور دیرپا راستہ ہے۔ -

انقرہ میں نیٹو سربراہان کا گروپ فوٹو
ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہان کے اجلاس کے دوران رکن ممالک کے رہنماؤں نے روایتی "فیملی فوٹو” میں شرکت کی۔ یہ لمحہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادی ممالک کے دفاعی اخراجات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کئی ممالک اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے۔
اجلاس کے آغاز سے چند لمحے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ نیٹو کے تمام رکن ممالک کو اجتماعی دفاع کے لیے طے شدہ اہداف کے مطابق دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا طویل عرصے سے اتحاد کے دفاعی اخراجات کا بڑا حصہ برداشت کر رہا ہے، اس لیے دیگر ممالک کو بھی اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔
اس کے بعد نیٹو کے سربراہان نے اجلاس کی روایت کے مطابق مشترکہ گروپ فوٹو بنوایا، جس میں تمام رکن ممالک کے قائدین شریک ہوئے۔ یہ تصویر اتحاد کے باہمی تعاون اور یکجہتی کی علامت سمجھی جاتی ہے، تاہم دفاعی اخراجات پر جاری اختلافات نے اجلاس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں یورپی سلامتی، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، یوکرین جنگ، مشترکہ دفاعی حکمت عملی اور رکن ممالک کے درمیان عسکری تعاون سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ دفاعی بجٹ میں اضافے کا معاملہ بھی اجلاس کے مرکزی ایجنڈے میں شامل ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ایک مرتبہ پھر نیٹو کے اندر دفاعی اخراجات کی تقسیم پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ امریکا مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ تمام اتحادی ممالک اپنی مجموعی قومی پیداوار کا متفقہ حصہ دفاع پر خرچ کریں تاکہ اتحاد کی اجتماعی دفاعی صلاحیت مزید مضبوط ہو سکے۔
نیٹو اجلاس سے متعلق آئندہ ہونے والے فیصلوں اور مشترکہ اعلامیے پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے، کیونکہ ان فیصلوں کے علاقائی اور عالمی سلامتی پر اہم اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ -

ٹرمپ کا ایران کو معاہدے کے بغیر غیر جوہری بنانے کا عندیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کو جوہری صلاحیت سے محروم کرنے کے اپنے ہدف پر قائم ہے، چاہے اس مقصد کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن ہو یا نہ ہو۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا اپنے مقاصد کسی معاہدے کے بغیر بھی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں یوکرین کے صدر کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا بنیادی مقصد ایران کی "غیر جوہری حیثیت” کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے رویے سے مایوس ہیں اور ان کے بقول بند کمرے میں ہونے والی بات چیت کے حوالے سے ایرانی وفد نے درست معلومات فراہم نہیں کیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا، "مجھے نہیں معلوم کہ کوئی معاہدہ ہوگا یا نہیں، ممکن ہے ہم یہ مقصد کسی معاہدے کے بغیر ہی حاصل کر لیں، کیونکہ شاید ایسا کرنا زیادہ آسان ہو۔” تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو گئے تو امریکا کن اقدامات کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرے گا۔
امریکی صدر نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی حکام کے موجودہ طرزِ عمل سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ایران کا رویہ تشویش کا باعث ہے، تاہم امریکا کی خواہش ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
ٹرمپ کے ان بیانات نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات تعطل کا شکار رہے تو دونوں ممالک کے درمیان تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ادھر ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اختلافات کے باوجود سفارتی ذرائع سے مسئلے کا پرامن حل تلاش کیا جائے گا۔ -

48 سالہ امیدوار کا جذبہ قابلِ مثال، وزیر تعلیم نے گلے لگا کر حوصلہ بڑھایا
پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے فرسٹ ایئر کے سالانہ امتحان میں شریک 48 سالہ امیدوار سے ملاقات کر کے اس کے عزم اور تعلیم سے وابستگی کو سراہا۔ اس موقع پر انہوں نے امیدوار کو گلے لگایا، اس کی حوصلہ افزائی کی اور امتحان میں کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اس خوبصورت لمحے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور صارفین اسے تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مثبت پیغام قرار دے رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے بورڈ امتحانات کے شفاف اور منظم انعقاد کا جائزہ لینے کے لیے گورنمنٹ ہائی اسکول مصطفیٰ آباد کا اچانک دورہ کیا۔ مختلف امتحانی کمروں کا معائنہ کرتے ہوئے ان کی نظر ایک ایسے امیدوار پر پڑی جو 48 سال کی عمر میں فرسٹ ایئر کا امتحان دے رہا تھا۔
وزیرِ تعلیم نے امیدوار سے بات چیت کی اور اس سے اس کی تعلیمی جدوجہد کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمر کبھی بھی علم حاصل کرنے میں رکاوٹ نہیں بنتی اور جو لوگ مشکلات کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھتے ہیں، وہ معاشرے کے لیے قابلِ تقلید مثال ہوتے ہیں۔ انہوں نے امیدوار کو گلے لگا کر اس کے حوصلے، عزم اور لگن کو سراہا۔
اس موقع پر امتحانی مرکز میں موجود طلبہ، اساتذہ اور امتحانی عملے نے اس منظر کو تالیاں بجا کر سراہا۔ کئی طلبہ نے اس واقعے کو اپنے لیے بھی حوصلہ افزا قرار دیا اور کہا کہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے جذبہ اور محنت سب سے اہم چیز ہے، عمر نہیں۔
سوشل میڈیا پر بھی اس ملاقات کی ویڈیو کو بڑی تعداد میں شیئر کیا جا رہا ہے۔ صارفین نے 48 سالہ امیدوار کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کا سفر زندگی کے کسی بھی مرحلے میں جاری رکھا جا سکتا ہے۔ بہت سے افراد نے وزیرِ تعلیم کے رویے کو بھی سراہا اور اسے مثبت طرزِ قیادت کی مثال قرار دیا۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات معاشرے میں تعلیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں اور ان افراد کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنتے ہیں جو کسی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ چکے ہوں۔ ان کے مطابق سیکھنے کا عمل عمر کی قید سے آزاد ہے اور ہر شخص کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کا حق اور موقع ملنا چاہیے۔ -

چین کا اینتھروپک کے ’کلاڈ کوڈ‘ سے متعلق سکیورٹی انتباہ، صارفین کو محتاط رہنے کی ہدایت
چین کے نیشنل وَلنرایبلٹی ڈیٹا بیس (این وی ڈی بی) نے امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی اینتھروپک کے اے آئی کوڈنگ ٹول کلاڈ کوڈ کے حوالے سے سکیورٹی انتباہ جاری کرتے ہوئے صارفین اور اداروں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ چینی ریگولیٹر کا دعویٰ ہے کہ اس ٹول میں مبینہ طور پر ایسا سکیورٹی بیک ڈور موجود ہو سکتا ہے جو صارفین کی حساس معلومات کو ان کی اجازت کے بغیر بیرونی سرورز تک منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
این وی ڈی بی، جو چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ ادارہ ہے، کے مطابق ابتدائی تجزیے میں ایسے ممکنہ سکیورٹی خدشات سامنے آئے ہیں جن کے باعث صارفین کی لوکیشن، شناخت اور دیگر حساس معلومات متاثر ہو سکتی ہیں۔ ادارے نے اس معاملے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو فوری حفاظتی اقدامات کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
کلاڈ کوڈ ایک جدید اے آئی کوڈنگ ایجنٹ ہے جو صارف کی ہدایات کے مطابق کمپیوٹر پروگرامنگ، کوڈ لکھنے، سافٹ ویئر میں موجود خامیوں کی نشاندہی اور ان کی اصلاح، جبکہ کوڈ ریویو جیسے کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ٹول دنیا بھر میں سافٹ ویئر ڈویلپرز اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اینتھروپک نے چین اور بعض دیگر ممالک میں اپنی مصنوعات تک براہ راست رسائی محدود کر رکھی ہے، تاہم وی پی این اور تھرڈ پارٹی پراکسی سروسز کے ذریعے کئی صارفین اب بھی ان ٹولز تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ اسی تناظر میں چینی ریگولیٹر نے صارفین کو اضافی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
این وی ڈی بی نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ ادارے اور انفرادی صارفین فوری طور پر اپنے سسٹمز کا جائزہ لیں اور اگر ضرورت محسوس ہو تو سافٹ ویئر کو اَن انسٹال کر دیں یا اس کا تازہ ترین اور محفوظ ورژن استعمال کریں، جس میں ممکنہ سکیورٹی خامیوں کو دور کیا گیا ہو۔
دوسری جانب چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا نے بھی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے ملازمین کو 10 جولائی سے کلاڈ کوڈ کے استعمال سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ -

اوورسیز پاکستانیوں کے لیے پاسپورٹ ہوم ڈیلیوری سروس مزید بہتر بنانے کا فیصلہ
پاکستان نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پاسپورٹس کی ہوم ڈیلیوری سروس کو مزید مؤثر، تیز رفتار اور قابلِ اعتماد بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کو پاسپورٹ کے حصول کا عمل آسان بنانا اور انہیں بہتر سرکاری سہولیات فراہم کرنا ہے۔
یہ فیصلہ ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو پاسپورٹس کی بروقت فراہمی کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں موجودہ طریقہ کار کو مزید بہتر بنانے اور درخواست گزاروں تک پاسپورٹ محفوظ اور بروقت پہنچانے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہوم ڈیلیوری کے طریقہ کار کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانیوں کو اپنے پاسپورٹ کے حصول کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ نئے نظام کے تحت پاسپورٹ براہِ راست درخواست گزار کے گھر تک پہنچانے کے عمل کو مزید منظم، محفوظ اور تیز بنایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ پاسپورٹ کی فراہمی کے پورے عمل میں شفافیت اور سہولت بھی بڑھے گی۔ اس کے علاوہ جدید ٹریکنگ سسٹم اور بہتر کوآرڈینیشن کے ذریعے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ پاسپورٹس مقررہ وقت کے اندر متعلقہ افراد تک پہنچ جائیں۔
اجلاس میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے گا۔ حکومت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو قومی ترقی کا اہم حصہ سمجھتی ہے، اسی لیے ان کے لیے سرکاری خدمات میں مسلسل بہتری لانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق ہوم ڈیلیوری سروس میں بہتری سے دنیا بھر میں مقیم لاکھوں پاکستانی مستفید ہوں گے اور انہیں پاسپورٹ کے حصول کے لیے سفارت خانوں یا پاسپورٹ مراکز کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مزید آسانیاں پیدا کرنے کے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ -

ٹرمپ نے اسپین سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کا حکم دے دیا
ایران کے معاملے پر پیدا ہونے والے اختلافات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسپین کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ کو فوری اقدامات کی ہدایت دے دی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسپین نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں تعاون سے انکار کیا اور اپنی فضائی حدود اور فوجی تنصیبات کے استعمال کی اجازت بھی نہیں دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اجلاس کے موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے وزیر خزانہ کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ اسپین کے ساتھ ہر قسم کی تجارت بند کر دی جائے۔ انہوں نے اسپین کو نیٹو کا "غیر مؤثر شراکت دار” قرار دیتے ہوئے اس کے مؤقف پر سخت تنقید بھی کی۔
رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کی ناراضی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اسپین نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کے دوران اپنی فضائی حدود اور اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کیا۔ اسی معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دوسری جانب اسپین نے امریکی اعلان کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے اسے معمول کی سیاسی بیان بازی قرار دیا ہے۔ ہسپانوی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ اس کے اقتصادی اور ثقافتی تعلقات مضبوط ہیں اور وہ دوطرفہ روابط برقرار رکھنے کی خواہاں ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ میڈرڈ کا واشنگٹن کے ساتھ تعلقات ختم کرنے یا کمزور کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپین یورپی یونین کا رکن ہے اور یورپی یونین کی مشترکہ تجارتی پالیسی کے باعث صرف ایک رکن ملک کے ساتھ تجارت مکمل طور پر ختم کرنا قانونی اور عملی طور پر پیچیدہ معاملہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے ٹرمپ کے اعلان پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی کئی قانونی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ -

خیبرپختونخوا اسمبلی نے ارکان کی مراعات میں بڑا اضافہ، ترمیمی بل منظور
خیبرپختونخوا اسمبلی نے اراکین اسمبلی کی مراعات، اختیارات اور استحقاق میں نمایاں اضافے سے متعلق ترمیمی بل منظور کر لیا ہے، جس کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی اختیارات، استثنیٰ اور استحقاق ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔ نئے قانون کے تحت اراکین اسمبلی کو عدالتی، سفری اور سیکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں نئی سہولیات اور اختیارات حاصل ہوں گے۔
قانون کے مطابق اگر کسی رکن اسمبلی کے خلاف کوئی عدالتی مقدمہ زیر سماعت ہو اور اسمبلی کا اجلاس جاری ہو تو عدالت، اسمبلی کے شیڈول کو مدنظر رکھتے ہوئے سماعت ملتوی کر سکتی ہے۔ ایسے حالات میں متعلقہ رکن اسمبلی کو عدالت میں حاضری سے استثنا حاصل ہوگا، تاہم اگر وہ چاہے تو رضاکارانہ طور پر عدالتی کارروائی میں شریک ہو سکتا ہے۔
ترمیمی قانون کے تحت اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو بھی مزید اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ نئے ضوابط کے مطابق اگر کسی رکن اسمبلی کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہو اور عدالت میں چالان پیش ہونے سے قبل معاملہ سامنے آئے تو اسپیکر کو ابتدائی انکوائری کرانے کا اختیار حاصل ہوگا۔
بل کے تحت تمام اراکین اسمبلی اور ان کے شریک حیات کو سرکاری بلیو پاسپورٹ حاصل کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں تمام قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر ٹول ٹیکس کی مکمل چھوٹ بھی دی گئی ہے، جس سے ارکان کو سفری سہولیات میں نمایاں ریلیف ملے گا۔
نئے قانون میں سیکیورٹی سے متعلق بھی خصوصی شق شامل کی گئی ہے۔ اگر کسی رکن اسمبلی کو جان کا خطرہ لاحق ہو تو حکومت اس کو فوری طور پر اے کیٹیگری سیکیورٹی فراہم کرنے کی پابند ہوگی۔ یہ سیکیورٹی نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی مؤثر ہوگی۔
مزید برآں، اراکین اسمبلی کو اپنے حلقے یا متعلقہ ضلع میں کسی بھی عوامی مقام پر اجلاس طلب کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ ایسے اجلاس کی اطلاع ملنے پر متعلقہ ضلع کے تمام سرکاری افسران کی شرکت لازمی ہوگی، جبکہ بلاجواز غیر حاضری کو استحقاق کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جس پر قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ترمیمی بل مارچ میں اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا، اسی اجلاس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی مراعات سے متعلق ایک اور بل بھی زیر غور آیا تھا۔ تاہم عام اراکین اسمبلی کو دی جانے والی نئی مراعات اور عدالتی استثنا سے متعلق قانون کو اس وقت زیادہ عوامی توجہ حاصل نہیں ہو سکی، جبکہ اب گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اس کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ اس قانون پر مختلف سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے مختلف آراء سامنے آنے کا امکان ہے۔