Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    ‎فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال، حالیہ پیش رفت اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے گفتگو کے دوران ایران کے خلاف ہونے والے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
    ‎دونوں رہنماؤں نے خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور اس کے ممکنہ اثرات پر بھی گفتگو کی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق رابطے کے دوران علاقائی سلامتی اور امن برقرار رکھنے سے متعلق مختلف امور زیر بحث آئے۔
    ‎دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے بھی علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطے کیے۔
    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ان گفتگوؤں میں آبنائے ہرمز کی تازہ صورتحال، خطے میں جاری کشیدگی اور دیگر اہم علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تینوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنے کے لیے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
    ‎ترک وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ حاقان فیدان نے عباس عراقچی کے ساتھ گفتگو میں خطے کی موجودہ صورتحال اور جنگ بندی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
    یہ سفارتی رابطے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی برادری مسلسل تحمل، مذاکرات اور سفارتی حل پر زور دے رہی ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

  • 
غزہ میں خون کے بینک اور لیبارٹریاں بند ہونے کے دہانے پر

    
غزہ میں خون کے بینک اور لیبارٹریاں بند ہونے کے دہانے پر

    ‎غزہ میں جاری جنگ کے باعث صحت کا نظام شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے اور اب خون کے بینکوں اور طبی لیبارٹریوں کے بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ ضروری طبی سامان کی شدید قلت کے باعث تشخیصی خدمات تقریباً معطل ہونے کے قریب پہنچ چکی ہیں، جس سے زخمیوں اور مریضوں کے علاج میں مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔
    ‎وزارت صحت کی عہدیدار سحر غانم کے مطابق لیبارٹریوں میں استعمال ہونے والے ضروری طبی مواد کی قلت 87 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ خون کے ٹیسٹ اور دیگر تشخیصی معائنے کرنے کے لیے درکار بنیادی اشیا میں 74 فیصد کمی آ چکی ہے۔ اس صورتحال نے اسپتالوں اور طبی مراکز کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ جدید پرزوں اور دیکھ بھال کی سہولت نہ ہونے کے باعث پرانی لیبارٹری مشینیں بار بار خراب ہو رہی ہیں، جس سے مریضوں کی بروقت تشخیص اور علاج مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ طبی عملہ محدود وسائل کے ساتھ خدمات جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ سلسلہ زیادہ دیر برقرار رکھنا ممکن نہیں۔
    ‎سحر غانم نے عالمی برادری، امدادی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں سے فوری مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضروری طبی سامان، خون محفوظ رکھنے کے آلات اور لیبارٹری کے لیے درکار مواد فوری طور پر فراہم نہ کیا گیا تو غزہ میں طبی خدمات مکمل طور پر مفلوج ہو سکتی ہیں۔
    ‎انہوں نے خبردار کیا کہ خون کے بینکوں کی بندش کے نتیجے میں زخمیوں، سرجری کے مریضوں، بچوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ ایسے حالات میں اسپتالوں کے لیے ہنگامی طبی خدمات جاری رکھنا بھی انتہائی دشوار ہو جائے گا۔
    ‎غزہ میں صحت کا شعبہ کئی ماہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ مسلسل حملوں، ادویات اور طبی سامان کی قلت، بجلی کی فراہمی میں رکاوٹوں اور طبی مراکز کو پہنچنے والے نقصان نے علاج معالجے کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ وزارت صحت نے ایک بار پھر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی بنیادوں پر فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ مریضوں کی جانیں بچائی جا سکیں اور صحت کی بنیادی سہولیات کو مکمل طور پر بند ہونے سے روکا جا سکے۔

  • 
وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتیں 3,811 تک پہنچ گئیں

    
وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتیں 3,811 تک پہنچ گئیں

    ‎وینزویلا میں گزشتہ ماہ آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 3,811 ہو گئی ہے جبکہ 16,740 سے زائد افراد زخمی ہیں۔ ہزاروں خاندان اب بھی بے گھر ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
    ‎وینزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگیز نے تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 24 جون کو آنے والے دونوں شدید زلزلوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ متعدد عمارتیں منہدم ہو گئیں، ہزاروں شہری اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے جبکہ کئی افراد کئی روز تک ملبے تلے دبے رہے۔
    ‎حکام کے مطابق اس قدرتی آفت سے 26 ہزار سے زائد افراد براہ راست متاثر ہوئے۔ ان میں وہ خاندان بھی شامل ہیں جن کے مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے یا شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث انہیں عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔
    ‎امدادی ادارے، فوج، رضاکار اور بین الاقوامی تنظیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ حکومت کی جانب سے خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات اور عارضی رہائش فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے، تاہم کئی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث امدادی سامان کی ترسیل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
    ‎امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس تباہ کن زلزلے میں 9 امریکی شہری بھی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ امریکی حکام متاثرہ خاندانوں سے رابطے میں ہیں اور ضروری قونصلر معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق 24 جون کو آنے والے دونوں زلزلوں کی شدت انتہائی زیادہ تھی، جس کے باعث بڑے پیمانے پر عمارتیں گر گئیں اور کئی علاقوں میں شدید تباہی پھیلی۔ امدادی ٹیمیں اب بھی متاثرہ مقامات پر لاپتا افراد کی تلاش اور بحالی کے کام میں مصروف ہیں جبکہ حکومت نے متاثرین کی مکمل بحالی تک امدادی کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
    ‎قدرتی آفات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کا عمل طویل اور مشکل ہوگا، کیونکہ ہزاروں رہائشی عمارتیں، سڑکیں اور دیگر بنیادی سہولیات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ حکومت نے بین الاقوامی برادری سے بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون کی اپیل کی ہے۔

  • 
چین میں جوتے بنانے کی فیکٹری میں خوفناک آگ، متعدد افراد پھنس گئے

    
چین میں جوتے بنانے کی فیکٹری میں خوفناک آگ، متعدد افراد پھنس گئے

    ‎چین کے جنوب مشرقی صوبے فوجیان میں واقع جوتے بنانے کی ایک بڑی فیکٹری میں خوفناک آگ لگنے سے جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ متعدد افراد عمارت کے اندر پھنس گئے۔ ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے آگ پر قابو پانے اور پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔
    ‎چینی سرکاری میڈیا کے مطابق آگ جمعرات کی دوپہر جن جیانگ شہر میں قائم ایک کثیر المنزلہ جوتا ساز فیکٹری میں لگی۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ کئی ملازمین عمارت سے باہر نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور کچھ افراد جان بچانے کے لیے عمارت کی چھت پر چڑھ گئے، جہاں وہ امدادی ٹیموں کے منتظر رہے۔
    ‎سرکاری ٹی وی کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فیکٹری کے مختلف حصوں سے بلند شعلے اٹھ رہے ہیں جبکہ آسمان کی جانب سیاہ دھویں کے گھنے بادل پھیل گئے۔ امدادی کارکنوں نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا، تاہم کولنگ کا عمل اور سرچ آپریشن جاری ہے۔
    ‎فائر حکام کے مطابق ریسکیو کارروائی میں 183 اہلکاروں اور 35 امدادی گاڑیوں نے حصہ لیا۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آگ فیکٹری کی گراؤنڈ فلور سے شروع ہوئی، جہاں جوتے بنانے میں استعمال ہونے والا خام مال اور چپکنے والے کیمیکل بڑی مقدار میں موجود تھے۔ یہ مواد انتہائی آتش گیر ہونے کے باعث آگ تیزی سے پوری عمارت میں پھیل گئی۔
    ‎حکام نے بتایا کہ فیکٹری میں موجود کیمیکل اور چپکنے والے مادوں کے باعث دھواں نہایت زہریلا تھا، جس سے ریسکیو اہلکاروں اور آس پاس موجود افراد کو آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
    ‎جن جیانگ شہر چین کی جوتا سازی اور گارمنٹس انڈسٹری کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں ہزاروں فیکٹریاں قائم ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ سال اس شہر میں ایک ارب 20 کروڑ سے زائد جوڑے جوتے تیار کیے گئے، جو عالمی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد بنتے ہیں۔
    ‎حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے، جبکہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد جاری کی جائے گی۔

  • 
آبنائے ہرمز کشیدگی، ایس این جی پی ایل نے آر ایل این جی فراہمی پر فورس میجر نافذ کر دیا

    
آبنائے ہرمز کشیدگی، ایس این جی پی ایل نے آر ایل این جی فراہمی پر فورس میجر نافذ کر دیا

    ‎پاکستان میں شدید گرمی اور حبس کے دوران گیس بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) نے آبنائے ہرمز کے گرد جاری کشیدگی کے باعث ری گیسفائیڈ مائع قدرتی گیس (RLNG) کی فراہمی میں رکاوٹ پر تین ہفتوں کے لیے فورس میجر نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
    ‎ایس این جی پی ایل نے پنجاب کے چار آر ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو ارسال کیے گئے خطوط میں آگاہ کیا ہے کہ پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ خلیجی خطے میں جاری جنگی صورتحال کے باعث قطر انرجی اپنے معاہدوں کے مطابق ایل این جی کارگو فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ اس وجہ سے کمپنی اپنی سپلائی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکے گی۔
    ‎حکام کے مطابق اس صورتحال کے باعث پنجاب میں پانچ ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے والے آر ایل این جی پاور پلانٹس متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ سندھ سے ملک کے بالائی علاقوں کو بجلی کی ترسیل بھی محدود ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے سے درآمد شدہ ایل این جی کارگو کے ذریعے وقتی طور پر قلت کو کم کرنے کی کوشش کرے گی، تاہم ضرورت پوری کرنے کے لیے مہنگے اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خریدنا پڑ سکتی ہے، جس سے بجلی کی پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
    ‎ایس این جی پی ایل کے مطابق قطر انرجی نے جولائی 14 سے 3 اگست تک شیڈول تمام متاثرہ کارگو کی ترسیل روکنے سے آگاہ کیا ہے۔ کمپنی نے یہ بھی بتایا ہے کہ موجودہ معاہدے کے تحت باقی سال کی سپلائی شیڈول بھی ازسرنو ترتیب دی جائے گی، کیونکہ خطے میں سلامتی کی صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔
    ‎کمپنی نے واضح کیا کہ فورس میجر کی شق کے تحت وہ اس عرصے میں اپنی معاہداتی ذمہ داریوں سے قانونی طور پر مستثنیٰ ہوگی۔ ایس این جی پی ایل کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان اسٹیٹ آئل کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ سپلائی میں رکاوٹ کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
    ‎توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف ایل این جی کی فراہمی متاثر ہوگی بلکہ ملک میں بجلی کی پیداوار، صنعتی سرگرمیوں اور صارفین کو گیس کی فراہمی بھی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

  • 
پاک بحریہ نے اورماڑہ کے قریب ڈوبتے کارگو جہاز کے 20 پاکستانی عملے کو بچا لیا

    
پاک بحریہ نے اورماڑہ کے قریب ڈوبتے کارگو جہاز کے 20 پاکستانی عملے کو بچا لیا

    ‎اورماڑہ کے مشرق میں سمندر میں پیش آنے والے ایک ہنگامی واقعے میں پاک بحریہ نے پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی (PMSA) کے ساتھ مشترکہ اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے ڈوبنے والے کارگو جہاز میں سوار تمام 20 پاکستانی عملے کے ارکان کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔
    ‎پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق واقعے کی اطلاع جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈینیشن سینٹر کو موصول ہوئی، جس کے فوراً بعد پاک بحریہ نے امدادی کارروائی شروع کرتے ہوئے جنگی جہاز پی این ایس حنین اور ضروری فضائی وسائل کو متاثرہ مقام کی جانب روانہ کیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کی مربوط حکمت عملی اور ریسکیو ٹیموں کی پیشہ ورانہ مہارت کے باعث متاثرہ جہاز میں موجود تمام 20 افراد کو محفوظ طریقے سے سمندر سے نکال لیا گیا۔ امدادی کارروائی انتہائی کم وقت میں مکمل کی گئی، جس سے کسی جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
    ‎ترجمان کے مطابق ریسکیو کیے گئے تمام افراد کو فوری طور پر ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ ان کی صحت کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ پیچیدگی سے بروقت نمٹا جا سکے۔
    ‎آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کامیاب آپریشن پاک بحریہ اور پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے انسانی جانوں کے تحفظ، فوری ردعمل اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پاک بحریہ ہر قسم کی سمندری ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے اور ملکی سمندری حدود میں جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے۔
    ‎اس کامیاب ریسکیو آپریشن نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ پاک بحریہ اور متعلقہ ادارے سمندر میں پیش آنے والے کسی بھی ہنگامی واقعے پر فوری اور مؤثر انداز میں کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے نہ صرف انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جاتا ہے بلکہ سمندری سلامتی کے نظام پر اعتماد بھی مزید مضبوط ہوتا ہے۔

  • 
بی آئی ایس پی کی خواتین سے رقم کٹوتی، حیدرآباد میں 8 ملزمان گرفتار

    
بی آئی ایس پی کی خواتین سے رقم کٹوتی، حیدرآباد میں 8 ملزمان گرفتار

    ‎حیدرآباد میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی مستحق خواتین سے غیر قانونی کٹوتیوں کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 8 ڈیوائس ہولڈرز کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان پر الزام ہے کہ وہ مستحق خواتین کی ہر قسط میں سے 1500 سے 2000 روپے تک غیر قانونی طور پر وصول کر رہے تھے۔
    ‎ایف آئی اے کے مطابق کارروائی لطیف آباد میں قائم بی آئی ایس پی سینٹر پر کی گئی، جہاں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر چھاپہ مارا گیا۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ ڈیوائس ہولڈرز امدادی رقم وصول کرنے آنے والی خواتین سے زبردستی رقم کاٹ کر انہیں کم ادائیگی کر رہے تھے۔
    ‎حکام نے بتایا کہ چھاپے کے دوران 8 ملزمان کو موقع سے گرفتار کیا گیا۔ کارروائی میں بائیومیٹرک ڈیوائسز، 13 لاکھ 86 ہزار روپے سے زائد نقد رقم اور اہم دستاویزی ریکارڈ بھی تحویل میں لے لیا گیا، جسے مزید تحقیقات کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔
    ‎ایف آئی اے کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں اس غیر قانونی نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے، جن کے خلاف جلد مزید کارروائیاں متوقع ہیں۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام غریب اور مستحق خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے قائم کیا گیا ہے، اس لیے امدادی رقم میں کسی بھی قسم کی خرد برد یا غیر قانونی کٹوتی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
    ‎ایف آئی اے نے مستحق خواتین سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی مرکز پر ان سے امدادی رقم میں غیر قانونی کٹوتی کی جائے یا اضافی رقم طلب کی جائے تو فوری طور پر متعلقہ حکام یا ایف آئی اے کو اطلاع دیں تاکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
    ‎حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستحق افراد کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور سرکاری فلاحی منصوبوں میں بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

  • 
یوکرین کا بحیرہ آزوف میں روسی آئل ٹینکروں پر بڑا ڈرون حملہ

    
یوکرین کا بحیرہ آزوف میں روسی آئل ٹینکروں پر بڑا ڈرون حملہ

    ‎یوکرین نے بحیرہ آزوف میں روسی اہداف کے خلاف بڑے پیمانے پر ڈرون کارروائی کرتے ہوئے متعدد آئل ٹینکروں اور دیگر بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد روسی افواج کی رسد کو متاثر کرنا اور مقبوضہ کریمیا پر دباؤ بڑھانا ہے۔
    ‎یوکرین کی بغیر پائلٹ نظام فورسز کے کمانڈر رابرٹ بروودی نے بتایا کہ رات بھر جاری کارروائی میں 12 روسی آئل ٹینکروں، ایک ٹگ بوٹ اور ایک خشک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق حملوں کی ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں جن میں مختلف بحری جہازوں پر ڈرون حملے دکھائے گئے ہیں۔
    ‎رابرٹ بروودی کا کہنا تھا کہ نشانہ بنائے گئے تمام آئل ٹینکر روس کے نام نہاد "شیڈو فلیٹ” کا حصہ تھے۔ ان کے مطابق یہ وہ بحری جہاز ہیں جو بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود روسی تیل کی نقل و حمل میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔
    ‎یوکرینی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں روس کے زیر قبضہ کریمیا کو لاجسٹک طور پر تنہا کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں کے بعد کریمیا میں ایندھن کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے اور عوام کو ایندھن کی فروخت پر مؤثر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
    ‎بحیرہ آزوف روسی افواج کے لیے ایک اہم سپلائی روٹ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے کریمیا اور جنوبی یوکرین کے زیر قبضہ علاقوں تک ایندھن، اسلحہ اور دیگر فوجی سامان پہنچایا جاتا ہے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ اس راستے کو نشانہ بنا کر روسی فوج کی آپریشنل صلاحیت کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
    ‎رابرٹ بروودی نے مزید دعویٰ کیا کہ گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران یوکرین کی بغیر پائلٹ نظام فورسز نے بحیرہ آزوف میں مجموعی طور پر 35 روسی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم روسی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی آزاد ذرائع سے ان حملوں کی مکمل تصدیق ہو سکی ہے۔

  • 
کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین منصوبہ، سندھ حکومت کا عالمی بینک کو بریفنگ

    
کراچی تا سکھر ہائی اسپیڈ ٹرین منصوبہ، سندھ حکومت کا عالمی بینک کو بریفنگ

    ‎سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن سے عالمی بینک کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں صوبے میں ٹرانسپورٹ کے شعبے، سرمایہ کاری کے مواقع اور مستقبل کے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎ملاقات کے دوران شرجیل میمن نے وفد کو یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کی تازہ پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت اس منصوبے کو مقررہ معیار اور طے شدہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید اور مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ نظام شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
    ‎عالمی بینک کے وفد نے سندھ حکومت کی جانب سے عوامی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات اور جدید منصوبوں کو سراہا اور ان اقدامات کو شہری نقل و حمل کے نظام کی بہتری کے لیے اہم قرار دیا۔
    ‎شرجیل میمن نے کہا کہ بڑے ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے مختلف اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ، مؤثر ہم آہنگی اور بروقت فیصلے انتہائی ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جدید ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر کے ذریعے شہریوں کو محفوظ، تیز رفتار اور معیاری سفری سہولیات فراہم کرنا چاہتی ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت خصوصی بس روٹس متعارف کرانے پر بھی کام کر رہی ہے، جس سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور عوام کو بہتر ٹرانسپورٹ سہولیات میسر آئیں گی۔
    ‎صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کراچی سے سکھر تک ہائی اسپیڈ ٹرین چلانے کی خواہش رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف دونوں بڑے شہروں کے درمیان سفر کا دورانیہ کم ہوگا بلکہ تجارتی سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور علاقائی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔
    ‎ملاقات میں دونوں فریقوں نے مستقبل میں باہمی تعاون، پائیدار ترقی اور جدید ٹرانسپورٹ منصوبوں کے لیے شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

  • 
برطانیہ میں پاکستانی نژاد مجرم کی ملک بدری کے لیے قانون میں تبدیلی کی تیاری

    
برطانیہ میں پاکستانی نژاد مجرم کی ملک بدری کے لیے قانون میں تبدیلی کی تیاری

    روچڈیل گرومنگ گینگ کے مرکزی مجرم شبیر احمد کو پاکستان واپس بھیجنے کی برطانوی کوششوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی بڑھنے کا انکشاف ہوا ہے۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اگر برطانیہ شبیر احمد کی بے دخلی چاہتا ہے تو اسے پاکستان کے ان مطالبات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا جن کا تعلق برطانیہ میں مقیم پاکستانی سیاسی مطلوب افراد اور حکومت مخالف شخصیات سے ہے۔

    رپورٹ میں ایک سینئر پاکستانی سرکاری عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد اب صرف یکطرفہ مطالبات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور دونوں ممالک کے درمیان معاملات برابری کی بنیاد پر طے ہونے چاہییں۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو پاکستان کے اہم قومی اور قانونی تحفظات کا بھی اسی طرح احترام کرنا ہوگا جس طرح وہ اپنے مفادات کا کرتا ہے۔73 سالہ شبیر احمد روچڈیل گرومنگ گینگ کے مرکزی ملزمان میں شمار ہوتا ہے۔ اسے بچوں سے جنسی زیادتی کے 30 جرائم میں 22 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم وہ 14 سال قید کاٹنے کے بعد گزشتہ ہفتے جیل سے رہا ہو گیا۔اگرچہ اس کی برطانوی شہریت ختم کی جا چکی ہے، لیکن برطانیہ کے امیگریشن ایکٹ 1971 کی بعض شقیں اس کی فوری بے دخلی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ قانون کے مطابق ایسے دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ) کے شہری جو 1973 سے قبل برطانیہ آئے اور کم از کم پانچ سال وہاں مقیم رہے، انہیں خصوصی قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

    پاکستان کا مؤقف ہے کہ شبیر احمد سمیت روچڈیل گرومنگ گینگ کے دو دیگر مرکزی مجرم پاکستانی شہریت ترک کر چکے ہیں، اس لیے وہ اب پاکستان کے شہری نہیں رہے۔ اسی بنیاد پر اسلام آباد نے انہیں واپس لینے سے انکار کیا ہے۔
    تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر برطانیہ پاکستان کے بعض اہم مطالبات پر مثبت پیش رفت کرے تو اسلام آباد معمول کے قانونی طریقہ کار سے ہٹ کر بھی کسی قابل قبول حل پر غور کر سکتا ہے۔

    پاکستان کے مطالبات کیا ہیں؟
    رپورٹ کے مطابق پاکستان نے برطانیہ کے سامنے کئی ایسے افراد کا معاملہ اٹھایا ہے جو لندن میں مقیم ہیں اور اسلام آباد کے مطابق پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ان میں سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق مشیر شہزاد اکبر اور سزا یافتہ سابق فوجی افسر عادل راجا شامل ہیں، جن کی حوالگی کے لیے پاکستان پہلے ہی باضابطہ درخواستیں دے چکا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ان دونوں نے جعلی خبریں پھیلائیں اور ریاست مخالف پروپیگنڈا کیا۔اس کے علاوہ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کی حوالگی کا معاملہ بھی برطانوی حکومت کے سامنے اٹھایا ہے، جو گزشتہ تین دہائیوں سے لندن میں مقیم ہیں۔

    پاکستانی عہدیدار کے مطابق برطانیہ پاکستان سے تو مطلوب افراد کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے، لیکن جب پاکستان اپنی مطلوب شخصیات کی حوالگی کی بات کرتا ہے تو انسانی حقوق، آزادی اظہار اور برطانوی قوانین کا حوالہ دیا جاتا ہے۔عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے برطانوی حکومت کو ایسے شواہد فراہم کیے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض افراد برطانوی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں نفرت، تشدد اور عدم استحکام کو فروغ دیتے ہیں، مگر اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق شبیر احمد کی رہائی سے قبل تقریباً ایک سال سے دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر پس پردہ مذاکرات جاری تھے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پر صرف برطانیہ کے مفاد میں شرائط قبول کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قانونی مؤقف کا احترام کرنا ہوگا۔پاکستانی عہدیدار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ برطانیہ نے نجی اور عوامی سطح پر پاکستان کو یہ پیغام دیا کہ اگر اسلام آباد نے شبیر احمد کو واپس لینے سے انکار جاری رکھا تو پاکستانی شہریوں پر ویزا پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں یا ترقیاتی امداد میں کمی لائی جا سکتی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ موجودہ پاکستان کسی قسم کے دباؤ، دھونس یا بلیک میلنگ کی پالیسی کو قبول نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ جس شخص نے اپنی زندگی کے ساٹھ سال سے زیادہ برطانیہ میں گزاری ہو، اسے اچانک پاکستان کا شہری قرار دے کر واپس بھیجنے کی کوشش نوآبادیاتی سوچ کی عکاسی کرتی ہے، جو پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہے۔

    دوسری جانب برطانیہ کی وزیر داخلہ شبانہ محمود اس قانونی رکاوٹ کو ختم کرنے کے لیے امیگریشن ایکٹ 1971 میں ترمیم پر غور کر رہی ہیں تاکہ شبیر احمد کو پاکستان بھیجنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق وزیر انصاف شبانہ محمود پیر کے روز اس حوالے سے اہم اعلان کر سکتی ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت امیگریشن ایکٹ 1971 میں موجود ایک قانونی خلا کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان میں پیدا ہونے والے 73 سالہ شبیر احمد کو برطانیہ سے بے دخل نہیں کیا جا سکا، حالانکہ ان کی برطانوی شہریت پہلے ہی ختم کی جا چکی ہے۔

    موجودہ قانون کے تحت ایسے افراد جو 1973 سے پہلے برطانیہ آئے ہوں اور کم از کم پانچ سال وہاں مقیم رہے ہوں، انہیں بعض حالات میں ملک بدر کرنے سے استثنا حاصل ہوتا ہے۔ اسی شق کی وجہ سے شبیر احمد کو پاکستان واپس بھیجنے میں قانونی رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی ترمیم اس انداز میں تیار کی جا رہی ہے کہ اس کا اثر دیگر دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ) کے شہریوں، خصوصاً ونڈرش نسل کے افراد کے مستقل رہائشی حقوق پر نہ پڑے۔

    شبیر احمد کو روچڈیل گرومنگ گینگ کا سرغنہ قرار دیا جاتا ہے۔ انہیں بچوں کے ساتھ 30 ریپ کے جرائم سمیت متعدد سنگین جنسی جرائم میں 22 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔وہ گزشتہ ہفتے 14 سال قید کاٹنے کے بعد رہا ہوئے ہیں۔اگرچہ ان کی برطانوی شہریت ختم کی جا چکی ہے، لیکن موجودہ قوانین اور پاکستان کی جانب سے انہیں قبول نہ کرنے کے باعث وہ تاحال برطانیہ میں موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان نے شبیر احمد اور روچڈیل گینگ کے دو دیگر مجرموں کو واپس لینے سے انکار کیا ہے۔پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ ان افراد نے کئی دہائیاں قبل اپنی پاکستانی شہریت ترک کر دی تھی، اس لیے وہ اب پاکستان کے شہری نہیں رہے۔تاہم برطانوی حکومت اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتی۔ اس کا کہنا ہے کہ شبیر احمد نے پاکستانی شہریت ترک کرنے کا قانونی عمل مکمل نہیں کیا تھا، اس لیے وہ اب بھی پاکستان کے شہری تصور کیے جا سکتے ہیں۔

    برطانیہ اور پاکستان کے درمیان مذاکرات
    ذرائع کے مطابق اگرچہ برطانوی حکومت داخلی قانونی رکاوٹ دور کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے، لیکن اصل فیصلہ اب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی مذاکرات پر منحصر ہوگا۔ایک حکومتی ذریعے نے بتایا "ہمیں یقین ہے کہ برطانوی قانون میں موجود مسئلے کا حل نکال لیا گیا ہے، تاہم اب یہ برطانیہ کے دفتر خارجہ اور پاکستان کے درمیان مذاکرات پر منحصر ہے کہ آیا شبیر احمد کو پاکستان بھیجا جا سکے گا یا نہیں۔”

    برطانیہ میں موجودہ قانون کے مطابق ایک سال یا اس سے زیادہ سزا پانے والے غیر ملکی مجرموں کو عام طور پر ملک بدر کیا جا سکتا ہے، تاہم ایسا اسی صورت ممکن ہوتا ہے جب متعلقہ ملک انہیں واپس لینے پر آمادہ ہو۔
    گر پاکستان شبیر احمد کو قبول نہ کرے تو صرف برطانوی قانون میں تبدیلی ان کی ملک بدری کے لیے کافی نہیں ہوگی۔مزید یہ کہ شبیر احمد یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق کے آرٹیکل 8 (خاندانی زندگی کے حق) کے تحت بھی عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں، اگرچہ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے جرائم کی سنگینی ایسے دعوے کو کمزور بنا سکتی ہے۔