کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں کویت کے پاکستان میں سفیر ناصر عبدالرحمان جے المطیری بھی شریک تھے۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور کویت کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات، باہمی اعتماد اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اطمینان کا اظہار کیا۔
ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھیں گے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کویتی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات کو سراہتے ہوئے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے دونوں برادر ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کویت کے ساتھ اپنے تاریخی اور دوستانہ تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک مشترکہ مفادات، علاقائی امن اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔
ملاقات کو پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی اور سفارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے مستقبل میں مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے رابطوں کو مزید فعال رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

کویتی وزیر خارجہ کی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات
-

سینئر اداکار اور موسیقار خالد نظامی انتقال کر گئے
پاکستان کے معروف سینئر اداکار، موسیقار اور کامیڈین خالد نظامی کراچی میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سے شوبز انڈسٹری اور مداحوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔
اہل خانہ کے مطابق خالد نظامی کافی عرصے سے علیل تھے اور زیر علاج تھے۔ ان کی نماز جنازہ کل بعد نماز ظہر عثمانیہ مسجد، بفر زون سیکٹر 15، کراچی سینٹرل میں ادا کی جائے گی، جس میں اہل خانہ، دوست احباب، فنکار برادری اور مداحوں کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
خالد نظامی 1947 میں برصغیر کے شہر مسوری، ضلع ڈیرہ دون، موجودہ ریاست اتراکھنڈ، بھارت میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہوا، جہاں انہوں نے کراچی گرامر اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں اسلامیہ کالج کراچی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔
انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز ٹیلی ویژن سے کیا اور 1972 میں نشر ہونے والے پی ٹی وی کے مقبول ڈرامہ انکل عرفی سے نمایاں شناخت حاصل کی۔ بعد ازاں شہزوری، ان کہی اور حسینہ معین کے مشہور ڈرامے عید کا جوڑا سمیت متعدد کامیاب ڈراموں میں اپنی منفرد اداکاری سے ناظرین کے دل جیت لیے۔ ان کی برجستہ مزاح، قدرتی اداکاری اور منفرد انداز نے انہیں پاکستان ٹیلی ویژن کے یادگار فنکاروں میں شامل کر دیا۔
ٹیلی ویژن کے ساتھ ساتھ خالد نظامی نے فلمی دنیا میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے نذر الاسلام کی فلم حقیقت (1974)، پہچان (1975) اور پنجابی فلم اج دیاں کڑیاں (1977) سمیت کئی فلموں میں اہم کردار ادا کیے، جنہیں شائقین نے خوب سراہا۔
خالد نظامی کی وفات سے پاکستان کی فنکار برادری ایک ایسے باصلاحیت اداکار سے محروم ہو گئی ہے، جس نے کئی دہائیوں تک اپنی بہترین اداکاری اور موسیقی کے ذریعے شائقین کو معیاری تفریح فراہم کی۔ ان کے یادگار کردار ہمیشہ پاکستانی ڈرامہ اور فلم کی تاریخ کا اہم حصہ رہیں گے۔ -

اسرائیلی وزیر دفاع کا جنوبی لبنان کے 24 دیہات مکمل تباہ کرنے کا اعتراف
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان میں 24 دیہات کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ان علاقوں میں موجود بستیوں کو مکمل طور پر مسمار کر دیا ہے۔
اسرائیلی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا کہ جنوبی لبنان کے ان دیہات میں صرف چند عمارتیں نہیں بلکہ پورے علاقے کو تباہ کر دیا گیا۔ ان کے مطابق ان 24 دیہات میں تقریباً 15 ہزار سے 20 ہزار مکانات موجود تھے، جنہیں مکمل طور پر منہدم کر دیا گیا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ جنوبی لبنان کا اہم سرحدی شہر بنت جبیل بھی شدید تباہی کا شکار ہوا ہے۔ ان کے بقول اسرائیلی فوج اس وقت جنوبی لبنان کے تقریباً 700 مربع کلومیٹر علاقے پر کنٹرول رکھتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور فضائی حملوں پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ مسلسل فوجی کارروائیوں کے باعث شہری آبادی، رہائشی انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ رہا ہے۔
لبنانی حکام کی جانب سے متعدد مواقع پر اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں سے ہزاروں شہری نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور متعدد دیہات خالی ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع کے تازہ بیان نے ایک بار پھر جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کی شدت اور ان کے انسانی اثرات پر بحث کو جنم دے دیا ہے۔ تاہم اس بیان پر لبنان یا دیگر بین الاقوامی فریقوں کی جانب سے مزید ردعمل سامنے آنے کا انتظار ہے۔ -

پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید مندی کا شکار
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز کاروبار کے دوران شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں سرمایہ کاروں کی جانب سے مسلسل فروخت کے دباؤ کے باعث مارکیٹ نمایاں خسارے کے ساتھ بند ہوئی۔ ٹریڈنگ کے دوران بینچ مارک انڈیکس میں دو ہزار پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ مارکیٹ ایک لاکھ 77 ہزار پوائنٹس کی اہم نفسیاتی حد بھی برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔
کاروباری سرگرمیوں کا آغاز ہی منفی رجحان کے ساتھ ہوا، جب ابتدائی سیشن میں انڈیکس 688 پوائنٹس نیچے چلا گیا۔ اس کے بعد دن بھر فروخت کا دباؤ برقرار رہا اور سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے رہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ مسلسل تنزلی کا شکار رہی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ دنوں میں مارکیٹ پر مختلف معاشی عوامل اثر انداز ہو رہے ہیں۔ سرمایہ کار مالیاتی پالیسی، عالمی معاشی صورتحال، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور دیگر اقتصادی اشاریوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے خریداری کا رجحان محدود رہا اور زیادہ تر سرمایہ کار نئی سرمایہ کاری سے گریز کرتے دکھائی دیے۔
مارکیٹ میں مندی کے باعث متعدد شعبوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جس سے مجموعی سرمایہ کاری کی مالیت بھی متاثر ہوئی۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ چند روز میں مثبت معاشی اشارے سامنے آتے ہیں تو مارکیٹ میں استحکام پیدا ہونے کی امید کی جا سکتی ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں سرمایہ کار محتاط حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ سرمایہ کاری کا معمول کا حصہ ہے، تاہم مسلسل مندی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق معاشی استحکام، سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور مثبت معاشی فیصلوں سے مارکیٹ میں بہتری آنے کے امکانات موجود ہیں۔
کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کار بہتر فیصلے کر سکیں۔ دوسری جانب سرمایہ کاروں کی نظریں آنے والے معاشی اعلانات اور حکومتی پالیسیوں پر مرکوز ہیں، جو آئندہ دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ -

کرم سرحد پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید فائرنگ، بھاری ہتھیاروں کا استعمال
خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں اسپینہ شگہ سیکٹر کے قریب پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر دونوں ممالک کی سرحدی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق جھڑپوں میں دونوں جانب سے بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جھڑپوں کا آغاز مبینہ طور پر افغان علاقے سے پاکستانی چوکیوں پر فائرنگ کے بعد ہوا۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھاری توپ خانے اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کیا، جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ کئی سرحدی مقامات تک پھیل گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑائی کا دائرہ ضلع کرم کے گیدو، گاوی اور پیوار سمیت دیگر قریبی علاقوں تک بھی وسیع ہو گیا ہے۔ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
اسپینہ شگہ کا علاقہ پاک افغان سرحد کے حساس ترین حصوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں ماضی میں بھی سرحد پار فائرنگ اور جھڑپوں کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سلامتی، دہشت گردی اور عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی کے الزامات کے باعث تعلقات میں کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔
ابھی تک دونوں ممالک کی حکومتوں یا عسکری حکام کی جانب سے جانی نقصان یا مالی نقصانات کے حوالے سے کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جبکہ سرحدی جھڑپوں کی آزادانہ تصدیق بھی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو اس کے سرحدی آبادی، نقل و حمل اور علاقائی امن پر مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان حالات معمول پر لانے کے لیے سفارتی رابطوں اور فوجی سطح پر رابطہ کاری کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ -

شیخ حسینہ کا وطن واپسی کا اعلان، کہا جان کو خطرہ ہے
بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے کہا ہے کہ انہیں اپنی جان کو سنگین خطرات لاحق ہیں، اس کے باوجود وہ رواں سال دسمبر تک وطن واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام خدشات کے باوجود اپنے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گی۔
شیخ حسینہ واجد نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ بنگلادیش واپسی پر انہیں قتل کیا جا سکتا ہے یا گرفتار کر کے جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ممکنہ انجام سے بخوبی واقف ہیں، لیکن اس کے باوجود وطن واپس جانے کے فیصلے پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے ملک اور عوام کے درمیان موجود رہیں۔ ان کے مطابق بنگلادیش کے عوام کی آواز اور حمایت ہی ان کے وطن واپسی کے فیصلے کی سب سے بڑی وجہ ہے، اور وہ ہر حال میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتی ہیں۔
سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ وہ ذاتی تحفظ سے زیادہ اپنے ملک اور عوام کے مستقبل کو اہم سمجھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں مشکلات یا قانونی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑا تو وہ اس کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں۔
شیخ حسینہ کے بیان نے بنگلادیش کی سیاسی صورتحال پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان کی ممکنہ واپسی سے ملک کی سیاست میں نئی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے، جبکہ ان کی سلامتی اور قانونی حیثیت سے متعلق سوالات بھی اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔
تاہم بنگلادیشی حکام کی جانب سے ان کے بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ اگر وہ دسمبر میں وطن واپس آتی ہیں تو ان کے خلاف کسی قانونی کارروائی یا گرفتاری کا امکان موجود ہے یا نہیں۔ -

حکومت کی نئی آئل ریفائننگ پالیسی منظور، 6 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی راہ ہموار
درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے، مقامی سطح پر پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی پیداوار بڑھانے اور توانائی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے نئی آئل ریفائننگ پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ اس پالیسی کے تحت ملک کے ریفائننگ سیکٹر میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور دیگر متعلقہ اداروں کی تجاویز کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ملک میں قائم پرانی آئل ریفائنریوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا، پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی مقامی پیداوار میں اضافہ، فرنس آئل کی پیداوار میں نمایاں کمی اور عالمی معیار کے مطابق صاف ایندھن کی تیاری کو فروغ دینا ہے۔
پالیسی کے تحت یورو 5 معیار کے ماحول دوست ایندھن کی تیاری کے لیے ریفائنریوں کو سات سالہ مراعاتی پیکیج دیا جائے گا۔ تمام ریفائنریز کو پالیسی کی منظوری کے 90 روز کے اندر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے ساتھ اپ گریڈیشن معاہدے کرنا ہوں گے تاکہ منصوبوں پر بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
نئی پالیسی میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھی متعدد سہولتیں شامل کی گئی ہیں۔ ریفائنریوں کو ٹیکسوں میں ممکنہ تبدیلیوں، ماحولیاتی قوانین اور فارن ایکسچینج ریگولیشنز سے متعلق تحفظ فراہم کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہے اور طویل مدتی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو۔
پالیسی کے مطابق ریفائنریوں کو بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت بھی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ تمام آئل ریفائنریز کے لیے کم از کم 14 دن کا خام تیل ذخیرہ رکھنا لازمی ہوگا، جبکہ درآمدی خام تیل پر زیادہ انحصار کرنے والی ریفائنریوں کو مزید پانچ دن کا اضافی ذخیرہ برقرار رکھنا ہوگا تاکہ ہنگامی حالات میں ایندھن کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
حکومت نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمد پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی جائے تاکہ مقامی ریفائنریوں کی پیداوار کو فروغ ملے۔ اس کے ساتھ ریفائنریوں کو نئے مراعاتی پیکیج سے فائدہ اٹھانے سے قبل پٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے تمام بقایاجات ادا کرنا ہوں گے۔ -

آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کی تیاریاں، پی آئی اے ماڈل اپنانے کا فیصلہ
حکومت نے ملک کی تین بڑی بجلی تقسیم کار کمپنیوں، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری میں اختیار کیے گئے ماڈل سے ملتا جلتا طریقہ کار اپنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
نجکاری کمیشن کے ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک کی سفارشات کی روشنی میں ان تینوں ڈسکوز کی وہ زمینیں جو اس وقت صدرِ پاکستان کے نام پر رجسٹرڈ ہیں، دوبارہ متعلقہ کمپنیوں کے نام منتقل کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد نجکاری کے عمل کو قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں سے پاک بنانا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو اثاثوں کی منتقلی میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ واپڈا اور صوبائی حکومتوں کے نام پر موجود زمینوں اور دیگر مخصوص اثاثوں کو ایک خصوصی ادارے، یعنی اسپیشل پرپز وہیکل ہولڈنگ کمپنی (SPV)، کے حوالے کیا جائے گا۔ اس کمپنی کے ذریعے تمام متعلقہ اثاثوں کو منظم انداز میں رکھا جائے گا تاکہ نجکاری یا لیز کے عمل کے دوران انہیں آسانی سے نئے خریدار یا سرمایہ کار کو منتقل کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق اس نئے ڈھانچے کا مقصد نجکاری کے پورے عمل کو زیادہ شفاف، مؤثر اور سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنانا ہے۔ ماضی میں قانونی پیچیدگیوں اور اثاثوں کی ملکیت سے متعلق مسائل کے باعث مختلف نجکاری منصوبے تاخیر کا شکار ہوتے رہے ہیں، تاہم اس بار حکومت پہلے مرحلے میں ان رکاوٹوں کو دور کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ان بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے تمام اثاثوں کا تعین 31 مارچ تک کی بیلنس شیٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اسی مالیاتی ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے نجکاری یا لیز کے لیے حتمی اسٹرکچر تیار کیا جائے گا، جس کے بعد سرمایہ کاروں کو باضابطہ پیشکش کی جائے گی۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو بجلی کی تقسیم کے نظام میں بہتری، مالی نقصانات میں کمی اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اس عمل کی کامیابی کا انحصار شفافیت، مناسب ریگولیٹری نگرانی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر ہوگا۔ -

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 32 دہشت گرد ہلاک
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 32 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق 28 اور 29 جولائی کی درمیانی شب ضلع خیبر کے مختلف علاقوں میں متعدد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 24 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے، جنہیں تحویل میں لے لیا گیا۔
دوسری جانب بلوچستان کے ضلع نوشکی میں بھی سیکیورٹی فورسز نے ایک الگ کارروائی کے دوران 8 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی بھی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ دونوں علاقوں میں دہشت گردوں کے ممکنہ سہولت کاروں اور دیگر عناصر کی تلاش کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں تاکہ علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ عزمِ استحکام کے تحت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، جبکہ دہشت گردی کی ہر شکل اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز اقدامات کیے جائیں گے۔ -

کل بلاول کسی کا گلا پکڑ رہے تھے، پھر ساری رات پیر پکڑ کر بیٹھے رہے، عظمیٰ بخاری
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے ترقی، کارکردگی اور جدت کو ووٹ دیا، اس لیے انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کیا جانا چاہیے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی گزشتہ 18 ماہ کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے، جبکہ پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی طویل حکمرانی کے باوجود عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی اپنی کارکردگی پیش کر سکتی ہے تو ضرور کرے، لیکن صرف الزامات سے حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے میرپور ڈویژن کے عوام نے اپنا فیصلہ ووٹ کے ذریعے دیا اور مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق جمہوری روایات کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں عوام کے فیصلے کو احترام کے ساتھ قبول کریں۔
عظمیٰ بخاری نے بلاول بھٹو زرداری کی حالیہ تقاریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن عوام کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "کل بلاول کسی کا گلا پکڑ رہے تھے، پھر ساری رات پیر پکڑ کر بیٹھے رہے۔”
وزیر اطلاعات پنجاب نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں گرین بس سروس، ایئر ایمبولینس، لیپ ٹاپ اسکیم، اسکالرشپس، جنوبی پنجاب کے ترقیاتی منصوبے اور خوبصورتی کے پروگرام جیسے متعدد منصوبے کامیابی سے جاری ہیں، جبکہ سندھ کے عوام آج بھی ٹرانسپورٹ، صفائی، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے بارشوں اور اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے جدید مشینری اور بہتر انتظامات کیے ہیں، جبکہ مختلف اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور اسی بنیاد پر عوام کا اعتماد حاصل کر رہی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حصہ ہے، تاہم بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے تمام جماعتوں کو اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے سامنے جانا چاہیے۔ ان کے مطابق عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت کی اصل طاقت ہے اور ہر سیاسی قوت کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔