خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں اسپینہ شگہ سیکٹر کے قریب پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر دونوں ممالک کی سرحدی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق جھڑپوں میں دونوں جانب سے بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جھڑپوں کا آغاز مبینہ طور پر افغان علاقے سے پاکستانی چوکیوں پر فائرنگ کے بعد ہوا۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھاری توپ خانے اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کیا، جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ کئی سرحدی مقامات تک پھیل گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑائی کا دائرہ ضلع کرم کے گیدو، گاوی اور پیوار سمیت دیگر قریبی علاقوں تک بھی وسیع ہو گیا ہے۔ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
اسپینہ شگہ کا علاقہ پاک افغان سرحد کے حساس ترین حصوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں ماضی میں بھی سرحد پار فائرنگ اور جھڑپوں کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سلامتی، دہشت گردی اور عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی کے الزامات کے باعث تعلقات میں کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔
ابھی تک دونوں ممالک کی حکومتوں یا عسکری حکام کی جانب سے جانی نقصان یا مالی نقصانات کے حوالے سے کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، جبکہ سرحدی جھڑپوں کی آزادانہ تصدیق بھی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو اس کے سرحدی آبادی، نقل و حمل اور علاقائی امن پر مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان حالات معمول پر لانے کے لیے سفارتی رابطوں اور فوجی سطح پر رابطہ کاری کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
کرم سرحد پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید فائرنگ، بھاری ہتھیاروں کا استعمال
