پاکستانی روپے کے مقابلے میں سعودی ریال کی قیمت میں معمولی اتار چڑھاؤ کے باوجود استحکام دیکھا گیا ہے۔ 30 اپریل 2026 کو اوپن مارکیٹ میں سعودی ریال کی قیمت خرید 74.36 روپے جبکہ فروخت 75.00 روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔
فاریکس ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ کاروباری دن کے اختتامی ریٹ کے مقابلے میں معمولی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، تاہم مجموعی طور پر ریال کی قیمت ایک محدود دائرے میں برقرار ہے۔ اوپن مارکیٹ میں فروخت کی شرح 75 روپے پر برقرار رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں طلب اور رسد کا توازن موجود ہے۔
دوسری جانب انٹر بینک مارکیٹ میں بھی سعودی ریال کی قیمت خرید 74.25 روپے جبکہ فروخت 75.35 روپے رہی۔ ماہرین کے مطابق انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ کے نرخوں میں معمولی فرق عام بات ہے، جو بینکنگ اور کرنسی ٹریڈنگ کے طریقہ کار کی وجہ سے ہوتا ہے۔
سعودی ریال، جسے مختصراً ایس اے آر یا ایس آر کہا جاتا ہے، سعودی عرب کی سرکاری کرنسی ہے اور پاکستان میں اس کی طلب خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط معاشی اور سفارتی تعلقات ہیں۔
ہر سال لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں کام کرتے ہیں اور اپنی آمدن کا بڑا حصہ پاکستان منتقل کرتے ہیں، جس سے ملکی معیشت کو سہارا ملتا ہے۔ اسی وجہ سے ریال کی قیمت میں معمولی تبدیلی بھی پاکستان میں مالیاتی سرگرمیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

سعودی ریال کی قیمت مستحکم، اوپن مارکیٹ میں 75 روپے
-

زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، 750 ملین ڈالر یوروبانڈز موصول
پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جہاں اسٹیٹ بینک کے مطابق ذخائر میں 730 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد مرکزی بینک کے ذخائر بڑھ کر 15.83 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس بہتری کے ساتھ ساتھ پاکستان کو 750 ملین ڈالر کے یوروبانڈز بھی موصول ہوئے ہیں، جس سے بیرونی مالی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر اب 21.27 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس تقریباً 5.44 ارب ڈالر کے ذخائر موجود ہیں، جبکہ اسٹیٹ بینک کے خالص ذخائر 15 ارب 83 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے اور کرنسی کے استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
مزید برآں، آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی منظوری کے بعد ذخائر میں مزید بہتری کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے آئی ایم ایف کے بورڈ کا اجلاس 8 مئی کو متوقع ہے، جس میں حتمی منظوری دی جا سکتی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ نہ صرف مالی استحکام کے لیے اہم ہے بلکہ اس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پائیدار بہتری کے لیے برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں توازن ضروری ہے۔ -

وزیراعظم کے ایران، سعودی قیادت سے رابطے، امن کوششوں کی تعریف
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اہم عالمی اور علاقائی رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایران اور سعودی عرب کی قیادت سے بات چیت کی ہے، جس کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔
ترجمان کے مطابق وزیراعظم نے یورپی کونسل کے صدر سے بھی گفتگو کی، جس میں عالمی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کر رہا ہے اور تمام فریقین کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے مزید بتایا کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم شہباز شریف کی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے کردار کو مثبت قرار دیتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کی معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سفارتی روابط نہایت اہم ہیں اور پاکستان کی کوشش ہے کہ خطے میں کشیدگی کو کم کر کے پائیدار امن کی راہ ہموار کی جائے۔ -

ٹرمپ کی سینیٹ پر تنقید، 60 ووٹ شرط ختم کرنے کا مطالبہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سینیٹ کے طریقہ کار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام میں ریپبلکنز کو قانون سازی میں غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے سادہ اکثریت کی بنیاد پر سینیٹ کو ’ریپبلکن سینیٹ‘ قرار دیتے ہوئے ڈیموکریٹ سینیٹرز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس سینیٹ میں فلی بسٹر کے ذریعے ریپبلکن پارٹی کے بلز کو روک رہے ہیں، جس کے باعث اہم قانون سازی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ریپبلکن سینیٹ آخر کب تک اس صورتحال کو برداشت کرے گی۔
انہوں نے تجویز دی کہ سینیٹ میں بل کی منظوری کے لیے 60 ووٹوں کی لازمی شرط ختم کر دی جانی چاہیے، کیونکہ اس شرط کے باعث متعدد اہم بلز، بشمول سیو امریکا ایکٹ، منظور نہیں ہو پا رہے۔ ٹرمپ کے مطابق اگر یہ شرط برقرار رہی تو ریپبلکنز کے لیے اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد مشکل ہو جائے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ڈیموکریٹس کو موقع ملا تو وہ خود بھی اقتدار میں آ کر اس شرط کو ختم کر دیں گے، اس لیے ریپبلکنز کو بھی اسی حکمت عملی پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں غیر مؤثر نظام کو برقرار رکھنا سیاسی طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سینیٹ کے قواعد و ضوابط میں تبدیلی ایک بڑا آئینی اور سیاسی معاملہ ہے، جس پر دونوں جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اگر 60 ووٹوں کی شرط ختم کی جاتی ہے تو اس کے امریکی قانون سازی کے نظام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

امریکی ناکہ بندی داخلی تقسیم کی کوشش، ایرانی اسپیکر کا الزام
ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ معاشی دباؤ اور پابندیوں کے ذریعے ایران کے اندرونی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ناکہ بندی کا مقصد ایرانی معاشرے کو مختلف دھڑوں میں تقسیم کرنا ہے۔
ریاستی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ امریکا ایران کے اندر سخت گیر اور اعتدال پسند گروہوں کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ ملک کی سیاسی اور سماجی یکجہتی کمزور ہو جائے۔ ان کے مطابق اقتصادی پابندیاں، مالی دباؤ اور میڈیا مہمات اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کا اصل مقصد ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا ہے، لیکن ایرانی عوام اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ قالیباف کا کہنا تھا کہ دشمن مختلف طریقوں سے داخلی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ایران کو کمزور کیا جا سکے۔
ایرانی اسپیکر نے زور دیا کہ ان حالات میں قومی اتحاد ہی سب سے مؤثر جواب ہے اور عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی طاقت اس کے عوام کی یکجہتی میں ہے اور بیرونی دباؤ کے باوجود ملک اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا۔
قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل دباؤ ڈال کر ایران کی اندرونی سیاسی صورتحال کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ایران اس قسم کے اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ -

ٹرمپ کی نیتن یاہو کو لبنان میں محدود کارروائی کی ہدایت
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے مسلسل رابطے میں ہیں اور انہیں لبنان میں فوجی کارروائیاں محدود رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ مکمل جنگ سے گریز کریں اور صرف محدود اور ہدفی کارروائیوں تک رہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ لبنان میں بڑے پیمانے پر تباہی اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ کارروائیوں کو کنٹرول میں رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عمارتوں کو گرانا اور وسیع حملے صورتحال کو مزید خراب کر رہے ہیں، جبکہ محتاط حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات میں اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو سکی، حالانکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو دونوں ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ لبنان کی صورتحال ایران سے متعلق معاملات سے الگ ہے، تاہم اگر کشیدگی بڑھی تو خطے میں سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
زمینی صورتحال کے مطابق اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ بھی راکٹ اور ڈرون حملوں کے ذریعے جواب دے رہی ہے، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی حکام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہو رہی ہے، تاہم انہوں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھنے کا موقع دے۔ ساتھ ہی امریکا لبنان میں سیاسی دباؤ بڑھانے اور فوج کو مضبوط کرنے کی حکمت عملی پر بھی کام کر رہا ہے۔ -

حج سیزن شروع، زائرین کیلئے جدید سہولتوں کا اعلان
حج سیزن کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور دنیا بھر سے لاکھوں زائرین مقدس فریضہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس سال بھی سعودی حکومت کی جانب سے حجاج کرام کو بہتر اور جدید سہولتیں فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ ان کا سفر آسان اور محفوظ بنایا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق اس بار زائرین کو کئی نئی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں اسمارٹ گائیڈ سسٹم اور جدید موبائل کاؤنٹر ڈیوائسز شامل ہیں۔ جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس کی جانب سے ہوائی اڈوں، زمینی اور بحری داخلی راستوں پر یہ موبائل ڈیوائسز نصب کی گئی ہیں، جن کا مقصد امیگریشن کے عمل کو تیز اور آسان بنانا ہے۔
ان موبائل کاؤنٹرز کے ذریعے بایومیٹرک ڈیٹا، چہرے کی تصاویر اور پاسپورٹ کی معلومات فوری طور پر حاصل کی جاتی ہیں، جس سے زائرین کو طویل انتظار سے نجات ملتی ہے۔ خاص طور پر بزرگ اور معذور افراد کے لیے یہ سہولت انتہائی فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ انہیں کم وقت میں تمام مراحل مکمل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
دوسری جانب سعودی رائل کمیشن برائے مکہ شہر و مقدس مقامات نے "Discover Makkah” کے نام سے ایک جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی متعارف کروایا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے زائرین اپنے سفر کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور مکہ مکرمہ کے اہم مقامات، تاریخی نشانات اور ثقافتی مقامات کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ پلیٹ فارم اسمارٹ نقشے اور ٹرپ پلانر جیسی سہولتیں بھی فراہم کرتا ہے، جس سے زائرین کو ایک ہی جگہ پر مکمل اور مستند معلومات میسر آتی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات سعودی وژن 2030 کا حصہ ہیں، جن کا مقصد حجاج کرام کے تجربے کو بہتر بنانا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خدمات کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ -

اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی واضح ہونے لگے ہیں، جہاں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھنے میں آئی ہے۔ کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی مارکیٹ میں منفی رجحان غالب رہا اور سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق کاروبار شروع ہوتے ہی فروخت کے دباؤ میں اضافہ ہوا جس کے باعث بینچ مارک ہنڈریڈ انڈیکس اپنی اہم سطح برقرار نہ رکھ سکا۔ دورانِ سیشن انڈیکس میں 3 ہزار 56 پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 63 ہزار کی سطح سے نیچے گر کر 1 لاکھ 62 ہزار 766 پوائنٹس پر آ گیا۔
اس اچانک گراوٹ نے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ مختلف شعبوں میں شیئرز کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں اور بڑے پیمانے پر شیئرز فروخت کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس مندی کی بنیادی وجہ عالمی سیاسی صورتحال ہے، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے متعلق خدشات نے عالمی سپلائی چین اور تیل کی قیمتوں پر اثر ڈالا ہے۔ ان حالات نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی مارکیٹس کو بھی متاثر کیا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ ایسے حالات میں سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ محتاط حکمت عملی اپنائیں اور عالمی صورتحال پر نظر رکھیں۔ -

ایران کی سوشل میڈیا حکمت عملی، جنگ کے دوران طنز و میمز کا استعمال
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ اور اس کے بعد ہونے والی جنگ بندی کے دوران ایک نیا پہلو سامنے آیا، جہاں ایران نے سوشل میڈیا کو بطور مؤثر ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اپنی ڈیجیٹل حکمت عملی کو نمایاں کیا۔ اس عرصے میں ایرانی سفارتی مشنز نے روایتی سفارتی انداز کے بجائے طنز، مزاح اور میمز کا سہارا لیا تاکہ عالمی بیانیے پر اثر انداز ہو سکیں۔
جنگ بندی سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ معاہدہ کرے، بصورت دیگر اہم انفراسٹرکچر جیسے پلوں اور پاور اسٹیشنز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے زمبابوے میں ایرانی سفارتخانے نے طنزیہ انداز اپنایا اور ڈیڈ لائن کے وقت پر مذاق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر تبصرہ کیا، جس نے عالمی توجہ حاصل کی۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران ایرانی سفارتی اکاؤنٹس، خاص طور پر ایکس پلیٹ فارم پر، نہایت سرگرم رہے اور انہوں نے مختلف پیغامات کے ذریعے امریکی مؤقف کا جواب دینے کی کوشش کی۔ ان اکاؤنٹس نے نہ صرف سیاسی بیانات دیے بلکہ میمز اور طنزیہ مواد کے ذریعے بھی اپنے مؤقف کو پیش کیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اس ڈیجیٹل مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران لڑائی کے ساتھ ساتھ جعلی خبروں اور پبلک ریلیشنز میں بھی مہارت رکھتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آن لائن سرگرمیاں امریکی توجہ کا مرکز بن چکی تھیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی یہ حکمت عملی ممکنہ طور پر اپنی عالمی ساکھ بہتر بنانے اور بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے اپنائی گئی۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو اندرونی اور بیرونی تنقید کا سامنا تھا۔ -

امریکا کے ایران پر ممکنہ حملوں کی تیاری
خطے میں ایک بار پھر کشیدگی کے سائے گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ایک امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے اور اس حوالے سے اعلیٰ عسکری قیادت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دینے والی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ کارروائی کی صورت میں ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس میں توانائی اور اسٹریٹجک تنصیبات شامل ہو سکتی ہیں۔ اس پیش رفت نے عالمی سطح پر تشویش کو بڑھا دیا ہے کیونکہ اس سے خطے میں بڑے پیمانے پر تصادم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کے بعض حصوں پر کنٹرول حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ یہ سمندری راستہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کارروائی عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کی رپورٹس خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی روابط بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم اگر ایسے منصوبے عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سفارتی کوششوں کو ترجیح دینا ضروری ہے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔