Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
ایران کا یوکرین سے بحیرۂ کیسپین جہاز حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ

    
ایران کا یوکرین سے بحیرۂ کیسپین جہاز حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ

    ‎ایران نے یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ بحیرۂ کیسپین میں ایرانی تجارتی جہاز پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری باضابطہ طور پر قبول کرے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس سے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران اس معاملے کو اٹھایا اور حملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
    ‎وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی تجارتی جہاز پر حملے میں ایرانی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے، اس لیے اس واقعے کو غیر ارادی قرار دینا قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں یوکرین کے وزیر خارجہ سے بھی اس معاملے پر بات ہوئی، تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ حملے کی مکمل ذمہ داری واضح طور پر قبول کی جانی چاہیے۔
    ‎ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے عوامی بیانات اس حملے کی ذمہ داری کی نشاندہی کرتے ہیں، لہٰذا اس واقعے کو حادثاتی قرار دینے کی گنجائش نہیں رہتی۔
    ‎دوسری جانب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ایران پر زور دیا کہ وہ روس کو دی جانے والی فوجی معاونت ختم کرے۔ انہوں نے ایران میں دو فرانسیسی سفارت کاروں کو مختصر وقت کے لیے حراست میں لینے کے واقعے کی بھی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا۔
    ‎کاجا کالاس نے عباس عراقچی اور یوکرینی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والے رابطے کا خیر مقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ سفارتی بات چیت کے ذریعے کشیدگی میں کمی لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
    ‎دریں اثنا دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا، جہاں حالیہ ہفتوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ مبصرین کے مطابق خطے میں جاری تنازعات کے تناظر میں ایران، یوکرین اور یورپی یونین کے درمیان سفارتی رابطے آئندہ دنوں میں مزید اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔

  • 
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیاں تیز، فلسطینی اپنے گھروں میں بھی غیر محفوظ

    
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیاں تیز، فلسطینی اپنے گھروں میں بھی غیر محفوظ

    ‎مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آبادکاروں کی سرگرمیوں میں مسلسل اضافے کے باعث فلسطینیوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں میں گھروں کی مسماری، زمینوں پر قبضے اور فوجی کارروائیوں میں شدت آنے سے شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔
    ‎الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے نابلس سے تعلق رکھنے والی صحافی سارہ ابو الرب نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف اقدامات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی حلقوں میں کھلے عام فلسطینیوں کو مزید علاقوں سے بے دخل کرنے، ان کی نقل و حرکت محدود کرنے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی تعداد بڑھانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ زمینی حقائق اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسرائیلی فورسز گھروں کو مسمار کرنے، فلسطینی اراضی پر قبضہ کرنے اور مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر رہی ہیں۔ ان اقدامات کے باعث متاثرہ خاندان شدید بے یقینی اور خوف کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
    ‎مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ صرف سڑکوں یا بازاروں میں ہی نہیں بلکہ اپنے گھروں کے اندر بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔ رات کے وقت چھاپوں، گرفتاریوں اور اچانک فوجی کارروائیوں کے خدشات نے عام شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
    ‎فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث معمولات زندگی درہم برہم ہو چکے ہیں۔ متعدد علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں، کاروبار اور روزمرہ کی زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ بچوں اور خواتین میں خوف اور ذہنی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
    ‎انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں اور شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دے رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

  • 
امریکا اور سعودی حملوں میں عراق میں 20 جنگجو ہلاک

    
امریکا اور سعودی حملوں میں عراق میں 20 جنگجو ہلاک

    ‎مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے۔ امریکا اور سعودی عرب کی مشترکہ فضائی کارروائیوں میں عراق کے مختلف علاقوں میں کم از کم 20 جنگجو ہلاک جبکہ 32 دیگر زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، تاہم اردن کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے فجر کے وقت داغے گئے پانچ میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق امریکا اور سعودی عرب نے عراق کے سات مختلف صوبوں میں فضائی حملے کیے۔ ان کارروائیوں کا ہدف ایران نواز مسلح گروہوں کے ٹھکانے تھے۔ حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں نقصان کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔
    ‎ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ اردن میں قائم امریکی فوجی اڈے پر کئی بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ جب تک ایران کے خلاف فوجی دباؤ اور حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا، اس وقت تک جوابی اقدامات بھی جاری رہیں گے۔
    ‎دوسری جانب اردن کی مسلح افواج نے تصدیق کی کہ ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے پانچ میزائلوں کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے تباہ کر دیا گیا، جس کے باعث کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
    ‎حالیہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل خطے میں نسبتاً سکون دیکھنے میں آیا تھا۔ تاہم تازہ حملوں نے ایک بار پھر یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے۔
    ‎علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ عراق، اردن اور دیگر ممالک میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ عالمی برادری مسلسل تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی ذرائع سے تنازع کے حل پر زور دے رہی ہے۔

  • حکومت نے پیٹرول کی قیمت معمولی کمی جبکہ ڈیزل مزید مہنگا کر دیا

    حکومت نے پیٹرول کی قیمت معمولی کمی جبکہ ڈیزل مزید مہنگا کر دیا

    حکومتِ پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کرتے ہوئے نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
    نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں پیٹرول 75 پیسے فی لیٹر سستا فی لیٹر کمی کر دی گئی۔جس کے بعد نئی قیمت 335 روپے 6 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 24 پیسے فی لیٹر مہنگا پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 390 روپے 62 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
    ‎حکومت کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت اور مقامی معاشی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق ملک بھر میں فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
    ‎پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش کی ترسیل اور دیگر شعبوں میں اخراجات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو آئندہ بھی مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا امکان موجود رہے گا۔
    ‎دوسری جانب شہریوں اور ٹرانسپورٹرز نے قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں ایندھن مہنگا ہونے سے روزمرہ زندگی کے اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

  • ٹروبا ٹیسٹ میں پاکستان کو 90 رنز سے شکست

    ٹروبا ٹیسٹ میں پاکستان کو 90 رنز سے شکست

    ‎ویسٹ انڈیز نے ٹروبا میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو 90 رنز سے شکست دے کر دو میچوں کی سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کر لی۔ 211 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ لائن ایک بار پھر ناکام ثابت ہوئی اور پوری ٹیم صرف 120 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
    ‎پاکستان نے چوتھی اننگز کا آغاز محتاط انداز میں کیا، تاہم ویسٹ انڈیز کے باؤلرز نے ابتدا ہی سے نپی تلی بولنگ کرتے ہوئے مسلسل وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کیں۔ قومی ٹیم کا کوئی بھی بلے باز بڑی شراکت قائم نہ کر سکا، جس کے باعث مطلوبہ ہدف تک پہنچنا ممکن نہ رہا۔
    ‎اس سے قبل ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز میں 181 رنز بنائے تھے، جس کے بعد پاکستان کو جیت کے لیے 211 رنز کا ہدف ملا تھا۔ پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ خرم شہزاد اور محمد علی نے دو، دو اور عامر جمال نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
    ‎اگرچہ پاکستانی باؤلرز نے میزبان ٹیم کو کم مجموعے پر محدود رکھا، لیکن بلے باز ایک بار پھر ذمہ دارانہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ اہم مواقع پر وکٹیں گرنے سے ٹیم شدید دباؤ کا شکار رہی اور پوری اننگز صرف 120 رنز پر سمٹ گئی۔
    ‎اس کامیابی کے ساتھ ویسٹ انڈیز نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 0-1 کی اہم برتری حاصل کر لی ہے۔ اب پاکستان کے لیے سیریز برابر کرنے کے لیے اگلا ٹیسٹ ہر صورت جیتنا ضروری ہوگا، جبکہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم سیریز اپنے نام کرنے کے لیے پُراعتماد انداز میں میدان میں اترے گی۔
    ‎پاکستانی ٹیم کی مسلسل بیٹنگ ناکامیوں نے ایک بار پھر ٹیم انتظامیہ اور سلیکشن پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ شائقین کو امید ہے کہ اگلے ٹیسٹ میں قومی ٹیم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیریز میں واپسی کرے گی۔

  • 
انگلینڈ کے نصف سے زائد علاقوں میں خشک سالی نافذ، ریکارڈ کم بارش

    
انگلینڈ کے نصف سے زائد علاقوں میں خشک سالی نافذ، ریکارڈ کم بارش

    ‎برطانیہ کے مختلف علاقوں میں غیر معمولی گرمی اور ریکارڈ کم بارش کے باعث انگلینڈ کے نصف حصے میں باضابطہ طور پر خشک سالی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ماحولیاتی حکام نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ موسمی صورتحال پانی کی قلت، زراعت اور جنگلاتی آگ کے خطرات میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔
    ‎انگلینڈ کی ماحولیات ایجنسی کے مطابق سات علاقوں کو سرکاری طور پر خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا گیا ہے۔ ان میں ایسٹ اینگلیا، ہرٹفورڈشائر، پورا لندن، ٹیمز ویلی، ہیمپشائر، آئل آف وائٹ، ڈیون، کارن وال، ویسٹ مڈلینڈز اور ویسیکس شامل ہیں، جس میں ڈورسیٹ، سومرسیٹ، ولٹ شائر اور جنوبی گلوسٹرشائر کے علاقے بھی آتے ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق جولائی کے دوران بارش کی مقدار معمول سے انتہائی کم رہی۔ پورے انگلینڈ میں متوقع بارش کا صرف سات فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جنوبی انگلینڈ کے بعض علاقوں میں صرف ایک فیصد بارش ہوئی، جو غیر معمولی صورتحال سمجھی جا رہی ہے۔
    ‎ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ جولائی ریکارڈ کی تاریخ کا خشک ترین مہینہ بننے جا رہا ہے۔ دوسری جانب ویلز بھی تقریباً 190 برسوں کی تاریخ میں اپنے خشک ترین جولائی کی جانب بڑھ رہا ہے، جس سے پانی کے ذخائر اور زرعی پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎ادھر ملک میں رواں سال گرمی کی چوتھی شدید لہر اپنے عروج پر پہنچنے والی ہے۔ بدھ کے روز بعض علاقوں میں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے باعث جنگلاتی آگ بھڑکنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
    ‎ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خشک موسم، تیز ہواؤں اور شدید گرمی کے امتزاج سے جنگلاتی آگ کی شدت غیر معمولی ہو سکتی ہے۔ حکام نے شہریوں سے پانی کے محتاط استعمال، غیر ضروری آگ جلانے سے گریز اور مقامی حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

  • زمین پر ہر 27 ملین سال بعد بڑی قدرتی آفات آتی ہیں:
ماہر ارضیات کا دعویٰ

    زمین پر ہر 27 ملین سال بعد بڑی قدرتی آفات آتی ہیں:
ماہر ارضیات کا دعویٰ

    ‎نیو یارک یونیورسٹی کے ماہر ارضیات پروفیسر مائیکل ریمپینو نے ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ زمین پر بڑی قدرتی اور ارضیاتی تباہیاں تقریباً ہر 27 ملین سال بعد ایک باقاعدہ چکر کے تحت رونما ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق ماضی کے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی تاریخ میں کئی بڑے تباہ کن واقعات ایک مخصوص زمانی وقفے کے ساتھ سامنے آئے ہیں، جس سے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے کہ یہ واقعات محض اتفاق نہیں بلکہ کسی گہرے ارضیاتی عمل کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
    ‎پروفیسر ریمپینو نے اپنے تازہ تحقیقی مقالے میں جدید عمر شناسی کے اعداد و شمار اور شماریاتی تجزیے کی مدد سے گزشتہ تقریباً 260 ملین برسوں کے دوران پیش آنے والے 89 بڑے ارضیاتی واقعات کا دوبارہ جائزہ لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان تمام واقعات کے درمیان حیران کن حد تک مماثلت اور باقاعدہ وقفہ پایا جاتا ہے۔
    ‎تحقیق میں جن بڑے واقعات کا جائزہ لیا گیا ان میں سمندری جانداروں کی بڑے پیمانے پر معدومیت، سمندروں میں آکسیجن کی شدید کمی، آتش فشاں سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ، طاقتور زلزلوں کے طویل سلسلے، سمندر کی سطح میں نمایاں تبدیلیاں اور سمندر کی تہہ کے پھیلاؤ کی رفتار میں اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔
    ‎پروفیسر ریمپینو کے مطابق ان تمام ارضیاتی تبدیلیوں کا تعلق تقریباً 27 ملین سال کے ایک مشترکہ چکر سے دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ زمین کے اندر یا نظامِ شمسی میں کوئی ایسا بنیادی عمل موجود ہو سکتا ہے جو وقتاً فوقتاً بڑے پیمانے پر قدرتی تبدیلیوں کو جنم دیتا ہے۔
    ‎تاہم اس تحقیق پر سائنسی حلقوں میں مکمل اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔ متعدد ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ مختلف نوعیت کے ان واقعات کو ایک ہی وجہ یا ایک ہی نظام سے جوڑنے کے لیے ابھی مزید مضبوط شواہد درکار ہیں۔ ان کے مطابق معدومیت، آتش فشانی سرگرمی، زلزلے اور سمندری تبدیلیاں مختلف عوامل کے نتیجے میں بھی رونما ہو سکتی ہیں۔
    ‎دوسری جانب پروفیسر ریمپینو اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ زمین کی تاریخ میں بڑے پیمانے پر معدومیت اور دیگر تباہ کن واقعات کے پیچھے کوئی نہ کوئی بنیادی اور مشترکہ ارضیاتی راز موجود ہے، جسے سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ تاہم اس تحقیق میں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ مستقبل میں کسی مخصوص تاریخ پر کوئی تباہ کن قدرتی آفت ضرور آئے گی، بلکہ یہ ایک سائنسی نظریہ ہے جس پر مزید تحقیق جاری ہے۔

  • 
ویزا مسائل میں پھنسے افراد کے لیے دبئی امیگریشن کا بڑا ریلیف

    ‎متحدہ عرب امارات میں ویزا مسائل کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے دبئی امیگریشن نے اہم سہولتوں کا اعلان کرتے ہوئے متاثرہ افراد کو فوری مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
    ‎دبئی امیگریشن کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد المری نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ جن افراد کو ویزا سے متعلق کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا ہے، وہ بلا تاخیر دبئی امیگریشن کے الویر سینٹر سے رابطہ کریں اور اپنی مشکلات سے آگاہ کریں تاکہ انہیں فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ دبئی امیگریشن کا مقصد کسی بھی ضرورت مند شخص کو مشکلات میں تنہا نہ چھوڑنا ہے۔ اگر کسی کے پاس رہنے کی جگہ موجود نہیں تو اسے عارضی رہائش فراہم کی جائے گی، جبکہ خوراک کی ضرورت ہونے پر مفت کھانے کا بھی انتظام کیا جائے گا۔
    ‎لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد المری نے مزید بتایا کہ ضرورت مند افراد کے لیے مفت طبی معائنہ بھی دستیاب ہوگا، جبکہ دانتوں کے علاج سمیت دیگر بنیادی طبی سہولیات بھی بغیر کسی فیس کے فراہم کی جائیں گی تاکہ متاثرہ افراد کو ہر ممکن سہولت میسر آ سکے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایسے افراد جو وطن واپسی میں قانونی یا انتظامی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ان کے مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے ان کی واپسی کا عمل آسان بنایا جائے گا۔
    ‎دبئی امیگریشن نے اس موقع پر ایک نئے رہنمائی مرکز کے قیام کا بھی اعلان کیا، جہاں دبئی میں پھنسے ہوئے سیاحوں اور ملازمت کی تلاش میں آنے والے افراد کو قانونی رہنمائی، مشاورت اور ضروری معاونت فراہم کی جائے گی۔
    ‎لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد المری کا کہنا تھا کہ دبئی آنے والے سیاح اور ملازمت کے متلاشی افراد ہمارے مہمان ہیں، اس لیے ان کے مسائل کا حل اور ان کی فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے تمام متاثرہ افراد پر زور دیا کہ وہ کسی بھی پریشانی کی صورت میں متعلقہ حکام سے رابطہ کریں تاکہ بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔

  • ‎مظاہرین میں مسلح عناصر اور جرائم پیشہ افراد شامل ہیں: آزاد کشمیر پولیس

    ‎مظاہرین میں مسلح عناصر اور جرائم پیشہ افراد شامل ہیں: آزاد کشمیر پولیس

    ‎آزاد کشمیر پولیس نے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین میں مسلح عناصر، جرائم پیشہ افراد اور منشیات کے عادی لوگ شامل ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے منصوبہ بندی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
    ‎مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے کہا کہ کالعدم قرار دی گئی کمیٹی نے متعدد افراد کے شناختی کارڈ اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ احتجاج میں شریک بعض افراد کے پاس اسنائپر رائفلیں بھی موجود ہیں، جو صورتحال کو مزید تشویشناک بناتی ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج واقعی پرامن ہوتا تو مظاہرین ہتھیار لے کر سڑکوں پر نہ آتے۔ ان کے مطابق سفید جھنڈوں کے پیچھے اسلحہ چھپا کر لانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کچھ عناصر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف تشدد کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ عناصر دہشت گردانہ نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
    ‎ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے عام شہریوں کی زندگی بھی متاثر کی ہے اور بعض مقامات پر لوگوں سے کھانے پینے کی اشیا بھی چھیننے کی اطلاعات ملی ہیں۔ ان کے مطابق احتجاج میں شامل تقریباً 70 فیصد افراد جرائم پیشہ یا منشیات کے عادی ہیں۔
    ‎ایس ایس پی ریاض مغل نے مزید دعویٰ کیا کہ بعض زخمی مظاہرین اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے متاثر ہوئے، لیکن اس کا الزام پولیس پر عائد کیا گیا۔ ان کے مطابق کچھ عناصر جان بوجھ کر ایسے واقعات کو اداروں کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ حالیہ جھڑپوں میں ایک سب انسپکٹر شہید ہوا جبکہ ایک اہلکار کی ریڑھ کی ہڈی فریکچر ہوئی۔ اس کے علاوہ متعدد اہلکار زخمی ہوئے اور مجموعی طور پر 174 پولیس اہلکار مختلف کارروائیوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس سے قبل بھی تین پولیس اہلکار جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • 
وزیراعظم اور کویتی وزیر خارجہ کی ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے اور علاقائی امن پر اتفاق

    
وزیراعظم اور کویتی وزیر خارجہ کی ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے اور علاقائی امن پر اتفاق

    ‎پاکستان اور کویت نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، علاقائی امن کے فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات، خطے کی موجودہ صورتحال اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزرائے دفاع، تجارت، قومی غذائی تحفظ، مواصلات، بحری امور اور پٹرولیم سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔ وزیراعظم نے کویتی وزیر خارجہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے امیرِ کویت شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح اور ولی عہد شیخ صباح الخالد الحمد المبارک الصباح کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
    ‎وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور کویت کے تعلقات مشترکہ اقدار، باہمی اعتماد اور برادرانہ تعاون پر استوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے ہر مشکل اور خوشی کے موقع پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور یہی اعتماد مستقبل میں تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گا۔
    ‎علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کویت اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور حالیہ حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر اپنا مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔
    ‎وزیراعظم نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بحری امور اور افرادی قوت کی ترقی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کویت میں مقیم پاکستانی برادری کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی مختلف شعبوں میں کویت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
    ‎کویتی وزیر خارجہ نے اپنی قیادت کی جانب سے وزیراعظم کے لیے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے موجودہ علاقائی بحران میں پاکستان کی سفارتی کوششوں، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہا اور امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں کی تعریف کی۔