راولپنڈی: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں انہیں عسکری قیادت کی جانب سے پاک-افغان سرحد کی تازہ ترین صورتحال اور قومی سلامتی کے امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان رجیم کے مبینہ گٹھ جوڑ اور پاکستان کے خلاف جاری شرپسند کارروائیوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ پاکستان اس صورتحال پر "زیرو ٹالرنس” (Zero Tolerance) کی پالیسی اپنائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کی جانب سے پاکستان کی حدود میں ہونے والی کارروائیاں کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔
وزیراعظم نے سرحدی علاقوں میں افغان رجیم کی جانب سے حملوں کو کامیابی سے پسپا کرنے پر پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری افواج سرحدوں کے تقدس کو برقرار رکھنے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر مستعد ہیں۔ وزیراعظم نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زیرِ قیادت افواجِ پاکستان ملک کی جغرافیائی حدود کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ "پاکستان اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا بخوبی جانتا ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔” انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے اور ارضِ وطن کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana

پاکستان کا جارحیت کا بھرپور جواب :وزیراعظم شہباز شریف کا جی ایچ کیو کا دورہ

رمضان کا تقدس پامال کرنے پر پڑوسی ملک کی جارحیت کا بھرپور جواب: شاہد آفریدی کا پاک فوج کو خراجِ تحسین
کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور لیجنڈری آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے آپریشن "غضب للحق” کے حوالے سے پاک فوج کی بروقت اور مؤثر کارروائی پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ پڑوسی ملک نے رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ کیا، جس کا ہماری بہادر افواج نے منہ توڑ اور بھرپور جواب دیا ہے۔
سابق کپتان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ اپنے مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے مذاکرات، سفارتکاری اور تمام ممکنہ پرامن ذرائع استعمال کیے گئے۔
شاہد آفریدی کے مطابق، دیگر برادر اسلامی ممالک نے بھی اس کشیدگی کو کم کرنے اور فریقین کو سمجھانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا، مگر بدقسمتی سے تمام تر خلوص اور کاوشوں کے باوجود سرحد پار سے دراندازی اور جارحیت کا سلسلہ نہ رک سکا۔
شاہد آفریدی نے اپنے بیان کے آخر میں جذباتی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "بحیثیت مسلمان، میری اور تمام مسلمانوں کی یہ دلی دعا اور آرزو ہے کہ رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے میں ہم سب اپنی توجہ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر مرکوز رکھیں، نہ کہ ایک دوسرے کا خون بہانے میں۔”
افغانستان دہشت گردوں کی تربیت کا مرکز، افغان طالبان رجیم براہِ راست ملوث: عطاء اللہ تارڑ
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے قوم کے نام جاری کردہ اپنے ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں افغانستان کی صورتحال اور پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
وفاقی وزیر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور وہاں دہشت گردوں کو باقاعدہ تربیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گرد کارروائیوں میں افغان طالبان کی موجودہ رجیم ملوث ہے۔
عطاء تارڑ نے مزید کہا کہ افغانستان میں اس وقت ایک غیر قانونی حکومت قابض ہے، جس کی پالیسیاں خطے کے امن کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور حال ہی میں افغان جارحیت کا پاکستان نے منہ توڑ اور مؤثر جوابی کارروائی کے ذریعے جواب دیا ہے۔
وفاقی وزیر کا یہ بیان پاکستان کے سکیورٹی مؤقف کو واضح کرتا ہے کہ کسی بھی بیرونی مداخلت یا دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا پاک-افغان جارحیت پر تشویش کا اظہار۔
پاکستان کے خلاف افغان طالبان کی حالیہ جارحیت پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق، گوٹیرس نے پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، خاص طور پر شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو فوری طور پر عسکری کارروائیاں روک کر اپنے تمام اختلافات کو سفارتی اور پرامن ذرائع سے حل کرنے کی کوششیں تیز کریں۔ یہ بیان سرحدی جھڑپوں اور دہشت گردی کے الزامات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جہاں اقوام متحدہ نے دونوں فریقوں سے تحمل اور بات چیت کی اپیل کی ہے۔
گوٹیرس کی یہ تنبیہ روس اور ایران کی ثالثی کی حالیہ پیشکشوں کے بعد آئی ہے، جو خطے میں بڑھتی کشیدگی کو روکنے کی عالمی کوششوں کو اجاگر کرتی ہے۔
طویل قیاس آرائیوں کے بعد ٹیلر سوئفٹ کی شادی کی تاریخ کا اعلان۔
عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ اور امریکی فٹ بال اسٹار ٹریوس کیلسی کی رواں سال 13 جون 2026 کو امریکا کی ریاست رہوڈ آئی لینڈ میں واقع ‘دی اوشن ہاؤس’ ہوٹل میں شادی ہونے کا اعلان ہو گیا ہے۔ یہ تاریخ ٹیلر سوئفٹ کی پسندیدہ ہے کیونکہ نمبر 13 ان کے لیے خوش قسمتی کی علامت ہے، جو ان کی پیدائش (13 دسمبر) اور کیریئر کے متعدد اہم مواقع سے جڑا ہوا ہے۔
انٹرٹینمنٹ ٹوڈے اور دیگر رپورٹس کے مطابق، جوڑا موسم گرما کی اس شادی کی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہا ہے اور قانونی کاغذی کارروائی اگلے ماہ تک مکمل ہو جائے گی۔ تقریب واچ ہل علاقے میں ہوگی، جہاں ٹیلر کی عالیشان حویلی بھی ہے، اور اس خبر کے بعد قریبی ہوٹلوں کے کرایوں میں شدید اضافہ ہو چکا ہے۔
یہ انتہائی پروقار تقریب ہوگی جس میں شوبز، کھیل اور دیگر شعبوں کی مشہور شخصیات شرکت کریں گی۔ شادی ان کی 26 اگست 2025 کو انسٹاگرام پر منگنی کے اعلان کے تقریباً ایک سال بعد ہو رہی ہے، جو 2023 سے ڈیٹنگ کے بعد کا قدرتی نتیجہ ہے۔

روس کی پاکستان، افغانستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش
ایران کے بعد روس نے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کر دی ہے۔ روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا کہ روس دونوں ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان کریں اور اپنے تمام اختلافات کو پرامن بات چیت کے ذریعے حل کریں۔
وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ روس خطے میں استحکام کی خواہش مند ہے اور پاکستان و افغانستان کے درمیان ثالث بننے کو مکمل طور پر تیار ہے۔ یہ پیشکش حالیہ سرحدی جھڑپوں اور دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔
روس کی یہ کوشش ایران کی حالیہ ثالثی کی پیشکش کے بعد خطے میں بڑھتی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہے، جو ممکنہ طور پر چین اور دیگر دوست ممالک کی حمایت حاصل کر سکتی ہے۔
سیکریٹری آئی ٹی کی فائر وال ہٹانے کی تردید، ویب مینجمنٹ سسٹم کی فعالیت پر بریفنگ
سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام ضرار ہاشم نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں فائر وال ہٹانے کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ویب مینجمنٹ سسٹم (ڈبلیو ایم ایس) مکمل طور پر فعال ہے اور اس کی وجہ سے انٹرنیٹ کی رفتار میں کسی قسم کی تکنیکی تاخیر نہیں آتی۔ سید امین الحق کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں چیئرمین پی ٹی اے نے وضاحت کی کہ یہ سسٹم 2006 سے زیرِ استعمال ہے اور اب تک چار بار اپ ڈیٹ ہو چکا ہے، جبکہ 2023 میں اسے آخری بار جدید بنایا گیا۔
چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ حکومتی اور عدالتی احکامات پر اب تک سات مختلف پلیٹ فارمز کو بند کیا گیا ہے، جن میں ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) کی بندش بھی اسی ویب مینجمنٹ سسٹم کے تحت عمل میں آئی۔ انہوں نے قومی سلامتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل سرحدوں کا تحفظ ناگزیر ہے اور اسی سسٹم کی بدولت ماضی میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی سائبر حملوں کو ناکام بنایا گیا تھا۔
اجلاس میں ٹیلی کام سیکٹر کے مستقبل پر بھی بات ہوئی۔ ڈی جی لائسنسنگ پی ٹی اے عامر شہزاد نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے لیے چھ بینڈز پیش کیے جا رہے ہیں، جس کے لیے بولی جمع کرانے کی آخری تاریخ 27 فروری مقرر تھی اور نیلامی کا حتمی عمل 10 مارچ کو ہوگا۔ مزید برآں، پی ٹی اے نے 10 مارچ سے قبل دو ٹیلی کام کمپنیوں کے انضمام کے عمل کو مکمل کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
چمن: پاک-افغان سرحد پر کشیدگی کے پیشِ نظر ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں چمن کے تمام سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت میں میڈیکل ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس فیصلے کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے اس حوالے سے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے تمام طبی عملے کی چھٹیاں فوری طور پر منسوخ کر دی ہیں۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ ہنگامی بنیادوں پر خون کے عطیات، زندگی بچانے والی ادویات اور سرجیکل سپلائز کے ذخائر کو مکمل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، تمام ایمبولینس سروسز کو 24 گھنٹے فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
برازیل اور انڈونیشیا میں سیلابی تباہ کاریوں سے ہلاکتوں میں اضافہ
برازیل کی ریاست میناس گیرائس میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 46 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، جبکہ 3,600 سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق جویز ڈی فورہ اور اوبا شہروں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے، تاہم 21 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے دوران ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، انڈونیشیا کے صوبے شمالی سولاویسی میں بھی موسلا دھار بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے باعث 14 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ سیلابی پانی سے سیکڑوں رہائشی مکانات اور سرکاری عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں۔ خطے میں جاری اس قدرتی آفت کے باعث حکام نے آئندہ مہینوں میں درجہ حرارت میں اضافے اور گلیشیائی پگھلاؤ کے پیشِ نظر ہیٹ ویو اور مزید سیلاب کا الرٹ بھی جاری کر دیا ہے۔
ایران امریکا کشیدگی: کے ایل ایم نے اسرائیل کیلئے پروازیں غیر معینہ مدت تک معطل کر دیں
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی فضائی سفر پر بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، ڈچ ایئر لائن کے ایل ایم نے اسرائیل کیلئے اپنی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایئر لائن کا کہنا ہے کہ یکم مارچ سے اسرائیل جانے والی تمام پروازیں غیر معینہ مدت تک بند رہیں گی۔ کمپنی نے فیصلے کی وجہ خطے میں سیکیورٹی خدشات اور غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا ہے۔
ادھر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، امریکا کی جانب سے جدید F-22 Raptor طیاروں کے مزید دستے خطے میں تعینات کیے گئے ہیں، جسے مبصرین طاقت کے اظہار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے گرد بڑی فوجی موجودگی قائم کر رکھی ہے اور دباؤ ڈال کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے، تاہم تہران اس دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران نے پسپائی اختیار نہیں کی، اور اگر دوبارہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو اس کا بھی مقابلہ کیا جائے گا۔
علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور سخت بیانات کے باعث مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، جس کے اثرات سفارتی اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔









