کراچی: نامور اداکار ساجد حسن کے بیٹے کے خلاف منشیات فروشی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کراچی کی سٹی کورٹ نے کیس میں مفرور ملزم باذل عاشق کو مسلسل عدم حاضری پر باقاعدہ اشتہاری قرار دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سٹی کورٹ میں منشیات فروشی کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جس کے دوران اداکار ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن اور شریک ملزم میر مکرم علی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنی حاضری یقینی بنائی۔
دورانِ سماعت عدالت نے مقدمے کے تیسرے ملزم باذل عاشق کی مسلسل غیر حاضری کا نوٹس لیتے ہوئے اسے اشتہاری قرار دینے کے احکامات جاری کیے۔ عدالت نے قانون کے مطابق آئندہ کارروائی آگے بڑھانے کی ہدایت بھی کی۔
یاد رہے کہ ساحر حسن اور میر مکرم علی اس مقدمے میں ضمانت پر ہیں اور عدالتی کارروائی میں شریک ہو رہے ہیں، جبکہ مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے قانونی اقدامات جاری ہیں۔
پولیس کے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) نے ان ملزمان کے خلاف منشیات فروشی کی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور دستیاب شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر تفتیشی پیش رفت اور مفرور ملزم سے متعلق رپورٹ بھی طلب کی ہے، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت مقررہ تاریخ پر ہوگی۔
واضح رہے کہ یہ مقدمہ زیرِ سماعت ہے، اس لیے تمام ملزمان کو عدالت سے جرم ثابت ہونے تک قانون کے مطابق بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ساجد حسن کے بیٹے کے منشیات کیس میں پیش رفت، مفرور ملزم اشتہاری قرار
-

بجٹ کے بعد مہنگائی کا نیا طوفان: گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں بڑے اضافے کا امکان
اسلام آباد: پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس کے طریقہ کار میں کی گئی تبدیلیوں کے باعث ملک بھر میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں 10 سے 15 روپے فی کلوگرام تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
پی وی ایم اے کے چیئرمین شیخ عمر ریحان نے بجٹ تجاویز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فنانس بل میں "تھرڈ شیڈول” کے دائرہ کار کو وسیع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اب سیلز ٹیکس کی وصولی "زیادہ سے زیادہ پرچون قیمت” (Maximum Retail Price) کی بنیاد پر کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے ٹیکس نظام سے گھی اور خوردنی تیل کی صنعت پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔ ان کے مطابق مینوفیکچررز کے لیے اس اضافی لاگت کو خود برداشت کرنا ممکن نہیں ہوگا، جس کے باعث قیمتوں میں اضافہ کر کے یہ بوجھ صارفین تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔
شیخ عمر ریحان کا کہنا تھا کہ گھی اور آئل انڈسٹری پہلے ہی بھاری ٹیکسوں کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بجٹ سے قبل حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ خوردنی تیل اور گھی پر ٹیکسوں میں کمی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے، تاہم بجٹ میں اس کے برعکس ٹیکس نظام کو مزید سخت کر دیا گیا۔
ایسوسی ایشن کے مطابق نئے ٹیکس ڈھانچے سے سیلز ٹیکس کے حساب اور وصولی کا پورا طریقہ کار تبدیل ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں قیمتوں کا استحکام متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور روزمرہ استعمال کی ان اشیاء کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
پی وی ایم اے نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور گھی و کوکنگ آئل کی صنعت کو مناسب ریلیف فراہم کرے تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے اور عوام پر مزید مالی بوجھ نہ پڑے۔ -

سندھ میں کم از کم اجرت 43 ہزار 500 روپے مقرر
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت کے اخراجات کا سب سے بڑا حصہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن پر مشتمل ہے، جبکہ صوبے میں کم از کم ماہانہ اجرت بڑھا کر 43 ہزار 500 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2025 میں دیا گیا 10 فیصد ایڈہاک ریلیف بھی اب بنیادی تنخواہ میں ضم کر دیا گیا ہے، جس سے ملازمین کو مستقبل میں بھی مالی فائدہ حاصل ہوگا۔
مراد علی شاہ کے مطابق سندھ حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن پر مجموعی اخراجات کا حجم ایک ہزار 264 ارب روپے ہے، جو صوبائی بجٹ کا سب سے بڑا حصہ بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق سے فنڈز کی کمی کے باعث صوبے کا ترقیاتی بجٹ متاثر ہوا ہے، اسی لیے آئندہ مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں کوئی نئی اسکیم شامل نہیں کی گئی۔ تاہم حکومت نے ہدف مقرر کیا ہے کہ اگلے سال تک 2,056 جاری ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صوبے کے مجموعی آمدنی کے بجٹ کا حجم 3 ہزار 525 ارب روپے رکھا گیا ہے، جبکہ جاری اخراجات کے لیے 2 ہزار 560 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق سندھ کو وفاق سے ریونیو اسائنمنٹ کی مد میں 2 ہزار 83 ارب روپے اور دیگر مالی منتقلیوں سمیت مجموعی طور پر 2 ہزار 263 ارب روپے ملنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال صوبائی ٹیکسوں اور سروسز سے 380 ارب روپے کی وصولی ہوئی، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 456 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مراد علی شاہ نے دعویٰ کیا کہ سندھ کی اپنی ریونیو گروتھ 23 فیصد ہے، جبکہ ایف بی آر کی شرح نمو 10 سے 11 فیصد کے درمیان رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ آئین کے تحت صوبوں کے مالی حقوق محفوظ ہیں، تاہم موجودہ قومی صورتحال میں چاروں صوبوں نے ملکی دفاع کے لیے وفاق سے بھرپور تعاون کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت موجودہ بجٹ سے بھی 260 ارب روپے وفاق کو فراہم کرے گی، جبکہ وفاقی اور غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے منصوبوں میں صوبے کا حصہ بھی ہر صورت ادا کیا جائے گا۔ -

ایرانی وزیر خارجہ کا کویتی ہم منصب سے رابطہ، امریکا ایران معاہدے پر تبادلہ خیال
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے کویتی ہم منصب شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں امریکا ایران معاہدے کے مختلف پہلوؤں اور مشرق وسطیٰ کی تازہ علاقائی پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران کو امید ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کا باعث بنے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مذاکرات جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ موجودہ غلط فہمیوں اور ابہامات کو دور کیا جا سکے۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران خطے کے تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام، اعتماد اور تعاون کی بنیاد پر تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی مسائل کا پائیدار حل صرف سفارت کاری، مذاکرات اور مشترکہ تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے رابطوں کو جاری رکھنے اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ -

اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے سگریٹ نوشی ترک کرنے کا اعلان کر دیا
فرانس: اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے سگریٹ نوشی ترک کر دی ہے۔ انہوں نے یہ بات فرانس میں ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کے دوران بتائی۔
جی 7 اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے رہنما آپس میں گفتگو کر رہے تھے، اسی دوران جارجیا میلونی نے کہا کہ اجلاس کی مصروفیات کے دوران خود کو متحرک رکھنے کے لیے انہیں کافی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پر جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے ہلکے پھلکے انداز میں سگریٹ کا ذکر کیا، جس کے جواب میں میلونی نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ ماہ سے سگریٹ نوشی مکمل طور پر چھوڑ دی ہے۔
اطالوی وزیراعظم اس سے قبل مختلف انٹرویوز میں بھی اپنی سگریٹ نوشی کے بارے میں بات کر چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ تقریباً 13 برس تک سگریٹ نوشی سے دور رہیں، تاہم بعد میں دوبارہ اس عادت میں مبتلا ہو گئیں۔ اب انہوں نے ایک بار پھر اس عادت کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جارجیا میلونی کے اس اعلان کے بعد ترک میڈیا نے اکتوبر 2025 میں مصر میں ہونے والے ایک اجلاس کی ویڈیو دوبارہ نشر کی، جس میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان انہیں سگریٹ نوشی چھوڑنے کا مشورہ دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
صدر رجب طیب اردوان طویل عرصے سے سگریٹ نوشی کے خلاف مہم چلاتے رہے ہیں اور وہ متعدد مواقع پر عوام، نوجوانوں اور اہم شخصیات کو تمباکو نوشی ترک کرنے کی ترغیب دیتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے جارجیا میلونی کا حالیہ اعلان ترکیہ میں بھی خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے اور سوشل میڈیا صارفین اس پر مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔
صحت کے ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی ترک کرنے سے دل، پھیپھڑوں اور مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، جبکہ اس سے کئی خطرناک بیماریوں کا خطرہ بھی نمایاں حد تک کم ہو جاتا ہے۔ -

سوات میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی صورتحال، کئی علاقے زیر آب
سوات: خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں موسلادھار بارشوں اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، جس سے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔ شدید بارشوں کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے جبکہ متعدد رہائشی علاقوں میں پانی داخل ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مسلسل بارش کے نتیجے میں سڑکیں، گلیاں اور نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، جس سے آمد و رفت متاثر ہوئی۔ کئی رہائشی علاقوں میں بارش اور سیلابی پانی گھروں میں داخل ہو گیا، جس کے باعث لوگوں کو اپنے گھروں سے پانی نکالنے اور قیمتی سامان محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
شدید بارشوں کے باعث ایک افسوسناک صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب کاری لا سید بابا کے مزار کے احاطے میں بھی سیلابی پانی داخل ہو گیا۔ پانی جمع ہونے سے مزار کے احاطے میں موجود متعدد قبریں زیر آب آ گئیں، جس پر مقامی افراد نے تشویش کا اظہار کیا۔
مقامی انتظامیہ نے خراب موسمی حالات اور مزید بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ متعلقہ اداروں کو ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ ریسکیو ٹیموں کو بھی مختلف حساس مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں کے قریب جانے سے احتیاط برتیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو اداروں سے رابطہ کریں۔
حکام کے مطابق موسمی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور اگر بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تو مزید حفاظتی اقدامات بھی کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ -

ایران، امریکا مفاہمتی یادداشت پر دونوں صدور کے دستخط کی تجویز زیر غور
تہران: ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک کے صدور کے دستخط کی تجویز زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مختلف آپشنز پر بات چیت جاری ہے اور ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی نوعیت اور تقریب کے طریقہ کار پر دونوں فریق مشاورت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے صدور کی جانب سے معاہدے پر دستخط کیے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے، تاہم اس کی باضابطہ منظوری ابھی باقی ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ ایک مقررہ مدت کے اندر آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو مکمل طور پر معمول پر لایا جائے گا تاکہ عالمی تجارتی سرگرمیاں اور تیل کی ترسیل بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو اس عمل کو مؤثر بنانے کے لیے دیگر متعلقہ ممالک سے بھی مشاورت کی جائے گی، تاکہ خطے میں استحکام برقرار رہے اور معاہدے پر عملدرآمد میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور باہمی مفاہمت سے متعلق یادداشت پر دستخط کی تقریب جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہے، جس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔ تاہم اس تقریب کے مقام، شرکا اور حتمی طریقہ کار سے متعلق دونوں ممالک کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔
سفارتی حلقوں کے مطابق اگر یہ مفاہمتی یادداشت طے پا جاتی ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

امریکا میں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں، امریکی ناظم الامور
اسلام آباد: پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا ہے کہ امریکا مختلف شعبوں میں ہنر مند پاکستانی افرادی قوت کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق سیاحت، ہاسپٹیلٹی، ہیلتھ کیئر اور دیگر شعبوں میں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے بہترین امکانات موجود ہیں۔
یہ بات انہوں نے وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے درمیان افرادی قوت، روزگار، باہمی تعاون اور دیگر دوطرفہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی ناظم الامور نے کہا کہ امریکا پاکستان کو خطے میں ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے اور مختلف شعبوں میں ہنر مند افرادی قوت کے حوالے سے تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی پیشہ ور افراد اپنی صلاحیتوں اور مہارت کے باعث عالمی سطح پر اچھی شہرت رکھتے ہیں، جس کے باعث امریکی مارکیٹ میں بھی ان کے لیے مواقع موجود ہیں۔
نیٹلی بیکر نے عالمی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خطے میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے کہا کہ پاکستان دنیا کے مختلف ممالک کو ہنر مند افرادی قوت فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق تعمیرات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، سیاحت اور دیگر شعبوں میں پاکستانی ماہرین اور کارکنان اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اور عالمی معیشت میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان افرادی قوت اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط ہوگا، جس سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو بھی مزید فروغ ملے گا۔ -

امریکا، ایران معاہدہ طے پانے میں تیزی، الیکٹرانک دستخط آج بھی متوقع
واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط جمعہ کے بجائے پہلے بھی ہو سکتے ہیں، جبکہ فریقین آج ہی الیکٹرانک دستخط کے ذریعے معاہدے کی منظوری دینے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا، ایران اور ثالث ممالک کے درمیان اہم مشاورت جاری ہے تاکہ معاہدے کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق الیکٹرانک دستخط کا مقصد آبنائے ہرمز کو جمعہ سے پہلے یا جلد از جلد بحری آمدورفت کے لیے کھولنا ہے، جس پر تمام متعلقہ فریق متفق ہیں۔
ذرائع کے مطابق اگر الیکٹرانک منظوری دی جاتی ہے تو معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعہ کو منعقد ہوگی۔ اس تقریب میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی شرکت متوقع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ورچوئل دستخط کے بعد امریکا تاریخی امن معاہدے کا متن بھی جاری کر سکتا ہے۔ تاہم ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ معاہدے کا متن باضابطہ دستخط ہونے سے پہلے عوام کے سامنے نہ لایا جائے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس پر معاہدے کی تفصیلات جلد جاری کرنے کے لیے سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے، لیکن امریکی انتظامیہ نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ معاہدے کا متن جان بوجھ کر چھپایا جا رہا ہے۔
ایگزیوس کے مطابق جب وائٹ ہاؤس سے الیکٹرانک دستخط کے امکان کے بارے میں رابطہ کیا گیا تو امریکی حکام نے فی الحال اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے اور آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھل جاتی ہے تو اس کے مثبت اثرات عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور توانائی کی منڈی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کے 14 نکات سامنے آگئے: بلومبرگ
واشنگٹن: امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے 14 اہم نکات سامنے آ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تاریخی مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط جمعہ کے روز متوقع ہیں، جبکہ تقریب پاکستان کی میزبانی میں سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران نے آئندہ 60 روز کے اندر ایک جامع اور حتمی معاہدے تک پہنچنے پر ابتدائی اتفاق کر لیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق پابندیوں، جوہری پروگرام اور دیگر حساس معاملات پر مذاکرات جاری رکھیں گے تاکہ مستقل معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک میں لبنان سمیت خطے کے تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی تجویز شامل ہے۔ اس کے علاوہ تمام متعلقہ فریق ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے اصول پر بھی متفق ہوئے ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق حتمی معاہدے میں افزودہ یورینیم اور جوہری مواد سے متعلق واضح شقیں شامل کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ 30 دن کے اندر بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی، جبکہ آبنائے ہرمز میں امریکی فوج کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں مرحلہ وار ختم کرنے پر آمادہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایران کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے، تیل کی برآمدات کی مکمل اجازت دی جائے گی اور تجارت و توانائی سے متعلق تمام اہم راستے دوبارہ بحال کیے جائیں گے۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کی اقتصادی بحالی کے لیے 300 ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کر سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
واضح رہے کہ ان تمام تفصیلات کی متعلقہ حکومتوں کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، جبکہ معاہدے سے متعلق مذاکرات اور مشاورت کا عمل بدستور جاری ہے۔