فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے خود کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک ثالث کے طور پر پیش کیا ہے اور اس حوالے سے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق سینئر پاکستانی حکام پس پردہ ایران اور امریکا کے درمیان رابطے کروانے میں کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی حکام، امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے درمیان بھی رابطے کروائے گئے۔
اس سے قبل بھی مختلف رپورٹس میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ بات چیت اور ثالثی کے حوالے سے پیش رفت کا ذکر سامنے آ چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana

عاصم منیر اور ٹرمپ کا رابطہ، پاکستان ثالثی کیلئے متحرک

یوم پاکستان پر سعودی قیادت کے پیغامات، ترقی اور خوشحالی کی دعا
یوم پاکستان کے موقع پر سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستانی قیادت اور عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے صدر پاکستان کے نام تہنیتی پیغام میں یوم پاکستان کی مبارک باد دی اور ان کی صحت و خوشحالی کے لیے دعا کی۔
دوسری جانب ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی صدر پاکستان کو مبارک باد دیتے ہوئے پاکستانی عوام کے لیے محبت اور یکجہتی کا پیغام دیا۔
سعودی قیادت نے اپنے پیغامات میں پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔اسلام آباد میں امریکا اور ایران مذاکرات، پاکستان میزبانی کرے گا
ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکا اور ایران کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان اس ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ملاقات متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق متوقع مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکا کے نائب صدر، خصوصی ایلچی اور ایک اعلیٰ سطحی شخصیت پاکستان پہنچ سکتے ہیں، جبکہ ایرانی جانب سے بھی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی اسلام آباد آمد کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ان مذاکرات میں علاقائی سیکیورٹی، سفارتی تعلقات اور باہمی امور پر گفتگو کی جا سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے واشنگٹن، تہران یا اسلام آباد کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔
انڈونیشیا کا واضح مؤقف: غزہ پیس بورڈ کیلئے ایک ارب ڈالر نہیں دیں گے
انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک غزہ پیس بورڈ کی رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی فیس ادا نہیں کرے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر نے کہا کہ انڈونیشیا نے صرف غزہ میں امن فوج فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا اور کبھی کسی مالی تعاون کا وعدہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشین فوج کا کردار صرف قیامِ امن تک محدود ہوگا اور ملک مطلوبہ تعداد میں امن فوج فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدر پرابوو نے مزید کہا کہ اس وضاحت کا مقصد ان خدشات کو دور کرنا ہے کہ بھاری مالی بوجھ قومی بجٹ پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جبکہ حکومت نے کسی قسم کی مالی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یاد رہے کہ غزہ میں تعمیر نو اور سکیورٹی استحکام کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے اربوں ڈالر کے وعدے کیے گئے ہیں، تاہم انڈونیشیا نے اس میں مالی شمولیت سے گریز کرتے ہوئے صرف امن مشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
ترکی، مصر اور پاکستان کی ثالثی، امریکا اور ایران کے درمیان رابطے جاری
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنے کے لیے ترکی، مصر اور پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران ان تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، جن میں تنازع کے خاتمے اور ممکنہ حل پر بات چیت کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق یہ سفارتی کوششیں تاحال جاری ہیں اور ان میں پیش رفت بھی ہو رہی ہے، جبکہ توجہ جنگ کے خاتمے اور اہم معاملات کے حل پر مرکوز ہے۔
یہ رابطے براہ راست مذاکرات کے بجائے ثالثی کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث براہ راست بات چیت محدود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثالثی کامیاب ہوتی ہے تو خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، تاہم اختلافات کے باعث مذاکراتی عمل اب بھی پیچیدہ ہے۔
سونے کی قیمت میں تاریخی کمی، فی تولہ 43 ہزار سے زائد سستا
عالمی اور مقامی سطح پر سونے کی قیمت میں بڑی اور تاریخی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں میں بھی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں فی تولہ سونا 43 ہزار 600 روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 47 ہزار 762 روپے پر آ گیا ہے۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 47 ہزار 380 روپے کی ریکارڈ کمی ہوئی ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 3 لاکھ 83 ہزار 883 روپے ہو گئی ہے۔ رواں ماہ کے دوران فی تولہ سونا مجموعی طور پر 1 لاکھ 16 ہزار 100 روپے تک سستا ہو چکا ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں بھی سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں فی اونس سونا 436 ڈالر کی کمی کے بعد 4 ہزار 250 ڈالر پر آ گیا۔
ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور معاشی غیر یقینی صورتحال سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
ٹرمپ پر شدید تنقید، امریکی رکن کانگریس نے پالیسیوں کو خطرناک قرار دے دیا
امریکا میں ایران سے متعلق پالیسیوں پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جہاں ڈیموکریٹ رکن کانگریس یاسمین انصاری نے ان کے اقدامات کو سخت الفاظ میں نشانہ بنایا ہے۔
یاسمین انصاری نے اپنے بیان میں کہا کہ وائٹ ہاؤس ایک ایسے رہنما کے زیر قیادت ہے جو دنیا کے لیے خطرہ بن رہا ہے، اور حالیہ بیانات و اقدامات عالمی سطح پر تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوں نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں اور دھمکیوں کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف خطے بلکہ خود امریکا کو بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رکن کانگریس نے کہا کہ اس قسم کے فیصلے امریکی فوجیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور عالمی امن کو مزید عدم استحکام کا شکار بنا سکتے ہیں۔
بحیرہ عرب میں برطانوی جوہری آبدوز کی تعیناتی کا دعویٰ
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک برطانوی جوہری آبدوز نے بحیرہ عرب میں پوزیشن سنبھال لی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کے تناظر میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ آبدوز ٹوماہاک کروز میزائلوں سے لیس ہے، جو طویل فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی تعیناتی خطے میں جاری صورتحال کے پیش نظر اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے اور اس سے سیکیورٹی ماحول مزید حساس ہو سکتا ہے۔
حکام کی جانب سے اس خبر کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم اس پیش رفت کو عالمی سطح پر قریب سے دیکھا جا رہا ہے۔
ایران جنگ کے بعد امن مذاکرات پر غور، ٹرمپ انتظامیہ متحرک
تین ہفتوں سے جاری جنگ کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات پر غور شروع کر دیا ہے، جسے سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت کے اندر اس معاملے پر ابتدائی سطح پر بات چیت جاری ہے اور جنگ کے اگلے مرحلے کے ساتھ ساتھ ممکنہ مذاکراتی راستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ سفارت کاری میں جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ مصر، قطر اور برطانیہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
ممکنہ معاہدے کے نکات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کا حل، اور جوہری و میزائل پروگرام پر طویل مدتی معاہدہ شامل ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا یورینیم افزودگی کے خاتمے اور میزائل پروگرام پر پابندی کا خواہاں ہے، جبکہ ایران جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، تاہم اختلافات کے باعث یہ عمل پیچیدہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کی دھمکی کے بعد تہران کے قریب دھماکے، بجلی گھروں کے علاقے متاثر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد تہران کے گرد و نواح میں زور دار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پردیس اور دماوند کے علاقوں میں متعدد دھماکے سنے گئے، جہاں اہم تنصیبات موجود ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دماوند کے علاقے میں ایران کے بڑے بجلی گھروں میں سے ایک واقع ہے، جس کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، تاہم فوری طور پر نقصانات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
حکام کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ واقعے کی نوعیت اور اس کے اثرات کے حوالے سے مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔







