وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں اور قومی و صوبائی اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) اور صوبائی حکومتیں باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے این ڈی ایم اے کو ہدایت دی کہ مون سون کی صورتحال اور متوقع بارشوں سے متعلق بروقت معلومات تمام وفاقی اور صوبائی اداروں تک پہنچائی جائیں تاکہ بروقت حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی روزانہ فلڈ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لے کر آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کریں گے۔ وزیراعظم نے شمالی علاقوں میں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے اور گلیشیائی سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ارلی وارننگ سسٹم کو ہر وقت فعال رکھنے کی بھی ہدایت کی۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات ملک کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل المدتی منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ مون سون سیزن کے دوران اب تک 110 افراد جاں بحق، 360 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 796 مکانات کو نقصان پہنچا اور 376 مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔ چیف سیکریٹریز نے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں حالیہ بارشوں، نقصانات اور امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔
این ڈی ایم اے نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ شمالی علاقوں میں سیلابی صورتحال اور سندھ و بلوچستان میں شدید گرمی کی لہر کے پیش نظر تمام ممکنہ وسائل صوبائی حکومتوں کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ آئندہ دو روز کے دوران آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور جنوبی سندھ میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ ستمبر کے دوسرے ہفتے سے ملک کے بیشتر علاقوں میں مون سون کی ایک اور طاقتور لہر آنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ عالمی سطح پر جاری ایل نینو کے باعث شمالی پاکستان میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے آئندہ ماہ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلاب آنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ حساس علاقوں کی نشاندہی کرکے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ لاہور سمیت وسطی پنجاب میں شہری سیلاب سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ برساتی نالوں میں طغیانی کے باعث زیر آب آنے والی زرعی زمینوں سے پانی کی نکاسی کا کام جاری ہے۔ ڈیرہ غازی خان اور ملحقہ علاقوں میں سیلابی صورتحال اس وقت قابو میں ہے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے اجلاس کو بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہونے والی 106 شاہراہیں بروقت کارروائی کے ذریعے بحال کر دی گئی ہیں۔ وزارت آئی ٹی کی جانب سے نیشنل ایمرجنسی ٹیلی کمیونی کیشن سینٹر بھی فعال کر دیا گیا ہے، جہاں کسی بھی موبائل فون سے مدد کی کال موصول ہونے پر ریسکیو 1122 فوری طور پر متحرک ہو جاتا ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ مون سون کے دوران ملک بھر میں 700 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں بارش کا پانی ذخیرہ کیا جائے گا تاکہ خشک موسم میں اسے زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز، صوبائی حکومتوں اور تمام متعلقہ اداروں کی بروقت تیاریوں، پیشگی اطلاعات اور امدادی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

وزیراعظم کی مون سون اور سیلابی صورتحال پر ہنگامی ہدایات
-

اسحاق ڈار سے امریکی کانگریسی وفد کی ملاقات، تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے امریکی کانگریس کے وفد نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی اور دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی کانگریسی وفد میں رکن کانگریس ریان زنکے اور مائیکل باؤمگارٹنر شامل تھے۔ ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں حالیہ عرصے کے دوران مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، جسے مزید مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔
دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دوطرفہ تجارتی روابط، سرمایہ کاری، آئی ٹی، توانائی اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔ اس موقع پر پارلیمانی سطح پر رابطوں اور وفود کے تبادلوں کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا، تاکہ باہمی اعتماد میں اضافہ ہو اور دیرینہ شراکت داری مزید مضبوط بن سکے۔
امریکی کانگریسی وفد نے امریکا میں مقیم پاکستانی برادری کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی نژاد امریکی معیشت اور معاشرے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وفد نے پاکستانی کمیونٹی کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے کا ایک مؤثر پل قرار دیا۔
ملاقات میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی ارکان کانگریس نے خطے میں امن، استحکام اور تعمیری سفارت کاری کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور باہمی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
دونوں جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مختلف شعبوں میں جاری تعاون کو مزید وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری اور علاقائی استحکام کے مشترکہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ -

نورین نیازی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج، تحقیقات کا آغاز
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کی بہن نورین نیازی کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق مقدمہ ایف آئی آر میں درج الزامات کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق نورین نیازی پر سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے مبینہ طور پر جھوٹا، اشتعال انگیز، توہین آمیز اور دھمکی آمیز مواد پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر ریاستی اداروں اور سکیورٹی فورسز کے خلاف منظم پروپیگنڈا کرنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق ایف آئی آر میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نورین نیازی نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو کے دوران پاکستان اور مسلح افواج کے خلاف مبینہ طور پر بے بنیاد اور غلط الزامات عائد کیے، جنہیں مقدمے کا حصہ بنایا گیا ہے۔
حکام کے مطابق مقدمہ پیکا کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے اور شواہد اکٹھے کرنے کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران دستیاب مواد، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب خبر سامنے آنے تک نورین نیازی کی جانب سے مقدمے میں عائد الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ بھی واضح رہے کہ ایف آئی آر میں درج الزامات تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے اور ان کی قانونی حیثیت کا حتمی فیصلہ عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایسے مقدمات میں تفتیش مکمل ہونے، شواہد پیش کیے جانے اور عدالتی سماعت کے بعد ہی کسی بھی شخص کی ذمہ داری یا بے گناہی کا تعین کیا جاتا ہے۔ -

روس کے ماؤنٹ ایلبروس پر برفانی طوفان، پانچ بوسنیائی کوہ پیما ہلاک
روس کے بلند ترین اور یورپ کی سب سے اونچی چوٹی ماؤنٹ ایلبروس پر شدید برفانی طوفان کے باعث پانچ بوسنیائی کوہ پیما ہلاک ہو گئے۔ روسی حکام کے مطابق خراب موسم کے باعث جاں بحق ہونے والے تین کوہ پیماؤں کی لاشیں تاحال پہاڑ سے منتقل نہیں کی جا سکیں۔
روسی وزارتِ ہنگامی حالات کے مطابق امدادی ٹیموں نے پہلے دو زخمی کوہ پیماؤں کو بحفاظت پہاڑ سے نکال کر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا۔ بعد ازاں 5,350 میٹر کی بلندی پر موجود دو کوہ پیماؤں کی لاشیں بھی برآمد کر لی گئیں۔
روسی فیڈریشن کی تحقیقاتی کمیٹی کے علاقائی دفتر کے مطابق مزید تین کوہ پیماؤں کی لاشوں کا بھی سراغ لگا لیا گیا ہے، تاہم شدید خراب موسم، برفباری اور تیز ہواؤں کے باعث انہیں ابھی تک پہاڑ سے نیچے منتقل نہیں کیا جا سکا۔ حکام کا کہنا ہے کہ موسم بہتر ہوتے ہی ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
اگرچہ روسی حکام نے ابتدائی بیان میں ہلاک ہونے والوں کی شہریت کی تصدیق نہیں کی، تاہم مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے روسی خبر رساں ایجنسی آر آئی اے نووستی کو بتایا کہ جاں بحق ہونے والے تمام کوہ پیما بوسنیا و ہرزیگووینا سے تعلق رکھتے تھے۔
ماؤنٹ ایلبروس، جس کی بلندی 5,642 میٹر ہے، روس اور جارجیا کی سرحد کے قریب واقع ہے اور یورپ کی بلند ترین چوٹی شمار ہوتی ہے۔ یہ پہاڑ موسم میں اچانک تبدیلی، شدید برفانی طوفانوں اور دشوار گزار راستوں کے باعث کوہ پیماؤں کے لیے انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
بوسنیائی میڈیا کے مطابق سات رکنی مہم جوئی گروپ کا تعلق بوسنیا کے وسطی شہر زینیتسا سے تھا۔ اس گروپ میں ایک شادی شدہ جوڑا اور مقامی اسپتال میں خدمات انجام دینے والی ایک خاتون ڈاکٹر بھی شامل تھیں۔ حادثے کے بعد بوسنیا میں غم کی فضا پائی جا رہی ہے اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔
روسی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ ریسکیو ٹیمیں موسم بہتر ہونے کا انتظار کر رہی ہیں تاکہ باقی لاشوں کو بھی پہاڑ سے منتقل کیا جا سکے۔ -

پیٹرول ایک روپے سستا، ڈیزل مزید مہنگا کردیا گیا
اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 1 روپیہ فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 334 روپے 18 پیسےمقرر ہو گئی ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 37 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 386 روپے 83 پیسے ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 25 جولائی کو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم اس سے پہلے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 66 پیسے کا اضافہ کیا گیا تھا جس سے قیمت 335 روپے 18 پیسے تک جا پہنچی تھی، جبکہ ڈیزل 4 روپے 80 پیسے مہنگا ہو کر 383 روپے 46 پیسے پر پہنچ گیا تھا۔
حالیہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 17 جولائی سے 25 جولائی کے مختصر عرصے کے دوران پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں مجموعی طور پر 24 روپے 47 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ریکارڈ 60 روپے 16 پیسے کا بڑا اضافہ کیا جا چکا ہے۔ -

سیئٹل فوڈ فیسٹیول میں فائرنگ، 3 افراد ہلاک، 2 سالہ بچہ سمیت متعدد زخمی
امریکا کے شہر سیئٹل میں منعقد ہونے والے مشہور بائٹ آف سیئٹل (Bite of Seattle) فوڈ فیسٹیول کے دوران فائرنگ کے ایک واقعے میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ دو سالہ بچے سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
یہ واقعہ اتوار کی شام سیئٹل سینٹر کے قریب پیش آیا، جہاں ہر سال منعقد ہونے والا مفت فوڈ فیسٹیول ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ فائرنگ شروع ہوتے ہی تقریب میں موجود افراد میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ جان بچانے کے لیے مختلف سمتوں میں بھاگنے لگے۔
عینی شاہدین کے مطابق یکے بعد دیگرے کئی گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں۔ ایک عینی شاہد جسٹس بیٹزل نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ قریبی کنسرٹ سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اچانک چھ سے سات گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں اور ہر طرف لوگ چیختے ہوئے بھاگنے لگے۔ کچھ افراد نے جان بچانے کے لیے حفاظتی باڑ بھی گرا دی۔
سیئٹل پولیس کے مطابق شام تقریباً چھ بجے فائرنگ کی اطلاع ملنے پر پولیس اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ دو افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ چار زخمیوں کو ہاربر ویو میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا، جن میں ایک دو سالہ بچہ بھی شامل تھا۔
حکام کے مطابق ایک اور زخمی شخص بعد میں خود ایک دوسرے اسپتال پہنچا، جہاں اس کے جسم پر گولی لگنے کی تصدیق ہوئی۔ بعد ازاں اسپتال منتقل کیے گئے زخمیوں میں سے ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تین ہو گئی۔
سیئٹل پولیس کے اسسٹنٹ چیف ٹائرون ڈیوس نے بتایا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فائرنگ کی اصل وجہ کیا تھی اور اس میں ملوث افراد کون تھے۔ تاحال کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری یا حملے کے محرکات سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ -

فرانس اور اسپین میں خوفناک جنگلاتی آگ، تین لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور
جنوب مغربی یورپ میں پھیلنے والی شدید جنگلاتی آگ نے فرانس اور اسپین کے وسیع علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث تین لاکھ پچیس ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔ حکام کے مطابق حالیہ برسوں کی یہ بدترین آتش زدگی ہے، جبکہ ماہرین اسے غیر معمولی گرمی کی لہر اور خشک موسم کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
فرانس میں دوسری جنگ عظیم کے بعد کی بدترین جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے ہزاروں فائر فائٹرز، ہیلی کاپٹرز اور خصوصی آلات تعینات کیے گئے ہیں۔ فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک ملک میں تقریباً ایک لاکھ پندرہ ہزار ہیکٹر رقبہ آگ کی نذر ہو چکا ہے۔
دوسری جانب اسپین میں بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ یورپی جنگلاتی آگ کی نگرانی کے نظام EFFIS کے اعداد و شمار کے مطابق 22 جولائی تک ایک لاکھ 19 ہزار ہیکٹر سے زائد اراضی جل چکی تھی، جبکہ وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے مطابق مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر سے زیادہ رقبہ متاثر ہو چکا ہے، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران یورپ بھر میں 22 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ جنگلاتی آگ کی لپیٹ میں آیا، جو 2022 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، غیر معمولی درجہ حرارت، خشک سالی اور تیز ہوائیں آگ کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات ہیں، جس کے باعث اسے قابو کرنا انتہائی مشکل ہو رہا ہے۔
فرانس میں تقریباً دو لاکھ 20 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ اسپین میں 75 ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے نکالا گیا اور تقریباً 30 ہزار افراد کو گھروں میں ہی محفوظ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسپین کے جنوبی علاقے اندلس میں 10 جولائی کو لگنے والی تیز رفتار آگ کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ بعد ازاں آگ سینکڑوں کلومیٹر دور دارالحکومت میڈرڈ کے اطراف تک پھیل گئی، جہاں مزید 10 ہزار افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ 24 جولائی کو اسپین کی حکومت نے دو بڑی آگ پر قابو نہ پانے کے باعث قومی ایمرجنسی نافذ کر دی۔
حکام نے شہریوں سے متاثرہ علاقوں سے دور رہنے، حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے اور ہنگامی امدادی اداروں سے تعاون کی اپیل کی ہے، جبکہ یورپی ممالک جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے مشترکہ امدادی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ -

مشرقی القدس میں اسرائیلی فوج کا یو این آر ڈبلیو اے مرکز پر چھاپہ، عملہ حراست میں
مقبوضہ مشرقی القدس کے شمال میں واقع قلندیہ پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے (UNRWA) کے تربیتی مرکز پر چھاپہ مار کر عملے کے متعدد ارکان کو حراست میں لے لیا۔
مقامی حکام کے مطابق اسرائیلی فوجی مرکز میں زبردستی داخل ہوئے، آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور وہاں موجود عملے کو ایک ہال میں جمع کرکے حراست میں رکھا۔ کارروائی کے دوران کیمپ کے مختلف حصوں میں بھی سکیورٹی آپریشن جاری رہا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یروشلم گورنریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج نے رات گئے قلندیہ پناہ گزین کیمپ پر چھاپہ مارا، اس دوران اسٹن گرینیڈ اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک مقام پر آگ بھی بھڑک اٹھی۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ہفتے قبل یروشلم گورنریٹ نے خبردار کیا تھا کہ اسرائیلی حکام قلندیہ میں واقع یو این آر ڈبلیو اے کے تربیتی مرکز کو مسمار کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
دوسری جانب فلسطینی ادارہ کالونائزیشن اینڈ وال ریزسٹنس کمیشن کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران اسرائیلی حکام نے 341 انہدامی کارروائیاں کیں، جن میں 740 عمارتیں منہدم ہوئیں، جبکہ ان اقدامات سے کم از کم 923 فلسطینی متاثر ہوئے۔
ادھر غزہ کی پٹی کے وسطی شہر دیر البلح میں بھی اسرائیلی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بے گھر فلسطینیوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہونے والے یو این آر ڈبلیو اے کے ایک اسکول کے باہر شہریوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق زخمیوں میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جو وہیل چیئر استعمال کر رہا تھا اور پہلے ہی ایک سابقہ اسرائیلی فضائی حملے میں اپنی دونوں ٹانگیں کھو چکا تھا۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے دعوؤں کے باوجود غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں۔ فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ حملے اکثر بغیر کسی پیشگی انتباہ کے کیے جاتے ہیں، جس کے باعث عام شہری مسلسل خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ -
آزاد کشمیر انتخابات: ابتدائی نتائج میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے مختلف حلقوں سے موصول ہونے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سخت اور کانٹے دار مقابلہ جاری ہے۔ میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے 13 انتخابی حلقوں میں پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے، جبکہ مختلف حلقوں سے ابتدائی نتائج موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے غیر معمولی ووٹر ٹرن آؤٹ کے باعث پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھایا تھا، جس کے بعد شام 6 بجے پولنگ کا عمل مکمل ہوا۔ اب مختلف پولنگ اسٹیشنز سے موصول ہونے والے نتائج کے مطابق کئی حلقوں میں دونوں بڑی جماعتوں کے امیدوار ایک دوسرے کو سخت ٹکر دے رہے ہیں۔
ابتدائی نتائج کے مطابق ایل اے 1 میرپور 1 میں مسلم لیگ (ن) کے اظہر صادق کو برتری حاصل ہے، جبکہ ایل اے 2 میرپور 2 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے قاسم مجید آگے ہیں۔ ایل اے 3 میرپور 3 اور ایل اے 4 میرپور 4 میں بھی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ابتدائی برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔
بھمبر کے حلقوں میں بھی مسلم لیگ (ن) مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے۔ ایل اے 5 بھمبر 1 میں وقار احمد نور، ایل اے 6 بھمبر 2میں چوہدری محمد رزاق اور ایل اے 7 بھمبر 3 میں چوہدری طارق فاروق ابتدائی نتائج کے مطابق اپنے مدمقابل امیدواروں سے آگے ہیں۔
دوسری جانب کوٹلی کے حلقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایل اے 8 کوٹلی 1 میں ظفر اقبال ملک، ایل اے 10 کوٹلی 3 میں چوہدری محمد یاسین، ایل اے 11 کوٹلی 4 میں چوہدری محمد اخلاق اور ایل اے 12 کوٹلی 5 میں بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار ابتدائی نتائج کے مطابق برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔
ادھر ایل اے 9 کوٹلی 2 میں صرف ایک پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے عمیر نعیم آگے ہیں، جبکہ ایل اے 13 کوٹلی 6 میں بھی مسلم لیگ (ن) کے راجہ ایاز احمد خان واضح برتری کے ساتھ سرفہرست ہیں۔
چونکہ یہ نتائج غیر سرکاری اور غیر حتمی ہیں، اس لیے حتمی کامیابی کا فیصلہ تمام پولنگ اسٹیشنز کے نتائج موصول ہونے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکاری اعلان کے بعد ہی ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور امیدوار ووٹوں کی گنتی کے عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ مختلف حلقوں میں مقابلہ انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ -

حافظ نعیم کا 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان، اہم شاہراہیں بند کرنے کا عندیہ
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 7 اگست کو ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس روز ملک بھر کی اہم شاہراہوں پر احتجاج کیا جائے گا اور مختلف مقامات پر سڑکیں بند کی جائیں گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں حافظ نعیم الرحمان نے عوام، بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں احتجاج میں شریک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں افراد گھروں سے نکلیں اور نوجوان موٹر سائیکل ریلیوں کے ذریعے احتجاج کو کامیاب بنائیں۔
انہوں نے بتایا کہ احتجاجی مہم کو مؤثر بنانے کے لیے ملک بھر میں تقریباً 20 ہزار کارنر میٹنگز منعقد کی جائیں گی تاکہ عوام کو احتجاج کے مقاصد سے آگاہ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران صرف ایمبولینسز اور ہنگامی طبی امداد کی گاڑیوں کو راستہ دیا جائے گا، جبکہ دیگر مقامات پر احتجاج جاری رہے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج پرامن اور جمہوری ہوگا اور اس کا مقصد حکومت پر عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پیٹرولیم لیوی ختم کرے، بجلی کے شعبے میں آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کرے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
امیر جماعت اسلامی نے تاجروں، وکلا، طلبہ، مزدوروں اور معاشرے کے دیگر طبقات سے بھی احتجاج میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک عوامی مسائل کے حل کے لیے شروع کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر جماعت اسلامی کی پرامن اور آئینی جدوجہد میں رکاوٹ ڈالنے یا احتجاج کو روکنے کے لیے غیر جمہوری اقدامات کیے گئے تو پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جاری تحریک مزید شدت اختیار کر سکتی ہے اور اسے حکومت مخالف تحریک میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جماعت اسلامی اس سے قبل بھی بجلی کے نرخوں، مہنگائی، ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاجی مہم چلاتی رہی ہے۔ 7 اگست کے احتجاج کے اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں اس کی ممکنہ عوامی شرکت اور اثرات پر بھی تبصرے جاری ہیں۔