اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران اور امریکا سے ایک دوسرے کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ کشیدگی کسی بھی وقت مکمل جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ فریقین مزید حملوں کے جواز تلاش کرنے کے بجائے صورتحال کو قابو میں لانے پر توجہ دیں۔ ان کے مطابق خطے میں جنگ بندی کی امید پیدا ہوئی تھی، تاہم حالیہ واقعات کے بعد صورتحال ایک محدود جنگ بندی سے دوبارہ کشیدگی کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ رواں ہفتے دونوں جانب سے وسیع پیمانے پر حملے کیے گئے ہیں، جس سے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات کو معمولی واقعہ سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ تنازع کسی بھی وقت بڑے پیمانے کی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
انتونیو گوتریس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیاں، بین الاقوامی تجارت اور سلامتی کی صورتحال بھی اس بحران سے متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل، ذمہ داری اور دانشمندی کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سیاسی سمجھوتہ ہی دیرپا امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے۔ ان کے مطابق موجودہ بحران کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے خطے کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

اقوام متحدہ کی ایران اور امریکا سے مزید حملے روکنے کی اپیل
-

ایران نے آبنائے ہرمز مکمل بند کرنے کا اعلان کر دیا
ایران نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایرانی اعلان کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی میں اضافے اور امریکی حملوں کے نئے سلسلے کے بعد تہران نے یہ اہم فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
ایران کی اعلیٰ مشترکہ عسکری کمان "خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز” نے جمعرات کی صبح اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو تمام قسم کی بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اس پابندی کا اطلاق تیل بردار ٹینکروں، تجارتی جہازوں اور دیگر بحری جہازوں پر بھی ہوگا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے کی بندش سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ اعلان مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔ خطے کے کئی ممالک اور عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی اور اتحادی بحری افواج پہلے ہی خلیج کے پانیوں میں اپنی موجودگی بڑھا چکی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
عالمی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ کشیدگی مذاکرات کی طرف بڑھے گی یا خطہ مزید فوجی تصادم کی جانب بڑھ جائے گا۔ -

یو اے ای سے ساڑھے 3 ہزار پاکستانی بے دخل
متحدہ عرب امارات نے سوشل میڈیا قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر تقریباً ساڑھے تین ہزار پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کر دیا ہے۔ یہ انکشاف قومی اسمبلی کو دی گئی بریفنگ میں کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ حالیہ ایران امریکا کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران بعض پاکستانی شہریوں نے یو اے ای کے سوشل میڈیا ضوابط کی خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ بے دخل کیے گئے افراد کو واپس پاکستان بھیج دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا سے متعلق قوانین انتہائی سخت ہیں اور ان کی خلاف ورزی پر غیر ملکی شہریوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس میں جرمانے، قید اور ملک بدری شامل ہیں۔
بریفنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ بے دخل کیے جانے والے پاکستانیوں کی جائیدادوں اور دیگر اثاثوں کو ان کے قانونی ورثا کے حوالے کرنے کا عمل جاری ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں کسی بھی متاثرہ خاندان کو مشکلات کا سامنا ہو تو وہ متعلقہ حکام یا وزارت خارجہ سے رابطہ کر سکتا ہے۔
وزارت خارجہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایسے تمام پاکستانی خاندانوں کو قونصلر اور قانونی معاونت فراہم کی جائے گی جنہیں جائیداد یا دیگر معاملات میں مسائل پیش آ رہے ہوں۔ حکام کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سفارتی سطح پر مسلسل رابطے جاری رکھے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قوانین مقامی قوانین اور قومی سلامتی کے تناظر میں نافذ کیے جاتے ہیں، اس لیے وہاں مقیم غیر ملکیوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طور پر علاقائی تنازعات، سیاسی معاملات اور سیکیورٹی سے متعلق مواد شیئر کرنے پر سخت پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔
قومی اسمبلی میں پیش کی گئی معلومات کے بعد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ایک بار پھر مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ میزبان ممالک کے قوانین اور ضوابط کی مکمل پاسداری کریں تاکہ قانونی کارروائی اور ملک بدری جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔ -

سندھ اسمبلی کے قریب موبائل مارکیٹ میں بڑی ڈکیتی، 55 موبائل فون لوٹ لیے گئے
کراچی کے ریڈ زون میں واقع سندھ اسمبلی کے قریب موبائل مارکیٹ میں دن دہاڑے ڈکیتی کی بڑی واردات پیش آئی، جہاں مسلح ملزمان لاکھوں روپے مالیت کے موبائل فونز لوٹ کر فرار ہو گئے۔ واقعے نے تاجروں اور شہریوں میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق تین موٹر سائیکلوں پر سوار پانچ ملزمان مارکیٹ میں داخل ہوئے اور مختصر وقت میں متعدد دکانوں سے قیمتی موبائل فونز چھین لیے۔ ملزمان واردات کے دوران دو کارٹن اور ایک بیگ بھی اپنے ساتھ لے گئے جن میں بڑی تعداد میں موبائل فون موجود تھے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق واردات میں مجموعی طور پر 55 موبائل فون لوٹے گئے جن کی مالیت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ملزمان منظم انداز میں کارروائی کرتے ہوئے باآسانی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
واقعے کے بعد مارکیٹ کے تاجروں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حساس علاقے اور ریڈ زون کے قریب بھی ایسی وارداتوں کا ہونا سیکیورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو جلد گرفتار کر کے لوٹا گیا سامان برآمد کیا جائے۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو (یا آزاد خان، جیسا کہ رپورٹ میں درج ہے) نے ڈی آئی جی ساؤتھ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ واردات میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے۔ تفتیشی حکام کو امید ہے کہ ویڈیو ریکارڈنگ کی مدد سے ملزمان کی شناخت اور گرفتاری میں پیش رفت ہو سکے گی۔
شہری اور تاجر تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ تجارتی مراکز، خاص طور پر قیمتی الیکٹرانکس کی مارکیٹوں میں سیکیورٹی مزید سخت کی جائے تاکہ اس نوعیت کی وارداتوں کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ -

وفاقی حکومت کے قرضے 81.9 ہزار ارب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے
پاکستان کی وفاقی حکومت کے قرضے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس سے ملکی مالیاتی صورتحال اور قرضوں کے بوجھ کے حوالے سے نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق مرکزی حکومت کے مجموعی قرضے بڑھ کر 81 ہزار 930 ارب روپے تک جا پہنچے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں 6 ہزار 994 ارب روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت کو مالی ضروریات پوری کرنے، بجٹ خسارے کو قابو میں رکھنے اور سابقہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لینا پڑا۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف اپریل 2026 کے ایک ماہ کے دوران مرکزی حکومت کے قرضے میں 1 ہزار 406 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جو قرضوں میں مسلسل اضافے کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق قرضوں میں تیزی سے اضافہ حکومتی مالیاتی دباؤ، بلند شرح سود اور قرضوں کی ادائیگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت مالیاتی استحکام، ٹیکس اصلاحات اور محصولات میں اضافے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاہم قرضوں کا حجم اب بھی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ قرضوں میں اضافے کا اثر ترقیاتی اخراجات، سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری اور مالیاتی خودمختاری پر بھی پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ معاشی اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، ترسیلات زر میں ریکارڈ بہتری اور محصولات کے اہداف حاصل ہونے سے مالی صورتحال میں بتدریج استحکام آئے گا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے پائیدار اقتصادی ترقی، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور غیر ضروری اخراجات میں کمی ناگزیر ہوگی۔
اقتصادی حلقوں کے مطابق آنے والے مالی سال میں حکومت کو ایک طرف قرضوں کی ادائیگی اور دوسری جانب ترقیاتی ضروریات کے درمیان توازن قائم رکھنے کا بڑا چیلنج درپیش ہوگا، جبکہ آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف بھی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ -

جھنگ واقعہ: ابتدائی پوسٹ مارٹم میں تشدد اور زیادتی کے شواہد نہ مل سکے
جھنگ میں دورانِ علاج انتقال کر جانے والی 18 سالہ لڑکی کے کیس میں ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس میں تشدد یا جنسی زیادتی کے شواہد نہیں ملے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ موت کی اصل وجہ کا تعین فرانزک اور لیبارٹری رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
رپورٹس کے مطابق لڑکی کو بے ہوشی کی حالت میں ایک نجی اسپتال چھوڑ کر چند افراد موقع سے فرار ہو گئے تھے۔ بعد ازاں اس کی حالت تشویشناک ہونے پر اسے طبی امداد فراہم کی گئی، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی اور دورانِ علاج دم توڑ گئی۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم پر تشدد یا جنسی زیادتی کے واضح آثار سامنے نہیں آئے۔ حتمی نتائج کے لیے مختلف نمونے فرانزک تجزیے کی خاطر لاہور کی لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق متوفیہ شوگر کی مریضہ تھی اور گزشتہ پانچ برس سے انسولین استعمال کر رہی تھی۔ طبی ریکارڈ کے مطابق جب اسے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا تو وہ بے ہوش حالت میں تھی۔
دوسری جانب پولیس نے اس معاملے میں پیش رفت کرتے ہوئے لڑکی کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال چھوڑ کر جانے والے چار افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ تفتیشی حکام ان افراد سے مختلف پہلوؤں پر پوچھ گچھ کر رہے ہیں تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
یاد رہے کہ متوفیہ کے والد نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی بیٹی کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ابتدائی طبی رپورٹ میں اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی فرانزک اور ڈی این اے رپورٹس موصول ہونے کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچا جا سکے گا۔
پولیس اور متعلقہ اداروں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کیس کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ -
این ایف سی ایوارڈ پر پیشرفت، وزیراعظم کی 180 دن میں حل کی یقین دہانی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس میں انہوں نے صوبے کے عوام کے حقوق اور مفادات کا بھرپور انداز میں دفاع کیا، جبکہ این ایف سی ایوارڈ اور ضم شدہ قبائلی اضلاع کے مالی معاملات پر اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ وزیراعظم نے این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر 180 دن کے اندر پیشرفت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کے مطابق تمام صوبوں کی جانب سے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی منظوری کے لیے کوششیں جاری ہیں اور اس حوالے سے مثبت پیشرفت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر صوبوں کے درمیان مکمل اتفاق رائے نہ ہو سکا تو وزیراعظم آئینی طریقہ کار کے تحت معاملے کی سمری ایوان صدر کو ارسال کریں گے تاکہ اس اہم قومی معاملے کو آگے بڑھایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے مالی حقوق کا معاملہ بھی اجلاس میں اٹھایا اور کہا کہ ان علاقوں کی ترقی اور بحالی کے لیے مناسب وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے۔ ان کے بقول این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی اضلاع کے حصے سے متعلق معاملات پر بھی پیشرفت ہو رہی ہے۔
گفتگو کے دوران انہوں نے گندم کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے نے وفاقی حکومت کے سامنے کسانوں کے تحفظات بھی پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض معاہدوں کے باعث گندم کی قیمت 4150 روپے سے اوپر جانے کا خدشہ پیدا ہو رہا تھا، تاہم وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قیمت میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت ملک بھر میں اشیا کی آزادانہ نقل و حرکت کا اصول موجود ہے، اسی تناظر میں گندم اور دیگر زرعی اجناس کے معاملات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سیاسی اور معاشی مبصرین کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کا معاملہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم سے جڑا ایک اہم قومی مسئلہ ہے، جبکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لیے فنڈز کی فراہمی بھی خیبرپختونخوا کے اہم مطالبات میں شامل رہی ہے۔ -

نماز جنازہ کے اعلان کے بعد ویزے جاری ہوں گے، عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کی تقریبات کے حتمی اعلان کے بعد غیر ملکی مہمانوں کے لیے ویزوں کے اجرا کا عمل شروع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دنیا بھر سے آنے والے شرکا کے استقبال کے لیے مکمل انتظامات کو یقینی بنانے کے بعد ویزا درخواستوں پر کارروائی کرے گا۔
عباس عراقچی کے مطابق نماز جنازہ اور تدفین کی تاریخوں کے باضابطہ اعلان کے ساتھ ہی یہ جائزہ لیا جائے گا کہ میزبان شہر کتنی تعداد میں سوگواروں اور غیر ملکی مہمانوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ویزوں کے اجرا اور دیگر انتظامی امور کو حتمی شکل دی جائے گی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ جب تقریبات کے شیڈول اور انتظامات مکمل ہو جائیں گے تو دنیا بھر میں قائم ایرانی سفارت خانے اور قونصل خانے بیرون ملک سے آنے والے شرکا کے لیے انٹری ویزے جاری کرنا شروع کر دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ویزا درخواستوں کا عمل باقاعدہ اور منظم طریقے سے انجام دیا جائے گا تاکہ کسی قسم کی مشکلات پیش نہ آئیں۔
واضح رہے کہ مشہد میں ہونے والی سرکاری نماز جنازہ اور تدفین کی تقریبات کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق محرم الحرام کے احترام، سیکیورٹی انتظامات اور بڑی تعداد میں متوقع زائرین کے لیے سہولیات کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
عباس عراقچی نے عوام اور غیر ملکی مہمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ تقریبات کے شیڈول، ویزا پالیسی اور سفری ہدایات سے متعلق تازہ ترین معلومات کے لیے ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ یا اپنے ملک میں موجود ایرانی سفارتی مشنز سے رابطے میں رہیں۔
سیاسی اور مذہبی حلقوں کے مطابق متوقع جنازے کی تقریبات میں مختلف ممالک سے بڑی تعداد میں شخصیات، وفود اور زائرین کی شرکت متوقع ہے، جس کے پیش نظر ایرانی حکام انتظامات کو مرحلہ وار مکمل کر رہے ہیں تاکہ تمام مہمانوں کو مناسب سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ -

جہیز میں موٹر سائیکل نہ لانے پر مبینہ تشدد، نوبیاہتا دلہن جاں بحق
کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں جہیز کے تنازع پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں 18 سالہ نوبیاہتا خاتون مصباح مبینہ تشدد کے بعد جان کی بازی ہار گئی۔ واقعے نے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے جبکہ پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔
پولیس اور اہل خانہ کے مطابق مصباح نے رواں سال 19 مارچ کو شہریار بٹ نامی شخص سے پسند کی شادی کی تھی۔ مقتولہ کی والدہ کا کہنا ہے کہ شادی کے ابتدائی دنوں سے ہی داماد ان کی بیٹی پر مختلف وجوہات کی بنا پر تشدد کرتا تھا۔
اہل خانہ کے مطابق حالیہ واقعے میں شوہر نے مبینہ طور پر موٹر سائیکل جہیز میں نہ لانے پر مصباح کو پیچ کس اور دیگر آہنی اوزاروں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ شدید زخمی حالت میں خاتون کو گھر سے نکال دیا گیا، جس کے بعد اہل خانہ نے اسے طبی امداد فراہم کرائی۔
مقتولہ کی والدہ کے مطابق بیٹی کو علاج کے بعد گھر لے جایا گیا، تاہم اس کی حالت مسلسل بگڑتی رہی اور وہ جانبر نہ ہو سکی۔ انہوں نے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی بیٹی طویل عرصے سے گھریلو تشدد کا شکار تھی اور اس کے ساتھ مسلسل ناروا سلوک کیا جا رہا تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مرکزی ملزم واقعے کے بعد فرار ہو گیا، جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہیز کے نام پر تشدد اور خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے واقعات کے سدباب کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور دیگر قانونی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد کیس کی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی اور ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ -

ایران کے 3 ارب ڈالر اثاثوں کی منتقلی کا دعویٰ، تہران کی تردید
اسرائیلی اور بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ایران کے 3 ارب امریکی ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے ابوظبی سے تہران منتقل کیے گئے ہیں، تاہم ایرانی حکام نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی نشریاتی ادارے کان نیوز نے دعویٰ کیا کہ حالیہ دنوں میں ابوظبی سے تہران جانے والی ایک پرواز کے ذریعے ایران کے 3 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے منتقل کیے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا حصہ تھا۔
میڈیا رپورٹس میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اس مبینہ منتقلی کے ساتھ ایران کو ایک پیغام بھی پہنچایا گیا جس میں اسرائیل کے خلاف حملے روکنے پر زور دیا گیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق اس عمل میں ایک قطری وفد نے ثالثی کا کردار ادا کیا، جبکہ امریکا کی جانب سے بھی غیر رسمی سفارتی رابطوں کا ذکر کیا گیا۔
بعض مغربی ذرائع نے یہ تاثر بھی دیا کہ خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات، ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور اعتماد سازی کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں اس مبینہ مالی منتقلی کو علاقائی سفارت کاری سے جوڑا جا رہا ہے۔
تاہم ان تمام دعوؤں کی نہ تو ایران، نہ متحدہ عرب امارات، نہ امریکا اور نہ ہی قطر کی کسی سرکاری اتھارٹی نے تصدیق کی ہے۔ اس وجہ سے یہ اطلاعات فی الحال غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس کی حیثیت رکھتی ہیں۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ان خبروں کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کو خطے کے ممالک میں منتقل کیے جانے یا ان کی خفیہ منتقلی سے متعلق دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور یہ ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک متعلقہ ممالک یا بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آتی، اس معاملے کو محض میڈیا دعوؤں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم یہ خبر خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور ایران سے متعلق بین الاقوامی معاملات پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔