Baaghi TV


وفاقی حکومت کے قرضے 81.9 ہزار ارب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے

‎پاکستان کی وفاقی حکومت کے قرضے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس سے ملکی مالیاتی صورتحال اور قرضوں کے بوجھ کے حوالے سے نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق مرکزی حکومت کے مجموعی قرضے بڑھ کر 81 ہزار 930 ارب روپے تک جا پہنچے ہیں۔
‎رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں 6 ہزار 994 ارب روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت کو مالی ضروریات پوری کرنے، بجٹ خسارے کو قابو میں رکھنے اور سابقہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لینا پڑا۔
‎اعداد و شمار کے مطابق صرف اپریل 2026 کے ایک ماہ کے دوران مرکزی حکومت کے قرضے میں 1 ہزار 406 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جو قرضوں میں مسلسل اضافے کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق قرضوں میں تیزی سے اضافہ حکومتی مالیاتی دباؤ، بلند شرح سود اور قرضوں کی ادائیگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
‎معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت مالیاتی استحکام، ٹیکس اصلاحات اور محصولات میں اضافے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاہم قرضوں کا حجم اب بھی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ قرضوں میں اضافے کا اثر ترقیاتی اخراجات، سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری اور مالیاتی خودمختاری پر بھی پڑ سکتا ہے۔
‎دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ معاشی اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، ترسیلات زر میں ریکارڈ بہتری اور محصولات کے اہداف حاصل ہونے سے مالی صورتحال میں بتدریج استحکام آئے گا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے پائیدار اقتصادی ترقی، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور غیر ضروری اخراجات میں کمی ناگزیر ہوگی۔
‎اقتصادی حلقوں کے مطابق آنے والے مالی سال میں حکومت کو ایک طرف قرضوں کی ادائیگی اور دوسری جانب ترقیاتی ضروریات کے درمیان توازن قائم رکھنے کا بڑا چیلنج درپیش ہوگا، جبکہ آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف بھی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

More posts