پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جاری مہم میں ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے پاک افغان سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے مطابق پاک فضائیہ کی اس کارروائی میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 26 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے جبکہ ان کے متعدد اہم ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
عطاء اللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی انتہائی درست انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی اور اس کا مقصد حالیہ دہشت گرد حملوں میں ملوث عناصر کو نشانہ بنانا تھا۔ ان کے مطابق آپریشن میں موسیٰ درہ، شمالی وزیرستان اور بنوں میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈز کو ہدف بنایا گیا۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج کے اہم کمانڈرز علیم خان خوشالی اور اختر محمد جانی خیل کے ٹھکانوں، تربیتی مراکز اور آپریشنل نیٹ ورک کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں موجود چار بڑے دہشت گرد مراکز اور اسلحہ کے ذخائر بھی نشانہ بنائے گئے۔
حکام کے مطابق اس آپریشن سے دہشت گردوں کی تنظیمی صلاحیت اور حملوں کی منصوبہ بندی کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ کارروائی میں جدید فضائی صلاحیتوں اور انٹیلی جنس وسائل کا استعمال کیا گیا جس کے باعث دہشت گردوں کے اہم مراکز کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔
عطاء اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کو بھارتی سرپرستی حاصل تھی اور وہ غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں مصروف تھے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی پر ثابت قدم ہے اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے وژن "عزمِ استحکام” کے تحت پاک فوج، پاک فضائیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ طور پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و استحکام کے قیام تک یہ مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔
دفاعی ماہرین کے مطابق سرحدی علاقوں میں ایسی کارروائیاں دہشت گرد نیٹ ورکس کی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26 دہشت گرد ہلاک
-

پاکستان میں ترسیلات زر کا نیا ریکارڈ، مئی میں 4.3 ارب ڈالر موصول
پاکستان میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر نے ایک نیا تاریخی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مئی 2026 کے دوران ملک کو 4 ارب 30 کروڑ امریکی ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جو کسی بھی ایک ماہ میں حاصل ہونے والی سب سے بڑی رقم ہے۔
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر میں نہ صرف تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا بلکہ یہ ملکی معیشت کے لیے بھی ایک مثبت اشارہ ہے۔ مئی کے دوران موصول ہونے والی رقوم میں ماہانہ بنیادوں پر 20.2 فیصد جبکہ سالانہ بنیادوں پر 15.4 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو بیرون ملک پاکستانیوں کے اعتماد اور وطن سے مضبوط تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔
رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے اعداد و شمار بھی نمایاں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جولائی 2025 سے مئی 2026 تک مجموعی ترسیلات زر 38 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں موصول ہونے والے 34 ارب 90 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 9.2 فیصد زیادہ ہیں۔
ملک وار اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب بدستور ترسیلات زر کا سب سے بڑا ذریعہ رہا۔ مئی کے دوران سعودی عرب سے 1 ارب 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر رہا جہاں سے 1 ارب 66 لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔
اسی طرح برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے 64 کروڑ 55 لاکھ ڈالر جبکہ امریکا سے 34 کروڑ 98 لاکھ ڈالر وطن بھیجے۔ ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک، برطانیہ اور امریکا میں مقیم پاکستانیوں کا یہ کردار ملکی معیشت کے استحکام میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے، روپے کے استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت معاشی بحالی، مالیاتی استحکام اور بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
ترسیلات زر کا یہ ریکارڈ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ مالی سال کے اختتام تک مجموعی ترسیلات مزید نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہیں۔ -

سپریم کورٹ نے بلدیہ فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان بری کر دیے
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے مرکزی ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کی سزائے موت کالعدم قرار دے کر انہیں بری کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ فیصلہ ملک کے سب سے المناک صنعتی سانحات میں سے ایک کے مقدمے میں ایک اہم قانونی موڑ تصور کیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کیس کی سماعت کے دوران ملزمان کی جانب سے سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں پر تفصیلی دلائل سنے گئے۔ عدالتی کارروائی میں ایم کیو ایم کی جانب سے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور عدالت کے سامنے اپنا مؤقف رکھا۔
وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے کوئی ایسا مضبوط اور براہِ راست ثبوت پیش نہیں کر سکا جس سے یہ ثابت ہو کہ دونوں ملزمان نے فیکٹری میں آگ لگائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ کوئی چشم دید گواہ موجود تھا اور نہ ہی ایسا ناقابل تردید ثبوت پیش کیا گیا جو ملزمان کو جرم سے جوڑ سکے۔
عدالت نے تمام شواہد، قانونی نکات اور فریقین کے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد دونوں ملزمان کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے سزائے موت ختم کر دی اور انہیں بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
یاد رہے کہ ماتحت عدالت نے دونوں ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی، جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔ اعلیٰ عدالت کے حالیہ فیصلے کے بعد اس مقدمے کی قانونی حیثیت اور تفتیشی عمل پر ایک نئی بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ ستمبر 2012 میں کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع ایک گارمنٹس فیکٹری میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں 256 مزدور اور ملازمین جاں بحق ہو گئے تھے۔ یہ سانحہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین صنعتی حادثات میں شمار کیا جاتا ہے اور اس نے فیکٹریوں میں حفاظتی انتظامات، مزدوروں کے حقوق اور انصاف کے نظام سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کیے تھے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد متاثرہ خاندانوں، قانونی ماہرین اور مختلف سماجی حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ یہ مقدمہ ایک بار پھر قومی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ -

وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران معاہدے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے لیے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو بامعنی ہو اور امریکا کے قومی مفادات سے ہم آہنگ ہو۔ ان کے مطابق امریکا کسی عارضی یا محدود نوعیت کے سمجھوتے کے بجائے ایک ایسے معاہدے کا خواہاں ہے جو طویل المدتی استحکام اور سلامتی کو یقینی بنا سکے۔
ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ اگر ضروری ہوا تو ایران کے خلاف مزید اور زیادہ سخت کارروائیاں بھی کی جا سکتی ہیں۔ تاہم جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آیا ایران کے بنیادی ڈھانچے، بجلی گھروں یا پلوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو انہوں نے اس بارے میں کسی بھی قسم کی تصدیق یا تفصیل دینے سے گریز کیا۔
امریکی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے تعلقات ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ خطے میں حالیہ کشیدگی، سکیورٹی خدشات اور سفارتی رابطوں نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی قیادت کے کردار کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد خطے میں سفارتی رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی مختلف علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات میں ثالثی اور سفارتی تعاون کی حمایت کرتا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کا اثر صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ، عالمی توانائی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر بھی پڑ سکتا ہے۔
عالمی برادری کی نظریں اب آئندہ سفارتی پیش رفت پر مرکوز ہیں، جہاں یہ دیکھا جائے گا کہ جاری مذاکرات کسی باضابطہ معاہدے کی شکل اختیار کرتے ہیں یا خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔ -

قومی اقتصادی کونسل نے ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے مقرر کر دیا
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اہم اجلاس میں آئندہ مالی سال کے معاشی اہداف اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں وفاقی ترقیاتی بجٹ کو کم کرتے ہوئے 1126 ارب روپے سے گھٹا کر ایک ہزار ارب روپے مقرر کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں 126 ارب روپے کی کمی کی منظوری دی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ محدود مالی وسائل اور مالیاتی نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی اخراجات کو حقیقت پسندانہ سطح پر رکھا جا رہا ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ چاروں صوبے اپنے مقامی وسائل سے مجموعی طور پر 1635 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کریں گے۔ اس طرح وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی اخراجات کو ملا کر ملک بھر میں متعدد اہم منصوبوں پر کام جاری رکھا جائے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب حکومت اپنے وسائل سے 605 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرے گی، جبکہ سندھ حکومت سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 450 ارب روپے مختص کرے گی۔ خیبرپختونخوا نے 305 ارب روپے اور بلوچستان نے 275 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے رکھنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی وسائل کے علاوہ صوبوں کو بیرونی مالی معاونت اور ترقیاتی فنڈنگ کے ذریعے بھی اضافی وسائل حاصل ہوں گے، جنہیں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملک کو مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم محدود وسائل کے باوجود ترقیاتی عمل کا تسلسل برقرار رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بنیادی ڈھانچے، توانائی، تعلیم، صحت اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو ترجیح دے گی تاکہ معاشی ترقی کا عمل متاثر نہ ہو۔
معاشی ماہرین کے مطابق ترقیاتی بجٹ میں کمی حکومت کی مالیاتی پالیسی اور اخراجات میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ دوسری جانب صوبائی ترقیاتی پروگراموں کا حجم برقرار رہنے سے مقامی سطح پر ترقیاتی سرگرمیوں کے جاری رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
قومی اقتصادی کونسل کی منظوری کے بعد یہ اہداف اور ترقیاتی منصوبے آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 کا اہم حصہ بنیں گے۔ -

وفاق اور صوبوں کا اتحاد ہی ترقی کی ضمانت ہے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون، ہم آہنگی اور یکجہتی کے فروغ سے ممکن ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، جہاں آئندہ مالی سال کے معاشی اہداف اور ترقیاتی ترجیحات پر غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے مشکل معاشی حالات میں وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون پر چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش اقتصادی اور سماجی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام اکائیوں کا مل کر کام کرنا ضروری ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی اکائیوں کے درمیان موجود اتحاد اور باہمی اعتماد ہی پاکستان کو ترقی کی نئی منزلوں تک لے جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔
وزیراعظم نے معاشی استحکام کے لیے حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے اپنی اقتصادی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کرنا ایک اہم کامیابی ہے اور اس سلسلے میں مزید اصلاحات جاری رکھی جائیں گی۔
اجلاس کے شرکاء نے خلیج کے خطے میں کشیدگی کے باوجود پاکستان کی معیشت کو مستحکم رکھنے اور سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ علاقائی امن اور اقتصادی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور پاکستان نے اس حوالے سے متوازن کردار ادا کیا ہے۔
وزیراعظم نے بڑھتی ہوئی آبادی کو ملک کے بڑے چیلنجز میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر طبی سہولیات کے ذریعے بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے جبکہ بچوں کی صحت، غذائی کمی اور اسٹنٹنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی، نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافہ اور انسانی وسائل کی ترقی حکومت کے طویل المدتی وژن کا حصہ ہیں۔ وزیراعظم کے مطابق پائیدار ترقی کے لیے صحت مند، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت افرادی قوت ناگزیر ہے۔ -

بیلفاسٹ میں چاقو حملے کے بعد تارکین وطن مخالف ہنگامے
شمالی آئرلینڈ کے دارالحکومت بیلفاسٹ میں ایک چاقو زنی کے واقعے کے بعد تارکین وطن کے خلاف پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے، جن کے دوران متعدد گاڑیوں، بسوں اور عمارتوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ کشیدہ صورتحال کے باعث حکام نے شہر کے بعض علاقوں میں سیکیورٹی بڑھا دی جبکہ بس سروسز کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق کشیدگی کا آغاز پیر کی شب پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد ہوا، جس میں ایک سوڈانی پناہ گزین پر مقامی شہری کو چاقو مار کر شدید زخمی کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ویڈیوز اور پوسٹس تیزی سے وائرل ہوئیں، جس کے نتیجے میں عوامی غم و غصہ بڑھ گیا۔
مشتعل مظاہرین نے کئی علاقوں میں سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا، جو بعد ازاں پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گیا۔ ہنگاموں کے دوران ایک مسافر بس سمیت متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی جبکہ بعض رہائشی اور تجارتی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق کچھ علاقوں میں گھروں پر بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے مختلف مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی۔
شمالی آئرلینڈ کی ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے عوامی تحفظ کے پیش نظر تمام بس سروسز عارضی طور پر معطل کر دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بعد ٹرانسپورٹ نظام بحال کیا جائے گا۔
سیاسی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے عوام سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی ایک فرد پر لگنے والے الزام کی بنیاد پر پوری کمیونٹی کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں اور قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنے دیا جانا چاہیے۔
پولیس نے واقعے اور بعد ازاں ہونے والے ہنگاموں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ سیکیورٹی ادارے مزید بدامنی روکنے کے لیے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ -

این ای سی نے 4 فیصد معاشی ترقی کا ہدف منظور کر لیا
قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے آئندہ مالی سال کے لیے اہم معاشی اہداف اور ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ملکی معیشت کی سمت، ترقیاتی ترجیحات اور بجٹ حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت کا مقصد صنعتی پیداوار، برآمدات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی سرگرمیوں میں اضافہ کر کے معاشی ترقی کو تیز کرنا ہے۔
احسن اقبال کے مطابق ملک بھر کے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 3 ہزار 669 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی گئی ہے۔ اس رقم میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی اخراجات شامل ہیں، جن کا مقصد بنیادی ڈھانچے، توانائی، تعلیم، صحت اور دیگر اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت کا ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ محدود مالی وسائل کے باعث فیصلہ کیا گیا ہے کہ داخلہ اور دفاع سے متعلق منصوبوں کے علاوہ کوئی نیا وفاقی ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔ ترجیح جاری منصوبوں کی تکمیل اور اہم قومی منصوبوں کو دی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت مالی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے ترقیاتی عمل کا تسلسل قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں وسائل کے مؤثر استعمال اور منصوبوں کی بروقت تکمیل پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا کہ قومی اقتصادی سروے کل پیش کیا جائے گا، جس میں رواں مالی سال کے دوران معیشت کی کارکردگی، مختلف شعبوں کی ترقی، محصولات، برآمدات، زرعی پیداوار اور دیگر معاشی اشاریوں کی تفصیلات شامل ہوں گی۔
معاشی ماہرین کے مطابق 4 فیصد شرح نمو کا ہدف حاصل کرنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا، تاہم ترقیاتی اخراجات، سرمایہ کاری اور معاشی اصلاحات کے ذریعے اس ہدف کے حصول کی کوشش کی جائے گی۔ -

رانا ثنا اللہ کا کالعدم ایکشن کمیٹی پر تنقید، مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ مسترد
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے یہ جانتے ہوئے بھی 9 جون کے لانگ مارچ کا الٹی میٹم دیا کہ آزاد کشمیر میں انتخابات 4 اگست سے پہلے کرانا آئینی تقاضا ہے۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے 12 مہاجر نشستوں کے خاتمے اور مہاجرین کو وزارتی عہدے نہ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان مطالبات کو مسترد کر دیا کیونکہ یہ مسئلہ صرف نشستوں کا نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کی بنیادی روح سے جڑا ہوا ہے۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق مہاجرین جموں و کشمیر کی نمائندگی کرنے والی نشستیں ایک آئینی اور تاریخی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان نشستوں کو ختم کرنا کشمیر کاز کے بنیادی مؤقف کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا، اسی لیے حکومت نے واضح طور پر ایسے مطالبات قبول کرنے سے انکار کیا۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے آئینی اور سیاسی معاملات کا حل جمہوری اور پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم ایسے مطالبات جو آئینی ڈھانچے اور قومی مؤقف سے متصادم ہوں، ان پر حکومت سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔
مشیر وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ مہاجرین کشمیر کی نمائندگی پاکستان کے مؤقف کا اہم حصہ ہے اور ان کی سیاسی شمولیت کو محدود کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئین اور قانون کے مطابق تمام معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجر نشستوں کا معاملہ حالیہ دنوں میں آزاد کشمیر کی سیاست کا ایک اہم موضوع بن چکا ہے، جبکہ حکومت اور مختلف سیاسی و عوامی حلقوں کے درمیان اس حوالے سے اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔ -

ہرات میں خواتین کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج، خواتین پر فائرنگ
افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں خواتین کی مبینہ گرفتاریوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران کشیدگی پیدا ہو گئی۔ عینی شاہدین اور مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ طالبان پولیس نے احتجاج منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی، جبکہ طبی ذرائع کے مطابق دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم مقامی طالبان حکام نے ہلاکتوں کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں متعدد خواتین کو مبینہ طور پر اسلامی لباس سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ان گرفتاریوں کے خلاف مردوں اور خواتین کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی اور احتجاج کیا۔
طبی عملے کے ذرائع نے بتایا کہ احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے متعدد افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ تاہم ان ہلاکتوں کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ بعض مظاہرین کے مطابق لاٹھیوں، کوڑوں اور آتشیں اسلحے کا استعمال کیا گیا جبکہ فضا میں فائرنگ بھی کی گئی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں گولیوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور بعض خواتین کو چیختے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے، تاہم ان ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب ہرات پولیس کے ترجمان سید مسعود حسینی نے ہلاکتوں کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے صرف امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کارروائی کی۔ ان کے مطابق بعض افراد حجاب کے معاملے کو بنیاد بنا کر کشیدگی پیدا کرنے اور عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔
مقامی ذرائع کے مطابق احتجاج کے دوران "تعلیم، کام، آزادی” کے نعرے بھی لگائے گئے، جو گزشتہ چند برسوں سے افغان خواتین کے حقوق سے متعلق تحریکوں کا اہم شعار رہے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب افغانستان میں خواتین کی تعلیم، ملازمت اور سماجی آزادیوں پر عائد پابندیوں کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا افغان خواتین کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کر چکی ہیں۔