انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کے شیڈول اور میزبانی کے حوالے سے اہم تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے کرکٹ ایونٹس میں سے ایک یہ ٹورنامنٹ 4 اکتوبر 2027 سے شروع ہوگا اور 21 نومبر 2027 تک جاری رہے گا۔
آئی سی سی کے مطابق میگا ایونٹ کی مشترکہ میزبانی جنوبی افریقا، زمبابوے اور نمیبیا کریں گے۔ ٹورنامنٹ میں دنیا کی 14 بہترین ٹیمیں شرکت کریں گی جبکہ دفاعی چیمپئن آسٹریلیا اپنی عالمی ٹائٹل کا دفاع کرے گا۔
ورلڈ کپ کے دوران مجموعی طور پر 54 میچز کھیلے جائیں گے۔ ان میں سے 41 میچز جنوبی افریقا، 10 زمبابوے اور 3 نمیبیا میں منعقد ہوں گے۔ اس طرح جنوبی افریقا ایونٹ کا مرکزی میزبان ملک ہوگا جبکہ دیگر دو ممالک بھی اہم میچز کی میزبانی کریں گے۔
جنوبی افریقا کے آٹھ بڑے شہروں کو میچز کی میزبانی سونپی گئی ہے جن میں جوہانسبرگ، پریٹوریا، کیپ ٹاؤن، ڈربن، بلوئم فونٹین، ایسٹ لندن، پارل اور گیبرہا شامل ہیں۔ ان میدانوں میں عالمی کرکٹ کے بڑے مقابلے منعقد ہوں گے اور شائقین کو اعلیٰ معیار کی کرکٹ دیکھنے کا موقع ملے گا۔
ٹورنامنٹ کے فارمیٹ کے مطابق 14 ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر گروپ کی ٹاپ تین ٹیمیں اگلے مرحلے "سپر 6” کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ اس مرحلے کے بعد بہترین کارکردگی دکھانے والی ٹیمیں سیمی فائنل اور پھر فائنل میں جگہ بنائیں گی۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق 14 ٹیموں پر مشتمل فارمیٹ سے زیادہ ممالک کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے گا، جبکہ مقابلوں میں دلچسپی اور مسابقت بھی بڑھے گی۔
واضح رہے کہ جنوبی افریقا اس سے قبل بھی کئی بڑے آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی کر چکا ہے۔ ملک نے 2007 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، 2009 میں چیمپئنز ٹرافی اور 2023 میں ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی کامیاب میزبانی کی تھی۔ دوسری جانب زمبابوے اور نمیبیا نے حالیہ برسوں میں انڈر 19 ورلڈ کپ سمیت مختلف بین الاقوامی ٹورنامنٹس کی میزبانی کر کے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔
کرکٹ شائقین اب اس عالمی ایونٹ کے منتظر ہیں جہاں دنیا کی بہترین ٹیمیں ایک بار پھر عالمی چیمپئن بننے کے لیے میدان میں اتریں گی۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ 2027 کی تاریخوں کا اعلان
-

ایران کے ساتھ اسی وقت معاہدہ طے کرنا چاہتا ہوں، ٹرمپ
ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ خطے میں صورتحال انتہائی حساس ہے، تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے حوالے سے مایوس نہیں ہیں اور اب بھی یہ امکان موجود ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پا جائے۔
امریکی صدر نے اپنی گفتگو میں اس امید کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ جلد کسی بڑے سمجھوتے تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق وہ اسی وقت ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ خطے میں استحکام پیدا ہو اور تنازع کا سفارتی حل تلاش کیا جا سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقام پر قبضے کے آپشن کو بہتر سمجھتے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایران معاہدے کے لیے امریکہ سے رابطے میں ہے، تاہم ایرانی قیادت اب بھی سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کے تمام ریڈار سسٹمز، فضائی دفاعی نظام اور بڑی تعداد میں میزائل صلاحیت کو نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کے پاس اب اپنے مجموعی ہتھیاروں کا تقریباً 20 فیصد حصہ باقی رہ گیا ہے۔
امریکی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں فوجی سرگرمیوں اور سفارتی کوششوں کا سلسلہ بیک وقت جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک جانب سخت فوجی مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کے دروازے بھی کھلے رکھے جا رہے ہیں۔ -

سعودی عرب کی ایران کے حملوں کی مذمت، مذاکرات بحال کرنے پر زور
سعودی عرب نے اردن، بحرین اور کویت پر مبینہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کریں۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ برادر ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کو نشانہ بنانے والے اقدامات علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ بیان کے مطابق اس قسم کی کارروائیاں مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں اور امن و سلامتی کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
وزارت خارجہ نے زور دیا کہ تمام متعلقہ فریق حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کریں۔ سعودی عرب نے کشیدگی میں کمی، تحمل اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو دوبارہ فعال کرنا ضروری ہے۔ سعودی عرب نے فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کی میزبانی اور قطر کی سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں ہونے والے تعمیری مذاکرات کو دوبارہ شروع کریں تاکہ موجودہ بحران کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔
سعودی حکام کا مؤقف ہے کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی ایسے تنازعات کے حل کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ وزارت خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریق علاقائی سلامتی اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کریں گے۔
علاقائی مبصرین کے مطابق حالیہ واقعات نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جبکہ خلیجی ممالک خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور بڑے تصادم سے بچنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی برادری بھی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف ممالک تنازع کے پرامن حل کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ -

وزیر دفاع کے استعفے پر اسٹارمر حکومت دفاعی پوزیشن میں
برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی کے استعفے کے تقریباً دو گھنٹے بعد حکومت کی جانب سے پہلا باضابطہ ردعمل سامنے آ گیا ہے۔ حکومتی ذرائع نے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے فیصلوں کی بدولت ملک زیادہ محفوظ ہوا ہے اور حکومت قومی مفاد میں اقدامات جاری رکھے گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق لیبر حکومت نے سرد جنگ کے بعد دفاعی اخراجات میں سب سے بڑا اور مسلسل اضافہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مسلح افواج کو مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی امداد کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی اور اب دیگر سرکاری محکموں کے اخراجات میں کمی کرکے دفاعی شعبے کے لیے مزید اربوں پاؤنڈ فراہم کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ دفاعی سرمایہ کاری کا نیا منصوبہ مسلح افواج کو وہ تمام صلاحیتیں فراہم کرے گا جن کی انہیں موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضرورت ہے۔ حکومت نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ملکی سلامتی کے لیے ضروری ہر اقدام کیا جاتا رہے گا۔
دوسری جانب جان ہیلی کے استعفے کے بعد سیاسی ردعمل میں شدت آ گئی ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اسکاٹش نیشنل پارٹی (SNP) کے ویسٹ منسٹر نمائندے ڈیو ڈوگن نے کہا کہ لیبر پارٹی ایک مرتبہ پھر انتشار کا شکار نظر آ رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اپنے معاملات پر کنٹرول کھوتی جا رہی ہے۔
ادھر ویلز کی جماعت پلائیڈ کمری کے ویسٹ منسٹر گروپ کی سربراہ لز سیویل رابرٹس نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع کا استعفیٰ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی ساکھ اور اختیار کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اسٹارمر حکومت کے زوال کے دنوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق جان ہیلی کا استعفیٰ برطانوی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے اثرات نہ صرف حکومت کی داخلی پوزیشن بلکہ آئندہ سیاسی حکمت عملی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ حکومت اس بحران سے کیسے نمٹتی ہے اور عوامی اعتماد برقرار رکھنے میں کس حد تک کامیاب رہتی ہے۔ -

امریکی حملوں نے جنگ بندی کو بے معنی بنا دیا، ایران
ایران نے کہا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان قائم عارضی جنگ بندی کو بے معنی اور غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کی تازہ فوجی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور ان کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حملے غیر قانونی اور خطرناک ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان اقدامات کے تمام نتائج کی ذمہ داری امریکہ اور ان تمام فریقوں پر عائد ہوگی جو ان کارروائیوں میں شریک، معاون یا سہولت کار بنیں گے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران کی مسلح افواج نے بھی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان جوابی کارروائیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا ہے اور جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی جنگ بندی کی موجودہ حیثیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ امریکہ کی حالیہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ ان کے مطابق ان حملوں نے جنگ بندی کو عملی طور پر غیر مؤثر بنا دیا ہے۔
ایران کی اعلیٰ قیادت کے قریبی فوجی مشیر محسن رضائی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو ایران کی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی، بصورت دیگر وہ دنیا میں اپنی باقی ماندہ ساکھ بھی کھو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے ان شرائط کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے دونوں ممالک پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں تاکہ خطے کو مزید عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔ -

امریکہ نے ایرانی تیل لے جانے والے جہاز کو میزائل حملے سے ناکارہ بنا دیا
امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج عمان میں ایرانی تیل لے جانے کی کوشش کرنے والے ایک بحری جہاز کو میزائل حملے کے ذریعے ناکارہ بنا دیا گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی ایران سے منسلک تیل کی ترسیل روکنے کے لیے جاری اقدامات کا حصہ ہے۔
سینٹرل کمانڈ کے بیان کے مطابق گنی بساؤ کے پرچم بردار آئل ٹینکر "ایم ٹی جلویئر” خلیج عمان کے راستے ایرانی تیل منتقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کے عملے کو متعدد بار ہدایات دی گئیں لیکن انہوں نے امریکی فوجی احکامات پر عمل نہیں کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ اس کے بعد ایک امریکی طیارے نے جہاز کے انجن روم کو نشانہ بناتے ہوئے دو ہیل فائر میزائل فائر کیے، جس کے نتیجے میں جہاز کی نقل و حرکت متاثر ہوئی اور اسے ناکارہ بنا دیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق کارروائی کا مقصد جہاز کو روکنا تھا اور اس دوران جہاز کو مکمل طور پر تباہ نہیں کیا گیا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے یہ تیسرا موقع ہے جب کسی بحری جہاز کو اسی نوعیت کی کارروائی کے ذریعے ناکارہ بنایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اب تک مجموعی طور پر نو جہازوں کو غیر فعال کیا جا چکا ہے جبکہ 135 دیگر جہازوں کا رخ تبدیل کرایا گیا ہے۔
خلیج عمان اور آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہیں سمجھی جاتی ہیں۔ اس علاقے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں نے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں اور توانائی کی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے اس واقعے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندری راستوں پر اس نوعیت کی کارروائیاں عالمی تجارت، تیل کی فراہمی اور علاقائی استحکام پر اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع اب بحری راستوں تک پھیل چکا ہے، جس کے باعث خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے اور سفارتی کوششوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ -

ٹرمپ کی ایران پر سخت حملے اور تیل تنصیبات پر کنٹرول کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران کو "آج رات بہت سخت جواب” دے گا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مستقبل قریب میں امریکہ ایران کے اہم تیل و گیس مراکز اور توانائی کی منڈیوں پر کنٹرول حاصل کر لے گا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ ایران کے اہم توانائی مراکز، خصوصاً خارگ جزیرے، پر قبضہ کرے گا۔ خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا مرکزی مرکز تصور کیا جاتا ہے اور ملک کی بڑی مقدار میں خام تیل کی ترسیل اسی مقام سے کی جاتی ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتوں کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے جبکہ ملک کے دفاعی نظام کو بھی کمزور کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو مزید کارروائی بھی کی جائے گی۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایران کے تیل اور گیس کے شعبے پر اسی طرح اثر و رسوخ قائم کرے گا جیسا اس کے بقول وینزویلا کے معاملے میں کیا گیا تھا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور ایران و امریکہ کے درمیان تعلقات ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہیں۔ خطے میں جاری صورتحال کے باعث عالمی سطح پر بھی تشویش پائی جا رہی ہے کیونکہ ایران دنیا کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے یا برآمدی مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو عالمی تیل منڈیوں میں شدید بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی صدر کے تازہ بیانات خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ دوسری جانب عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کئی ممالک دونوں فریقین سے تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کر رہے ہیں تاکہ کسی بڑے تنازع سے بچا جا سکے۔ -

اقوام متحدہ کی ایران اور امریکا سے مزید حملے روکنے کی اپیل
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران اور امریکا سے ایک دوسرے کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ کشیدگی کسی بھی وقت مکمل جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ فریقین مزید حملوں کے جواز تلاش کرنے کے بجائے صورتحال کو قابو میں لانے پر توجہ دیں۔ ان کے مطابق خطے میں جنگ بندی کی امید پیدا ہوئی تھی، تاہم حالیہ واقعات کے بعد صورتحال ایک محدود جنگ بندی سے دوبارہ کشیدگی کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ رواں ہفتے دونوں جانب سے وسیع پیمانے پر حملے کیے گئے ہیں، جس سے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات کو معمولی واقعہ سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ تنازع کسی بھی وقت بڑے پیمانے کی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
انتونیو گوتریس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیاں، بین الاقوامی تجارت اور سلامتی کی صورتحال بھی اس بحران سے متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل، ذمہ داری اور دانشمندی کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سیاسی سمجھوتہ ہی دیرپا امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے۔ ان کے مطابق موجودہ بحران کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے خطے کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ -

ایران نے آبنائے ہرمز مکمل بند کرنے کا اعلان کر دیا
ایران نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایرانی اعلان کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی میں اضافے اور امریکی حملوں کے نئے سلسلے کے بعد تہران نے یہ اہم فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
ایران کی اعلیٰ مشترکہ عسکری کمان "خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹرز” نے جمعرات کی صبح اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو تمام قسم کی بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اس پابندی کا اطلاق تیل بردار ٹینکروں، تجارتی جہازوں اور دیگر بحری جہازوں پر بھی ہوگا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس راستے کی بندش سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ اعلان مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔ خطے کے کئی ممالک اور عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی اور اتحادی بحری افواج پہلے ہی خلیج کے پانیوں میں اپنی موجودگی بڑھا چکی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
عالمی منڈیوں اور سفارتی حلقوں میں اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ کشیدگی مذاکرات کی طرف بڑھے گی یا خطہ مزید فوجی تصادم کی جانب بڑھ جائے گا۔ -

یو اے ای سے ساڑھے 3 ہزار پاکستانی بے دخل
متحدہ عرب امارات نے سوشل میڈیا قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر تقریباً ساڑھے تین ہزار پاکستانی شہریوں کو ملک بدر کر دیا ہے۔ یہ انکشاف قومی اسمبلی کو دی گئی بریفنگ میں کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ حالیہ ایران امریکا کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران بعض پاکستانی شہریوں نے یو اے ای کے سوشل میڈیا ضوابط کی خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ بے دخل کیے گئے افراد کو واپس پاکستان بھیج دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا سے متعلق قوانین انتہائی سخت ہیں اور ان کی خلاف ورزی پر غیر ملکی شہریوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس میں جرمانے، قید اور ملک بدری شامل ہیں۔
بریفنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ بے دخل کیے جانے والے پاکستانیوں کی جائیدادوں اور دیگر اثاثوں کو ان کے قانونی ورثا کے حوالے کرنے کا عمل جاری ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں کسی بھی متاثرہ خاندان کو مشکلات کا سامنا ہو تو وہ متعلقہ حکام یا وزارت خارجہ سے رابطہ کر سکتا ہے۔
وزارت خارجہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایسے تمام پاکستانی خاندانوں کو قونصلر اور قانونی معاونت فراہم کی جائے گی جنہیں جائیداد یا دیگر معاملات میں مسائل پیش آ رہے ہوں۔ حکام کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سفارتی سطح پر مسلسل رابطے جاری رکھے جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قوانین مقامی قوانین اور قومی سلامتی کے تناظر میں نافذ کیے جاتے ہیں، اس لیے وہاں مقیم غیر ملکیوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طور پر علاقائی تنازعات، سیاسی معاملات اور سیکیورٹی سے متعلق مواد شیئر کرنے پر سخت پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔
قومی اسمبلی میں پیش کی گئی معلومات کے بعد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ایک بار پھر مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ میزبان ممالک کے قوانین اور ضوابط کی مکمل پاسداری کریں تاکہ قانونی کارروائی اور ملک بدری جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔