اسرائیلی اور بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ ایران کے 3 ارب امریکی ڈالر مالیت کے منجمد اثاثے ابوظبی سے تہران منتقل کیے گئے ہیں، تاہم ایرانی حکام نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی نشریاتی ادارے کان نیوز نے دعویٰ کیا کہ حالیہ دنوں میں ابوظبی سے تہران جانے والی ایک پرواز کے ذریعے ایران کے 3 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے منتقل کیے گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا حصہ تھا۔
میڈیا رپورٹس میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اس مبینہ منتقلی کے ساتھ ایران کو ایک پیغام بھی پہنچایا گیا جس میں اسرائیل کے خلاف حملے روکنے پر زور دیا گیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق اس عمل میں ایک قطری وفد نے ثالثی کا کردار ادا کیا، جبکہ امریکا کی جانب سے بھی غیر رسمی سفارتی رابطوں کا ذکر کیا گیا۔
بعض مغربی ذرائع نے یہ تاثر بھی دیا کہ خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات، ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور اعتماد سازی کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں اس مبینہ مالی منتقلی کو علاقائی سفارت کاری سے جوڑا جا رہا ہے۔
تاہم ان تمام دعوؤں کی نہ تو ایران، نہ متحدہ عرب امارات، نہ امریکا اور نہ ہی قطر کی کسی سرکاری اتھارٹی نے تصدیق کی ہے۔ اس وجہ سے یہ اطلاعات فی الحال غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس کی حیثیت رکھتی ہیں۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ان خبروں کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کو خطے کے ممالک میں منتقل کیے جانے یا ان کی خفیہ منتقلی سے متعلق دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور یہ ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک متعلقہ ممالک یا بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آتی، اس معاملے کو محض میڈیا دعوؤں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم یہ خبر خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور ایران سے متعلق بین الاقوامی معاملات پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
ایران کے 3 ارب ڈالر اثاثوں کی منتقلی کا دعویٰ، تہران کی تردید
