ایران اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث جہاں دنیا کے کئی ممالک توانائی کے بحران، مہنگائی اور معاشی بے یقینی کا سامنا کر رہے ہیں، وہیں امریکا اس صورتحال سے معاشی طور پر فائدہ اٹھانے والے بڑے ممالک میں شامل نظر آتا ہے۔
جنگ اور علاقائی تنازعات کے نتیجے میں عالمی تیل منڈی شدید دباؤ کا شکار ہوئی، جس سے خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔ اس صورتحال نے دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندگان کو غیر معمولی مالی فوائد پہنچائے، جن میں امریکا سرفہرست رہا۔
امریکی محکمہ تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں امریکی برآمدات 2.6 فیصد اضافے کے بعد 327.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔ اسی عرصے میں امریکی تجارتی خسارہ کم ہو کر 55.9 ارب ڈالر رہ گیا، جسے معاشی ماہرین ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس اضافے میں سب سے نمایاں کردار توانائی کے شعبے کا رہا۔ اپریل میں امریکی پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات 36.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ مارچ میں یہ 27.6 ارب ڈالر تھیں۔ اس نمایاں اضافے کی وجہ صرف قیمتوں میں اضافہ نہیں بلکہ برآمدی حجم میں بھی خاطر خواہ اضافہ تھا۔
عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی طلب نے امریکی صنعتی مصنوعات کی فروخت کو بھی سہارا دیا۔ صنعتی سامان اور سپلائیز کی برآمدات 89 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں جبکہ پٹرولیم تجارتی سرپلس تقریباً دوگنا ہو کر 17.7 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام نے اگرچہ عالمی معیشت کے لیے خطرات پیدا کیے ہیں، تاہم امریکا نے بطور توانائی برآمد کنندہ اس صورتحال سے نمایاں معاشی فوائد حاصل کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں اور برآمدات کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو سال کی دوسری سہ ماہی میں امریکی اقتصادی نمو مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
اس صورتحال نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ عالمی تنازعات اور توانائی بحرانوں کے دوران کون سے ممالک معاشی نقصان اٹھاتے ہیں اور کون سے ممالک ان حالات سے مالی فوائد حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔
Author: Aqsa Younas Rana
-

ایران تنازع اور تیل بحران، امریکا کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ
-

ٹرمپ کا ایران پر سخت بیان، مذاکرات میں تاخیر کی قیمت چکانے کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے مذاکرات میں بہت زیادہ تاخیر کی اور اب اسے اس فیصلے کی قیمت چکانا ہوگی۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ کے بڑے حصے عملی طور پر غیر مؤثر ہو چکے ہیں اور انہیں مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
امریکی صدر نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تہران کی قیادت صرف بیانات دیتی ہے لیکن عملی اقدامات سے گریز کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایک ایسے معاہدے پر بروقت مذاکرات کر سکتا تھا جو اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا، لیکن اس نے یہ موقع ضائع کر دیا۔
ٹرمپ کے مطابق امریکا نے سفارتی حل کے لیے متعدد مواقع فراہم کیے، تاہم ایران کی جانب سے تاخیر اور غیر یقینی رویے نے مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حالات اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں ایران کو اپنے فیصلوں کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حال ہی میں کہا تھا کہ امریکا اور ایران ایک ممکنہ معاہدے کے قریب ہیں، تاہم اس کے وقت کے بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ دونوں بیانات نے امریکی پالیسی کے حوالے سے مختلف سوالات کو جنم دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے سخت بیانات کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور مذاکراتی پوزیشن کو مضبوط بنانا بھی ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے قومی مفادات اور جوہری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
خطے میں جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کے واقعات اور ایران اسرائیل تنازع کے تناظر میں ایسے بیانات مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں، جبکہ عالمی برادری سفارتی حل کی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔ -

گوگل نے NotebookLM کو جدید اے آئی صلاحیتوں سے اپ گریڈ کر دیا
گوگل نے اپنے مصنوعی ذہانت پر مبنی نوٹ بک ٹول NotebookLM میں بڑی اپ گریڈ متعارف کروا دی ہے، جس کے بعد یہ صرف ایک ریسرچ اسسٹنٹ نہیں رہا بلکہ کوڈنگ، ڈیٹا تجزیے اور دستاویزات کی تیاری جیسے پیچیدہ کام بھی انجام دینے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔
کمپنی کے مطابق NotebookLM کو اب Gemini 3.5 ماڈل سے تقویت دی گئی ہے، جبکہ اس میں گوگل کا جدید Antigravity کوڈنگ ماڈل بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت صارفین نہ صرف کوڈ لکھ سکیں گے بلکہ اسے براہ راست چلانے اور نتائج حاصل کرنے کی سہولت بھی میسر ہوگی۔
گوگل کا کہنا ہے کہ ہر نوٹ بک ایک مخصوص کلاؤڈ بیسڈ ماحول میں کام کرے گی جہاں کوڈ ایگزیکیوشن سمیت مختلف جدید فیچرز دستیاب ہوں گے۔ اس نظام میں 100 سے زائد بلٹ اِن سافٹ ویئر مہارتیں شامل کی گئی ہیں، جو مختلف پیشہ ورانہ اور تحقیقی کاموں کو زیادہ آسان اور مؤثر بنائیں گی۔
جدید اپ گریڈ کے بعد NotebookLM صارفین کو تحقیقی مواد کا تجزیہ کرنے، پروگرامنگ سے متعلق مسائل حل کرنے، ڈیٹا پروسیسنگ، رپورٹس تیار کرنے اور مختلف فارمیٹس میں دستاویزات تخلیق کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی گوگل کے اس وژن کا حصہ ہے جس کے تحت مصنوعی ذہانت کو روزمرہ کے پیشہ ورانہ ورک فلو کا مرکزی حصہ بنایا جا رہا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ NotebookLM کی نئی صلاحیتیں اسے محض معلومات جمع کرنے والے ٹول سے ایک مکمل پیداواری پلیٹ فارم میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ خاص طور پر طلبہ، محققین، پروگرامرز اور کاروباری صارفین کے لیے یہ اپ ڈیٹ نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتے ہوئے مقابلے کے درمیان گوگل کی یہ پیش رفت OpenAI، Microsoft اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مقابلے کو مزید تیز کر سکتی ہے۔ نئی اپ گریڈ سے NotebookLM کو اے آئی پر مبنی تحقیق، تجزیے اور خودکار ورک فلو کے میدان میں ایک مضبوط مقام حاصل ہونے کی توقع ہے۔ -

فوجداری قوانین میں بڑی اصلاحات، 55 دفعات میں ترامیم کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے پاکستان کے فوجداری قوانین کو جدید دور کے تقاضوں اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق فوجداری ضابطہ کار (سی آر پی سی) کی 55 دفعات میں ترامیم متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے، جن کا مقصد عدالتی اور تفتیشی نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور جدید بنانا ہے۔
وزیر قانون نے کہا کہ پرانے قوانین اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، تاہم وقت کے ساتھ معاشرتی، قانونی اور تکنیکی تبدیلیوں کے پیش نظر قوانین میں بہتری اور اصلاح ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے دور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدالتی نظام اور تفتیشی طریقہ کار کو بھی نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ 1971 اور 1991 کے بعد پہلی مرتبہ فوجداری قوانین میں اس نوعیت کی وسیع اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ جلد بازی میں نہیں کیا گیا بلکہ گزشتہ تین برسوں سے ماہرین قانون، متعلقہ اداروں اور حکومتی حلقوں کی مشاورت سے ان ترامیم پر مسلسل کام جاری تھا۔
وزیر قانون کے مطابق مجوزہ ترامیم کا مقصد انصاف کی فراہمی کے عمل کو تیز، مؤثر اور جدید بنانا ہے۔ نئے قانونی فریم ورک میں ڈیجیٹل شواہد، جدید تفتیشی ٹیکنالوجی اور بدلتے جرائم کے رجحانات کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے تاکہ نظام انصاف موجودہ دور کے چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکے۔
انہوں نے پارلیمانی مشاورت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان ترامیم پر تفصیلی بحث ضروری ہے۔ ان کے مطابق کم از کم چار روز تک مسلسل غور و خوض اور مشاورت درکار ہوگی تاکہ تمام قانونی، آئینی اور عملی پہلوؤں کا جائزہ لے کر ایک جامع اور مؤثر قانون سازی کی جا سکے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر یہ اصلاحات مؤثر انداز میں نافذ ہوئیں تو عدالتی کارروائیوں میں تاخیر کم کرنے، تفتیشی نظام کو بہتر بنانے اور جدید جرائم سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے، جس سے عوام کو انصاف کی فراہمی کا عمل مزید مضبوط ہوگا۔ -

ایران نے اسرائیل کے خلاف جدید بیلسٹک میزائل استعمال کیے
ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایران نے اسرائیل کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں میں تین مختلف اقسام کے بیلسٹک میزائل استعمال کیے، جن میں خیبر شکن اور حاج قاسم میزائلوں کے جدید ورژن بھی شامل تھے۔ ان میزائلوں کے استعمال نے خطے میں فوجی ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیتوں سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دفاعی ماہرین کی جانب سے کیے گئے تکنیکی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ خیبر شکن اور حاج قاسم میزائل بنیادی ساخت، ظاہری ڈیزائن اور بعض تکنیکی خصوصیات میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں، تاہم ان کے آپریشنل طریقہ کار اور ہدف تک پہنچنے کی حکمت عملی میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خیبر شکن میزائل کو انتہائی بلندی پر پرواز کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ میزائل بلند فضائی راستہ اختیار کرتے ہوئے تیز رفتار سے اپنے ہدف کی جانب بڑھتا ہے اور جدید فضائی دفاعی نظاموں کو چکمہ دینے یا انہیں غیر مؤثر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب حاج قاسم میزائل نسبتاً کم بلندی پر سفر کرتا ہے، جس کے باعث اسے ریڈار پر شناخت کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم بلندی پر پرواز کی وجہ سے یہ میزائل دشمن کے نگرانی کے نظام سے بچنے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ درستگی کے اعتبار سے حاج قاسم میزائل کو زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر ایران نے اس کا ایک جدید ورژن ’’قاسم بصیر‘‘ بھی تیار کیا ہے، جس میں ہدف شناسی کی جدید ٹیکنالوجی شامل کی گئی ہے۔
قاسم بصیر میزائل میں وارہیڈ کے ساتھ جدید آپٹیکل ٹریکنگ سسٹم نصب کیا گیا ہے، جو دورانِ پرواز ہدف کی مسلسل نگرانی اور انتہائی درست نشاندہی کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مدد سے میزائل کی ہدف پر لگنے کی شرح اور آپریشنل مؤثریت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید میزائل ٹیکنالوجی کی یہ پیش رفت خطے میں اسٹریٹجک توازن اور دفاعی حکمت عملیوں پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایسے ہتھیاروں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ -

خضدار میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 14 دہشت گرد ہلاک
بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے نال میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کامیاب آپریشن کرتے ہوئے 14 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کارروائی دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات موصول ہونے کے بعد کی گئی۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد مبینہ طور پر بھارت کی حمایت یافتہ تنظیم ’’فتنہ الہندوستان‘‘ سے وابستہ تھے اور علاقے میں پولیس اسٹیشنوں اور بینکوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو مؤثر انداز میں روکا گیا اور شدید کارروائی کے نتیجے میں 14 دہشت گرد مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے زیر استعمال چار گاڑیاں اور دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد (آئی ای ڈیز) بھی تباہ کر دیا۔
آپریشن کے دوران وطن کے بہادر سپوت لانس حوالدار محمد عباس نے فرض کی ادائیگی کے دوران جامِ شہادت نوش کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق شہید جوان نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں غیر معمولی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔
فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کو فرار ہونے یا دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہ مل سکے۔ سکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے باقی ماندہ نیٹ ورک اور سہولت کاروں کی تلاش میں بھی مصروف ہیں۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔ بیان کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک کے امن، استحکام اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ تیز کیا گیا ہے اور سکیورٹی فورسز شدت پسند عناصر کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔ -

گوجر خان میں شوہر پر تیزاب حملہ، بیوی گرفتار
راولپنڈی کے علاقے گوجر خان میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک خاتون نے مبینہ طور پر اپنے شوہر پر تیزاب پھینک دیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو موقع سے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ شخص کی شناخت کامران حسین کے نام سے ہوئی ہے، جو طلاق کے معاملے میں یونین کونسل آفس پہنچا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خاتون بھی وہاں موجود تھی اور کارروائی مکمل ہونے کے بعد جب کامران حسین دفتر سے باہر نکلا تو اس پر تیزاب پھینک دیا گیا۔
واقعے کے بعد متاثرہ شخص کو فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹرز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زخمی شخص کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے اور ڈاکٹرز اس کے علاج میں مصروف ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان کافی عرصے سے گھریلو تنازعات اور اختلافات چل رہے تھے۔ پولیس کے مطابق بظاہر یہی تنازعات اس افسوسناک واقعے کا سبب بنے، تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں کی مکمل چھان بین جاری ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزمہ کے خلاف مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد، بیانات اور فرانزک رپورٹ کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق تیزاب گردی ایک سنگین جرم ہے جس کے متاثرین کو جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور گھریلو تنازعات کے حل کے لیے مؤثر مشاورتی نظام کو فروغ دیا جائے۔ -

پاکستان کی آئی ایم ایف کو مزید ٹیکس وصولیوں کی یقین دہانی
پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو آئندہ مالی سال 2026-27 کے دوران محصولات میں مزید اضافہ اور ٹیکس اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ اس پیش رفت کا مقصد مالیاتی استحکام کو مضبوط بنانا اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت طے شدہ اہداف کو پورا کرنا ہے۔
آئی ایم ایف کی دستاویزات کے مطابق حکومت نئے ٹیکس اقدامات اور اصلاحات کے ذریعے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 0.3 فیصد کے برابر اضافی آمدن حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مختلف مراعات میں کمی کر کے جی ڈی پی کے 0.15 فیصد کے مساوی اضافی محصولات جمع کیے جائیں گے۔
دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے جاری ٹرانسفارمیشن پلان سے بھی جی ڈی پی کے 0.15 فیصد کے برابر اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات اور وصولیوں کے مؤثر نظام کے ذریعے محصولات کے اہداف حاصل کیے جا سکیں گے۔
آئی ایم ایف نے دسمبر 2026 تک ایف بی آر کے لیے 7 ہزار 22 ارب روپے کی وصولیوں کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس ہدف کو آئی ایم ایف پروگرام کے تحت باقاعدہ کارکردگی کے معیار کا درجہ دیا جائے گا، جس کی بنیاد پر پاکستان کی مالیاتی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
دستاویزات میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر آئندہ بجٹ میں کسی شعبے کو ٹیکس ریلیف دیا جاتا ہے تو اس سے ہونے والے ریونیو نقصان کا ازالہ نئے ٹیکس اقدامات یا دیگر ذرائع سے کیا جائے گا تاکہ مجموعی محصولات کے اہداف متاثر نہ ہوں۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، محصولات میں اضافے، ٹیکس چوری کی روک تھام اور ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات مزید تیز کیے جائیں گے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے ایک جانب حکومتی آمدن میں اضافہ ہوگا جبکہ دوسری جانب کاروباری برادری اور عوام پر ممکنہ اثرات بھی زیر بحث رہیں گے۔ -

جھنگ میں طالبہ کی ہلاکت پر غم و غصہ، اغواء اور زیادتی کے الزامات کی تحقیقات جاری
پنجاب کے ضلع جھنگ میں فرسٹ ایئر کی طالبہ ایشال فاطمہ کی ہلاکت کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ پولیس واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق طالبہ مبینہ طور پر اغواء اور جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد جان کی بازی ہار گئی۔
رپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ ملزم، امیش جوگی، کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش اور گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کو حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں چند افراد طالبہ کو تشویشناک حالت میں اسپتال لاتے اور بعد ازاں وہاں سے جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ پولیس اس فوٹیج سمیت دیگر شواہد کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ طالبہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور فرانزک شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ تفتیشی اداروں کے مطابق حتمی حقائق پوسٹ مارٹم، ڈی این اے اور فرانزک رپورٹس سامنے آنے کے بعد واضح ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کو میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب مقتولہ کے اہل خانہ نے واقعے میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کرکے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ خاندان کا مؤقف ہے کہ کیس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا مل سکے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر خواتین اور طالبات کے تحفظ، قانون کی عملداری اور جرائم کی روک تھام سے متعلق سنجیدہ سوالات کو اجاگر کر رہا ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ خاندان کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
چونکہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، اس لیے واقعے سے متعلق تمام الزامات کی حتمی تصدیق عدالتی اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گی۔ -

کراچی میں جعلی دستاویزات پر پاسپورٹ بنانے والا نیٹ ورک بے نقاب
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ نے کراچی میں ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے جعلی دستاویزات کے ذریعے افغان شہریوں کے لیے پاکستانی پاسپورٹ بنوانے والے مبینہ نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا۔ کارروائی کے دوران دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کی ٹیم نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شارع فیصل پر عوامی مرکز کے قریب واقع پاسپورٹ آفس میں اچانک چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران ریکارڈ کی تفصیلی جانچ پڑتال کی گئی جس میں متعدد مشتبہ کیسز سامنے آئے۔
حکام کے مطابق چھاپے کے دوران 70 سے زائد ایسے مشتبہ افراد کی دستاویزات برآمد ہوئیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ ان کی بنیاد پر غیر ملکی شہریوں کے لیے پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان افراد کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے، تاہم تمام معاملات کی مزید چھان بین جاری ہے۔
ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان سے نیٹ ورک کے دیگر ارکان، سہولت کاروں اور ممکنہ سرکاری معاونت کے بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق نیٹ ورک میں شامل ممکنہ ایجنٹوں اور سرکاری ملازمین کی نشاندہی کے لیے بھی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف مقامات پر مزید چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ جعلی دستاویزات اور غیر قانونی پاسپورٹ سازی کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ قومی شناختی اور سفری دستاویزات کے نظام کو محفوظ بنانا ریاستی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ جعلی دستاویزات کے ذریعے پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔