Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • سنیں جنت تک ہی تو جانا ہے۔ تحریر: نصرت پروین

    کچھ تھک رہے ہیں اپنی آخرت بنانے میں
    کچھ تھک رہے ہیں اسے تباہ کرنے میں
    کچھ تھک رہے ہیں دنیا کی جنت بنانے میں
    کچھ تھک رہے ہیں حقیقی جنت پانے میں
    اللہ تعالیٰ نے انسان کو تخلیق کر کے اس دنیا میں بھیجا اور جنت انسان کے لئے ایک امتحان بنا دی۔ پھر انسان کو دو راستے بتا دیئے ایک جو جنت کو جاتا ہے اور ایک جو جہنم کو جاتا ہے دونوں واضح ہیں۔اور پھر دنیا کو ہر طرح کی رنگینیوں سے بھر دیا۔ کہیں دولت کا رنگ، کہیں شہرت کا رنگ، کہیں مادیت پرستی کا رنگ، کہیں کسی کی محبت کا رنگ، کہیں رشتوں کا رنگ ، کہیں بغض و حسد کا رنگ، اور سب سے بہترین کہیں اللہ کا رنگ جو جنت کی طرف جاتا ہے۔ اپ یہ انسان پہ منحصر ہے کہ وہ دنیا کے ظاہری عارضی رنگوں میں کھو کر اپنی حقیقی جنت کا سودا کر لے اور نقصان میں پڑ جائے۔ یا اللہ کے رنگ میں رنگ کر جنت کا سفر طے کر لے۔
    "ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم کو خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جنت کو ناگوار چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے”
    تو اس حدیث کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ جنت کے گرد کا پردہ ناگوار کاموں کو کرنے سے چاک ہوتا ہے جیسے عبادتوں میں دل جمعی کے ساتھ مصروف رہنا، اور ہمیشگی برتنا، اس سلسلے میں پیش آنے والی مشقتوں کو برداشت کرنا، غصے کو دبانا، عفودرگزر سے کام لینا، برا سلوک کرنے والے کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا اور شہوتوں سے گریز کرنا یہ سب ناگوار ہیں۔ لیکن جنت انہی کے گرد چھپی ہے۔ جب انسان یہ تمام اعمال انجام دیتا ہے تو وہ جنت کا سفر طے کر لیتا ہے دوسری طرف جہنم دنیاوی زندگی، خواہشاتِ نفس، لذتوں، شہوتوں سے بھرپور ہے۔ اس سے مراد تمام حرام کام ہیں جن سے اللہ نے منع کیا ہے لیکن انسان خواہشات کا غلام بن کر وہ کام انجام دیتا ہے تو جنت کھو بیٹھا ہے۔ تکبر، سر کشی، اللہ کی عبادت سے انکار، شراب نوشی، زنا، چوری، غیبت اور باقی تمام کام جن کو عام طور پر ہم سب برا سمجھتے ہیں لیکن کیونکہ نفس کے غلام ہیں تو اکثر لوگ یہ ہی اعمال انجام دیتے ہیں۔ آپ نے ان اکثر میں شامل نہیں ہونا۔ آپ چند میں شامل ہو کر جنت کا راستہ چن لیں اور اس راستے میں دوڑ جاری رکھیں راستے کی طوالت اور رکاوٹوں کی پرواہ نہ کریں۔ دیکھیں بعض اوقات آپ کو تھکن بھی محسوس ہوگی دنیا آپ سے کہے گی کہ چھوڑ دیں بیٹھ جائیں لیکن آپ نے جاری رکھنا ہے۔ اگر بیٹھ جائیں گے تو پھر بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ دیکھیں جنت تک ہی تو جانا ہے آپ ان لوگوں کو مت دیکھیں جنہوں نے دنیا کا رنگ چن لیا۔ جو آرام سے دنیا کے رنگ میں رنگ کر عارضی لذتوں میں مبتلا ہوگئے آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو جنت کی تلاش میں آپ سے آگے ہیں۔ جو جنت کی تلاش میں ایسے چلے کہ رب کی رضا کا پروانہ حاصل کر گئے۔ اگر آپ رک گئے تو دوبارہ چلنا محال ہو گا سو منزل پہ نظر رکھیں اور جنت بہترین منزل ہے۔ اور انسان اس کے لئے کوشش کرے تو ہمیشہ اسی میں ہی ہمیشہ رہے گا۔
    قرآن وحدیث کی روشنی میں جنت کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے:
    جنت میں ہر قسم کی شادمانی و راحت، فرحت کا سامان موجود ہے۔ سونے چاندی و موتی و جوہرات کے لمبے چوڑے محل بنے ہوئے ہیں اور جگہ جگہ ریشمی کپڑوں کے خوبصورت خیمے لگے ہوئے ہیں۔ ہر طرف طرح طرح کے لذیذ دل پسند میووں کے گھنے شاداب اور سایہ دار درختوں کے باغات ہیں۔ اور ان باغوں میں شیریں پانی، نفیس دودھ، عمدہ شہد اور شراب طہور کی نہریں جاری ہیں۔
    قسم قسم کے بہترین کھانے اور طرح طرح کے پھل ستھرے اور چمکدار برتنوں میں تیار کر رکھے ہیں۔ اعلی درجے کے ریشمی لباس اور ستاروں سے بڑھ کر چمکتے اور جگمگاتے ہوئے سونے چاندی کے جوہرات کے زیورات، اونچے اونچے تخت،ان پر غالیچے اور چاندنیاں بچھی ہوئی اور مسندیں لگی ہوئی ہیں۔ عیش و نشاط کے لئے دنیا کی عورتیں اور جنت کی حوریں ہیں جو بے انتہا حسین ہیں۔ خدمت کے لئے خوبصورت لڑکے چاروں طرف ہر وقت حاضر ہیں۔ الغرض جنت میں ہر طرح کی بے شمار راحتیں ہیں۔ اور جنت کی ہر نعمت اس قدر بے مثال اور بے نظیر ہے کہ نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں اس کا خیال گزرا۔ جنتی لوگ بلا روک ٹوک ان تمام نعمتوں سے لطف اندوزہوں گے اور سب سے بڑی نعمت جنتیوں کو اللہ رب العزت کا دیدار نصیب ہوگا جنت میں نہ نیند آئے گی نہ بڑھاپا ہوگا نہ کوئی بیماری لگے گی جنتی ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور تندرست اور جوان رہیں گے۔ اس کے علاوہ قرآن و حدیث میں جنت کے بارے میں بہت سی معلومات ملتی ہے جو جنت کی طرف راغبت بڑھاتی ہے۔
    سنیں حقیر دنیا کی خاطر جنت کو نہ چھوڑیں۔ جنت ابدی ہے پر دنیا میں اس کی خاطر جدوجہد وقتی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کے لئے بہت پیاری دعا سکھائی آپ جنت کے لئے جدوجہد کریں اور یہ دعا ضرور اپنی زندگی میں شامل کر لیں۔
    اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْئَلُكَ الْجَنَّةَ الْفِرْدُوْسَ
    @Nusrat_writes

  • قدرتی نظَارے تحریر:افشین

    قدرتی نظَارے تحریر:افشین

    ” قدرتی نظَارے”

    اللّلہ پاک کی قدرت کے نظارے ہر سُو موجود ہیں ایسے دِلکَش نظارے اپنے آپ میں بہت کچھ سمائے ہوئے ہیں۔ سمندر کی گہرائی جیسے اس میں بہت سے راز پوشیدہ ہوں اور لہریں ساحل سے ٹکرا ٹکرا کے داستاں سناتی ہوں مگر آج تک سمندر کی گہرائی کوئی بھی سائنسدان معلوم نہ کر سکا۔ بلند وبالا پہاڑ آسماں کو چھوتے دکھائی دیتے ہیں اور مضبوط چٹانیں جن کو کوئی ہلا نہ سکتا، بہتی آبشاریں جیسے موجِ رواں ہوں، جیسے بہتا کارواں ہو برستی بارش زمین کو سیراب کرتی ہے اور بارش کی بوندیں پڑتے ہی زمیں مہک جاتی ہے۔ چرِند پرِند ہر شئے میں جلوہ قدرت ہے ۔ صبح گھونسلوں سے نکل کے جانے والے پرندے شام ہوتے ہی لوٹ آتے ہیں اور یہ درس دیتے ہیں کہ کوشش میں حِکمت چھپی ہے۔
    طلوع سورج سے آفتاب سورج تک روشنی اور پھر رات کو چاند کی دھیمی سی روشنی کا الگ ہی نظارہ ہوتا ہے۔ستاروں کی چمک جیسے فلک پہ خوبصورت سی کوئی چادر پڑی ہو دھرتی پہ لگے پھَل پھُول اور درختوں کے یہ جھُنڈ اسے صحرا سے زیادہ پرکشش بناتے ہیں حَسِیں وادیاں اور وہاں کی خاموشیاں بہت سکوں دیتی ہیں ۔اس زمیں میں موجود بشر ہر کوئی ایک دوسرے سے منفرد خوبصورت و حَسِین ہے۔
    ہر طرف قُدرَت کے جلّوے ہیں ایک سے بڑھ کے ایک قدرت کا نظارہ دلکش وحسیں ہے زمینی جانوروں کی الگ اور آبی جانداروں کی الگ الگ خصوصیات ہیں غرض اللّلہ پاک ہر ایک شئے چرند پرند انسان و حیواں کی تخلیق بلاوجہ نہیں کی سب کو ایک دوسرے سے منسلک کیاسورج سے زمین پہ لگے پودوں کو حرارت ملتی ہے تو پانی سے نمی، ہوا سے زندگی ۔پودے جانوروں کی خوراک بنتے ہیں تو وہی جانور انسانوں کی ۔ اللّلہ پاک کی رَنگا رَنگ تخلیق دیکھ کے عقل دَنگ رہ جاتی ہے بلندوبالا پہاڑوں پہ جب برف باری ہوتی ہے تو وہ ایک الگ ہی خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں. جہاں سے زندگی نا ممکن نظر آتی ہے وہ وہاں سے بھی اپنی قدرت کے کرشمے دیکھاتا ہے پتھر سے بھی کیڑے مکوڑوں کی زندگی کی ابتداء کر دیتا ہے. شہد کی مکھیاں کس طرح شہد بنا لیتی ہیں. وہ رب پاک اپنی قدرت کے جلوے دیکھاتا ہے ۔ آبی جانور پانی کے اندر رہتے ہیں اور انسان زمین پہ اللّلہ پاک ہر انسان کو مکمل بنایا ناک، ہاتھ، کان ہر جسمانی عضا دیا اگر کسی میں کوئی کمی ہے تو وہ دنیا کی نظر میں کمی ہے اللّلہ پاک کی نظر میں سب برابر ہیں اور اس میں اللّلہ پاک کی حکمت چھپی ہے کوئی بھی کمتر نہیں اسلئے اللہ پاک کے بنائے انسانوں اور ہر شئے میں نُقص نکالنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔یہ جو بھی ہمارے پاس ہے سب اللّلہ پاک کی قدرت ہے دنیا کی ہر شئے اللّلہ پاک انسانوں کو عطا کی نا شکری سے گریز کریں اللّلہ پاک کی حکمت کو سمجھیں سب اللّلہ پاک کی قدرت ہےکیسے کیسے نظارے ہیں سب قدرت کے اشارےہیں. انسان سب سمجھنے سے قاصر ہے پر بھی کتنے پیارے ہیں۔جتنا بھی ہم قدرت کے دلکش نظارے دیکھتے ہیں ہر شئے میں اللّلہ پاک کی حکمت نظر آتی ہے اللّلہ پاک کی ہر شئے پُرکشش ہے اللّلہ پاک نے انسان کو بنایا عقل سے نوازا اور انسان اپنی عقل و فہم سے ایسی ایسی چیزیں بنا ڈالی کہ زندگی جنگل کی ویرانوں سے نکل کہ آرام وآرائش میں منتقل ہوگئ. اب زندگی میں ہر آسائش موجود ہے زندگی کو آسان بنا دیا گیا. اللّلہ پاک زمین سے پودے میں جان ڈال دی اور پودے بہت سے چرند پرند کیڑے مکوڑوں کی خوراک کا ذریعہ ہیں۔ قدرت میں ہر چیز حیرت انگیز اور منفرد ہےدریاووں میں بہتہ پانی کتنا پیارا لگتا ہے دیکھتے ہی ایک ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے پانی جب رواں ہوتا ہے بہتا جاتا ہے رستے میں آنے والی ہر شئے کو بہا کے لے جاتا ہے ۔اللہ پاک کی بنائی ہوئی ہر شئے کو خوبصورت انداز میں دیکھیں تو آپ جان پائیں گے ہر بنائی ہوئی چیز بے مقصد نہیں۔اپنی زندگی بھرپور انداز میں جئیں ۔ اور اللّلہ پاک کی ہر دی ہوئی نعمت کا شکر ادا کریں ۔

    #افشین
    @Hu__rt7

  • عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ (  حصہ دوم ) تحریر چوہدری عطا محمد

    عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ ( حصہ دوم ) تحریر چوہدری عطا محمد

    1992 کے ورلڈ کپ کے بعد کرکٹ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیر باد کہنے یعنی ریٹائرمنٹ کے بعد عمران احمد خان نیازی سرگرم فلاحی شخصیت بن گئے۔
    انہوں نے اس کا آغاز ایک بہت ہی بڑے پرجیکٹ یعنی کینسر ہسپتال بنانے سے کیا جس کا منشور ارض پاک میں غریب ضرورت مند لوگوں کا کینسر جیسا مہنگا علاج فری ہو سکے
    عمران خان نے اس ہسپتال کا نام اپنی کینسر سے وفات پانے والی ماں کے نام پر رکھا جس کانام آج بچہ بچہ جانتا ہے وہ ہے شوکت خانم میموریل کینسر ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سینٹر یان دنوں کی بات ہے جب مسلم لیگ ن نے عمران خان نیازی کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہہ وہ ان کو اپنی پارٹی میں شمولیت کے متمنی ہیں یاد رہے یہ ارض پاک میں نواز شریف کے اقتدار کا پہلا دور تھا

    1992 میں ایک ٹی وی پروگرام میں نواز شریف کہتے ہیں کہ انہوں نے عمران خان کو کئی سال قبل ہی سیاست میں آنے کی پیشکش کی تھی "مگر انہوں نے ٹھکرا دی۔ وہ کہتے ہیں یہ مجھے ابھی بھی معلوم نہیں کہ کیوں۔ بہرحال، پیشکش اب بھی موجود ہے۔”
    یہ بات 1992 کے ورلڈ کپ کے بعد کی ہے

    اس وقت عمران احمد خان نیازی کی عمر تقریباً چالیس سال سے کچھ اوپر تھی اب وہ اپنے ایک لڑکپن سے بتدریج تاثر کو کم کرنا شروع کر دیا

    برطانیہ کی امیر ترین مشہور و معروف سیاسی و کاروباری شخصیت جیمز گولڈ اسمتھ کی بیٹی جمائمہ نے عمران خان سے 21 سال کی عمر میں پیرس میں 1995 میں شادی کرلی۔
    ان دونوں کے ہاں ماشاءاللہ دو بچوں کو جنم دیا جن میں ایک کا نام سلیمان اور دوسرے کا نام قاسم ہے تقریباً نو سال ساتھ رہینے کے بعد عمران خان اور جمائمہ کے درمیان طلاق ہوگئ
    عمران احمد خان نیازی لکھتے ہیں کہہ طلاق سے پہلے کے تقریباً چھ ماہ اور طلاق کے بعد کے چھ ماہ میری زندگی کے انتہائی مشکل وقت تھا طلاق کے وقت ایک بیان میں عمران خان کہتے ہیں کہہ جمائمہ نے ادھر گھل مل جانے کی بہت کوشش کی مگر میری سیاسی زندگی کیوجہ سے ان کے لئے پاکستان کے حالات اور زندگی سے ہم آہنگ ہونا مشکل تھا
    1993میں معین قریشی کی نگران مقرر ہونے والی حکومت میں عمران احمد خان کو سفیر سیاحت تعنیات کر دیا گیا یہ عہدہ ایک وزیز کے برابر ہی ہوتا ہے انہوں نے تین ماہ بعد نگران حکومت کے خاتمے سے ہی وہ عہدہ چھوڑ دیا
    1995) کے اختتام تک ان کے قریبی دوستوں، نے انہیں سیاسی کریئر شروع کرنے پر آمادہ کر لیا تھا۔

    اور پھر اسی طرح عمران احمد خان نے باقاعدہ اپنی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا اور 25 اپریل 1996 کو عمران خان نے اپنی سیاسی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی بنیاد رکھی۔ اور اسی جماعت کے پلیٹ فام سے 1997 کے عام انتخابات، جو اس جماعت یعنی پی ٹی آئی کے پہلے انتخابات تھے، میں پارٹی نے کوئی بھی نشست نہ جیتی۔ جاری ہے

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • تیز ترین فتح کے اسباب تحریر عبدالعزیز صدیقی آیڈوکیٹ

    تیز ترین فتح کے اسباب تحریر عبدالعزیز صدیقی آیڈوکیٹ

    دنیا کی تاریخ کی تیز ترین فتح طالبان نے اپنے نام کی۔ گزشتہ دنوں طالبان نےصرف تیس دنوں میں کابل فتح کرتے ہی پورے افغانستان میں اپنے جھنڈے گاڑ دئے وہ بھی بغیر کسی بھاری خون خرابے اور نقصان کے۔ یہ سب کیسے ہوا آئئے جائزہ لیتے ہیں !
    سب سے پہلے ہمیں طالبان کا انتظامی ڈھانچہ سمجھنا ہو گا کہ کیسے وہ بیس سال افغانستان میں فعال رہے۔
    جب روس کا افغانستان سے انخلا ہوا تو قندھار میں پہلے سے جاری تحریک طالبان نے زور پکڑ لیا 1996 میں دارالحکومت کابل پر قبضے کے بعد ملا محمد عمر طالبان کے سربراہ کے طور پر سامنے آئے۔اس طرح ملا عمر طالبان کے پہلے "امیرالمومنین” کہلائے۔ملا عمر2001 میں امریکی حملے کے وقت بھی طالبان کے سربراہ تھے۔ملا عمر کے انتقال کے بعد جولائی 2015 میں طالبان نے ملا اختر منصور کو اپنا نیا سربراہ بنا لیا اس طرح ملا اختر منصور طالبان کے دوسرے امیرالمومنین ہوئے۔لیکن صرف 10 ماہ بعد ہی مئی 2016 میں ملا اختر منصور ایک حملے میں ہلاک ہوگئے۔ملا اختر منصور کے بعد مولوی ہیبت اللہ اخوانزادہ نئے سربراہ بنے۔ مولوی ہیبت اللہ اخوانزادہ طالبان کے موجودہ امیرالمومنین ہیں ان کے نیچے تین نائب امیر ییں۔پہلے نائب امیر ملا محمد یعقوب جو طالبان کے نظریاتی اور مزہبی امور سنبھالتے ہیں دوسرے نائب امیرسراج الحق حقانی جو طالبان کی عسکری امور دیکھتے ہیں جبکہ تیسرے نائب امیر ملا عبدالغنی برادر ہیں جو امن مزاکرات میں طالبان کی نمائندگی کرتے ہیں۔اس کے علاوہ طالبان کی ایک شوری ہے جسے طالبان کی کابینہ کہا جاسکتا ہے اس شوری کے نیچے چند ونگ کام کرتے ہیں جن میں عسکری اور سیاسی ونگ کے علاوہ کچھ کمیشن بھی ہیں جنہیں ہم ان کی شاخیں بھی کہ سکتے ہیں جن کی جڑیں عوام تک ہیں۔طالبان کا ہر صوبے کے لئے ایک شیڈو گورنر اور ایک کمانڈر بھی ہوتا ہے۔دیکھیں گزشتہ بیس برسوں میں کس طرح ایک منظم تنظیم سازی کر کے طالبان نے اپنی اس تحریک کو فعال اور متحرک رکھا ہوا تھا اور جب وقت آیا تو کیسے صرف تیس دنوں میں بغیر خون خرابے اور املاک کو نقصان پہنچائے بناء پورا افغانستان فتح کر لیا کیونکہ اس جنگ میں ہتھیار ڈالنے والوں کو طالبان نے قتل نہیں کیا گو کہ بہت سے ایسے طالبان دشمنوں نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالے جنہوں نے طالبان دشمنی میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا تھا طالبان نے اس تمام۔تر کاروائ کے دوران کسی پر کوئ ٹارچر بھی نہیں کیا اس پورے تیس دنوں کی کاروائ میں ٹارچر کا ایک واقعہ بھی رپورٹ نہیں ہوا۔اور اس پوری کاروائ کے دوران نہ کوئ چوری کی نہ کوئ لوٹ مار کی اور نہ یی کوئ اناج وغیرہ لوٹا چاہتے تو بنک اور اے ٹی ایم مشینیں دوکانیں وغیرہ سب لوٹ سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔اور یہ ہی سب باتیں عوام میں گھر کرتی رہیں۔ اس کے علاوہ طالبان نے عام۔معافی کا اعلان کیا اور مخالفین سے مھائدہ کئے اور ان پر عمل کیا اگر کسی مخالف نے ان سے مھائدہ کیا کہ وہ کسی دوسری حگہ حجرت کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے جانے دیا۔اس کے علاوہ خواتین سے بد سلوکی کا کوئ ایک واقعہ بھی رپورٹ نہیں ہوا۔ خاص بات یہ ہے کہ اس دوران طالبان نے کوئ مزہبی پابندی بھی نہیں لگائ کسے نے داڑھی رکھی ہے یا نہیں جو نماز پڑھ رہا ہے یا نہیں کسی کو کچھ نہیں کہا عورتوں کو کہا کہ آپ پردے میں اپنے سارے امور انجام دیں اسکول کھلوائے اور اس دوران خواتین کی تعلیم میں بھی کوئ رکاوٹ نہیں ڈالی گئ۔جن علاقوں کو بھی فتح کیا وہاں کاروبار بند نہیں کیا دوکانیں کھلی رہیں کاروبار اپنے عمومی انداز میں چلتے رہے۔
    کسی صحافی، غیر ملکیوں کو یا این جو او کے نمائندوں کو قتل نہیں کیا گیا اس کے علاوہ فرقہ ورانہ واقعات بالکل نہیں ہوئے انہوں نے اہل تشیع اور بریلویوں کے ساتھ بھی مھائدات کئے بلکہ دیگر نسل کے شہریوں جیسے تاجک یا ازبک سے بھی مھادات کئے کسی کو فقہی یا نسلی بنیادوں پر کوئ نقصان نہیں پہنچایا۔انہوں نے اس دوران نہ کوئ اسکول بند ہونے دیا اور نہ کوئ سرکاری دفتر سب ان کی نگرانی میں اپنا کام کرتے رہے۔طالبان نے کسی بھی مخالف کے مال و دولت اور اسلحہ وغیرہ پر قبضہ بھی نہیں کیا سوائے غیر ملکی افواج سے چھینا گیا اسلحہ اور مال و اسباب کو مال غنیمت کے طور پر رکھ لیا۔اس کے علاوہ طالبان نے کسی کو زبردستی لڑنے پر مجبور بھی نہیں کیا۔
    یہ ہیں وہ اسباب جس کے باعث بناء خون بہائے دنیا کی طویل ترین جنگ پر طالبان نے تیز ترین فتح حاصل کی۔ اب تو ساری دنیا اس حیرت انگیز واقعہ پر تحقیق کرتی رہے گی اور کتابیں لکھے گی لیکن اصل بات یہ ہے کہ جب کوئ کام اللہ کی رضا کے لئے کیا جاتا ہے اور اس کے بتائے ہوئے اصول پر چلا جاتا ہے تو ایسے ہی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اس خطے سمیت پوری دنیا میں امن و سلامتی ہواور لوگوں کی جان و مال محفوظ رہے۔انشاءاللہ

    @Azizsiddiqui100

  • کیا ہم آزاد ہیں؟ تحریر: ذیشان اخوند خٹک

    اٹھارہ اگست کی شب کو سونے سے پہلے خیال آیا کہ چلے کچھ منٹوں کیلئے سوشل میڈیا دیکھا جائے. سوشل میڈیا کیا دیکھنا تھا کہ آنکھوں سے نیند اڑگئی اور ان میں آنسو اگئے.
    آنسو کی وجہ سوشل میڈیا میں گردش کرنی والی وہ ویڈیو بنی جس میں گریٹر اقبال پارک میں ایک لڑکی کو بیک وقت پانچ سو افراد نے مل کر اسے تنگ کیا اور ان کو اٹھا کر ہوا میں اچھالتے رہے.

    یہ وہ گریٹر اقبال پارک ہے جس میں ہمارے آباؤ اجداد مل کر پاکستان بنانے کیلئے جلسے و جلوس کرتے تھے مگر آج وہ زمین ہم سے سوال کررہی ہے کیا اسلئے آپکے آباو اجداد نے دن رات محنت کی تھی اور سینے پر گولیاں کھائی تھی.

    کیا ہم خود کو آزاد کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے خواتین اکیلے گھر سے نکل نہیں سکتی اور جب وہ نکلتی ہے تو ان کے کندھوں پر گندی نظروں کا اتنا بوجھ ہوتا ہے کہ وہ رونے پر مجبور ہوجاتی ہے. بچوں سے ریپ تو الگ ہی کیس ہے مگر ہم ذہنی پستی کا شکار ہوچکے ہیں کہ دن دیہاڑے گریٹر اقبال جیسے پارک میں لڑکی کو چھیڑ دیتے ہیں.

    مجھے تعجب ہورہی تھی کہ اس پانچ سو سے زائد افراد میں کوئی ایک بھی مرد نہیں تھا جو عائشہ کو اپنی بیٹی یا بہن مان کر ان درندوں سے بچاتا مگر سب لگے ہوئے تھے ویڈیو بنانے یا اس بے حیائی میں حصہ لینے میں.

    ہم آزاد نہیں ہے مگر ہمارے بیٹیوں اور بہنوں پر ظلم کرنے والے آزاد ہے چاہے وہ اسلام آباد والا کیس ہو یا کوئی اور کیس، بس پیسہ کامیاب ہوجاتا ہے اور ہمارے حقوق ردی کے ٹوکری کا حصہ بن جاتا ہے.

    سعادت حسن منٹو نے صحیح کہا تھا کہ اس جیسے درندے صرف اپنے گھر کی خواتین کو عورت سمجھتی ہے اور باقی کو گوشت کی دکان اور خود اس کے سامنے کتوں کی طرح کھڑے ہوتے ہیں جو اپنی گندی نظروں سے عورتوں کو تاڑتے ہیں.

    مجھے تعجب ہوا کہ سوشل میڈیا پر کچھ لوگ اس درندوں کی حمایت میں ٹویٹ کرتے ہیں اور عائشہ نامی خاتون کو قصوروار ٹھرارہے ہیں.
    واقعی کہ اس واقعے میں متاثرہ عورت کی بھی غلطی ہے مگر اس کی وجہ سے مردوں کو صحیح ثابت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ بھی اس بے حیائی میں برابر کے شریک تھے. ‏‎‎اگر لڑکی بے حیا تھی تو کیا مردوں نے اسکی عزت پر ہاتھ ڈال کر یہ ثابت کرنی کی کوشش کی وہ اس سے زیادہ ‎بے حیا ہیں؟

    ‏‎‎قرآن نے مردوں کو بھی نظریں جھکانے کا حکم دیا ہے اور عورتوں کو بھی باپردہ اور باحیا رہنے کا حکم دیا ہے. لاہور واقعہ میں دونوں نے ہی اپنی حدود سے تجاوز کیا نہ عورت حیا دار تھی نا مرد باکردار تھے اگر ٹافی کھلے عام رکھا جائے گا تو مکھیاں آئیں گی.
    اللہ تعالیٰ ہمارے پاکستان پر رحم فرمائے آمین

    نام
    ذیشان اخوند خٹک

    بلاگ ٹائٹل
    کیا ہم آزاد ہیں؟

    ٹویٹر ہینڈل
    @ZeeAkhwand10

  • مینار پاکستان واقعہ اور ہمارا معاشرہ  !! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    مینار پاکستان واقعہ اور ہمارا معاشرہ !! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    گذشتہ دنوں مینار پاکستان پر ایک دردناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک نہتی لڑکی کو ایک ہجوم نے گھیرلیا اور جس طرح اس لڑکی کی عزت کو نیلام کیا وہ دیکھ کر ہر ذی روح انسان کانپ جائے جس درندگی اور حیوانیت کا مظاہرہ کیا گیا وہ دیکھ کر شائد جانور بھی انسانوں سے خوف کھانے لگ جائیں
    اس سے ذیادہ افسوس کی بات تب نظر آئ جب چند لوگ اس واقعہ کا الزام بھی لڑکی پر لگاتے نظر آئے ،کسی نے کہا وہ اکیلی نکلی کیوں،وہ تو ٹک ٹاک اسٹار تھی ،اور کسی نے کہا اس نے کپڑے ایسے پہنے تھے بہرحال ایسے چند لوگ تھے باقی تمام صاحب عقل لوگ اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت ہی کرتے نظر آتے ہیں
    اس واقعے کو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا کہ جیسے اسلام آباد میں لڑکی کو ذیادتی کا نشانہ بناکر گلہ کاٹنے والے حیوان ظاہر جعفر جیسے لوگ ہماری گلی کوچوں اور بازاروں میں ہر جگہ کہیں نا کہیں موجود ہیں ،جو عورت ذات پر گندی نظر رکھنے ،اسے حوص کا نشانہ بنانے اور پھر الزامات بھی عورت پر ہی لگانے کے لئے بے تاب کھڑے ہوتے ہیں اور پھر یقین کریں جو ہم کسی اور کی ماں،بہن،بیٹی کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں وہی سب کچھ اور لوگ ہماری بھی ماوں،بہنوں کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں
    اس لئے خدارا ہمیں ایسی سوچ ،اس چھوٹی ذہنیت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے یقین کریں اگر ہر انسان انفرادی طور پر خود سے یہ وعدہ کرلے کہ میں کسی اور کی ماں،بہن،بیٹی پر کبھی گندی نظر نہیں رکھوں گا بلکہ معاشرے میں کہیں بھی ضرورت پڑی تو میں ایسی خواتین کا باپ،بھائ کا کردار ادا کرنے کی کوشش کروں گا اس سوچ کو پروان چڑھائیں ہمارا یہ معاشرہ بہت خوبصورت اور حیوانگی سے پاک ہوجائے گا آپ دوسروں کی ماں،بہن کی عزت محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے تو آپ کے گھر کی خواتین بھی محفوظ رہیں گی
    عورت موقعہ نہیں بلکہ ذمہ داری ہوتی ہے ،لاہور جیسے یا اس بھی ذیادہ بھیانک کئ واقعات آئے روز ہمارے معاشرے میں ہوتے نظر آتے ہیں یہ سب ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کے ان چند بھیڑیہ صفت لوگوں کی وجہ سے ہماری خواتین کتنی غیر محفوظ ہیں
    اس پر کنٹرول حکومت بھی کرواسکتی ہے قانون بھی موجود ہے ،خواتین کی عزت اور ان کے حقوق کے حوالے سے ہمارے پاس بہت مضبوط قانون موجود ہے ،لیکن ہمارے معاشرے میں اکثر خواتین بیچاری خاندان کی عزت ،اپنی عزت وغیرہ کے ڈر سے چھوٹے موٹے واقعات کی پولیس رپورٹ درج ہی نہیں کرواتی اور کچھ ہمارے پولیس محکمے میں بھی ایسے لوگ بیٹھے ہیں جن کے پاس اکیلی خاتوں رپورٹ درج کروانے جاتے ہوئے بھی اپنی عزت کی وجہ سے ڈری ہوتی ہے
    اس لئے جب تک ہم ایک قوم بن کر اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے معاشرے سے اس ناسور کو ختم کرنے کا عہد نہیں کرتے تب تک شائد ہمارے معاشرے میں خواتین اسی طرح آئے روز اپنی عزتیں نیلام کرتی ہی نظر آئیں گی
    پوری قوم متحد ہو کر آگے بڑھے دوسروں کی بہن ،بیٹی کو اپنی بہن بیٹی سمجھیں،ماں باپ اور خاندان والے اپنی بیٹیوں ،بہنوں کو اپنا مکمل اعتماد دیں اور ان کو ہمیشہ سمجھائیں کہ کہیں بھی کوئ معمولی سا واقعہ بھی آپ کے ساتھ پیش آئے بلاخوف اپنے گھر بتائیں ،گھر والے اس پر مکمل قانونی کاروائ کروائیں ،پولیس اپنا رویہ بہتر بنائے ،میڈیا اپنا مثبت کردار ادا کرے ،اسلامی تعلیمات دی جائیں اور خواتین کو محفوظ معاشرے میں عزت اور سکون کے ساتھ رہنے اور جینے کی مکمل آزادی دی جائے
    اللہ پاک ہمارے اس معاشرے کو حیوانوں اور درندوں سے پاک کرے تاکہ ہماری اور آپ کی خواتین کی عزت محفوظ ہو سکے آمین

  • مینار پاکستان پر بربریت تحریر: سیدہ بنت زینب

    مینار پاکستان پر بربریت تحریر: سیدہ بنت زینب

    عورت…؟
    کون ہے عورت…؟
    مرد کے لیے عورت تو بس اپنی ہوس بجھانے کا ایک ذریعہ ہے. 14 اگست کے موقع پر مینار پاکستان لاہور میں اسلامی حکومت ہونے کے باوجود عائشہ کو 400 مرد، مرد نہیں جانور، (ان جیسوں کو جانور کہنا بھی جانوروں کی توہین ہو گی) درندے مل کر ایک عورت کا استحصال کرتے ہیں. بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی وہ 400 مرد اس سارے منظر، اس سارے ظلم، اس ساری بربریت کو اپنے موبائل کی ویڈیو ریکارڈنگ میں محفوظ بھی کرتے جاتے ہیں. چار سو مرد، آٹھ سو آنکھیں، آٹھ سو ہاتھ، مگر ان میں سے کسی ایک کو شرم نہیں آئی، کسی ایک نے بھی آگے بڑھ کر عائشہ کی عزت بچانے کی کوشش نہیں کی، کسی ایک نہیں بھی اس ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کی، کسی ایک مرد کی غیرت نہیں جاگی.
    وہ عورت در بدر اپنی عزت بچانے کے لیے بھاگتی رہی مگر ان چار سو مردوں میں سے کسی ایک نہیں بھی اس کی مدد نہیں کی، وہ سب تو اپنی ہوس بجھانے میں مصروف تھے. سادت حسن منٹو نے آج سے اتنے سال قبل ہی شاید ان جیسے مردوں کے لیے ہی کہا تھا کہ "ہم عورت اسی کو سمجھتے ہیں جو ہمارے گھر کی ہو، باقی ہمارے لیے کوئی عورت نہیں ہوتی، بس گوشت کی دکان ہوتی ہے اور ہم مرد اس دکان کے باہر کھڑے کتوں کی طرح ہوتے ہیں جسکی ہوش زدہ نظر ہمیشہ گوشت پر ہی ٹکی رہتی ہے اور ہمارے منہ سے اس گوشت کو دیکھ کر رال ٹپکتی رہتی ہے.”
    میرا سوال ہے اس معاشرے کے مردوں سے کہ آپ کے گھر کی بیٹی کی عزت، عزت ہوتی ہے مگر کسی اور کی بیٹی کی عزت کی آپکو کیسے پرواہ نہیں ہو سکتی؟ کیا آپ سب مسلمان ہونے کے باوجود آخرت کی جزا اور سزا پر یقین نہیں رکھتے؟ کیا آپ مردوں کو پتا نہیں کہ مکافات عمل ایک حقیقت ہے اور اگر آج آپ کسی کی بیٹی کی عزت نہیں کرو گے تو کل کو آپ کی اپنی بہن بیٹی کے ساتھ کوئی دوسرا بلکل ایسا ہی کرے گا.
    ‏تاریخ گواہ ہے پیسے اور شان و شوکت کی ہوس نے،تاریخ کو بھلا دینے کی روش نے، اسلاف کے طریقوں کو چھوڑنے کے چکر میں اس قوم میں بس غلام پیدا ہوئے ہیں وہ بھی جاہل غلام جو اپنے نفس کی ڈوری کو تھامے ہوئے اندھا دھند مغرب کے سورج کی طرح ڈوب رہیں ہیں!!
    ہمیں اپنی روایات کو بھلانا نہیں چاہیے،،،، ہمارے پیارے نبی محمدﷺ تو اپنی بیٹی کے احترام میں کھڑے ہو جایا کرتے تھے، عورت کو حد سے زیادہ عزت دیا کرتے تھے تو آج ان کے ماننے والے نام نہاد مسلمان ہو کر آپ کیسے کسی کی بیٹی کی عزت کو سرعام رسوا کر سکتے ہو، کیسے کسی کے ساتھ ظلم ہوتا دیکھ کر خاموش رہ سکتے ہو؟ یاد رکھیں ظالم تو ظلم کرتا ہی ہے مگر جو ظلم ہوتا دیکھ کر خاموش رہے وہ بھی ظالم کے ساتھ اس ظلم میں مکمل شریک ہوتا ہے.
    میں نے جب سے عائشہ کو درندوں کے درمیان رسوا ہوتا دیکھا ہے تب سے سکون سے سو نہیں پائی، سوچتی ہوں کہ کیا میں ایک عورت ہوتے ہوئے پاکستان میں محفوظ ہوں؟ کیا میں اس معاشرے کے مردوں میں محفوظ ہوں؟ یہ درندہ نما انسان ہمیں کسی بھی جگہ چین سے جینے نہیں دیں گے. نہ ہم گھر میں محفوظ ہیں، نا گلی میں، نا ہی سکول میں، نا روڈ میں. ارے ! ہم خواتین تو درندوں کی درندگی سے قبر کی گہرائیوں میں بھی محفوظ نہیں.
    کیا اس میں بھی ہماری غلطی ہے؟ جب بھی کوئی عورت گھر سے باہر نکلنے لگتی ہے تو کہا جاتا ہے ساتھ محرم کو لے جاؤ.
    بتائیں میں کس محرم کو ساتھ لے کر جاؤں؟ اپنے چھوٹے 15 سال کے بھائی کو ساتھ لے کر چلوں یاں اپنے بوڑھے بابا کو؟
    محرم ساتھ بھی ہو تو ہمیں کون سا بخشا جاتا ہے؟
    سانحہ موٹروے کے مرکزی مجرم نے 2013 میں شوہر کے سامنے اسکی بیوی اور بیٹی کی عزت پامال کی تھی…. کیا اس میں بھی ہماری غلطی ہے؟
    اگر ہم عورت ہیں تو سانس لینا بھی چھوڑ دیں؟
    اللّٰہ پاک سے صرف دعا ہی ہے کہ وہ اس ملک پاکستان میں بسنے والی یر بیٹی کی عزت محفوظ رکھیں آمین….!

    @BinteZainab33

  • مدد چاہتی ہے یہ حّوا کی بیٹی تحریر سعد طارق

    مدد چاہتی ہے یہ حّوا کی بیٹی تحریر سعد طارق

    یہ شرم ناک سانحہ اس چودہ اگست کو مینار پاکستان کی چھاؤں میں ایک پاکستانی ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ پیش آیا جو ٹک ٹاک بنا رہی تھی
    جس نے پاکستانی پرچم کی نسبت سے سفید شلوار قمیض پہن رکھا تھا اور سبز رنگ کا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا کہ منٹو پارک میں موجود ہزاروں پاکستانی نوجوان اُس لڑکی پر یوں جھپٹے گویا کُتا کھلے گوشت پر جھپٹنا ہے
    پھر کیا تھا حوّا کی ہم جنس کے کپڑے پھاڑ کر برہنہ کر ڈالا
    وہ ننگی آزاد پاکستانی لڑکی چیختی چلاتی رہ گئی مگر آدم کے بیٹوں نے مینار پاکستان کے سائے میں اس کا وہ حشر کیا کہ سنتالیس میں عزتیں لوٹنے والے ہندوؤں کی آتما شرمندہ ہوگئی
    تب ہندو نے مسلمان بچیوں کو بے آبرو کیا تھا آج پاکستانی مسلمان اس روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں
    جی ہاں یہ واقعہ چودہ اگست دو ہزار اکیس کو لاہور کے اقبال پارک میں پیش آیا
    آج منٹو کا پہلا افسانہ “کھول دو “ یاد آگیا جو تقسیم کے وقت کی ایک کہانی تھی جس میں ایک محاجر باپ سراج دیں اپنی بیٹی سکینہ کو محاجر کیمپ میں تلاش کرتا پھر رہا تھا
    سراج دین اپنی بیٹی سکینہ اور بیوی کے ساتھ پاکستان کی طرف سفر کر رہا تھا راستے میں اسٹیشن پر بلوائیوں نے حملہ کردیا
    سراج دین کی بیوی تو موقع پر ماری گئی مگر سکینہ بچھڑ گئی
    بس اُس کا دوپٹہ سراج کے پاس رہ گیا تھا
    روتے دوھوتے سراج دین کو کسی نے بتایا کہ کچھ نوجوان ہیں جو لاری لیکر بندوقیں تھام کر امرتسر جاتے ہیں اور وہاں پھنسے ہوئے مسلمانوں کو باحفاظت پاکستان لاتے ہیں یعنی وہ اُس وقت رسکیو کا کام کر رہے تھے
    سراج دین اُن عظیم جوانوں کے پاس گیا اور بڑی امید سے بتایا کہ سکینہ کے گال پر بڑا سا تل ہے اور نین نقش ایسے ہیں امرتسر کے پاس مجھ سے جُدا ہوئی تھی
    نوجوانوں نے سراج دین کو یقین دلایا کہ وہ اُس کی بیٹی کو جلد ڈھونڈ لائیں گے
    اور لاری لیکر نکل گئے

    امرتسر کے راستے میں رضاکاروں کی نظر ایک لڑکی پر پڑی لڑکی گھبرا کر بھاگ گئی رضاکاروں نے بھاگ کر اُس لڑکی کو روکا
    دیکھا تو گال پر بڑا سا تل تھا
    یہ سراج دین کی سکینہ ہی تھی
    آٹھ لڑکوں نے اس کی دل جوئی کی اپنا کوٹ اتار کر دیا کیونکہ دوپٹہ نہ ہونے کے باعث سکینہ اُلجھن محسوس کر رہی تھی
    کئی دن گزر گئے جب سکینہ کا
    سراغ نہ ملا تو سراج دین اُن رضاکار جوانوں کے پاس گیا اور پوچھا “ سکینہ کا کچھ پتہ چلا “
    چل جائے گا ۔ چل جائے گا کہہ کر جوان چلے گئے
    سراج دین نے ایک بات پھر اُن نوجوانوں کی کامیابی کے لئے دعائیں مانگی

    ایک شام چند لوگ کچھ اٹھا کر عارضی کیمپ ہسپتال میں لائے تھے
    سراج دین نے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ ایک لڑکی ریلوے لائن کے پاس بے ہوش پڑی تھی جسے لوگ اٹھا لائے ہیں
    سراج دین ہسپتال کے کمرے میں داخل ہوا اسٹریچر پر ایک لاش پڑی تھی
    سراج دین چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھا
    کمرے میں روشنی ہوگئی سراج دین
    نے لاش کے زرد چہرے پر چمکتا ہوا تل دیکھا اور چلایا
    سکینہ !
    ڈاکٹر جس نے لائٹ جلائی تھی سراج دین سے پوچھا
    کیا ہے ؟
    سراج دین کے منہ سے صرف اتنا نکل سکا ۔ جی میں
    جی میں ۔۔۔اسکا باپ ہوں

    ڈاکٹر نے اسٹریچر پر پڑی ہوئی لاش کی طرف دیکھا اس کی نبض ٹٹولی اور سراج دین سے کہا
    “کھڑکی کھول دو “

    سکینہ کے مُردہ جسم میں جُنبش پیدا ہوئی ۔ بے جان ہاتھوں سے اُس نے ازاربند کھولا اور شلوار نیچے سرکا دی

    بوڑھا سراج دین خوشی سے چلایا
    زندہ ہے ، میری بیٹی زندہ ہے
    ڈاکٹر سر سے پیر تک پسینے میں غرق ہوگیا

    (مطلب یہ کہ سکینہ کی عزت کے لٹیرے وہی آٹھ رکھوالے رضاکار تھے)

    دوستو اس افسانے کے چھپنے کے بعد منٹو پر کیس کر دیا گیا وہ تاریخیں بھگتا رہا
    جس رسالے نے یہ افسانہ چھاپہ تھا وہ سیل کر دیا گیا
    اور منٹو کو فحش لکھاری قرار دیکر ادیبوں کی فہرست سے نکال دیا گیا
    کیونکہ وہ آیئنہ دکھا رہا تھا
    مگر آج منٹو کے کردار ہمیں تسلسل سے نظر آ رہے ہیں کبھی زینب لُٹ جاتی ہے
    کبھی موٹر وے پر حوّا کی ہم جنس بے آبرو کر دی جاتی ہے
    کبھی مدرسے کا مفتی لوطی قوم کا پیروکار نکل آتا ہے تو کبھی حوّا کی بیٹی کے کپڑے پھاڑ کر کتوں کی طرح بھمبھوڑا جاتا ہے
    کیوں ؟ کیوں ہوتا ہے یہ سب ؟
    سب سزا کی بات کرتے ہیں کہ چوک میں لٹکا دو
    گولی مار دو
    سر قلم کر دو
    سب جرم کے بعد کی بات کرتے ہیں

    مگر میں کہتا ہوں کہ ان سانحات کو ہونے سے روکا جائے اور اُس کے لئے ریاست مدینہ دوئم میں اخلاقی ایمرجنسی نافذ کر دی جائے
    تاکہ یہ انتہا پسندی ختم ہو
    ورنہ یہ شہوانی خود کُش حملہ آور یا تو عورتوں کو بے آبرو کریں گے
    یا
    دھرم کے نام پر رنجیت سنگھ کا مجسمہ توڑیں گے
    کسی غریب کی چنگ چی جلائیں گے
    یا
    سڑک بلاک کر کے ٹائروں کو آگ لگا کر اپنے آلودہ ذہن کی طرح پاکستان کی پاک فضاء کو آلودہ کریں گے
    ہن اینا دا کج کر لو رب دا واسطہ جے 🙏
    پا جی معیشت نئیں معاشرت سنوارو

  • سرزمین چکوال کا چمکتا ادبی ستارہ، عرفان خانی تحریر:اعجاز الحق عثمانی

    سرزمین چکوال کا چمکتا ادبی ستارہ، عرفان خانی تحریر:اعجاز الحق عثمانی

    یوں تو چکوال کے کئی اک تعارف ہیں۔مگر چکوال کا سب سے بڑا تعارف یہ ہے کہ ‘یہاں کا ہر دوسرا آدمی سپاہی اور ہر تیسرا آدمی شاعر ہے’۔ یہاں کہ مکینوں نے پنجابی، فارسی،اردو اور انگریزی ادب کے کئے شہکار تخلیق کیے۔ چکوال جیسی زرخیز ادبی سرزمین پر چمکنے والے ستاروں میں آج کل سب سے زیادہ متحرک، نوجوان اور ادب سے محبت کرنے والا شاعر "عرفان خانی” کو کہنا غلط نہ ہوگا۔ عالمی ادب اکادمی کے سرپرست اعلیٰ ،عرفان خانی کے قلمی نام سے پاکستان کے ہرشہر اور ہر دیہات میں پہچانا جانے والا عالمی شہرت یافتہ یہ نوجوان شاعر،تحصیل کلرکہار کے علاقہ خیر پور شریف کا رہائشی ہے۔ ادب سے محبت ان کے لہجے اور اشعار میں جھلکتی ہے۔ ایک دن میں کئی ادبی تقریبات کروانے جیسی منفرد خصوصیات کی حامل تنظیم عالمی ادب اکادمی کے زیر اہتمام ہی کلرکہار میں پہلی دفعہ جھیل میں کشتیوں کے اندر مشاعرہ ہوا۔ پاکستان کا شاید ہی کوئی شہر یا دیہات ایسا ہوا جہاں انھوں نے کوئی ادبی تقریب نہ کروائی ہو۔ انکی اور تنظیم کی شہرت اور ادبی کارکردگی کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ عالمی ادب اکادمی کی 126 ادبی تنظیمیں ممبر ہیں۔ عرفان خانی کی سب سے منفرد خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے ہمیشہ ادبی گروہوں اور دھڑے بندوں کی مخالفت کی۔ نوجوان شاعروں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے نظر آئیں گے۔ ان سے جب بھی بات ہوئی تو محبت اور شفقت انکے لہجے سے جھلکتی نظر آئی۔ادب کی ترویج کے لیے ایسے کوشاں رہتے ہیں کہ جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کی اچھی پرورش کےلیے،۔ "مین آف لٹریچر،خان ادب، فخر ادب، نشان ادب” جیسے کئی ایوارڈز اور القابات سے نوازے کئے اس شخص کو سرزمین چکوال اور ادبی دنیا ہمیشہ یاد رکھے گی۔

    عرفان خانی بے لوث محبتوں کے امیں تو ہیں ہی مگر وہ روایت سے جڑے ہوئے خوبصورت فکر و خیال کے شاعر بھی ہیں۔ان کی شخصیت کی طرح انکی شاعری بھی دل کو چھو لیتی ہے۔ انکی شاعری عام فہم ہونے کے ساتھ ساتھ ہر قاری کو اپنے دل کی صدا محسوس ہوتی ہے۔ جس کی مثال یہ اشعار ہیں۔

    ﺟﻨﮕﻞ ﺑﮩﺖ ﺍﺩﺍﺱ ﺗﮭﺎ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺱ ﻣﯿﮟ
    ﺗﺘﻠﯽ ﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﺋﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺎﺱ ﻣﯿﮟ

    ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﮐﮭﺎﻝ ﺍﺗﺎﺭﯼ ﺗﮭﯽ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ
    ﮐﯿﮍﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎ ﻟﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﺱ ﻣﯿﮟ

    ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﭘﯽ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻓﻘﻂ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﻣﯿﮟ
    ﺻﺤﺮﺍ ﮐﯽ ﺗﺸﻨﮕﯽ ﺗﮭﯽ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﭘﯿﺎﺱ ﻣﯿﮟ

    ﭘﺘﮭﺮ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﺍﯾﺴﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭨﻮﭨﻨﮯ ﻟﮕﮯ
    ﺭﮐﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺳﺠﺎ ﮐﺮ ﮔﻼﺱ ﻣﯿﮟ

    ﻋﺮﻓﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ زﺧﻢ ﭼﮭﭙﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ
    ﻟﭙﭩﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺟﺴﻢ ﻟﮩﻮ ﮐﮯ ﻟﺒﺎﺱ ﻣﯿﮟ

    اعجاز الحق عثمانی
    @EjazulhaqUsmani

  • افغانستان کی موجودہ صورتحال کے تقاضے  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    افغانستان کی موجودہ صورتحال کے تقاضے تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    افغانستان کی موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ پاکستان جو بھی قدم اُٹھاۓ۔
    سوچ سمجھ کے اٹھاۓ۔
    کوئ بھی فیصلہ کرتے وقت پاکستان کے مفاد کو مقدم رکھا جاۓ۔
    اسکے علاوہ تیل دیکھو،تیل کی دھار دیکھو کے مصداق بین الاقوامی برادری اور خطےکے فیصلوں پر بھی گہری نظر رکھی جاۓ۔
    جس طرح طالبان نے پچھلے دور اقتدار سے کچھ سبق سیکھے ہیں،اسی طرح پاکستان بھی اپنے ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوۓ وہ غلطیاں نہ دہراۓ،جو ماضی میں کی گئیں۔جن کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔اربوں کے مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ ہزاروں لوگ شہید بھی ہوۓ۔کسی کی جنگ کو ہمیں مجبورا” اپنی جنگ سمجھ کر لڑنا پڑا کیونکہ اس میں ہمارے بچے شہید ہو رہے تھے/
    مرتا کیا نہ کرتا،کے مصداق ہمیں اپنے گلے میں پڑے اس ڈھول کو بجانا پڑا۔
    افغانستان کے معاملے میں اب تک پاکستان نے اپنے کارڈز بہتر انداز میں کھیلے ہیں۔
    عمران خان کے اس موقف کو دنیا بھر میں زبردست پزیرائ مل رہی ہے،جس میں انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل سیاسی ہو گا،عسکری طریقے سے اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکتا۔
    گزشتہ رات امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی اپنی کانفرنس میں عمران خان کے موقف ہی کو اپنایا۔
    عمران خان نے افغانستان کے مسئلے کو اپنے مشاہدات کی نظر سے پرکھا اور پھر
    Absolutely not
    کہہ کر دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستان امریکہ کو پاکستان سے افغانستان پر حملے کے لئے اڈے فراہم نہیں کرے گا۔
    امریکہ کی طرف سے اس سیدھے سادھے جواب پر سخت ردعمل بھی آیا،بعض معاملات پر پاکستان پر دباو بھی ڈالا گیا۔جس میں فیٹف کا معاملہ بھی شامل ہے۔جس میں خاطر خواہ پیش رفت کے باوجود پاکستان کو ابھی تک گرے لسٹ میں جان بوجھ کر رکھا جا رہا ہے۔
    مگر ابھی تک پاکستان اپنی اسی بات پر ڈٹا ہوا ہے،
    ہو سکتا ہے کہ پاکستان کو اپنی اس ناں کی مزید قیمت بھی چُکانا پڑے۔
    قوم کو زہنی طور پر ہر چیز کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ہم پر کچھ پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں،جو ان شاءاللہ پاکستان چین جیسے دوست ملک اوراپنی بہتر حکمت عملی سے برداشت کر لے گا۔
    بڑے فیصلوں کی بعض دفعہ بڑی قیمت بھی چکانا پڑتی ہے۔
    مگر کوئ بھی قیمت ستر ہزار جانوں سے زیادہ بڑی نہیں ہو سکتی۔
    جو پچھلی دفعہ ہم نے غلط فیصلوں کی بدولت ادا کی۔
    عمران خان حکومت نے اب تک جو بھی فیصلے کئے ہیں،وہ درست ثابت ہوۓ ہیں۔حکومت کے ہر فیصلے میں پاک فوج اسکے ساتھ کھڑی ہے،جو ہماری کامیابی کا ٹرمپ کارڈ ہے۔
    افغانستان کی پیچیدہ صورتحال کی نزاکتوں کو نہ سمجھتے ہوے ترک صدر طیب اردوان نے امریکہ کے جانے کے بعد کابل کی حفاظت کی زمہ داری قبول کرنے کی جو غلطی کی۔اسے جلد ہی اسکا ادراک ہو گیا کہ اس قسم کا فیصلہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہو گا۔
    بحرحال خوش آئند پہلو یہ ہے کہ ترکی نے اپنی اس غلطی کا احساس ہوتے ہی اسکا ازالہ کرتے ہوۓ اپنی پوزیشن کو بیک فُٹ پر کر لیا ہے۔
    گزشتہ چوبیس گھنٹے میں طیب اردوان کی عمران خان سے دو بار بات ہو چکی ہے،جو عندیہ ہے اس بات کا کہ افغانستان کی نئی حکومت کو تسلیم کرتے وقت پاکستان اور ترکی ایک پیج پر ہوں گے۔
    پچھلے کچھ گھنٹوں میں جرمنی کی سربراہ اور برطانیہ کے وزیر اعظم کا عمران خان کو افغانستان کی صورتحال پر فون واضح کرتا ہے کہ پاکستان اس وقت اس تنازعے میں کتنا اہم ملک ہے۔
    پاکستان میں پچھلے دو دنوں سے جشن کا سا سما ہے۔
    افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائ کرنے اور سازشیں کرنے والے سابق کابل رجیم کے بڑے بڑے نا سور اس وقت تک راہ فرار اختیار کر چکے ہیں۔
    بھارت کی ساری سرمایہ کاری،جو اس نے پاکستان کے خلاف کر رکھی تھی۔ڈُوب چکی ہے۔
    بھارت میں افغانستان کی موجودہ صورتحال کو لیکر اس وقت سوگ کی سی کیفیت ہے۔
    انہیں لگ رہا ہے کہ انہوں نے جو گڑھا پاکستان کے لئے کھودا ہے۔وہ اپنی بد نیتی کی وجہ سے خود ہی اس میں گر چکے ہیں۔
    افغانستان سے اشرف غنی اور اسکے حواریوں نے اپنے دور اقتدار میں ہمیشہ بھارت کی زبان بولی۔
    وہ اتنے احسان فراموش اور نمک حرام تھے کہ یہاں تک بھول گئے کہ پاکستان کب سے لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کئے ہوۓ ہے،
    دیگر کئی احسانات بھلا دئیے گئے،ہر پلیٹ فارم پر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائ معمول تھا۔
    اس سب کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہوتا تھا،اسی لئے ان سب دشمنان پاکستان کی پسپائ پاکستانیوں کے لئے اچھی خبر لے کر آئ ہے۔
    طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد امید ہے کہ ہماری افغانستان سے ملحقہ مغربی سرحد محفوظ ہو جاۓ گی۔
    اس سرحد پر پاکستان بہت سی قربانیوں کے بعد باڑھ کا کام بھی مکمل کر چکا ہے۔
    ماضی میں اس سرحد سے دہشت گردوں کی پاکستان آمد کا سلسلہ بھی اس باڑھ اور طالبان کے اقتدار کی وجہ سے رک جاۓ گا،
    جو بھارت کے لئے اضطراب کا باعث ہے۔
    افغانستان کے مسئلے پر پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ چین،روس،ترکی،ایران،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک اسکے ساتھ ہوں،
    تبھی ہم امریکہ کی ناراضگی کا بوجھ برداشت کرنے کے متحمل ہو سکیں گے#

    @lalbukhari