Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ففتھ جنریشن وار اور مینار پاکستان کا واقعہ  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    ففتھ جنریشن وار اور مینار پاکستان کا واقعہ تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    مینار پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں ایک ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ ہجوم کی بد تمیزی سے ہم پر بطور معاشرہ کئی سوالات اُٹھ گئے ہیں۔
    اس عائشہ نامی لڑکی اور نور مقدم کیس میں کئی مماثلات ہیں۔
    دونوں لڑکیاں متنازعہ بیک گراونڈ کی تھیں۔
    دونوں مشرقی اور اسلامی روایات کی پاسداری نہ کرنے والی آزاد خیال خواتین تھیں۔
    نور مقدم تو دنیا سے چلی گئی،اُس پر زیادہ بات کرنا بھی ہماری روایات کے خلاف ہو گا۔
    نور مقدم کیس میں ملوث درندے ،مجرم اور قاتل کو عبرتناک سزا کادیا جانا بہت ضروری ہے۔
    جس وحشیانہ طریقے اور بر بریت سے اس خاتون کو قتل کر کے اسکا سر تن سے جدا کیا گیا۔
    اسکی مہذب معاشروں تو کیا جنگل کی دنیا میں بھی کوئ مثال نہیں ملتی۔
    مینار پاکستان والے کیس میں لڑکی کے متنازعہ کردار پر بہت سے سوالات اُٹھاۓ جا رہے ہیں۔
    ایک تو یہ کہ وہ وہاں رش اور بھیڑ والے دن ٹک ٹاک وڈیو بنانے کیوں آئ؟
    دوسرا یہ کہ اس نے بھارتی جھنڈا اُٹھا رکھا تھا،تاہم اس بات کی تصدیق پاکستان میں آزاد زرائع سے تو نہیں ہو سکی مگر ہمارے کچھ اندرونی دشمنوں کی وساطت سے بھارت تک جا پہچی ،
    جسے بھارتی میڈیا نے مرچ مصالحہ لگا کر خوب اُچھالا۔
    لڑکی پر تیسرا اعتراض یہ اُٹھایا جا رہا ہے کہ اس نے نامناسب لباس پہن رکھا تھا۔
    لڑکی پر لگاۓ گئے اعتراضات پر متفق ہونے کے بعد بھی کیا ان لوگوں کے گھناؤنے کام کو معاف کیا جا سکتا ہے کہ جس طرح وہ ایک لڑکی پر جھپٹ پڑے۔
    کیا ان کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ لڑکی کو لوٹ مار کا مال سمجھ کر اس پر کتوں کی طرح ٹوٹ پڑیں
    انہیں اس بر بریت کی معافی کبھی بھی نہیں دی جا سکتی۔
    کون کس طرح کا لباس پہنتا ہے۔کون کس طرح کا کام کرتا ہے۔
    اس کو دیکھنا لوگوں کا کام نہیں تھا۔
    اگر ان سب کو لڑکی کا وڈیو بنانا برا لگا تھا تو اسے لعن طعن کرتے۔
    اسے اس جگہ سے دفع دور ہونے کا کہہ دیتے۔
    مگر اُن کے لئے تو لڑکی کو دبوچنا ضروری تھا،جو انہوں نے کیا۔
    اگر اس قسم کے فیصلوں کی اجازت لوگوں کو دے دی گئی تو معاشرے میں پھیلےجاہل لوگ عام آدمی کا جینا دشوار کر دیں گے۔
    عورتوں کا گھروں سے نکلنا دشوار ہو جاۓ گا۔
    اس واقعہ کو اقرار سید اور شامی نامی لڑکے نے سستی شہرت کے لئے استعمال کیا،جبکہ اقرار نے تو ہمیشہ کی طرح سارا ملبہ پاکستان پر بطور ملک ڈال دیا،
    تاکہ بھارت جسے وہ پاکستان سے بہتر سمجھتا ہے،
    خوش ہو اور بھارت خوش ہوا بھی۔
    بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے،وہ تو موقع کی تاک میں رہتا ہے۔
    اور اسے ایسے مواقع اقرار جیسے بندے اور ڈان جیسے اخبار گاہے بگاہے فراہم کرتے رہتے ہیں۔
    ہمیں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ہر پہلو کو دیکھنا ہو گا۔ہمیں ہر زاویے سے پرکھنا ہو گا کہ کون کہاں پر غلط تھا۔
    اسی واقعہ میں جس طرح ہجوم نے لڑکی کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا،اُسکی جان بھی جا سکتی تھی۔
    آپ سوچیں کہ اگر اس واقعے میں خدانخواستہ اس لڑکی کی جان چلی جاتی تو کیا ہوتا؟
    ایک تو یہ بہت بڑا انسانی المیہ ہوتا
    دوسرا بین الاقوامی میڈیا اسے جس بری طرح ہمارے ملک کے خلاف استعمال کرتا،
    وہ سوچنا بھی محال ہے-
    ہم تو پہلے ہی اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے نرغے میں ہیں۔
    کوئ ایسا وقت نہیں،جب ہمارے خلاف سازشوں کے تانے بانے نہ بُنے جا رہے ہوں۔
    ایسے میں ہم اس طرح کے بے مقصد واقعات کے متحمل کیسے ہو سکتے ہیں؟
    اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ کسی بھی معاملے کی تہہ تک پہچے بغیر کوئ نتیجہ اخذ مت کریں۔
    کڑی سے کڑی ملنے کا انتظار کریں تاکہ بعد میں اپنے لکھے گئے الفاظ اور کہی گئی بات پر شرمندگی نہ ہو۔
    اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔
    شروع میں ہی کچھ لوگوں نے صرف ہجوم میں شامل ملزمان کو اپنا نشانہ بنایا۔بعد میں لڑکی کا کردار بھی کچھ مشکوک نظر آنے لگا،
    جس سے یہ تاثر ملنے لگا کہ یہ سب کچھ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا،
    جس کا مقصد شہرت اور فالوورز کا حصول تھا۔
    آجکل فالوورز اور ریٹننگ کے حصول کے لئے بھی ایسےایسے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
    لہذا فیصلہ کرنے میں کبھی بھی جلد بازی نہ کریں۔اور جب بھی کوئ فیصلہ کریں تو اس میں یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ ہم جانے انجانے میں کہیں پاکستان کے مفادات کو نقصان تو نہیں پہچا رہے؟
    کہیں ہم کسی شازشی گھن چکر میں آکر کہیں کوئ اپنا نقصان تو نہیں کر رہے-
    اس قسم کے واقعات ہمیں بعض دفعہ اتنا جذباتی کر دیتے ہیں کہ ہم بغیر سوچے سمجھے دشمنوں کے اس جال میں پھنس جاتے ہیں،
    جسے ففتھ جنریشن وار کا نام دیا جاتا ہے۔
    ہم نادانی میں اس ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ کرنے کے بجاۓ اسی کا ایندھن بن جاتے ہیں،
    جو ہمارے لئے بطور معاشرہ اور بطور ایک ملک کے سخت نقصان دہ ہوتا ہے۔
    ہمیں اپنی کردار سازی کی ضرورت ہے۔معاشرے میں وہ چیزیں لیکر آئیں،جن کی اجازت دین اسلام بھی دیتا ہو۔ان چیزوں پر قانون سازی ہونی چاہیے،جو حکومت کی زمہ داری ہے۔لوگوں کو جج اور منصف کا حق نہیں دیا جا سکتا،ورنہ ہم جنگل کا معاشرہ بن جائیں گے،
    لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے معتدل رویہ اختیار کریں۔
    جھپٹ نہ پڑیں،اپنے اندر کے شیطان کی تسکین کے لئے۔
    پاکستان میں ہم اپنی اُن روایات کے باغی نہیں ہو سکتے،
    جن میں گھر کے بڑے چھوٹوں کو نصیحت کرتے ہیں۔
    جہاں باہر جانے کے لئےباپ ،بھائ اور خاوند کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
    جہاں شام کے بعد گھر کے نوجوانوں کو گھر سے باہر جانے سے روکا جاتا ہے۔
    جہاں مائیں اور گھر کی بڑی بوڑھیاں ہر وقت اپنے بچوں کو سمجھاتی رہتی ہیں کہ یہ پہنو،اس طرح بیٹھو،اس طرح بات کرو۔
    یہیں سے ہمیں وہ تربیت ملتی ہے،جو ہماری سوسائٹی کا خاصہ ہے۔انہیں طور طریقوں میں یہ خاصیت اور انفرادیت بھی ہوتی ہے،
    جہاں والد کسی بھی وقت اپنے بچوں کے موبائیل دیکھ سکتا ہے کہ بچے کونسی ویب سائیٹ یا مواد دیکھ رہے ہیں ؟
    ان چیزوں کے بڑے فائدے ہیں،مگر خونی لبرلز کے نزدیک یہ سب دقیانوسی سوچ اور آؤٹ آف فیشن چیزیں ہیں۔

    کسی بھی معاملے میں خونی لبرلز اور موم بتی مافیاز جیسے فتنوں کے جھانسے میں نہ آئیں،
    کیونکہ ان لوگوں کو تو ہڈی ہی اسی مقصد کے لئے ڈالی جاتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس معاشرے اور ہماری مذہبی درخشندہ روایات کو نقصان پہنچایا جاۓ۔
    لوگوں کو خوبصورت مشرقی روایات اور بے مثال اسلامی اقدار سے دور کیا جا سکے۔
    یہی ففتھ جنریشن وار ہے،جس کا مقابلہ ہم نے ایک اچھے مسلمان کے طور پہ
    ایک اچھے پاکستانی کے طور پہ
    اور سب سے بڑھ کر ایک اچھے انسان کے طور پر کرنا ہے۔
    کیونکہ ایک اچھا انسان بنے بغیر ہم نہ تو اچھے پاکستانی بن سکتے ہیں اور نہ ہی اچھے مسلمان #

    تحریر-سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • انٹرنیٹ اور مینار پاکستان تحریر ایمن زاہد حسین (ملیر گڈاپ)

    انٹرنیٹ اور مینار پاکستان تحریر ایمن زاہد حسین (ملیر گڈاپ)

    انٹرنیٹ ایک ایسا جھال ہے جس میں سب بچے، بوڑھے اور نوجوان سب پھنستے جارہے ہیں ۔کوئی اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرنے کو تیار ہی نہیں کے انکا قیمتی وقت رشتے تعلیم اور دنیاوی کامیونیکیشن سے ہی کٹا ہوا ہے۔لوگ اکثر گاڑی چلاتے وقت موبائل کا استمال کرتے ہیں۔گھر بیٹھے بزرگوں کی باتیں نظرانداز کرکے گھر کے کونے میں پورا دن بیٹھ کر گلوبل دنیا سے رابطہ کرلیتے ہیں پر بزرگوں بڑھوں اور بچوں کو ٹائم دینے سے گریز کرتے ہیں۔پہلے کے دؤر میں بچے بزرگوں کیساتھ بیٹھ کر اخلاقی روایات کی کہانیاں اور اقدار کے درس سنتے تھے جوکہ دؤر حاضر کے بچوں کو ہاتھ میں موبائیل تھما دیتے ہیں اور بچے دنیا میں قدم رکھتے ہی اس ٹیکنالاجی سے واسطہ پڑھ جاتا ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ انٹرنیٹ کی وجہ سے آپکا ڈیٹا چوری ہو رہا ہے۔آپ کس بات سے خوش ہوتے ہیں اور آپکو کیا اچھا لگتا ہے سب شیئر ہورہا ہے۔
    آپ سیاست میں کیا پسند کرتے ہیں مذہب، کھیل میں آپ کو کیا پسند ہے تمام چیزیں آپ کے سامنے انٹرنیٹ کی دنیا میں شیئر ہورہی ہیں ۔انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال سے انسان معاشرے سے کٹ ہو کر لاشعوری خیالی دنیا میں رہنے پر مجبور ہورہاہے۔ اور رشتے داروں سے بھی دور تنہائی میں بیٹھنے کو ترجیع دیتے ہیں جس کی وجہ سے خود کشی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ آج کی نوجوان نسل ڈپٹریشن کا شکار ہورہے ہیں جس سے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
    والدین کو معلوم ہی نہی کہ انکے بچے کس ٹائم سوتے ہیں۔ان کی دوستی کس کے ساتھ ہے۔ بچوں کی اخلاقی معیار اور رواداری کا عمل کمزور ہوتا جارہا ہے جس سے معاشرے کا بگاڑ ثابت ہورہا ہے۔ والدین اپنے بچوں پر زیادہ تر اخلاقی،نفسیاتی رواداری کے تسلسل پر توجہ نہیں دیتے بلکہ ہیں کہ ان کا اسکول میں اچھے نمبرز لانا اور پوزیشن لانا ہی اولین مقصد سمجھتے ہیں۔ناکہ بچہ غلطی کرے تو ان کی حوصلہ افزائی کرنا غلطیوں سے سیکھنےکی عادت ڈالنے سے گریز کرتے ہیں۔بس وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ کسی نہ کسی طرح پوزیشن لے کر گھر آئے۔
    اگرچہ پاکستان میں اخلاقی معیار کو دیکھنا ہو تو آپ آج کل کے واقعات دیکھ لیں جیسے زینب کا واقعہ، اسلام آباد میں مین ہائی وے پر ایک عورت کا اپنے بچوں کے سامنے کینگ ریپ، اور تازہ دل دھلانے والہ واقعہ مینار پاکستان میں ٹک ٹاکر کے ساتھ 400 لوگوں کی زیادتی ،،، یہ سب ٹک ٹاک اور سنیک چیٹ جیسی معاشرتی بگاڑ ایپ پر بین لگا کر نئی نسل کو تباہ ہونے سے بچائیں اور والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں پر انکی سرگرمیوں کے متعلق باخبر رہیں اور اپنی بیٹیوں کو برقعہ پہننے پر زور دیں اور اسکول کالیج اور یونیورسٹی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ اور اقدار کا مطالعہ کرنے پر زور دیں۔
    تحریر ایمن زاہد حسین (ملیر گڈاپ)
    #Ummeaeman

  • کیا تم کسی یزید سے کم ہو! تحریر: مریم صدیقہ

    کیا تم کسی یزید سے کم ہو! تحریر: مریم صدیقہ

    جو عبرت سے نہ سمجھے ، دلائل بھی نہ مانے تو
    قیامت خود بتائے گی، قیامت کیوں ضروری تھی!
    بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ مرد عورت کا محافظ ہوتا ہے پر آج میں یہ سوال کرنا چاہتی ہوں کیسا محافظ ہے یہ مرد جس سے عورت خود کو محفوظ تصور نہیں کر پاتی۔ کیا محافظ ایسے ہوتے ہیں؟
    14 اگست ۔۔ آزادی کا دن۔۔ جشن کا سماں۔۔ جگہ بھی مینار پاکستان!!کیا دیکھنے کو ملتا ہے کہ حوا کی بیٹی کو دن کے وقت میں ایک نہیں ، دو نہیں ، سو نہیں بلکہ پورے 400 درندے یک دم گھیر لیتے ہیں ۔ معافی چاہتی مگر مرد تو دور کی بات میں انہیں جانور کہنا بھی جانوروں کی توہین سمجھتی ہوں۔ پھر ! پھر کیا حوس کے یہ پجاری دل بھر کے اس کی عزت کا تماشہ بناتے ہیں، ہوا میں اچھالتے ہیں ا ور اس کی عصمت دری کرتے ہیں۔ اور حد یہاں ختم ہوتی کہ اس کو ان درندوں سے بچانے کی بجائے وہاں کچھ حیوان اس سب کی ویڈیوبنانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔وہ بھی آزادی کے دن، اقبال پارک میں۔۔ کیا ہم سب پاکستانی واقعی آزاد ہیں!! یا اس ملک میں صرف یہ درندے آزاد ہیں جو جب چاہیں ، جہاں چاہیں، جسے چاہیں اپنی درندگی کا نشانہ بنا لیتے ہیں، جنہیں اب تک کی تمام حکومتیں اور تنظیمیں لگام ڈالنے میں ناکام رہیں۔
    چلیں اس بات کو بھی مان لیتے ہیں کہ لڑکی خراب تھی وہ ، ٹک ٹاکر تھی، ناچ رہی تھی ، بے حیا تھی اس لیے اس کے ساتھ یہ سب ہوا مان لیتے سوشل میڈیا پہ ان درندوں کو ڈیفنڈ کرنے والوں کی یہ بات بھی مان لیتے ہیں۔ مگر ابھی پچھلے ہی عرصے کی بات ہے جب راولپنڈی میں ایک لڑکی جو ٹیچرتھی مکمل عبائے میں یہاں تک کہ منہ بھی ڈھکا ہواہاتھ میں کچھ کتابیں لیے نظریں جھکائے صبح کے وقت سکول میں بچوں کو تعلیم دینے جارہی تھی کہ راستے میں ایک درندہ بائیک پہ آتے ہوئے اس کو عبائے سمیت زور سے کھینچتا ہوا گرا کہ چلا جاتا ہے۔ کیا یہ لڑکی بھی خراب تھی؟اس کا کیا قصور تھا۔ چلیں اسے بھی چھوڑیں پر یہ سوچیں کہ زینب جیسی ان ننھی بچیوں کا کیا قصو ر ہوتا جنہیں یہ درندے اپنی حوس کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر ساری زندگی وہ اس صدمے سے نکل نہیں پاتیں۔آج جو بھی سوشل میڈیا پہ کہہ رہا ہے کہ باحیا لڑکی کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا میں انہیں بتانا چاہتی جب انسان میں انسانیت کی جگہ درندگی لے لیتی ہے نہ تو اس کے لیے یہ حیا اور بے حیا کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔یہ الفاظ اس کے لیے بےکار ہو جاتے ہیں۔۔ ایسے لوگ اپنی حوس کی تسکین کے لیے کسی بھی حد سے گزر سکتے ہیں۔
    بس ایک چیز جو مجھے بے چین کر رہی ہے اور ذہن کو سکون نہیں لینے دے رہی کہ وہاں موجود تمام لوگوں میں سےکوئی ایک بھی مرد نہ تھا یا سارے مرد ہی ایسے ہوتےہیں ! کیا کسی ایک کا بھی نہیں دہلا! کسی ایک کو بھی خیال نہ آیا کہ وہ اللہ کو کیا منہ دیکھائیں گے! اپنے نبی ﷺکا سامنا کیسے کریں گے! میں پوچھتی ہوں کہ کس منہ سےنبی کی بیٹیوں کی بے حرمتی پہ روتے ہو، کیا تم کسی یزید سے کم ہو؟
    عورت کو نچواتے ہیں بازار کی جنس بنواتے ہیں
    پھر اس کی عصمت کے غم میں تحریکیں بھی چلواتے ہیں
    ان ظالم اور بدکاروں سے بازار کے ان معماروں سے
    میں باغی ہوں، میں باغی ہوں جو چاہے مجھ پہ ظلم کرو

    @MS_14_1

  • لڑکیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی  تحریر: زاہد کبدانی

    لڑکیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی تحریر: زاہد کبدانی

    اگر ہم آبادی پر نظر ڈالیں تو ، پاکستان آبادی کے لحاظ سے ایک بہت بڑا ممالک ہے۔ تاہم ، لڑکیوں کی تعلیم کی شرح ملک میں کافی کم ہے۔ یہ ایک ایسے ملک میں اعداد و شمار کو دیکھ کر کافی پریشان کن ہے جہاں خواتین کو دیوی کا درجہ دیا جاتا ہے۔ اعدادوشمار میں کافی حد تک بہتری آئی ہے لیکن ابھی بہت طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔

    قدیم پاکستان میں عورتوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی ، لیکن وقت بدل رہا ہے۔ بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی سوچ بھی بدل رہی ہے۔ وہ اپنی لڑکیوں کو تعلیم دینے اور انہیں زندگی میں کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم ، دیہی پاکستان میں ایسا نہیں ہے جو کہ آبادی کا 60 فیصد سے زیادہ ہے۔ ہمیں لڑکیوں کی تعلیم کی اتنی کم شرح کے عوامل کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کچھ حل تلاش کیے جا سکیں۔

    لڑکیوں کی تعلیم کی کم شرح میں شراکت کرنے والے عوامل
    مختلف عوامل ہیں جن کی وجہ سے ہمارے ملک میں لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہے۔ اول ، غربت کی شرح تشویشناک ہے۔ اگرچہ تعلیم مفت کی جا رہی ہے ، پھر بھی اس میں لڑکیوں کو سکول بھیجنے کے لیے کافی خرچ آتا ہے۔ اس لیے وہ خاندان جو اپنے مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں وہ اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات ادا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

    دوم ، دیہی علاقوں میں ، بہت سارے اسکول نہیں ہیں۔ اس سے دوری کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے کیونکہ وہ دیہات سے بہت دور واقع ہیں۔ کچھ علاقوں میں طالب علموں کو اپنے اسکول تک پہنچنے کے لیے تین سے چار گھنٹے پیدل چلنا پڑتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں لڑکیوں کی حفاظت سے سمجھوتہ ہو جاتا ہے لہذا والدین ان کو اتنا دور بھیجنا مناسب نہیں سمجھتے۔
    مزید یہ کہ لوگوں کی رجعت پسندانہ سوچ لڑکیوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا مشکل بنا دیتی ہے۔ کچھ لوگ اب بھی سمجھتے ہیں کہ لڑکیاں اپنے گھروں میں رہتی ہیں اور باورچی خانے کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ وہ عورتوں کو یہ پسند نہیں کرتے کہ گھر کے کاموں کے لیے کوئی دوسرا کام کریں۔
    اس کے علاوہ ، بچپن کی شادی اور چائلڈ لیبر جیسے سماجی مسائل بھی لڑکی کو تعلیم حاصل کرنے سے روکتے ہیں۔ والدین بیٹیوں کو کم عمری میں شادی کے لیے سکول سے نکال دیتے ہیں۔ نیز ، جب لڑکیاں چائلڈ لیبر میں مشغول ہوتی ہیں تو انہیں پڑھائی کا وقت نہیں ملتا۔
    لڑکیوں کی تعلیم کے فوائد
    اگر ہم پاکستان کو ترقی اور ترقی دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی بچیوں کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ وہ واقعی ہماری قوم کا مستقبل ہیں۔ مزید یہ کہ جب وہ تعلیم یافتہ ہو جائیں گے تو انہیں اپنی معاش کے لیے دوسروں پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔
    لڑکیوں کی تعلیم کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ ملک کا مستقبل روشن اور بہتر ہوگا۔ اسی طرح ہماری معیشت تیزی سے ترقی کر سکتی ہے اگر زیادہ سے زیادہ خواتین مالی طور پر مضبوط ہو جائیں اور اس طرح غربت کم ہو۔

    مزید یہ کہ جو خواتین تعلیم یافتہ ہیں وہ اپنے بچوں کی مناسب دیکھ بھال کر سکتی ہیں۔ اس سے مستقبل مضبوط ہوگا کیونکہ کم بچے ویکسینیشن کی کمی یا اسی طرح کی وجہ سے مر جائیں گے۔ یہاں تک کہ خواتین کے لیے بھی ان کے ایچ آئی وی/ایڈز کے مریض بننے کے امکانات کم ہوں گے کیونکہ وہ نتائج سے آگاہ ہوں گے۔
    سب سے اہم بات یہ ہے کہ تعلیم یافتہ خواتین سماجی مسائل جیسے کرپشن ، کم عمری کی شادی ، گھریلو زیادتی اور بہت کچھ میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ وہ زیادہ پر اعتماد ہوں گے اور اپنے خاندانوں کو تمام شعبوں میں بہتر طریقے سے سنبھالیں گے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ایک تعلیم یافتہ عورت دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی میں اتنی تبدیلی کیسے لا سکتی ہے۔

    @Z_Kubdani

  • (حسینی شعور) دیتی رہے گی درس شہادت حسین قیامت تک :  تحریر محمد جاوید

    (حسینی شعور) دیتی رہے گی درس شہادت حسین قیامت تک : تحریر محمد جاوید

    کربلا عراق کا ایک اہم شہر ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں امام حسین رضی اللہ عنہ کو یزید نے شہید کیا جو عراق کا حکمران تھا۔ کر بلا کا وقعہ ایک اہم واقعہ ہے جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے یاد کیا جائے گا ۔
    حق اور باطل کا معرکہ دنیا میں ہمیشہ بر پا رہا ہے اور آیندہ بھی برپا رہے گا ۔
    موسی اور فرعون، ابراھیم اور نمرود محمد اور ابوجہل اور حسین اور یزید کے چراغ وشرر کی آویزش پیہم ہی نے انسانی تاریخ کی اکثر داستانوں کو دلچسپ اور زندہ جاوید بنایا ہے۔ جب تک دنیا قایم ہے حق وہ انصاف کی طرفداری اور ناانصافی و ظلم کی سر کوبی کے لئے ، نیک اور جرات مند روحیں پیدا ہوتی رہیں اور ایسے مصلحت اندیش اور بزدل لوگ بھی جنم لیتے رہیں گے جو دنیاوی مفادات کے لئے ذلت اور رسوائی کی زندگی بسر کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور جن کی بدولت ان کے بازوؤں میں قوت اور ہاتھ میں تیغ آتی ہے ، بالا آخیر ان ہی پر چڑھ ڈورتے ہیں۔
    عاشورہ کے روز امام حسین نے یزیدی فوجوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا” کیا تمیں معلوم ہے کہ تم حسین بن علی اور اسلام کے بہترین اور مخلص ترین جانباز سپاہیوں کے خلاف تلواریں سونت رہے ہو ؟ یہ واہی تلواریں ہیں جو پیغمبر اسلام نے تمارے ہاتوں میں دی تھی. جو آگ ہم نے اپنے اور تمارے دشمن بهسم کرنے کے لئے جلائی تھی واہی آگ اب تم ہمیں جلانے اور تباہ کرنے کے لئے استعمال کرہے ہو۔”
    امام عالی مقام نے ذلت اور رسوائی کی زندگی بسر کرنے کی بجائے جنگ کے راستے کا انتخاب کر لیا تھا اور یہ ان کا قطعی اور اٹل فیصلہ تھا انہوں نے فرمایا ” یہ بات کہ ہم ذلیل ہو نہ اللّه کو پسند نہ اس کے رسول کو اور نہ مومین کو۔ ہم نے جن ماؤں کے پاکیزہ گودوں میں پرورش پائی ہے ان کو یہ منظور نہیں کہ اپنے یا امت کیلے ذلت وہ خواری اور مایوسی وہ ناامیدی کا دروازہ کھولیں یہ بہادر جو میرے ساتھ ہیں یہ جواں مرد جو یہاں تک میرے ہمراہ آئے ہیں اور میرے ارد گرد صف آراء ہیں انکو بھی اپنی اور امت کی خواری منظور نہیں۔ یہ وہ لوگ نہیں جو ادنی ا درجے کے لوگوں کی اطاعت اور فرمانبرداری کی شہادت کو ترجیح دیں۔ ”
    تاریخ نے شہادت حسین سے پہلے بھی شہادت حسین کے بعد بھی ہر دور میں یہی شہادت دی کہ سچائی اور صداقت کی راہ میں جان دینے والے بظاھر بظاھر شکست کھانے کے باوجود ہمیشہ ہمیشہ کے لئے انسانیت کی پیشانی کا جھومر بنتے ہیں اور نا انصافی اور باطل کا ساتھ دینے والے اور سیاست اور حکومت میں نفسیاتی خواہشات کی اطاعت وہ فرمابرداری کرنے والے وقتی کامرانیوں کے باوجود تاریخ کی نگاہ میں ادنی درجے کے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یزید کو فتح حاصل ہوئی لیکن عزت وتوقیر امام حسین کو ملی۔ امام حسین کے نزدیک طاقت اور قوت حق نہیں حق بزات خود طاقت اور قوت ہے قوت حق کا اظہار امام حسین کے علاوہ تاریخ تاریخ اسلام اور بہت سی محترم شخصیتوں نے کیا ہے۔ یہ سلسلہ ہر دور میں جاری رہا لیکن حق کی وہ کونسی سطح ہے جیس کے لئے عظیم شخصیتں جان و مال کی قربانی دیتی آئی ہیں اور جیس کے حوالے سے امام حسین کے قیام اور تحریک نے اسلامی تاریخ کی اگلی پچھلی تمام مقدس تحریکوں میں مرکزی حثیت حاصل کر لی ہے ۔
    جاری ۔۔۔۔۔
    @I_MJawed

  • فلسطین! اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری تحریر : اقصٰی صدیق

    فلسطین! اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری تحریر : اقصٰی صدیق

    فلسطین اسلامی ممالک کی فہرست میں ایک مسلمان ملک اور مسجد الاقصیٰ کا تعارف ہے۔ مسجد اقصی کو مسلمانوں کا قبلۂ اول مانا جاتا ہے۔مسجد اقصٰی مشرق میں یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ جس پر ان دنوں اسرائیل قابض ہے۔اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ فلسطین کے تاریخی واقعات میں سر فہرست ہے۔
    اسلامی ملک فلسطین کی سرحدیں لبنان، اردن، شام اور مصر سے ملتی ہیں۔
    لبنان اور مصر کے درمیان واقع کا علاقہ فلسطین کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کے آدھے حصّے پر اب اسرائیل کی حکومت ہے۔
    کہا جاتا ہے کہ 1948ء سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کا حصہ تھا۔ 1948ء میں اسرائیل نے فلسطین پر قبضہ کر لیا اور یہ قبضہ تاحال جاری ہے۔
    اس سے پہلے اس علاقے پر فرانسیسی اور انگریز حکومت کرتے رہے ہیں۔
    اس ملک کا دار الحکومت بیت المقدس ہے۔جس پر 1967ء میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا۔
    حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا، اور اس دوران حضرت عمر فاروق ؓ نے مسجد اقصٰی کی بنیاد رکھی۔خدا کی توحید اور وحدانیت پر ایمان کی تبلیغ کا آغاز پیغمبر حضرت ابراہیمؑ کی فلسطین میں آمد سے ہوا۔حضرت ابراہیمؑ کا مزار بھی سر زمین فلسطین پر ہے۔بیت المقدس کو اسرائیلی یروشلم بھی کہا جاتا ہے،
    مسلمانوں کا قبلہ اول اسی جگہ واقع ہے۔ اور اس شہر کو مسلمان، یہودی ، اور مسیحی جو کہ مختلف مزاہب رکھتے ہیں، اس کو آج بھی مقدس مانتے ہیں۔

    فلسطین کو انبیاء کرام علیہم السلام کی سر زمین بھی کہا جاتا ہے، دین اسلام کی اشاعت کے سلسلے میں کئی انبیاء کرام حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، ،حضرت سلیمان، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام اور بہت سے دیگر پیغمبر اس مقدس سر ذمین سے گزرے ہیں ۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر مسلمان، عیسائی اور یہودی مقیم رہے ہیں۔
    جبکہ آج کل اسرائیل اور مغربی کنارے میں یہودی اسرائیلی شناخت کرتے ہیں۔قابض ملک اسرائیل کے موجودہ عرب شہری اپنی شناخت اسرائیلی، فلسطینی یا عرب کے طور پر کرواتے ہیں۔
    اکثریت آبادی مسلمان ہے، اور سرکاری زبان عربی ہے۔
    اہم شہر غزہ، بیت لحم، الخلیل اور
    ادیان اسلام ہیں۔

    فلسطین دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔اور اس کی آزادی کی جنگ اس کے وجود میں آتے ہی شروع ہو گئی تھی جو ابھی تک جاری ہے۔ دنیا کی ہرزبان کے ادب میں اس کی آزادی کی جدوجہد پر کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
    اور آج کل اسرائیلی جارحیت کے تحت یہ سرزمین اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم کے باعث خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے، اپنی آزادی کی جنگ کے دوران اس ملک میں کئی جنگیں، عوامی تحریکیں اور بڑے پیمانے پر شہریوں پر مظالم اور ان کے قتل عام ہوتے رہے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد ساڑھے 7 لاکھ فلسطینیوں کو اپنی آبائی سرزمین فلسطین سے نکال دیا گیا، اور مقامی لوگوں نے اپنی سرزمین چھوڑ کر قریبی ممالک مصر ، عراق، لبنان اور شام کی جانب رخ کیا۔ اور جو لوگ اس وقت رہ گئے تھے، وہ اسرائیلی ریاست کے تسلط میں ہیں، جن کے ساتھ آج تک اسرائیلی مظالم جاری ہیں۔
    اسرائیلی دہشت گردی گزشتہ 73 سالوں سے جاری ہے، جس کا نتیجہ ہر بار معصوم جانوں کا ضیاع اور نقل مکانی کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔
    رواں سال بھی اسرائیل فوج نے اس بار رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ليلۃ القدر کے موقع پر مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کے علاقے شیخ جراح سے فلسطینیوں کو زبردستی نکالا، اور پر تشدد حملے شروع کیے، ان حملوں کے دوران رواں برس 7 سے 18 مئی 2021 ء کی سہ پہر تک 34 خواتین اور 58 بچوں سمیت 201 افراد جاں کی بازی ہار گئے۔
    اسرائیل کی یہ کاروائیاں کئی برسوں سے جاری ہیں، اور تمام امت مسلمہ اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
    ایک اندازے کے مطابق سال 2017 ء میں تقریباً 30 لاکھ کے قریب فلسطینی شہری بے آسرا اور گھروں کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، کیوں کہ ان کے گھر اسرائیلی جارحیت کے دوران مسمار کر دئیے گئے ہیں، اور شہر میں آئے دن یہودی بستیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    پس سات دہائیوں سے مظالم کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔
    گذشتہ کئی روز سے فلسطینی اپنے گھروں تک محدود ہو کے رہ گئے تھے، کیونکہ باہر نکلنا بھی موت کا باعث بن سکتا تھا۔
    اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ مسلمانوں کے خون سے سرخ ہو چکی ہے۔خاص طور پر اسرائیلی افواج نے اس دوران معصوم بچوں کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کی نسل کشی کی طرف قدم بڑھائے ہیں۔

    اس کے علاوہ غزہ شہر دہشت گردی کے دوران بمباری کے نتیجے میں بری طرح تباہ اور متاثر ہوا ہے۔تاہم گزشتہ دنوں اسرائیل کے ساتھ تازہ فلسطینی جھڑپیں شروع ہونے کے بعد سے حماس کے اسرائیلی جارحیت کے مد مقابل انتہائی منظم خودکش حملوں کے سلسلے کو بہت پذیرائی ملی ہے، اور تمام فلسطینیوں نے سکھ کا سانس لیا ہے، حماس اور اسرائیل اپنی اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
    دنیا میں حماس فلسطینیوں تک یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب ہو چکا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی لڑائی کے لیے اور یروشلم، (مسجد اقصٰی) اور فلسطینی ریاست کے حقوق کے لیے قربانیاں دینے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔
    حماس کی طرف سے دنیا کیلئے ایک چھوٹا سا پیغام ہے کہ اس کے خدا کی وحدانیت پر یقین رکھنے والے بہادر جنگجو ”آخری دم تک یروشلم کے لیے لڑتے رہیں گے”
    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اسرائیلی جارحیت کے خلاف امن و امان کی کارکردگی میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے،
    اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کی خاطر مسلمانوں کو اٹھ کھڑے ہونا ہے۔

    @_aqsasiddique

  • عورت اور ہمارا معاشرہ تحریر-محسن ریاض

    عورت اور ہمارا معاشرہ تحریر-محسن ریاض


    ‎ابھی نور مقدم کے قتل کو تین ہفتے ہی گزرے ہیں کہ ہمیں اس سے ملتے جلتے ایک اور سانحے نے آن گھیرا ہے اس جشن آزادی پر گریٹر اقبال پارک میں ایک ایسا سانحہ رونما ہوا ہے جس نے رونگٹے کھڑے کر دیے ہیں شوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چار سو کے قریب لوگوں نے ایک ٹک ٹاکر عورت کو گھر رکھا ہے اور اس سے ناشائستہ حرکات کر رہے ہیں کچھ لوگ اس کو ہوا میں اچھال رہے ہیں جیسے کسی کھلونے سے کھیلتے وقت اس اچھالا جاتا ہے اس کے بعد تو تمام حدوں کو عبور کر دیا گیا اور اس خاتون کے کپڑے پھاڑ دیے گئے یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد میری ہمت جواب دے گئی اور دوبارہ اسے نا دیکھ سکا شائد کتنے ہی ایسے ماں باپ ہوں گے جنھوں نے اپنی بچیوں کو مستقبل میں اعلی تعلیم دلوانے کے خواب دیکھ رکھے ہونگے مگر یہ واقعہ دیکھنے کے بعد شائد وہ بھی یہ بات ماننے پر قائل ہو جائیں کہ پاکستان اب عورتوں کے لیے محفوظ نہیں رہا کیونکہ عثمان مرزا کیس کے بعد نور مقدم والا واقعہ رونما ہوا اس سے پہلے سیا لکوٹ موٹروے سانحہ ابھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ تھا جو چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ عورتوں کو اس ملک میں صرف مال غنیمت کی نظر سیے ہی دیکھا جاتا ہے ۔ منگل کے روز پاکستان کے سوشل میڈیا پر لاہور میں کئی مردوں کی جانب سے ایک لڑکی کو سرعام ہراساں کیے جانے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد اب یہ بحث ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے کہ کیا پاکستان خواتین کے لیے محفوظ ملک ہے
    ‎منگل کے روز متعلقہ خاتون نے لاہور کے تھانہ لاری اڈہ میں درخواست دی کہ وہ 14 اگست کو شام ساڑھے چھ بجے اپنے ساتھی عامر سہیل، کیمرہ مین صدام حسین اور دیگر چار ساتھیوں کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک میں یوٹیوب کے لیے ویڈیو بنا رہی تھیں کہ یکدم وہاں پر موجود تین چار سو سے زیادہ افراد کے ہجوم نے ان پر حملہ کر دیا۔
    ‎درخواست کے مطابق خاتون اور ان کے ساتھیوں نے ہجوم سے نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے اور اسی دوران وہ گارڈ کی جانب سے جنگلے کا دروازہ کھولے جانے کے بعد اندر چلے گئے لیکن ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ لوگ جنگلے کو پھاڑ کر ان کی طرف آئے اور کھینچا تانی کی
    شوشل میڈیا پر اس واقعے کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور 400#اس وقت ٹرینڈ کر رہا ہے جس میں ان چار سو درندوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جنھوں نے اس عورت پر حملہ کیا-اور حکومت وقت اور دوسرے اداروں سے اس بات کی اپیل کی جا رہی ہے کہ جلد از جلد ان درندوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ لوگوں کا ریاست اور ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے اس کے علاوہ اس طرح کہ قوانین بنائے جائیں جس سے عورتوں کو گھر سے نکلتے وقت اس بات کی پریشانی نہ ہو کہ اس کس چوک میں بھڑیوں کی طرف سے گھیر لیا جائے گا-بحثیت معاشرہ ہمیں اس وقت اندازہ ہی نہیں کہ ہم جہالت کی کن پستیوں میں رہ رہے ہیں ہمیں اپنے آنے والی نسلوں کی اس انداز میں تربیت کرنی ہے کہ وہ ایک انسانی معاشرہ تشکیل دے سکیں شائد اس کے لیے ابھی کئی صدیاں درکار ہوں گی-اس تحریر کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ تمام مرد ایک ہی طرز کہ یقیناً جہاں اچھائی ہوتی ہے وہاں برائی بھی ہوتی ہے اسی طرح وطن عزیز میں کئی اعلی اخلاق کے حامل افراد بھی موجود ہیں اس کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے رہے ہیں مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے-

    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • یکساں قومی نصاب اور نجی اداروں کا مؤقف  تحریر: خالد عمران خان

    یکساں قومی نصاب اور نجی اداروں کا مؤقف تحریر: خالد عمران خان

    ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کے لئے ایک بہتر نظام تعلیم
    کا ہونا اولین شرط ہے۔ گزشتہ کئی دہائوں سے تعلیم کے شعبے کو مسلسل نظر انداز کیا جا تا رہا ہے۔ اگر تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب پر ایک نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا کہ پاکستان میں نجی تعلیمی اداروں ، سرکاری سکولوں اور مدارس کے نصاب میں یکسر فرق پایا جاتا ہے۔ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے سے قبل یکساں قومی نصاب کو رائج کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کا نفاذ مرحلہ وار عمل میں آئے گا۔ایک سے پانچویں جماعت کے نصاب کو پہلے مرحلے میں پنجاب بھر میں نافذ کر دیا گیا ہے۔وزارت تعلیم پاکستان کے مطابق یکساں تعلیمی نظام یعنی تمام طلباء کے لئے ایک جیسا تعلیمی نظام ہو جس کی بدولت تعلیم کے حصول کے لئے منصفانہ اور مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
    یکساں تعلیمی نظام کا مقصد ملک بھر کے تمام طلباء جن کا تعلق کسی بھی طبقہ سے ہو ان کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنا،معاشرتی ہم آہنگی و قومی یکجہتی، تعلیمی مواد میں تفریق کا خاتمہ اور جدید عصری تقاضوں کے مطابق نظام تعلیم کو ڈھالنا شامل ہیں
    حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی ماہرین تعلیم اور میڈیا میں زیر بحث ہے۔ آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز ایسویشن کی جانب سے حکومت کی یکساں نصاب کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ان کا مؤقف یہ ہے کہ یکساں تعلیمی نظام کا نعرہ قابل تحسین ہے لیکن جو اختیار کیا جا رہا ہے وہ نہ تو یکساں تعلیمی نظام ہے اور نہ ہی قومی نصاب۔ تعلیم کے شعبے سے منسلک افراد کا اعتراض ہے کہ لازمی مضامین میں مذہبی مواد کو شامل کرنا اقلیتوں کے آئینی حقوق کے خلاف ہے۔ مزید براں یہ اعتراض پایا جاتا ہے کہ نیا نصاب نجی سکولوں کے طلباء کی فکری نشوونما کو بڑھانے کی بجائے رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے۔اور تنقیدی سوچ کے بجائے رٹے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ یکساں نصاب میں مذہبی رجحان تنقید کی ایک بڑی وجہ ہے۔ نجی اداروں کا موقف ہے کہ اپنے بچوں کے لئے نظام تعلیم کا انتخاب والدین کی صوابدید ہے۔ ریاست کی طرف سے نافذ کیے جانے والے تعلیمی نظام سے نہ صرف والدین کو ان کے اس اختیار سے محروم کیا جا رہا ہے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس سے نجی اداروں کی خودمختاری
    کو بھی نقصان پہنچے گا۔
    البتہ حکومت کا موقف ہے کہ مدارس، سرکاری و غیرسرکاری سکولوں میں یکساں نصاب سے معیار تعلیم بہتر ہونے کے واضح امکانات ہیں۔ اس برس جہاں پنجاب بھر میں یکساں نصاب کانفاذ عمل میں آیا وہیں چند نامور اور ممتاز نجی اداروں نے نصاب کو نافذ کرنے سے انکار کردیا۔جہاں نجی اداردوں نے مختلف اعتراضات اٹھائے ہیں وہیں پبلیشرز نے یکساں قومی نصاب کے تحت چھپنے والی کتابوں کی جانچ پڑتال پر سوالات کھڑے کیے ہیں ۔ ان کا موقف یہ ہے کہ اس مد میں انہیں نہ صرف بھاری رقم ادا کرنا پڑے گی بلکہ ساتھ ہی ساتھ ان کے منافع میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس جب پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈسے غیر منظور شدہ نصابی کتب کی جانچ پڑتال کی گئ تو یہ بات سامنے آئی کے سو سے زائد کتابیں جو نجی اداروں میں پڑھائی جا رہی تھیں ان میں نظریہ پاکستان کے مخالف مواد کی نشاندہی کی گئی ۔
    آئین پاکستان کے مطابق جہاں ریاست قانون کے مطابق پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہےوہیں اس کی تعلیمی اصلاحات کو تنقید کا نشانہ بنانا اور یکساں قومی نصاب کے نفاذ کو چند حلقوں کی جانب سے مارشل لاء قرار دینا حیران کن ہے۔ 2006 میں پرویز مشرف کے دور حکومت میں کی جانے والی تعلیمی اصلاحات کی ناکامی کی بڑی وجہ اس پر عملدرآمد کا نہ ہونا تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے یکساں تعلیمی نظام سے نہ صرف متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو فائدہ ہوگا بلکہ مدارس کے بچے بھی صحیح معنی میں تعلیمی دھارے میں شامل ہو سکیں گے۔ اس پالیسی کو عملی جامہ پہننانے کے لئے حکومت اور پرائیویٹ سکول ایسوئشن کے درمیان باہمی تعاون بے حد ضروری ہے۔ مزید براں محض نصاب کی تبدیلی سے نظام تعلیم میں بہتر نہیں لائی جا سکتی ہے جب تک کے اس نصاب سےمتعلق اساتذہ کو باقاعدہ ٹریننگ دینے کے ساتھ ساتھ تعمیری ڈھانچے کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا جا سکےلہذا یہاں بھی حکومت کی توجہ ضروری ہے۔

    Written By: Khalid Imran Khan
    Twitter ID: @KhalidImranK

  • عاشورہ کے فضائل – تحریر خالد اقبال عطاری


    اسلامی سال کا پہلا مہینہ محروم الحرام ہے جوکہ نہایت عظمتوں اور برکتوں والا ہے. خاص طور پر اس مہینے کی 10 تاریخ یعنی عاشورا کے دن کو دین اسلام میں بہت اہمیت حاصل ہے. ہمارے پیارے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم ارشاد فرمایا. بلکہ اسلام سے قبل بھی لوگ اس دن کا ادب و احترام کرتے اور روزہ رکھتے تھے.
    ہمیں بھی چاہیے کہ اس دن کا روزہ رکھیں اور دیگر عبادات بھی کریں اور اپنے گھر والوں اور دیگر دوست و احباب کو بھی اسکی ترغیب دیں. عاشورا میں کی جانے والی چند نیکیاں بیان کی جارہی ہیں تاکہ ہم ان پر عمل کرسکیں. ہمارے پیارے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا، مجھے اللہ پاک کے کرم سے امید ہے کہ عاشورا کا روزہ ایک سال قبل کے گناہ مٹا دیتا ہے.
    عاشورا کی رات آئے تو یہ عمل کیجئے.
    عاشورا کی رات میں چار رکعت نفل اس طرح ادا کیجئے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد آیت الکرسی ایک بار اور سورہ اخلاص تین تین بار پڑھیے پھر نماز سے فارغ ہو کر سو مرتبہ سورہ اخلاص (قل ھواللہ احد پوری سورت ) پڑھئے اسکی برکت سے گناہوں سے پاک ہوگا اور جنت الفردوس میں بیشمار نعمتیں ملیں گی.
    فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو دس محرم کو اپنے بال بچوں کے خرچ میں فراخی (یعنی کشادگی) کرے گا تو اللہ تعالیٰ سارا سال اس کو فراخی دے گا.
    حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم نے اس حدیث کا تجربہ کیا تو ایسا ہی پایا.
    عاشورہ کے دن کی بارہ نیکیاں. عاشورہ کے روز 12 چیزوں کو علماء نے مستحب لکھا ہے.
    1: روزہ رکھنا. 2: صدقہ کرنا. 3: نفل پڑھنا.
    4: ایک ہزار مرتبہ قل ھو اللہ پڑھنا. 5 : علماء کی زیارت کرنا
    6: یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا. 7: اپنے اہل و عیال کے رزق میں وسعت کرنا. 8 : غسل کرنا. 9 : سرمہ لگانا.
    10 : ناخن تراشنا. 11: مریضوں کی بیمار پرسی کرنا.
    12 : دشمنوں سے ملاپ( یعنی صلح صفائی کرنا)
    عاشورا کے دن نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول، امام عالی مقام، حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے رفقاء کے ہمراہ گلشن اسلام کی آبیاری کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا. لہذا ہمیں بھی چاہیے اس دن خوب خوب شہدا کربلا کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی، ذکر و درود اور نزر ونیاز کا بھی اہتمام کرنا چاہیے. اور یہ بھی نیت کیجئے کہ آج کے بعد ہماری کوئی نماز قضا نہیں ہوگی إن شاءاللهُ الكريم.
    کچھ نیکیاں کمالے جلد آخرت بنالے
    کوئی نہیں بھروسہ اے بھائی زندگی کا.

  • محرم الحرام کی قرآن اور احادیث کی روشنی میں فضیلت | تحریر احسان اللہ خان

    محرم الحرام کی قرآن اور احادیث کی روشنی میں فضیلت | تحریر احسان اللہ خان

    اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل قدرت سے بے شمار مخلوقات پیدا کیں اور ہر مخلوق میں کسی نہ کسی کو چن کر بااختیار بنا کراپنی تمام مخلوق پہ فوقیت دی جیساکہ فرشتوں میں سے چار فرشتے معتبر، انسانوں میں سے رسول بنائے جبکہ رسولوں میں سے جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برتری عطاء فرمائی اور رحمت اللعالمین کے لقب سے نوازا، زمین سے مساجد کو اختیار دیاجبکہ مساجد میں بیت اللہ شریف کو رحمت الہیٰ کا مرکز قرار دیا۔

    کلام میں سے قرآن شریف کو کلام الہیٰ کا لقب دے کر عزت بخشی ۔ایام میں جمعتہ المبارک کو مبارک دن قرار دیاجبکہ راتوں میں لیلتہ القدر کو چنا، اسی طرح مہینوں میں چار مہینوں کوخاص فوقیت دی جن میں محرم الحرام بھی شامل ہے یقینا محرم الحرام عظمت والا اور بابرکت مہینہ ہے اسلامی تقویم کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے جو کہ اسی فطری نظام کائنات کے تحت جیسا کہ خالق کائنات نے مقرر فرمایا ہے ۔ ان عدةالشہورعنداللہ اثنیٰ عشر شہرافی کتاب اللہ یوم خلق السمٰوات والارض منہااربعتہ حرم ذلک الدین(سورہ توبہ)ترجمعہ یقینا مہینوں کی تعداد تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بارہ ہے اللہ کی کتاب (لوح محفوظ )میں جس دن کہ پیدا کیا آسمانوں اور زمینوں کواور ان میں چار حرمت والے مہینے ہیں ہی سیدھا درست دین ہے۔

    ان بارہ مہینوں کی ترتیب محرم سے شروع ہو کر ذی الحجہ پہ ختم ہوتی تھی اور چار مہینے محرم،رجب،ذیقعدہ، ذی الحجہ اشہر حرم تھے جن میں قتل و قتال جائز نہیں تھا ۔اہل عرب ان چار مہینوں کا لحاظ و پاس کرتے تھے حالانکہ ریگستان عرب کے بدووں اور بادیہ نشیں قبائل کی معیشت و زندگی کا دارومدار عام طور پر لوٹ مار پر تھا قافلوں اور مسافروں کو لوٹنا ان کا مشغلہ تھا بلکہ روزی روٹی کے حصول کیلئے ایک قبیلہ دوسرے قبیلے پہ حملہ آور ہوتا تھا اسی وجہ سے عرب کی زمین پر خون خرابہ قتل و قتال اور غارت گری کا ایک چلن تھا جو قبیلہ زیادہ جنگجو ہوتا اسکی عظمت و شوکت تسلیم کی جاتی تھی مگر یہ تمام خون خرابے لوٹ پاٹ اشہر حرم میں موقوف کر دئے جاتے تھے۔اسلام نے انکے عزت و احترام کو مزید بڑھایا ۔نیز ان مہینوں میں نیک اعمال اور اللہ کی اطاعت ثواب کے اعتبار سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے اسی طرح ان میں برائیوں کا گناہ دوسرے دنوں کو برائیوں سے سخت ہے لہذاٰ ان مہینوں کی حرمت توڑنا جائز نہیں۔

    اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق میں مقام منیٰ میں حجتہ الوداع کے موقعہ پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ؛ .لوگو!زمانہ گھوم پھر کر آج پھر اسی نقطہ پہ آگیا ہے جیسا کہ اس دن تھا جبکہ اللہ نے زمین و آسمان کی تخلیق فرمائی تھی ۔سن لو،سال میں بارہ مہینے ہیں جن میں چار حرمت والے ہیں،وہ ہیں؛ذوالقعدہ،ذوالحجہ ۔محر م اور رجب ۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایاان مہینوں میں عمل صالحہ بہت ثواب رکھتا ہے اور ان مہینوں میں ظلم و زیادتی بہت بڑا گناہ ہے صحیح بخاری کتاب التفسیر میں حضرت ابوبکر سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک زمانہ گھوم کرپھر اسی نقطہ پر آگیا ہے جب اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان پیدا کئے تھے۔سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے اس میں چار مہینے حرمت والے ہیں جس میں تین لگاتار ہیں ذی قعد،ذی الحجہ اور محرم ،چوتھا رجب جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان ہوتا ہے ۔ انحرمت والے چار مہینوںمیں کسی قسم کی برائی اور فسق و فجور سے کلی طور پر اجتناب کرنا اور انکے احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے ۔ماہ محرم وہ مہینہ ہے جس میں دس تاریخ کورسول اللہ نے روزے کا دن قرار دیااور اسے سال بھر کیلئے کفارہ گناہ ٹھہرایا ہے۔

    محرم کے روزے
    حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ، رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہ محرم کے روزے ہیں ،جو اللہ کا مہینہ ہے اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز تہجد کی نماز ہے ۔ (صحیح مسلم ؛کتاب الصیام ،باب فضل صوم المحرم /مشکوة ص178)
    عاشورہ محرم کا روزہ
    حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ ،آپ ۖچار چیزیں نہ چھوڑا کرتے تھے ان میں سے ایک عاشورہ کا روزہ ہے ۔(سنن النسائی)
    ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ۖ کو کسی دن کے روزے کا دوسرے عام دنوں کے روزوں پر افضل جاننے کا ارادہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جس طرح یوم عاشورہ اور ماہ رمضان کا اہتمام کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔(بخاری، مسلم)
    عاشورہ کے ساتھ ٩یا ١١ /محرم کا روزہ
    بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کی مشابہت سے بچنے کیلئے اسکے ساتھ نویں محرم کا روزہ رکھنے کا ارادہ ظاہر فرمایا تھا ۔چنانچہ صحیح مسلم کی روایت ہے ،ابن عباس اس حدیث کے روای ہیں کہ ،، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور لوگوں کو رکھنے کا حکم دیا تو لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ تو ایسا دن ہے جسکی یہود ونصاریٰ بڑی تعظیم کرتے ہیںتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایاکہ آئندہ سال انشاء اللہ ہم دس محرم کے ساتھ نو محرم کا روزہ بھی رکھیں گے ۔اگلا سال آنے سے قبل آپۖوفات پا گئے ۔(صحیح مسلم /مشکوة179)
    ایک روایت میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ،، یہود دس محرم کا روزہ رکھتے ہیں تم ان کی مخالفت کرو اور اسکے ساتھ نو تاریخ کا روزہ بھی رکھو
    ام المومنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ،، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عاشورہ کے روزے کا حکم فرماتے ہیں مگر جب رمضان فرض ہو گیا تو فرماتے تھے جو شخص چاہے روزہ رکھے جو چاہے افطار کرے ۔(صحیح بخاری)
    اور مسند احمد کی ایک روایت میں ١١/محرم کا ذکر بھی ملتا ہے یعنی ٩محرم یا ١١ /محرم
    ماہ محرم کی بدعات
    ہم نے ماہ محرم میں بہت سے غلط رسم و رواج کو اپنا رکھا ہے اسے دکھ اور مصائب کا مہینہ قرار دے لیا ہے جس کے اظہار کیلئے سیاہ لباس پہننا شروع کر دیا ہے ۔رونا پیٹنا ،تعزیہ کا جلوس نکالنا اور مجالس عزا وغیرہ کا اہتمام کرنا یہ سب کچھ ثواب کا کام سمجھ کر حضرت حسین سے محبت کے اظہار کے طور پر کیا جاتا ہے حالانکہ یہ سب چیزیں نبی اکرم حضرت محمد ۖ کے فرمودات کے صریح خلاف ہیں ۔شیعہ حضرات کی دیکھادیکھی خود کو سنی کہلانے والے بھی بہت سی بدعات میں مبتلا ہو گئے ہیں مثال کے طور پہ اس ماہ میں شادی بیاہ کو بے برکتی اور مصائب وآلام کے دور کی ابتدا کا باعث سمجھ کر اس سے احتراز کیا جاتاہے حالانکہ محرم میں شادی کرنا کوئی گناہ یا برائی نہیں ۔سال کے کسی بھی مہینے میں شادی کرنا نہ ہی گناہ ہے ،نہ ہی عیب ہے کوئی مہینہ منحوس نہیں لہذامحرم میں بھی شادیاں کرنی چاہئے کیونکہ محرم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوا،سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اورحضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوا ،سیدنا علی المرتضیٰ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح مبارک ہوا۔لوگ اس ماہ میںاعمال مسنونہ کو چھوڑ کر بہت سی من گھڑت اور موضوع احادیث پر عمل کرتے ہیں
    کیا ماہ محرم صرف غم کی یادگار ہے؟

    شہادت حسین رضی اللہ عنہ اگرچہ اسلامی تاریخ کا بہت بڑا سانحہ ہے لیکن یہ صرف ایک واقعہ نہیں جسکی یاد محرم سے وابستہ ہے بلکہ محرم میں کئی دیگر تاریخی واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جن میں چند ایک افسوسناک ہیں تو کئی واقعات ایسے بھی ہیں جن پر خوش ہونا اور اللہ تبارک وتعالیٰ کا شکر بجا لانا لانا چاہئے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اقتدا میں عاشورے کے دن شکر کا روزہ رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات دی تھی نیز اگر اتفاق سے شہادت حسین رضی اللہ عنہ کا المیہ بھی اسی ماہ میں واقع ہو گیا تو بعض دیگر جلیل القدرصحابہ کرام کی شہادت بھی تو اسی ماہ میں ہوئی ہے مثلاً سطوت اسلام کے عظیم علمبردار خلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطاب اسی ماہ کی یکم تاریخ کو حالت نماز میں ابولوء لوء فیروز نامی ایک مجوسی غلام کے ہاتھوں شہید ہوئے ،اس لئے شہادت حسین کا دن منانے والوں کو انکا دن بھی منانا چاہئے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر اسلام اسی طرح دن منانے کی اجازت دے دے تو شاید سال کو کوئی ہی دن ایسا باقی رہ جائے جس میں کوئی تاریخی واقعہ یا عظیم سانحہ رونما نا ہوا ہو اور اس طرح مسلمان سارا سال انہی تقریبات اور سوگوارایام منانے اور ان کے انتظام میں لگے رہیں گے ۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اہل بیت ،صحابہ کرام اور سلف صالحین پرایسی ایسی مشکل گھڑیاں آئیں کہ ان کے سننے سے کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔کیا شہادت حمزہ ،شہادت عمر ،شہادت عثمان ذوالنورین،شہادت علی المرتضیٰ اور شہادت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے لرزہ خیز واقعات سننے کی تاب کسی کو ہے ؟ تو بتائیے کس کس کا دن منایا جائے؟
    اچھے یا برے دن منانے کی شرعی حیثیت
    اسلام نے واقعات خیر و شر کو ایام کا معیار فضیلت قرار نہیں دیا بلکہ کسی مصیبت کی بنا پر زمانہ کی برائی کرنے سے منع فرمایا ہے اور قرآن مجید میں کفار کے اس فعل کی مذمت بیان کی ہے۔
    ترجمعہ ؛ہمیں زمانہ کے خیرو شر سے ہلاکت پہنچتی ہے (سورہ الغاثیہ 24) اور حدیث میں ہے ؛ زمانہ کو گالی نہ دو کیونکہ برا بھلا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ (بخاری ومسلم)
    نوحہ اور ماتم۔۔۔۔بزرگان ملت کی تعلیم کے خلاف اور انکے مشن کی توہین ہے !
    ہم دیکھتے ہیں یہ پاکباز ہستیاں کس طرح صبر واستقلال کا پہاڑ ثابت ہوئیں ۔انکے خلفااور ورثابھی ان کے نقش قدم پر چلے ۔نہ کسی نے آہ و فغاں کیا،نہ کسی نے انکی برسی منائینہ چہلم نہ روئے نہ پیٹے ،نہ کپڑے پھاڑے ،نہ ماتم کیااور نہ تعزیہ کا جلوس نکال کر گلی کوچوں کا دورہ کیا بلکہ یہ خرافات سات آٹھ سو سال بعدتیمور لنگ بادشاہ کے دور میں شروع ہوئیں لیکن یہ سب حرکتیں اور رسوم و رواج نہ صرف روح اسلام اور ان پاکباز ہستیوں کی تلقین و ارشاد کے خلاف ہیں بلکہ ان بزرگوں کی توہین اور غیر مسلموں کیلئے استہزا کا سامان ہیں۔اسلام تو ہمیں صبرو استقامت کا درس دیتا ہے اور (صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو) کا مژدہ سناتا ہے ۔قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ؛ترجمہ ،، وہ لوگ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ ہی کیلئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔(سورہ البقرہ ١٥٦)
    نوحہ اور ماتم کی مذمت زبان رسالت سے
    نوحہ اور ماتم کی مذمت کے سلسلہ میں اگرچہ قرآن کریم کی کئی آیات اور احادیث نبوی سے استدلال کیا جا سکتا ہے بلکہ شیعہ حضرات کی معتبر کتابوں سے ان کی ممانعت ثابت کی جاسکتی ہے۔

    ١۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ؛جو شخص رخسار پیٹے ،کپڑے پھاڑے اور جاہلیت کا واویلا کرے ،وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔(بخاری و مسلم)
    ٢۔ حضور صلی اللہ وآلہ وسلم کے ارشادگرامی کا مفہوم ہے کہ ؛ جو شخص سر منڈوائے ،بلند آواز سے روئے اور کپڑے پھاڑے ،میں اس سے بیزار ہوں ۔(بخاری و مسلم)
    نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسی من گھڑت بدعات ،محرم میں دور جاہلیت کی رسمیں زیادہ تر پاکستان میں ہیں یاشاید ہی کسی اور ملک میں ہوں ۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے مسلم ممالک میں ایسا کچھ بھی نہیں اورنہ ہی کسی وطنی یا غیر وطنی کو ایسی بدعات پر عمل پیرا ہونے کی اجازت ہے حالانکہ یہی لوگ صحابہ کرام اور تابعین کی اولاد میں سے ہیں انکی مساجد نمازیوں سے آباد ہیں اگر دنیاوی لحاظ سے دیکھا جائے تو بھی یہ لوگ ہم سے بہت آگے ہیں ۔آخر کیوں؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے علماء اور حکومت وقت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ملک میں ایسی بدعات کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جن کا اسلام سے دور تک کوئی تعلق نہیں کیونکہ پاکستان کلمہ کے نام پہ حاصل کیا گیا خالصتاً اسلامی ملک ہے ۔اللہ تعالیٰ کے حضور دعاہے کہ تمام اہل اسلام کو کتاب و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اتحاد و اتفاق سے زندگی بسر کرنے کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
    Twitter | @IhsanMarwat_786
    https://twitter.com/IhsanMarwat_786