Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • تخلیقی عمل ایک پروسز ہے ، واقعہ نہیں۔ تحریر : مقبول حسین بھٹی

    1666 میں ، تاریخ کے سب سے زیادہ بااثر سائنسدانوں میں سے ایک باغ میں ٹہل رہا تھا جب اسے تخلیقی چمک کا ایک جھٹکا لگا جس سے دنیا بدل جائے گی۔ ایک سیب کے درخت کے سائے میں کھڑے ہوتے ہوئے سر آئزک نیوٹن نے ایک سیب کو زمین پر گرتے دیکھا۔ نیوٹن نے حیرت سے پوچھا ، "وہ سیب ہمیشہ زمین پر کیوں گرتا ہے ؟” "وہ کنارے ، یا اوپر کی طرف کیوں نہیں جاتا ، بلکہ مسلسل زمین کے مرکز کی طرف؟ یقینا ، وجہ یہ ہے کہ ، زمین اسے کھینچتی ہے۔ مادے میں ڈرائنگ پاور ہونی چاہیے۔
    اور اس طرح ، کشش ثقل کا تصور پیدا ہوا۔ گرتے ہوئے سیب کی کہانی تخلیقی لمحے کی پائیدار اور نمایاں مثال بن گئی ۔ یہ الہامی ذہانت کی علامت ہے جو آپ کے دماغ کو ان "یوریکا لمحات” کے دوران بھرتا ہے جب تخلیقی حالات ٹھیک ہوتے ہیں۔ تاہم ، زیادہ تر لوگ بھول جاتے ہیں ، یہ ہے کہ نیوٹن نے تقریبا بیس سال تک کشش ثقل کے بارے میں اپنے نظریات پر کام کیا یہاں تک کہ 1687 میں ، اس نے اپنی زمینی کتاب شائع کی ، دی پرنسپیا: قدرتی فلسفے کے ریاضی کے اصول۔ گرتا ہوا سیب محض سوچ کی ایک ٹرین کا آغاز تھا جو کئی دہائیوں تک جاری رہی۔ نیوٹن برسوں سے ایک عظیم آئیڈیا کے ساتھ لڑنے والا واحد نہیں ہے۔ تخلیقی سوچ ہم سب کے لیے ایک عمل ہے۔ اس آرٹیکل میں ، میں تخلیقی سوچ کی سائنس کا اشتراک کروں گا ، بحث کروں گا کہ کون سے حالات تخلیقی صلاحیتوں کو آگے بڑھاتے ہیں اور کون سے اس میں رکاوٹ ہیں ، اور زیادہ تخلیقی بننے کے لیے عملی تجاویز پیش کرتے ہیں۔ جب آپ کی تخلیقی سوچ کو فروغ دینے کی بات آتی ہے تو یہ "شخصیت کے عوامل” بالکل کیا ہیں؟ سب سے اہم اجزاء میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں کو اندرونی طور پر کیسے دیکھتے ہیں۔ خاص طور پر ، آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کا بڑی حد تک تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ تخلیقی عمل کو فکسڈ مائنڈ سیٹ کے ساتھ رجوع کرتے ہیں یا ترقی کی ذہنیت کے ساتھ۔ ان دو ذہنیتوں کے مابین فرق کو کیرول ڈیوک کی لاجواب کتاب ، مائنڈ سیٹ: دی نیو سائیکالوجی آف کامیابی (آڈیو بوک) میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ بنیادی خیال یہ ہے کہ جب ہم ایک طے شدہ ذہنیت کا استعمال کرتے ہیں تو ہم کاموں سے اس طرح رجوع کرتے ہیں جیسے ہماری صلاحیتیں اور صلاحیتیں طے شدہ اور کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہیں۔ ترقی کی ذہنیت میں ، تاہم ، ہمیں یقین ہے کہ کوششوں اور مشق سے ہماری صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم اپنی کوششوں کے بارے میں کس طرح بات کرتے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں اس کی بنیاد پر ہم خود کو ایک سمت یا دوسری سمت آسانی سے ہٹا سکتے ہیں۔ ہم کس طرح ترقی کی ذہنیت کو عملی لحاظ سے تخلیقی صلاحیتوں پر لاگو کر سکتے ہیں؟ میرے تجربے میں ، یہ ایک چیز کی طرف آتا ہے: کسی سرگرمی کا پیچھا کرتے وقت برا دیکھنے کی خواہش۔ جیسا کہ ڈویک کا کہنا ہے کہ ، ترقی کی ذہنیت نتائج سے زیادہ عمل پر مرکوز ہے۔ یہ نظریہ میں قبول کرنا آسان ہے ، لیکن عملی طور پر اس پر قائم رہنا بہت مشکل ہے۔ زیادہ تر لوگ اس کے ساتھ آنے والی شرمندگی یا شرمندگی سے نمٹنا نہیں چاہتے جو اکثر نئی مہارت سیکھنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ غلطیوں کی فہرست جن سے آپ کبھی بھی باز نہیں آسکتے بہت مختصر ہے۔ میرے خیال میں ہم میں سے بیشتر کو کسی نہ کسی سطح پر اس کا احساس ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اگر ہماری لکھی ہوئی کتاب فروخت نہیں ہوتی یا اگر ہم کسی ممکنہ تاریخ سے مسترد ہو جاتے ہیں یا جب ہم کسی کا تعارف کراتے ہیں تو ہم اس کی زندگی تباہ نہیں بلکہ اس کی زندگی کے بارے میں بتاتے ہیں ۔ یہ ضروری نہیں کہ اس واقعہ کے بعد کیا آئے جو ہمیں پریشان کرے ۔ یہ بیوقوف لگنے ، ذلیل ہونے کا احساس ، یا راستے میں شرمندگی سے نمٹنے کا امکان ہے جو ہمیں بالکل شروع کرنے سے روکتا ہے۔ ترقی کی ذہنیت کو مکمل طور پر اپنانے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ، آپ کو ان جذبات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے جو اکثر ہمیں روکتے ہیں۔ دیانتدار حقیقت یہ ہے کہ تخلیقی صلاحیت صرف محنت ہے۔ ایک بہترین کام جو آپ کر سکتے ہیں وہ اس رفتار کا انتخاب ہے جسے آپ برقرار رکھ سکتے ہیں اور مستقل بنیاد پر مواد بھیج سکتے ہیں۔ عمل کا پابند ہوں اور ایک شیڈول بنائیں۔ تخلیقی صلاحیتوں کو حقیقت بننے کا واحد راستہ جہاز رانی ہے۔ تخلیقی عمل ایک عمل ہے ، واقعہ نہیں۔ یہ صرف ایک یوریکا لمحہ نہیں ہے۔ آپ کو ذہنی رکاوٹوں اور اندرونی بلاکس کے ذریعے کام کرنا ہوگا۔ آپ کو جان بوجھ کر اپنے ہنر پر عمل کرنے کا عہد کرنا ہوگا۔ اور آپ کو سالوں تک اس عمل کے ساتھ رہنا ہوگا ، شاید نیوٹن کی طرح کئی دہائیوں تک ، تاکہ آپ اپنی تخلیقی ذہانت کو کھلتے دیکھیں۔ اس آرٹیکل کے آئیڈیاز تخلیقی ہونے کے طریقے کے بارے میں مختلف طریقے پیش کرتے ہیں ۔

    Twitter handle
    @Maqbool_hussayn

  • بھٹو سندھ کے ہر اسکول میں موجود ہے تحریر:عقیل احمد راجپوت

    بھٹو سندھ کے ہر اسکول میں موجود ہے تحریر:عقیل احمد راجپوت

    سندھ کا تعلیمی نظام ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بدحالی کی جانب جا رہا ہے مگر سندھ سرکار سب اچھا ہے کا نغمہ سنا رہی ہے سندھ کے اسکول اصطبل میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں مگر سائیں سرکار کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ حکمرانوں کے بچوں نے کونسا سرکاری اسکولوں میں جانا ہوتا ہے وہ تو آکسفورڈ میں پڑھ کر ہم پر حکمرانی کے لئے پیدا ہوئے ہیں اور ہم جیسی عوام کو ملنے بھی ایسے ہی حکمران چاہئے کیونکہ جیسی عوام ویسے حکمران والا محاورہ بلکل درست ہی کہا ہے کسی نے سندھ نئی نسل غیر تعلیم یافتہ بڑی ہونے سے صرف حکمرانوں کو ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ جاہلیت بیروزگاری کا بہت بڑا سبب بنے گی اور پھر چوری ڈکیتی اور دہشت گردوں کو اپنے اعلیٰ کار باہر سے نہیں بھیجنے پڑیں گے کیونکہ اپنے بچوں کو بھوکا مرتا ہوا دیکھنے والا بات کسی بھی پاکستان مخالف گروہ کا آسان ہدف ہوسکتاہے پاکستان کی ترقی صوبوں کی ترقی میں پوشیدہ ہے اگر صوبے ترقی یافتہ نہیں ہونگے تو ملک کی ترقی ایک خواب سے زیادہ کچھ نہیں مہربانی کریں میری قوم کے معماروں کو اچھی تعلیم جو ان کا بنیادی حق ہے ان کو دینے کا مناسب بندوبست کریں تاکہ وہ اس ملک کی خدمت کر سکیں اور اپنے ماں باپ اور ملک کا نام روشن کرکے محب وطن پاکستانی کہلائیں جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب پڑھا لکھا سندھ آپکی اصل ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے تھا مگر آپکی ترجیحات حکومت گرانے اور مخالفین کو بزور بازو دبانے کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتی سیاست دان ہونے کے ساتھ آپ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے بیٹے بھی ہیں محترمہ کی سیاست غریبوں کے حقوق کے لئے ہوا کرتی تھی محترمہ کے چلے جانے کے بعد سندھ کے ہر سرکاری اسکول میں بھٹو تو موجود ہے مگر تعلیم نا جانے کہا کہو گئی ہے جسے سندھ کی عوام 13 سالوں سے ڈھونڈ رہے ہیں ہو سکے تو سندھ کے لوگوں کا بنیادی حق تعلیم ان کو عنایت فرمائیں اپنے وزیروں سے پچھلے 13 سالوں میں تعلیم پر خرچ ہونے والے بجٹ کی تفصیلات طلب کریں اور اس تفصیل کے بعد تعلیم کی جگہ اپنا بینک بیلنس بڑھانے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچائے اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو کم سے کم مزید تعلیمی بجٹ ہڑپ کرنے والوں کو تو روک ہی لیں کیونکہ اتنا تو آپ پارٹی کے چیئرمین ہونے کے ناطے کر ہی سکتے ہیں اور اگر آپ یہ بھی نہیں کر سکتے تو سندھ کی حکمرانی کا اپکو کوئی اختیار نہیں کیونکہ سندھ میں حکومت کرنا آپکا آئینی حق ہے تو سندھ کے شہری ہونے کے ناطے اسی آئین کے آرٹیکل 140 اے کے مطابق عوام کے حق پر مارا جانے والے ڈاکے پر آواز بلند کرنا ہمارا بھی آئینی حق ہے جسے کوئی بھٹو کوئی زرداری ہم سے نہیں چھین سکتا ہم عوام کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں پر آواز حق بلند کرتے رہیں گے آپ زیادتیاں کرے دیکھتے ہیں حق اور باطل کی لڑائی میں فتح کس کو حاصل ہوتی ہے

  • افغانستان کی صورت حال اور پاکستان پر اثرات تحریر:: خالد عمران خان۔

    افغانستان کی صورت حال اور پاکستان پر اثرات تحریر:: خالد عمران خان۔

    افغانستان کی سرزمین گزشتہ کئی دہائیوں سے بد امنی
    اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ افغان باشندوں نے جہاں داؤد خان کے ہاتھوں شاہ افغان ظاہر شاہ کے اقتدار کا خاتمہ دیکھا وہیں کمیونزم کے نظریات کے حامی نور محمد ترکئی کے مسند اقتدار پر براجمان ہونے جیسے سیاسی تغیرات کا سامنا کیا ۔70 کی دہائی کے اختتام میں سوویت یونین کی افغان سر زمین پر چڑھائی نے دنیا اور بالخصوص خطے کی سیاست پر گہرے نقوش ڈالے۔ جنگ عظیم دوم کے بعد امریکہ اور سویت یونین کے درمیان چھڑنے والی سرد جنگ نے جب دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کردیا تو پاکستان نے اپنی حمایت امریکہ کے پلڑے میں ڈال دی۔ پاکستان نے نہ صرف سیٹو اور سینٹو جیسے معاہدات کیے بلکہ فوجی اتحاد نیٹو کا غیر رکنی اتحادی بھی بن گیا۔اور اس طرح پاکستان نے سوویت افواج کے افغانستان سے انخلا کے لئے شروع کی جانے والی افغان جنگ میں بھرپور ساتھ دیا۔پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت نے سوویت یونین کی گرم پانیوں کی جانب پیش قدمی کے اندیشے کو
    افغان جنگ میں حصہ لینے کی وجہ قراردیا۔ سوویت افواج کے انخلاء کے بعد پاکستان کی بھرپور حمایت کے ساتھ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی۔ کچھ ہی عرصہ بعد افغانستان میں ایک دفعہ پھر بدامنی کا نیا باب کھل گیا۔

    9/11
    حادثے کے بعد اقوام عالم نے دنیا بھر میں دہشت گرد
    کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے افغانستان میں اپنی افواج داخل کردیں۔امریکہ نے افغانستان کی سرزمین کو امریکہ کی سالمیت کے خلاف استعمال ہونے کے مؤقف پر انحصار کرتے ہوئے نہ صرف افغانستان پرحملے کا جواز پیش کیا بلکہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو اس کا سرغنہ بھی قرار دیا۔پاکستان نے ایک دفعہ پھر امریکہ کی غیر مشروط حمایت کی۔ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ نے پاکستان کی سالمیت پر اندوہناک اثرات ڈالے۔افغان شہریوں کی پاکستان کی جانب ہجرت اور 30 لاکھ مختلف شہروں میں آبادکاری سے سالمیت اور معیشت متاثرہوئی۔ وطن عزیزدہشت گردی جیسی آگ کی لپیٹ میں آگیا جس سے سنگین حد تک جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا وہیں ایک طویل جنگ لڑی گئ۔
    گزشتہ چند برسوں میں افغانستان کے مسئلے کے فوجی حل کی ناکامی کا اندازہ لگاتے ہوئے قیام امن کے لئے مذاکرات کی ضروت محسوس کی۔اس زمن میں 2020 میں افغانستان میں قیام امن کے لئے قطر کےدارلحکومت دوحہ میں ،افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان افغانستان سے امریکی افواج کے 14 ماہ کے اندر افغان سرزمین سے انخلاء کے متعلق ماہدہ طے پایا۔گزشتہ چند ماہ میں امریکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت حال نے جنم لیا۔چندروزسے ملکی و غیر ملکی خبر رساں اداروں میں طالبان کی مسلسل پیش قدمی اور 85 فیصد علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی خبریں گردش عام تھیں۔اتوار کے روزکابل پر افغان طالبان کے کنٹرول اور اشرف غنی کی اقتدار سے دست برداری سے بالاخر یہ قصہ اپنے اختتام کو پہنچا۔یہ دنیاکی سیاست میں ایک انتہائی اہم پیشرفت واقع ہوئی ہےجس سے آئندہ دنوں ميں خطے کی سیاست کے یکسر بدلنے کے امکانات ہیں ۔
    تاریخ کے اوراق اس بات پرمہر ثبت ہیں کہ آخر افغانستان میں قیام امن پاکستان کی سالمیت کے لئے کس حد تک ناگزیر ہے۔علاو ازیں جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی کا خواب افغانستان میں امن کے بغیر ناممکن ہے۔جغرافیائی حیثیت سے دیکھا جائے تو پاکستان قدرتی دولت سے مالامال وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی حاصل کرنے کا واحدذریعہ افغانستان ہے۔اس کے علاوہ پاک چین راہداری منصوبہ کی کامیابی کے لیے قیام امن مشروط ہے۔یہی وجہ ہے پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لئےاپنا بھرپور کردار ادا کررہاہے۔ماضی کی طرح ایک دفعہ پھر پاکستان افغان طالبان کی کابل میں حکومت کےقیام کے حمایتی کے طور پر نظر آتا ہے۔
    پاکستان گزشتہ کئی برس سے کابل میں دوستانہ حکومت کے قیام کا خواہشمند رہاہے۔تاہم ماہرین نے متعدد بار افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے اندیشے کا اظہار کیا ہے۔کلعدم تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈر نور ولی محسود کے امریکی خبر رساں ادارے کو دیے گئے حالیہ انٹرویو کے دوران پاکستان کے خلاف کھلم کھلا مخالفت باعث تشویش ہے۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 6000 سے زائد کلعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد افغان سر زمین میں پناہ لیے بیٹھے ہیں ۔اس زمن میں پاکستان کو اپنے وسیع تر قومی مفاد کو بالاتر رکھتے ہوئے افغان طالبان جانب سے اس بات کی یقین دہانی کروائے کہ ماضی میں پاکستان کی سالمیت کے خلاف استعمال ہونے والی سرزمین دوبارہ اس کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔علاوہ ازیں حالیہ تغیرات کے باعث لاکھوں مہاجرین کا سیلابی ریلہ پاکستان میں داخل ہونے کے در پے ہے اس مسئلے کا سدباب عالمی سطح پر ناگزیر ہےتاکہ ماضی کی طرح ہونے والے نقصانات سے بچا جاسکے۔
    Written By: Khalid Imran Khan
    Twitter ID: @KhalidImranK

  • اسلامی دنیا کے مساٸل اور حل تحریر:شمسہ بتول

    اسلامی دنیا دورِ جدید میں بھی بہت سے مساٸل سے گزر رہی ہے باوجود اس کے کہ اسلامی ممالک کے پاس قدرتی وساٸل کی افراط ہے لیکن ان وساٸل کا بہترین استعمال ابھی تک یقینی نہیں بنایا گیا ۔
    مغرب کے معاشی نظام نے ترقی پزیر ممالک اور اسلامی ممالک کے لیے بہت سی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اسلامی ممالک کا حال بھی اس وقت وہی ہے جو ترقی پزیر ملکوں کا ہے۔ اسلامی ممالک کو بین لاقوامی منڈی میں اپنے ملک میں بناٸی گٸی اشیاء کو اپنے ٹریڈ مارک سے بیچنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر انہیں اس بات کی اجازت لینا ہو تو اس کے لیے انہیں بہت زیادہ کمیشن ادا کرنا پڑتا۔ آٸی۔ایم ۔ایف اور ورلڈ بینک کی بہت سی پالیسیز ایسی ہیں جو کہ ترقی پذیر ممالک اور اسلامی ممالک کی معیشت کو مزید کمزور کر رہی ہیں۔ اور بعض دفعہ یہ جان بوجھ کر بہت ایسی پالیسیز تشکیل دیتے ہیں جس سے حکومتوں کو گرایا جا سکا۔
    آج سے 51 سال پہلے25 ستمبر 1969 اسلامی ممالک کی تنظیم وجود میں آٸی جس کا کام اسلامی مملک کی فلاح و بہبود تھا لیکن اس تنظیم کے قیام کے اتنے عرصے بعد بھی مسلمانوں کی حالت میں کوٸی بہتری نہیں آٸی۔دنیا میں مسلمانوں کی تعداد 1٠5 بلین ہونے کے باوجود بھی مسلمانوں کے پاس کوٸی ویٹو پاور نہیں ۔دیگر اقوام مسلمان قوم کو تحقیر آمیز نگاہ سے دیکھتی ہیں۔
    اسلامی بلاک امیر ممالک پر مشتمل ہے جیسے سعودی عرب ، کویت ، متحدہ عرب امارات اور لیبیا۔ لیکن وہ اتنے فعال اور طاقتور نہیں ہیں جیسا کہ ان کے بلاک میں کسی غریب ملک کی مدد کرنے کے لیے ان کے پاس بنیادی وسائل ہیں لیکن کوئی منصوبہ بندی نہیں ان میں ترقی کی کمی ہے۔ ان کے پاس اربوں ڈالر ہیں جو تیل کی فروخت سے آتے ہیں ، لیکن امریکہ یا مغربی ممالک کے ہاتھوں میں رہتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان ، مذکورہ اسلامی ممالک کے مقابلے میں کم وسائل والا ہے ۔اسلامی ممالک پر یہ فرض ہے کہ وہ مسلم ممالک کے عالمی مسائل میں مقابلہ کرنے کے لیے صنعت کے ساتھ ساتھ زراعت کو بھی ترقی دیں۔
    اتحاد کا فقدان مسلم ممالک کی ایک اور اہم معذوری ہے۔ وہ مختلف مسائل پر مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ سازش کرنے والے اور غدار ہمارے اپنے بھی ہیں۔ جو اپنے مقصد کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ کشمیر کے لیے ان کے پاس متحد آواز نہیں ہے۔ فلسطین اور کشمیر عرصٸہ دراز سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ان کے گھروں کو آگ لگا دی گٸی بچوں کو شہید کر دیا گیا عورتوں کی عصمت دری کی گٸی مگر اقوامِ متحدہ اور امن کے علمبردار دیگر ممالک خاموش تماشائی بنے سب دیکھتے رہے یہاں تک کے انسانی حقوق کی تمام تنظیمیں بچوں کے عورتوں کے حقوق کی تنظیمیں سب خاموش ہیں لیکن سب سے زیادہ ان ممالک کے لیۓ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ بہت سے اسلامی ممالک نے بھی ان کا اس مشکل گھڑی میں ساتھ نہیں دیا۔ جبکہ کشمیر اور فلسطین پوری امت مسلمہ کا مسٸلہ ہے اور دنیا کی طرف حل طلب نگاہوں سے دیکھ رہا ہے لیکن افسوس کے تمام مسلم ممالک نے اتفاق نہیں کیا اس مسٸلہ پر۔ فلسطین میں اسرائیل أور بوسنیا کی راۓ اور مطالبات میں اختلاف ہے ۔پی ایل او ، مصر اور لیبیا ہندوستان کے مقصد کی حمایت کرتے ہیں ۔ فلسطین کے لیے ، مصر کا باقی عرب دنیا سے اختلاف ہے۔ عراق کویت جنگ میں ہم دونوں ممالک کو بچا نہیں سکے کیونکہ ہم ایک اُمت ہو کر بھی ٹکڑوں میں بٹے ہوے ہیں جس کا نقصان ہمارے مسمان بھاٸی بہنیں اور بچے اُٹھا رہے ہیں۔ ہمارے درمیان باہمی اتفاق اور اتحاد اور اعتماد کی شدید کمی ہے جس کا فاٸدہ ہمارے دشمن بخوبی اُٹھا رہے ہیں۔
    امت مسلمہ کا اتحاد اپنی آزادی ، ترقی ، استحکام ، بقاء کو برقرار رکھنے اور اپنی سابقہ ​​شان و شوکت اور وقار کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے ۔ وہ تمام رکاوٹیں جو مسلم اتحاد کی راہ میں حائل ہیں ہمیں ان رکاوٹوں کا تدارک کرنا ہو گا اور باہمی اتحاد سے ان رکاوٹوں کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا۔ دنیا میں اپنی قابلیت کا لوہا منوانا ہو گا ہمارے پاس وساٸل ٹیلنٹ اور اعلی تعلیم یافتہ نوجوان نسل موجود ہے ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو آپسی اتفاق اور بھاٸی چارے کی۔ مسلم دنیا اس کمی کو ختم کرنا ہو گااور مل جل کر اپنے تمام تر وسائل کو بہتر طریقے سے بروۓ کار لانا ہو گا۔ بین الاقوامی منڈی میں اپنی تجارت کو مضبوط کرنا ہو گا۔ مسلم دنیا کے اپنے مالیاتی ادارے ، دفاعی پیداواری یونٹ ، فلاحی تنظیمیں ، چارٹر وغیرہ ہونا بہت ضروری ہے ۔مسلمانوں کو کسی بھی فریق کے خلاف ہدایت نہیں دی جاتی لیکن پھر بھی دنیا ان کے لیے دہشتگرد اور انتہا پسند جیسے الفاظ استعمال کرتی ہے جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ مسلمان ممالک متاثر ہوۓ اور سب سے زیادہ قربانیاں مسلمانوں نے دیں۔ اگر مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد و اعتماد پیدا کر لیں تو مسلمان نہ صرف ایک عظیم قوم بن کر دنیا کے نقشے پر ابھریں گے بلکہ دنیا سے استحصال ، ناانصافی ، جہالت ، ظلم ، اندھیرے ، ناامیدی وغیرہ کو بھی دور کر دیں گے۔ ان کا اتحاد قوموں کے اتحاد میں ان کا درجہ بلند کرے گا.تمام اسلامی ممالک کے سر براہان کو آپس میں اور اپنی قوموں کے درمیان اتحاد و یگانگت کو فروغ دینا ہو گا تا کہ ہم دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ بحال کر سکیں۔

    @b786_s

  • خود احتسابی  تحریر: حلیمہ اعجاز ملک

    خود احتسابی تحریر: حلیمہ اعجاز ملک

    ہمیں چاہیے کہ ہم اپنا روز مرہ کا ایک جدول بنا کر اس کے مطابق اپنا محاسبہ کیا کریں تا کہ خود احتسابی کے عادی ہو سکیں مگر یاد رہے کہ خود احتسابی کے لیے یکسوئی اور ضمیر اور اس کی عدالت کا ہونا لازمی ہے یعنی ہمارے ضمیر کی عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ ہم کہاں کھڑے ہیں

    کچھ لمحے کی لیے سر جھکا کر اپنی گزشتہ زندگی کا احتساب کریں کہ کہاں سے چلے تھے اور آج کہاں ہیں؟ نفع میں ہیں یا نقصان میں جا رہے ہیں۔ اگر نفع میں ہیں تو اللّٰه کا شکر ادا کریں

    نفع سے مراد یہ ہے کہ زندگی نیکی اور اچھائی کے کاموں میں گزری ہو یعنی نماز، روزے کی پابندی کی ہو، ریاکاری، جھوٹ، غیبت، چغلی، حسد، تکبر، وعدہ خلافی، والدین کی نافرمانی و دل آزاری سے بچنے کے ساتھ ساتھ دیگر احکاماتِ خداوندی بجا لاتے ہوئے زندگی بسر کی ہو تو نفع میں ہیں

    لیکن اگر اس کے برعکس زندگی کے لمحات گناہوں اور فضولیات میں گزرے ہوں تو سمجھ جائیے کہ ہم اس کاروبارِ حیات میں نقصان اٹھا رہے ہیں لہٰذا فوراً سنبھل جائیے اور توبہ کر کے اللّٰه کو راضی کرنے والے کاموں میں لگ جائیے

    دل میں جب بھی کوئی خیال پیدا ہو تو اس پر عمل کرنے کے بجائے ذرا توقف فرما کر سوچیے کہ یہ خیال رضائے الٰہی کے حصول کا سبب بن سکتا ہے یا نہیں۔ اگر یہ قربِ خدا کا باعث بن سکتا ہے تو اس سے پہلے کہ یہ فوت ہو جائے اس پر فوراً عمل کر گزریئے۔ اس کے برعکس اگر کوئی ایسا خیال آئے جو اللّٰه سے دوری کا سبب بنے تو اسے دل کی تختی سے فوراً مٹا ڈالیے کہ کہیں وہ پختہ نہ ہو جائے بلکہ کوشش کیجیے کہ جب بھی آپ کی دل میں ایسا کوئی خیال آئے جو یادِ اللّٰه سے دور کرنے والا ہو تو فوراً بدل دیجیئے اس خیالِ غیر کو خیالِ یار سے تا کہ وہ آپ کو نہ بدل سکے۔

    حضرت ابو طالبؓ فرماتے ہیں کہ وہ مختلف روایات میں مروی ہے کہ بعض نیک کام عمر میں زیادتی و برکت کا سبب بنتے ہیں تو جان لیجیے کہ عمر میں برکت سے مراد یہ ہے کہ آپ اپنی چھوٹی سی عمر میں رضائے رب الانام کے حصول کی خاطر نیک کام کر کے وہ مقام و مرتبہ پانے میں کامیاب ہو جائیں جو دوسرے طویل عمر میں اپنی غفلت کے سبب نہ پا سکے اس طرح 12 ماہ کے قلیل عرصہ میں آپ علم و عمل کے اس بلند مقام پر فائز ہو سکتے ہیں جس مقام پر کوئی دوسرا شخص دین سے دوری کی بنا پر 20 سالوں میں بھی نہ پہنچ پائیں

    اب سوال یہ ہے کہ خود احتسابی کیسے کریں؟؟

    خود احتسابی سے مراد نفس کا محاسبہ کرنا اور روزانہ یہ دیکھنا ہے کہ آج کیا کیا؟ نیکی کے کام کر کے قربِ رب العزت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے یا نہیں؟ اور اگر کوئی شخص محاسبہ کرتے ہوئے اپنے نامۂ اعمال میں نیکیوں کی کمی اور گناہوں کی زیادتی پائے تو اسے چاہیے کہ اللّٰه سے ڈرے اور توبہ کرتے ہوئے نیکیوں کی کثرت کی خواہش کرے کہ گناہ کے بعد نیکی کرنا گناہ کو مٹا دیتا ہے

    فرمانِ اللّٰه ہے

    "بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں”

    زندگی برف کی طرح پگھل رہی ہے، موت اپنی تمام تر سختیوں سمیت پیچھا کر رہی ہے۔ عنقریب ہمیں مرنا ہے اندھیری قبر میں اترنا ہے، اپنی کرنی کا بھگتنا ہے۔ یقیناً وہ لوگ خوش نصیب ہیں جو مرنے سے قبل آخرت کی تیاری کر لیتے ہیں

    اے بے خبر! موت سے غافل نہ ہو
    یہاں سب چھوڑ کر جانا ہے تجھ کو

    کاش! دیگر فرائض و سنن کی بجائے آوری کے ساتھ ساتھ ہم تمام لوگ قرآن و سنت کو اپنی زندگی کا دستور العمل بنا لیں۔

    کچھ نیکیاں کما لو، جلد آخرت بنا لو
    کوئی نہیں بھروسا اے لوگو زندگی کا

    @H___Malik

  • نوجوان اور منشیات. تحریر  ​فاروق زمان

    نوجوان اور منشیات. تحریر ​فاروق زمان

    منشیات تباہ کن زہر ہے جو لوگوں خصوصاً نوجوانوں کی رگوں میں سرائیت کر کے رفتہ رفتہ انھیں موت کے منہ میں لے جاتا ہے۔ آج کے نوجوان تیزی سے منشیات کی طرف راغب ہو رہے ہیں، جس کے پیچھے مختلف محرکات اور وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن کوئی عوامل اور وجہ اتنی ٹھوس نہیں ہو سکتی کہ منشیات کے زہر قاتل کو اپنا کر اپنی زندگی ختم کر بیٹھیں۔ منشیات کا استعمال نہایت خطرناک ہے، اور یہ جان لیے بغیر نہیں ٹلتا۔ منشیات نوجوانوں کو دیمک کی طرح ضائع کر رہی ہیں، اور لوگ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔

    چرس، شراب، سگریٹ، ہیروئن، شیشہ اور کوکین وغیرہ عام استعمال ہونے والی منشیات ہیں۔ کالج اور یونیورسٹیوں کے طلباء میں ان کا استعمال عام ہے ان کا استعمال فیشن بن گیا ہے۔ اور صرف لڑکے ہی نہیں، لڑکیاں بھی اس کے استعمال میں آگئی ہیں۔ یہ صورتحال بہت تشویشناک ہے۔

    اسلام میں نشہ اور اشیاء کی سخت ممانعت ہے۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر نشے اور خمار کی چیزوں سے دور رہنے کا کہا گیا ہے۔ حیف صد حیف، مذہب اور قرآن سے دوری کی وجہ سے ہی نوجوان منشیات اور برائی کے کاموں کا شکار ہوتے ہیں، ان کو مذہب اور قرآن کے احکامات، تعلیمات اور بیان کون بتلائے۔

    منشیات کا شکار ہونے والے نوجوان صرف اپنی زندگی ہی جہنم نہیں بناتے بلکہ خود سے منسلک کتنی ہی زندگیاں اجیرن کرتے ہیں۔ پورے گھرانے کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں جو ان کی خوشیوں کو نگل لیتی ہے، ان کے خوابوں اور خواہشوں کو ملیا میٹ کر دیتی ہے۔ والدین بے بسی سے اپنی اولاد کو موت کے منہ میں جاتے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔

    منشیات صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہیں۔ منشیات کا شکار ہونے والے نوجوانوں کی کام کرنے اور پڑھنے لکھنے کی صلاحیتیں ختم کر کے رکھ دیتی ہیں۔ سوچنے سمجھنے کی تمام طاقتیں مفلوج ہو کر رہ جاتی ہیں۔ وہ نوجوان جنھوں نے سنہرے خوابوں کی تکمیل کرنی تھی، روشن راہوں پر چلنا تھا، خوبصورت مقصد حاصل کرنے تھے وہ اخلاقی برائیوں کا شکار ہو کر زوال پزیر ہو جاتے ہیں۔ وہ سارے دیکھے گئے خواب ملیامیٹ ہو جاتے ہیں اور بہت سی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔ منشیات استعمال کرنے والوں کا انجام بہت بھیانک ہوتا ہے۔

    دیکھنے میں آیا ہے کہ نوجوان ایڈونچر کرنے کی غرض سے منشیات کی طرف راغب ہو جاتے ہیں یا دوستوں کے کہنے پر منشیات کا استعمال شروع کرتے ہیں، پھر وہ اس کے عادی ہوتے چلے جاتے ہیں اور چاہ کر بھی اس دلدل سے نہیں نکل پاتے۔ بہت سے ایسے نوجوان ہیں جو منشیات کو چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

    جو نوجوان اس کا شکار ہو چکے ہیں، انھیں چاہیے کہ وہ خود اس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ مثبت سوچ اور انداز کو اپنا کر اس سے چھٹکارا پائیں۔ بہترین عادات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اپنا نصب العین متعین کریں اور اس کی تکمیل کے لیے کوشاں ہوں۔ اپنی اور اپنے سے منسلک لوگوں کے بارے میں سوچیں۔ آپ ملک اور والدین کا قابل قدر سرمایہ ہیں، جود کو ضائع مت کریں۔ بلکہ خود کو ثابت کریں۔

    ہمیں مل کر منشیات کے ناسور کو اپنے ملک سے ختم کرنا ہو گا۔ حکومت کو چاہیے کہ منشیات کی روک تھام کے لیے اعلیٰ سطح پر بہترین، جامع اور مؤثر حکمت عملیاں بنائے۔ زیادہ سے زیادہ ریہیبلیشن سنٹرز اور صحت مراکز قائم کیے جائیں، تاکہ جو اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے ری ہیبلیشن سنٹرز نہیں جا سکتے، ان کا مفت علاج ممکن ہو سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ منشیات سمگلرز کو سخت سے سخت سزائیں دیں اور منشیات کے فروغ میں کردار ادا کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ اس کے علاوہ منشیات کے خلاف آگاہی پھیلانے کی اشد ضرورت ہے، اس ضمن میں میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہمیں بھی اپنے حصے کا دیا جلانا ہو گا، نشے کے شکار افراد کے ساتھ بہتر رویہ اپنائیں، ان کو زندگی کی طرف مائل کریں، جو لوگ زیادہ مقدار میں منشیات کا استعمال کرتے ہیں ان کی نشاندہی کریں اور انھیں ری ہیبلیشن سنٹرز لے جائیں۔ تاکہ ان کا علاج ہو اور وہ زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔ ہم مل کر منشیات کا جڑ سے خاتمہ کر سکتے ہیں۔

    @FarooqZPTI

  • 15اگست2021یوم آزادی،یوم سیاہ اور یوم الفتح تحریر: سردار حمزہ رافع

    15اگست2021یوم آزادی،یوم سیاہ اور یوم الفتح تحریر: سردار حمزہ رافع

    15 اگست2021 مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ کے طورپر منایا گیا۔ یہ سلسلہ آج سے نہیں 30 سال سے متواتر جاری ہے۔ اس روز پوری وادی میں مکمل ہڑتال ہوتی ہے۔ کہیں بھی کوئی عوامی تقریب نہیں ہوتی سوائے سرکاری تقریبات کے جو فوج کے کڑے پہرے میں ہوتی ہیں۔ سرینگر بخشی سٹیڈیم میں مکمل کرفیو اور فوجی محاصرے میں گورنر ہو یا وزیراعلیٰ ڈرتے ہوئے ترنگا لہراتا ہے اور وہاں سے بھاگ نکلنے کی سوچتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی سنتی گولی یا مارٹر گولہ آکر تقریب کیساتھ ساتھ ان کا بھی خاتمہ کر دے اور دوسری طرف افغانستان میں طالبان مجاہدین نے سپر پاور امریکہ اور36 نیٹو ممالک کی فوجوں کو شکست فاش سے دوچار کر کے بھارت کے یوم آزادی کے دن یعنی 15اگست 2021 کو یوم الفتح منایا
    امریکی فوج نے سنہ 2001 سے اب تک افغانستان میں طالبان کی مزاحمت کے خلاف لڑتے ہوئے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں افغانستان میں جنگ میں دو لاکھ 41 ہزار اموات، 22 کھرب 60 ارب ڈالرز کے اخراجات ہوئے تحقیق کے مطابق یہ اموات براہِ راست اس جنگ کی وجہ سے ہوئیں۔ جن میں 71 ہزار 344 عام شہری، دو ہزار 442 امریکہ کے فوجی اہلکار، 78 ہزار 314 افغان سیکیورٹی اہلکار اور 84 ہزار 191 مخالفین کی ہلاکتیں شامل ہیں۔۔دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی،اسلحہ، بحری بیڑوں اور دنیا کے 37 سے زیادہ ممالک کی فوجوں نیٹو کا اتحاد اور اسلامی و غیر اسلامی ملکوں کے سفارتی تعلقات کو بروئے کار لانے کے باوجود بالآخر امریکہ اور نیٹو بیس سال کی طویل جنگ ہار کر افغانستان کو چھوڑ گیا امریکہ نے ایک ڈرامہ رچایا اور اور پھر اسے جواز بنا کر افغانستان پر چڑھ دوڑا اسے اس بات سے قطعاً غرض نہ تھی کہ کل کیا ہوگا بلکہ یقین تھا کہ وہ طالبان کے ساتھ علاقے کو بھی تسخیر کر لے گا مگر یہ ایک بھیانک خواب ثابت ہوا اور اب اس نے شکست تسلیم کر لی.بلکہ یوں کہوں کہ دنیا کی جدید ترین جنگی سامان سے لیس فوج افغانوں کے ہاتھوں عبرتناک شکست سے دوچار ہوگئی.اس جنگ میں جہاں افغانستان کا بہت نقصان ہوا وہاں پاکستان کا بھی کچھ کم نہیں رہا افغان باشندوں کی مدد کے عوض ستر ہزار سے زائد انسانوں کی جان کا نذرانہ دینا پڑا مگر افسوس دنیا اس قربانی کو سمجھنے سے قاصر ہے
    ٹی وی سکرینوں اور اخبارات کے ادارتی صفحات پر چھائے امریکی ’’ماہرین‘‘فقط اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کو بے چین ہیں کہ مسلسل 20برسوں تک سوسے زیادہ ارب ڈالر کے خرچ سے تیار ہوئی افغان فوج جسے جدید ترین اسلحہ بھی فراہم ہوا تھا ایک لاکھ سے کم بتائے طالبان رضا کاروں کے سامنے ریت کی دیوار کیوں ثابت ہوئی۔
    میرے نزدیک افغانستان میں امریکہ کی شکست کی بہت بڑی اک وجہ افغان مجاہدین کا آپنے بازوؤں اور پروں پہ بھروسہ تھا ،یہی وجہ تھی کہ افغان مجاہدین نے امت مسلمہ کو قصور وار ٹھہرانے کی بجائے یا پاکستان پر طعن و تشنیع کی بجائے اپنی جنگ خود لڑی اور اس کے نتیجے میں آج دنیا کی سپر پاور کو عبرتناک شکست ہوئی اور افغانی شیروں کو فتح حاصل ہوئی
    آج مقبوضہ کشمیر میں مسلسل غیر انسانی فوجی محاصرے، ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی چالیں، انسانی حقوق کی مجموعی خلاف ورزیوں نے مقبوضہ کشمیر میں دائمی انسانی و سیکیورٹی بحران،غیر انسانی محاصرہ اور بدترین غیر انسانی جبر جاری ہے تو مسئلہ کشمیر کا حل صرف اور صرف اففانستان کو ماڈل سمجھتے ہوئے بلخصوص بیس کیمپ اور بالعموم پورے کشمیر کے باشندوں کو کردار ادا کرنا ہو گا،اہلیان کشمیر کے پاس وسائل کی موجودگی کے ساتھ ساتھ لیٹریسی پوائنٹ بھی بلند ترین سطح پہ ہے،صرف اور صرف دنیا کے بدلتے حالات کی وجہ سے کشمیر کی جنگ کا دورانیہ بہت زیادہ لمبا اور اسی کے نتیجے میں مایوسیاں پیدا ہوئی اور لیڈرشپ کا فقدان پیدا ہوا،وہ بیس کیمپ جس کا تحریک آزادی کشمیر میں بنیادی کردار بنتا تھا مگر بدقسمتی سے بے حس اور بزنس مائینڈ کے لوگ بیس کیمپ پر قابض ہو گے اور تحریک آزادی کشمیر کو صرف اپنی سیاسی مفادات لینے کی خاطر استعمال کرتے رہے،آج بھی وقت ہے کہ بیس کیمپ کے شہری مقبوضہ کشمیر کی غیور نوجوانوں برھان وانی،پی ایچ ڈی اسکالر سبزار احمد صوفی،پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر منان وانی،پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر بلال احمد ڈار کی طرح ملی بیداری کا ثبوت دیں اور کشمیر کے حقیقی پشتیبانوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑی ہو جائیں اور تحریک کی بھاگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں لے لے۔وہ وقت دود نہیں جب امریکہ کی نسبت بہت کمزور ملک ہندوستان شکست کھا جائے گا کشمیر کے باشندے آزاد فضاؤں میں سانس لے سکیں گے۔۔۔
    کام نگار
    سردار حمزہ رافع

  • ایک  لڑکی اور چار سو منچلے تحریر: حمزہ احمد صدیقی

    ایک لڑکی اور چار سو منچلے تحریر: حمزہ احمد صدیقی


    ملکِ پاکستان میں حالیہ کچھ دنوں میں خاتون کے ساتھ ظلم و جبر، بدسلوگی ، ہراساں کرنے ،قتل کرنے کی کوشش، اجتماعی زیادتی اور گھریلو تشدد کے واقعات میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    نور مقدم، ماہم ، کنول ، قرة العین اور صاٸمہ کے واقعات کی آگ ابھی ٹھنڈی نہ ہوئی کہ کم سن بچیوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات نے سانسیں روک لیں، کبھی بُرقعے میں ملبوس سر تا پا ڈھکی عورتیں پامال ہوئیں، تو کبھی قبروں سے نکال کر خواتین کے ساتھ زیادتی کی گٸی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں تین ماہ کی بچیوں سے لے کر بڑی عُمر تک کی خواتین تک کو نہیں بخشا گیا۔

    حال ہی میں یوم آزادی کے موقع پر دل دہلا دینے والے عاٸشہ اکرام کے واقعہ نے معاشرے کے ہر فرد کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ دل سوز واقعہ پاکستان کے شہر لاہور میں پیش آیا۔ چودہ اگست کو شام ساڑھے چھ بجے عاٸشہ اکرام اور اپنے دیگر چار ساتھیوں کے ہمراہ گریٹر اقبال پارک میں یوٹیوب کے لیے ویڈیو بنا رہی تھیں کہ یکدم چار سو اوباش اور درندے صفت ٹولے نے عاٸشہ اور انکے ساتھیوں پر حملہ کردیا۔ لڑکی کو ہراساں کیا اور اسکے کے ساتھ کھینچا تانی کی گٸی ۔شرم سے ڈوب مرنے کا مقام اس بیٹی کے کپڑے تک پھاڑےگٸے اور اسے ہوا میں اچھالتے رہے ۔

    عاٸشہ اور اس کے ساتھیوں نے درندے صفت مردوں کے ہجوم سے نکلنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہے اور اسی دوران انتظاميہ کی جانب سے مینار پاکستان کے جنگلے کا دروازہ کھولے جانے کے بعد اندر چلے گئے لیکن جانوروں نے جنگلے کو پھلانگ کر اس لڑکی کی طرف آئے اور کھینچا تانی کی ہر پاکستانی دل گرفتہ ہیں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟؟ یہ کیسے جانور ہیں ، درندگی پر اتر آئے ہیں

    معذرت کے ساتھ چار سو مردوں میں ایک بھی مرد ایسا نہ تھا جو عاٸشہ کی مدد کرسکتا ۔ اپنی بہن سمجھ کر اسکی عزت و آبرو کی حفاظت کرتاہے ، اس کا محافظ بنتا اور اس کو بچاتا مگر افسوس کے ساتھ ان چار سو نا مردوں کی، آٹھ سو آنکھیں میں حیا نہیں تھی کہ کیسی بہن، بیٹی کے ساتھ یہ ہوتے دیکھ رہے تھے خدا نہ کریں اس کی جگہ ان کی بہن، بیٹی ہوتی تو کیا یہ سب اسی طرح تماشا دیکھتے

    آٹھ سو ہاتھوں میں سے کوئی بچانے کے لیے آگے نہیں آیا۔ کسی کی مرد کی روح نہیں کانپی، کسی کی زبان نے اپنے ساتھی کو کچھ نہیں کہا کہ یہ بھی ہماری بیٹی ہے ، ہماری بہن ہے اسکے ساتھ ایسا وحیشانہ سلوک نہ کروں سب درندوں کو ایک موقع ملا اور سب نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔

     سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواتین پر ہونے والے ظلم و جبر پر معاشرہ خاموش کیوں ہے؟ عورت خواہ ماں ہو، بہن ہو، بیوی ہو، بیٹی ہو، یا معاشرے کی کوئی بھی عورت، ہمارے اسلام میں اسے ہر لحاظ سے بلند مقام عطا کیا اور مردوں کو ان کے ادب و احترام کا حکم دیا گیا ہے

    خود نبیِ کریم  ﷺ  نے بھی عورتوں کے ساتھ نیکی ، بھلائی ،بہترین برتاوٴ ، اچھی معاشرت کی تاکید فرمائی ہے ، حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سب سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ اچھا برتاوٴ کرتے ہیں ، اورمیں تم میں اپنی خواتین کے ساتھ بہترین برتاوٴ کرنے والا ہو ۔ترمذی

    درندگی کا یہ واقعہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے ۔حکومت سے اپیل ہے کہ انسانیت سوز درندگی کے واقعہ میں ملوث چار سو ملزم کو ایسی عبرتناک سزادی جائے جو رہتی دنیا تک یاد رہے۔ تاکہ کیسی کی بہن بیٹی کی عزت یوں سرعام تار تار نہ ہو ۔

    ‎@HamxaSiddiqi

  • عورت اور معاشرہ  تحریر:  خدیجہ نقوی

    عورت اور معاشرہ تحریر: خدیجہ نقوی

    ‏ایک سوال قانون نافذ کرنے والے _اداروں سے
    ایک سوال حکومت وقت سے
    ایک سوال مردوں سے
    بس ایک سوال۔۔۔۔_
    کیا پاکستان میں عورت اتنی سستی ھے؟
    آج صبح واک سے واپسی ہوئ تو حسب معمول گھر آتے ہی پہلا کام موبائل پہ مختلف ایپز کو چیک کرنا واٹس ایپ، فیس بک کے بعد باری آئ ٹیوٹر کی جہاں #minarepakistan ٹرینڈنگ تھا مجھے لگا کہ یقیناً کوئی مثبت چیز ھی ہو گی بس جزبہ حب الوطنی ٹھاٹھے مارنے لگا اور میں نے سوچا کیوں نہ اسے چیک کیا جاۓ اور دو چار ٹویٹس کر کہ شہیدوں میں اپنا نام بھی لکھوا دیاجاۓ
    مگر جیسے ہی ٹرینڈ اوپن کیا میں تو جیسے چکرا کہ رہ گئ کہ مسمات عائشہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی نے مانو میرے پیروں تلے سے زمین نکال دی ہو۔ ایک اکاؤنٹ نے تو باقاعدہ ویڈیو ہی پوسٹ کی تھی۔
    اس واقعے پہ لوگوں کے ملے جلے خیالات کومنٹس میں موجود تھے کوئ اظہار ہمدردی کر رہا تھا تو کوئی سراپا احتجاج اس کے ساتھ کچھ لوگ لڑکی کو قصور وار مان رہے تھے۔ ایک دو اکاؤنٹس نے لڑکی کا بیک گراؤنڈ ھی غلط ثابت کر دیا کہ لڑکی تو ٹک ٹاک بناتی تھی۔ تنگ لباس پہنا ہوا تھا۔ چار سو بندوں میں یہ کرنے کیا گئ تھی وغیرہ وغیرہ
    ایک حد تک تو آپ کی سب باتیں ٹھیک ھیں مگر میرا سوال اس معاشرے سے یہ ہے کہ کیا اگر ایک لڑکی tiktok بنتی ہے تنگ لباس پہنتی ہے اپنی مرضی سے گھر سے باہر آتی جاتی ہے تو کیا وہ مال غنیمت ہے اسکی کوئی عزت نہیں۔۔۔ اس کے ساتھ جو بھی ہوا وہ ٹھیک تھا صرف اس وجہ سے کے وہ یہ سب کام کر رّہی تھی۔
    میرا دین تو سراپا رحمت ہے اگر کوئی بھٹک جائے تو دین میں تو اس کے لیے بھی واپسی کا راستہ ہے دین میں تو آسانی ہے، رحم ہے عفو درگذر ہے۔ ہم بحیثیت مسلمان کن اقدار کے پیروں کار بن گئے ہیں جس دین میں سب سے زیادہ تلقین نفس پر قابو کرنے پر دی گئی ہے وہاں روز بروز زینب، نور،عائشہ جیسے کیس کہاں سے نمودار ہو رہے ہیں؟ کیا کوئ جواب ہے ہمارے پاس؟ کیا اس واقعے کو دیکھنے اور سننے کے بعد وہ لڑکیاں جو تعلیم، روزگار کی غرض سے گھروں سے باہر نکلتی ہیں ان کے ماں باپ انکی واپسی تک سولی پے لٹکے نہیں رہیں گے۔
    اسلام نے انبیاء نے ہماری زندگی ہمارا دین بہت آسان بنایا ہے پھر ہم یہ کس کی پیروی کر رہی ہیں؟کیا ہم ایک قوم ہیں؟ کیا ہم ایک سلجھا ہوا معاشرہ ہیں؟ کیا ہم اشراف المخلوقات ہیں؟ ذرا سوچیے۔۔۔۔
    @KhadijaNaqvi01
    Twitter handle

  • ایک عورت چار سو بھیڑیا تحریر:حنا سرور

    ایک عورت چار سو بھیڑیا تحریر:حنا سرور

    جابر رضي الله تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے خطبۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ( تم عورتوں کے بارے میں الله تعالی سے ڈرو ، 14 اگست 1947 کا دن پاکستانیوں کے لیے خوشی کا دن ہوتا ہے.آزادی کا دن ۔کہ اس دن پاکستان آزاد ہوا تھا ۔۔ہمیشہ 14 اگست نہایت پرامن طریقے سے منائ جاتی ہے ۔۔اس بار کیا ہوا۔ایک عورت 14 اگست کو شام چار اور پانچ بجے کے درمیان اقبال پارک جاتی لے وہاں وڈیو بناتی ہے کہ وہاں پر موجود لوگ اس ٹک ٹاکر کہ گرد جمع ہو گے اکھٹے ہو جاتے ہیں اور اس کو ہراس کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس لڑکی کو جہاں ہاتھ لگتا ہے لگاتے ہے وڈیو وائرل ہوتی رہی ۔اس پر ایکشن لیا جاتا ہے ایف آئ آر کاٹی جاتی ہے اب ہو گی قانونی کاروائ۔
    جب معاشرہ بے لگام ہو ۔تربیت کا فقدان ہو جہاں مفتی عزیز اور قوی جیسے کردار ۔اور وہ سکول ماسٹر حو سو بچوں سے زنا کر کہ بھی جیل میں سکون سے روٹی پانی کھا اور ٹی وی دیکھ رہا ہو ۔وہاں کی جنریشن قانون سے ڈریں گی یا مجرموں کے جرم سے شے پاے گی؟
    جہاں قانون کے رکھوالے منصف حاکم وقت سب کے سب کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھ بند کیے بیٹھے ہوں ۔۔وہاں جنریشن قانون سے ڈرے گی؟ جہاں قانون پر عمل تو ہو لیکن سوشل میڈیا پر وڈیو اور تصاویر وائرل کروانے کے بعد ۔۔جہاں انصاف لینا ہو تو خود کے ساتھ ہووی بغیرتیوں کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنا پڑے ۔۔جہاں اپنے حق کے لیے لڑنا ہو تو چار پانچ ٹھڑکی مردوں کا ساتھ چاہیے جو تمھارے حق کے لیے بھرے بازار میں تمھیں پاک دامن کہ سکے ۔۔کیا وہاں کی نسل قانون سے ڈرے گی؟ جہاں عدالتوں میں بیٹھے جج اور تھانوں میں بیٹھے ایس ایچ او تھانیدار کو جسم بیچ کر انصاف لینا پڑے ۔کیا وہاں کی عوام قانون سے ڈرے گی ؟
    اس لڑکی کی غلطی پتہ کیا تھی ۔کہ وہ ٹک ٹاکر ہے ۔کیا ٹک ٹاکر ہونا اتنا غلط ہے کہ چار سو بھیڑیہ تاک لگاے بیٹھا تھا ۔۔جب کہ یہ چار سو بھیڑیا خود بھی ٹک ٹاکر ہے ٹک ٹاک پر موجود ہے. ٹک ٹاکر کو اچھے سے پسند کرتا ہے۔اس ہجوم کا دوغلا پن تو دیکھو کہ یہ ہجوم میں شاید ہی کبھی پانچ وقت نماز بھی پڑھی ہو ۔شاید زندگی میں کبھی سچ بولا ہو ۔شاید کہ اپنی بہنوں کو کبھی پردہ کروایا ہو.اس ہجوم کی غیرت ایک اکیلی تنہا عورت کو دیکھ کر جاگی ۔۔کہ بس اسے چھوڑنا نہیں وہ ٹک ٹاکر ہے ۔۔یورپ جانے کے یہ سارے خواہش مند پاکستانیوں کو ایک پتے کی بات بتاتی ہوں کہ یورپ میں عورت ننگی الف ننگی بھی سڑک پر جارہی ہو ۔اس ننگی عورت کو تاک لگاے کوی دیکھتا ہے وہ بھی وہاں کے قانون کے مطابق ہراسمنٹ کہلاتی ہے.چاہے وہ عورت اپنی مرضی سے کہیں بھی کسی بھی مرد ساتھ جاے ۔۔۔لیکن کسی اجنبی کا اسے چھیڑنا تکنا ہراسمنٹ کہلاتا ہے ۔دوسری طرف میرے اسلامی جہموریہ پاکستان میں دین کے ٹھیکدار رات رات بھر لڑکیوں سے موبائل فون پر زنا کرتے تب ان کو غیرت نہیں آتی ۔ان کو دھمکیاں دے کر ان سے انھی کے گھر کا سامان چوری کرواتے ۔تب غیرت نہیں آتی ۔اپنے دوستوں سے ملنے کا کہتے. ورنہ وڈیو تصاویر لیک کر دوں گا ۔تب غیرت نہیں آتی ۔اس بھیڑیے نما ہجوم کی غیرت ایک اکیلی عورت پر جاگی ۔اس عورت پر جس کا ان سے کوی سروکار نہیں ۔۔ابے شیطان کے چیلوں تجھ پر فرض ہے پردہ کروانا اپنی ماں بیوی بیٹی بہن کو ۔۔صرف ان چار عورتوں کی زمہ داری ہے تیرے پر ۔پر توں گھر کے فرائض چھوڑ کر گلی کا آوارہ کتا بن کر اجنبی عورتوں نامحرم عورتوں پر لال ٹپکاے بیٹھا ہے. وہ ننگی بھی ہوتی تجھ پر تب بھی نامحرم تھی حرام تھی ۔۔ہر مرد کی اب روح کانپ رہی ہے ہر مرد اب آگ بگولہ ہے مینار پاکستان والے اس واقعے پر۔۔مرد اگر ایسے ہوتے ہیں تو وہ چار سو مرد کون تھے ۔۔پھر ان کی بات شروع ہوتی ہے گھر کہ مرد سے کہ مرد اگر برا ہے تو تمھارے گھر کا مرد بھی برا ہوگا تمھارے گھر مرد نہیں پھر ایسی باتیں سننے کو ملتی ہے ۔دل کرتا ان جنگلی بھیڑیوں کے منہ سے زبان نوچ لوں کہ تمھارے جیسے گلی کے آوارہ کتوں کے منہ سے ہمارے باپ بھائ کا زکر اچھا نہیں لگتا ۔مرد ایک عظیم چیز ہے اس کی سب سے بڑی مثال میرا باپ ہے. بھائ ہے تو تحفظ کا احساس ہے ۔۔۔تم اگر بھیڑیے نامرد ہو تو اس میں ہمارے باپ بھائ کا کیا قصور ۔۔جنھوں نے کبھی کسی عورت کی طرف آنکھ کر نہیں دیکھا ۔۔تمھیں بھیڑیا اور نامرد کہنا چاہیے تاکہ تم جیسے غلیظ کیڑوں کی وجہ سے ہمارے گھر کہ مرد بدنام نہ ہوں ۔۔
    آخر میں بات کروں گی عورت کی.مزار قائد پر ان دنوں صرف مرد حضرات جاتے ہیں مطلب ان چھٹیوں میں وہاں صرف مرد حضرات کا رش ہوتا ہے وہ بھی مزدور طبقے کا عام تعطیلات میں مزار قائد مینار پاکستان بلکہ چڑیا گھر تک میں خواتین کے جانے والا نہیں ہوتا۔پھر کیوں شامت بلوانے پہنچ گئ وہ بھی لاہور۔وہاں تو یہ حال ہے کہ برقعے والی عورت تک کو بھی چھیڑتے ہیں عام لڑکی گزر رہی ہو کہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نوچنے کی حوس سے دیکھنے لگ جاتے ۔ تو وہاں کی مقامی عورتیں کیسے اس بات سے انجان ہوں گی ۔یہ عورت ٹک ٹاک مووی بناتے خودی اس ہجوم میں گھس گئ ۔جہاں پورا لاہور اور آس پاس کے علاقے کے مکین جانتے کہ وہاں ان دنوں عورتوں کو نہیں جانا چاہیے ۔۔چاہے کوی ٹک ٹاکر ہو چاہے کوی مدارس میں پڑھاتی برقعہ پوش عالمہ ۔باقی یہاں اکثریت مرد حضرات موقع نہیں چھوڑتے ۔